رمضان المبارک کی آمد دراصل ایک ایسے روحانی موسمِ بہار کی آمد ہے جس میں دلوں کی زمین نرم ہوتی ہے، آنکھیں اشکِ ندامت سے دھلتی ہیں اور انسان اپنے رب کے حضور نئے عہد کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ محض بھوک اور پیاس کا مہینہ نہیں بلکہ نفس کی تربیت، ارادوں کی تطہیر اور معاشرے کی اصلاح کا جامع پروگرام ہے۔ قرآنِ مجید نے اسے نزولِ قرآن کا مہینہ قرار دے کر اس کی عظمت کو ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا:‘‘شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ’’۔ گویا رمضان دراصل وحی کی روشنی میں اپنے باطن کو منور کرنے اور اپنی زندگی کو احکامات خداوندی کے مطابق ڈھالنے کا نام ہے۔سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں بتاتی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ رمضان کی آمد سے پہلے ہی اس کی تیاری شروع فرما دیتے تھے۔ آپ ﷺ شعبان کے روزوں کا اہتمام فرماتے، دعا کرتے کہ‘‘اے اللہ! ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور رمضان تک پہنچا دے۔’’اس سے واضح ہوتا ہے کہ رمضان اچانک آنے والا مہینہ نہیں بلکہ اس کا استقبال شعوری تیاری، توبہ، اصلاحِ احوال اور منصوبہ بندی کے ساتھ ہونا چاہئے۔ آج ہمیں بھی اپنے گھروں، مساجد اور دلوں کو اس مہینے کیلئے تیار کرنا ہوگا۔
رمضان کے روحانی تقاضوں میں سب سے پہلا تقاضا تقویٰ ہے۔ قرآن نے روزے کا مقصد ہی تقویٰ قرار دیا۔ تقویٰ کا مطلب محض ظاہری پرہیزگاری نہیں بلکہ دل کی وہ کیفیت ہے جو انسان کو ہر لمحہ اللہ کی رضا کا پابند بنائے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہماری تجارت، سیاست، معاشرت اور معاملات میں دیانت پیدا نہ ہو تو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے روزے کی روح کو نہیں پایا۔رمضان کا دوسرا بڑا تقاضا قرآن سے تعلق ہے۔ یہ مہینہ قرآن کا مہینہ ہے۔ گھروں میں تلاوت کی صدائیں بلند ہوں، تراویح میں خشوع و خضوع پیدا ہو، اور محض تلاوت نہیں بلکہ فہمِ قرآن کی کوشش کی جائے۔مستند تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے۔رمضان المبارک میں ہر تلاوت کیے جانے والے پاروں اور آیات کا مفہوم سمجھنے کے لیے ہمیں قرآن مجید میں گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے ۔اس سلسلے میں جید علماء کرام کی تحریر کردہ تفاسیر کا مطالعہ مفید ہوگا۔ہمارے اکابرین نے ہمیشہ رمضان کو قرآن فہمی کا مہینہ بنایا۔ جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری نے اپنی تفسیر ضیاء القرآن میں رمضان کی آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھا کہ روزہ انسان کو قرآن کے پیغام کو قبول کرنے کیلئے تیار کرتا ہے، کیونکہ جب نفس کمزور ہوتا ہے تو روح مضبوط ہوتی ہے۔ اسلئے استقبالِ رمضان کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم قرآن کیساتھ اپنے تعلق کو رسمی نہیں بلکہ عملی بنائیں۔
رمضان کا تیسرا اور نہایت اہم تقاضا خدمتِ خلق ہے۔ بھوک اور پیاس کا تجربہ انسان کو دوسروں کی تکلیف کا احساس دلاتا ہے۔ یہی احساس اسے ایثار اور سخاوت کی طرف لے جاتا ہے۔ سیرتِ طیبہ میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔ آپ ﷺ کی سخاوت صرف مال تک محدود نہ تھی بلکہ مسکراہٹ، دعا، شفقت اور وقت کی صورت میں بھی تھی۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنے دسترخوان کو دوسروں کے لیے کھول دیں، اپنے مال میں سے محتاج کا حصہ نکالیں، اور اپنے معاشرے کے کمزور طبقات کا سہارا بنیں۔اسی تناظر میں بھوکے کو کھانا کھلانا محض ایک سماجی عمل نہیں بلکہ ایک روحانی عبادت ہے۔ افطار کرانا، راشن تقسیم کرنا، یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرنا،یہ سب اعمال دراصل روزے کی تکمیل ہیں۔
عصرِ حاضر میں منظم فلاحی ادارے اس روحانی نظام کو عملی شکل دینے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہیومن ریلیف انٹرنیشنل جیسے ادارے دنیا بھر میں بھوک، غربت اور آفات سے متاثرہ افراد کی مدد کرتے ہیں۔علامہ ڈاکٹر شہباز احمد چشتی اور انکے رفقاء کرام رمضان المبارک کے ماہ مقدس خدمت خلق،بھوکوں کو کھانا کھلانے اور محروم طبقات کے لیے نہ صرف خوراک اور راشن کا بندوست کرتے ہیں بلکہ انکی عید کی خوشیاں دوبالا کرنے کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔رمضان کے مہینے میں ایسے اداروں کی سرگرمیاں دراصل اسلامی تعلیمات کی عملی تفسیر ہوتی ہیں۔ جب اجتماعی سطح پر راشن پیکیجز تقسیم کیے جاتے ہیں، صاف پانی کے منصوبے شروع ہوتے ہیں، یا یتیم بچوں کی کفالت کی جاتی ہے تو یہ سب روزے کے اس پیغام کو زندہ کرتے ہیں کہ مسلمان صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ رمضان کا روحانی نظام فرد اور معاشرہ دونوں کی اصلاح چاہتا ہے۔ ایک طرف نماز، تلاوت، ذکر اور دعا کے ذریعے فرد کا باطن سنورتا ہے، تو دوسری طرف زکوٰۃ، صدقات اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔ اگر ہم صرف عبادات تک محدود رہیں اور سماجی ذمہ داریوں کو نظر انداز کریں تو رمضان کا پیغام ادھورا رہ جائے گا۔ اسی طرح اگر ہم صرف رفاہی سرگرمیوں میں مصروف ہوں مگر اخلاص اور تقویٰ نہ ہو تو وہ بھی محض ایک سماجی سرگرمی بن کر رہ جائے گی۔ اصل کامیابی ان دونوں پہلوؤں کے حسین امتزاج میں ہے۔استقبالِ رمضان کا ایک اہم پہلو توبہ اور خود احتسابی بھی ہے۔ یہ مہینہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے گزشتہ سال کا جائزہ لیں، اپنی کوتاہیوں پر ندامت کا اظہار کریں۔توبہ سے پہلے گزشتہ گناہوں پر ندامت کا اظہار اور اللہ کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرنا ضروری ہے اسے قرآنی اصطلاح میں’’ توبہ النصوح‘‘کہا گیا ہے ایسی توبہ جس کے بعد گناہ دہرایا نہ جائے۔رمضان المبارک میں ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ،گراں فروشی یعنی مصنوعی مہنگائی روزے کے ثواب کو غارت کر دیتی ہے۔اگر کوئی شخص ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کا مرتکب ہوگا وہ نہ صرف قانون بلکہ خدا کا مجرم ہوگا۔اگر ہم نے اس رمضان کو واقعی شعور، تقویٰ اور خدمت کے ساتھ گزار لیا تو یقیناً یہ مہینہ ہماری زندگیوں کا رخ بدل سکتا ہے۔