• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مجھے مکمل یقین ہے کہ پی سی بی کا ادارہ، دنیا بھر کے اداروں کی طرح انسان یعنی آدمی چلاتے ہیں۔ آپ کی اور میری طرح کے لوگ پی سی بی چلاتے ہیں۔ اوردیگر اداروں کی طرح پی سی بی ان لوگوں کو چلاتی ہے۔ اہم بات کچھ اس طرح ہے کہ لوگ ادارے چلاتے ہیں، اور ادارے لوگوں کو چلاتے ہیں۔ ایسے لوگ بڑے متحرک رہتے ہیں۔ ناشتہ کراچی میں، دوپہر کا کھانا دبئی میں اور رات کا کھانا یعنی ڈنر لندن میں کرتے ہیں، مطلب یہ کہ رات کاکھانا لندن میں کھاتے ہیں۔ آپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں کہ پی سی بی سے وابستہ لوگ کس قدر مصروف رہتے ہیں۔ اپنی کارکردگی سے دنیا کو متاثر کرنےوالے وہ لوگ اپنے لئے بین الاقوامی دوروں کے دوران گھریلو ماحول پیدا کرتے ہیں۔ سرکاری دوروں کے دوران وہ اپنی فیملی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ کھلاڑیوں کو اتنی بڑی چھوٹ ملی ہوئی نہیں ہوتی۔وہ صرف اپنی منکوحہ کو اپنے ساتھ غیر ملکی دوروں کے دوران اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کھلاڑی ہیں اور آپ کے پاس دہری شہریت ہے، یعنی آپ پاکستانی ہونے کیساتھ ساتھ برطانوی، اسپینش یا امریکی ہیں تو پھر آپ غیر ملکی دوروں کے دوران اپنے ساتھ اپنی گرل فرینڈ کو رکھ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ گرل فرینڈ منکوحہ نہیں ہوتی۔

میرے کہنے کا مطلب ہے کہ تمام ادارے آپ کی اور میری طرح کے لوگ چلاتے ہیں۔ ہم سب اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق ادارہ چلاتے ہیں۔ ادارے میں کام کرنے والے کچھ لوگ ہمیں اچھے لگتے ہیں۔ ان کو دیکھ کرہم تلملااٹھتے ہیں۔ ہمارے بس میں نہیں ہوتا ورنہ ہم کھڑے کھڑے ان کو ڈس مس کردیتے۔کسی کو پسند کرنے یا پسند نہ کرنے کیلئے ہمارے پاس کوئی خاص وجہ بھی نہیں ہوتی۔ کسی کو مسترد کرنے کے لیے ہمارے پاس معقول سبب نہیں ہوتا۔ ہماری مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم کس کو پسند کریں اور کس کو ناپسند کریں۔ اچھوں سے اچھے ہنرمندوں کو ڈانٹ پلاتے رہتے ہیں۔ سب کے سامنے ان کی بے عزتی کرتے ہیں ان کا آئے دن اپمان کرتے ہیں۔ یہ سب ہمیں اچھا لگتا ہے۔

ہم اللہ سائیں کے بخشے ہوئے غیر سیاسی لوگ کھیلوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہاکی، فٹبال، کرکٹ، کبڈی، بھاگ دوڑ یعنی ایتھلیٹکس ہمیں اچھے لگتے ہیں۔ مگر ہمیں سب سے اچھا اور رومانٹک کھیل کرکٹ کا لگتا ہے۔ پرانے دور کی بات ہے، کرکٹ کے ایک کھلاڑی کا نام ہوتا تھا، فضل محمود، میڈیم فاسٹ بالر ہوتے تھے۔ ان کٹر اور آؤٹ کٹر کرنے کے ماہر ہوتے تھے۔ آج کل ان کٹر اور آؤٹ کٹر کی جگہ ان سوئنگ اور آؤٹ سوئنگ نے لے لی ہے۔ مگر سب سے زیادہ موہ لینے والی ان کی پرسنلٹی یعنی شخصیت تھی۔ بے انتہا وجیہہ، پرکشش اور ہینڈسم ہوتے تھے۔ جس طرح دلیپ کمار برصغیر کے لوگوں کے دلوں پر راج کرتے تھے، اسی طرح فضل محمود برصغیر میں کرکٹ کھیل کو بے حد پسند کرنے والوں کے دل ودماغ پرراج کرتے تھے۔ وہ زمانہ سوشل میڈیا کا نہیں تھا۔ ٹیلیفون کو برقی تاروں کے دم چھلے لگے ہوئے ہوتے تھے، ٹیلیفون کرنے کے لیے آپ کو کہیں نہ کہیں بیٹھ جانا پڑتا تھا۔ اسقدر نایاب چیز تھی ٹیلیفون کہ یہ آپ کوکسی کے گھر شاذونادر ہی دکھائی دیتی تھی۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں اور اپنی کہی ہوئی بات پر اڑ سکتا ہوں کہ فضل محمود ہر لحاظ سے ہمارے دور کے زبردست اور ہینڈسم کھلاڑی عمران خان سے کہیں زیادہ ہینڈسم اور جاذب نظر تھے۔ ہندوستان کے دورے پر پاکستان کرکٹ ٹیم جاتی تو بمبئی فلم انڈسٹریز کے نامور ہیرو اور ہیروئنز فضل محمود کو دیکھنے اور ان سے ملنے کے لیے جوق درجوق ہوٹلز میں آتے رہتے اور فضل محمود کو مدعو کرتے۔

یہ بات اس دور کے ریٹائرڈ چیف جسٹس کارنیلئس کو پسند نہیں تھی۔ یا درہے کہ جسٹس کرسچن تھے۔ مجھے یاد آرہا ہے کہ اب پریذیڈنٹ اور پرائم منسٹر کی طرح کوئی غیر مسلم پاکستان کا چیف جسٹس نہیں بن سکتا ۔ یہ سنی سنائی بات ہے۔ اگر میرے مفلوج حال بڈھے دماغ نے مجھے دھوکہ دیا ہے تو میرے بھائیو اور بہنوں فقیر کو بخش دینا۔

ساٹھ ستر برس پرانی بات ہے۔ پی سی بی کا ادارہ ہماری طرح کے لوگ چلاتے تھے۔ پی سی بی کا مطلب ہے پاکستان کرکٹ بورڈ۔ حنیف محمد کے جیسا بیٹس مین ان سے پہلے ہم نے نہیں دیکھاتھا۔ ان کے بارے میں حیرت انگیز قصے میں آپ کو پھر کبھی سناؤں گا۔ میرا اعزاز ہے کہ میں ان کے ساتھ پیدا ہوا تھا اور ان کو کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہاں ایک جملہ حنیف محمد کے بارے میں لکھوں گا اور پھر پی سی بی کی کہانی جاری رکھوں گا۔ حنیف محمد کرکٹ کی دنیا میں قدرت کا کرشمہ تھے۔

ورلڈ ریکارڈ تھا کہ تین بھائی حنیف محمد، وزیر محمد، اور مشتاق محمد پاکستان کی ٹیم میں ایک ساتھ کھیلتے تھے۔ اس دوران سب سے چھوٹا بھائی صادق محمد ہر لحاظ سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کیلئے تیار ہوچکے تھے۔ عمر یہی کوئی سولہ سترہ برس کی تھی۔ میری طرح کے بورڈ کے ممبران کو قبول نہیں تھا کہ چوتھا بھائی بھی اپنے تین بڑےبھائیوں کی طرح ایک ٹیم میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلے۔ بغض سے بھرے ہوئے ممبران بضد تھے کہ جب تک حنیف محمد ریٹائر نہیں ہوتے ہم صادق محمد کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے نہیں دیں گے۔

پریشان حال اور تھکے ہوئے بوڑھے بھیجے پر میں مکمل انحصار نہیں کرتا۔ سنی سنائی اور پڑھی پڑھائی باتیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں، حنیف محمد کے ساتھ وزیر محمد بھی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے تھے۔ ان کے بعد برسوں تک دوبھائی مشتاق محمد اور صادق محمد ایک ساتھ پاکستان کے لئے کھیلتے رہے۔

آج کا قصہ میں نے وکٹ کیپر بیٹس مین محمد رضوان کے لیے لکھا ہے۔ سرکار، کہاں غائب کردیا آپ نے محمد رضوان کو۔

تازہ ترین