• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروفیسر خالد اقبال جیلانی

ایمان والوں کے لئے رجب کا مہینہ شروع ہوتے ہی استقبالِ رمضان کا موسم شروع ہوجاتا ہے۔ عام لوگوں میں بھی رجب کے مہینے سے رمضان کی خوشبو کا احساس بڑھنے لگتا ہے کیونکہ مسجدوں میں امام و خطیب کی خطابت کا انداز بدل جاتا ہے اورجب شعبان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ رمضان کی رحمت و مغفرت کی بہار آنے ہی والی ہے۔

پوری فضاء رمضان کی آمد کے احساس کی خوشی اور اُمنگ سے بھر جاتی ہے۔ پندرہویں شعبان یا شب برأت سے تو گویا آمدِ رمضان اور استقبالِ رمضان کا با ضابطہ دور شروع ہوجاتا ہے۔ مسجدوں کی صفائی، رنگ و روغن، جائے نمازوں، قالینوں اور فرش وغیرہ کی صفائی دھلائی اور تبدیلی کا کام ہونے لگتا ہے۔ حفاظِ کرام اپنے قرآن کی تکرار اور یاد کرنے و دہرانے کی رفتار بڑھا دیتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ تراویح کے وقت ان سے کوئی بھول چوک ہو۔

ادھر مسجد سے باہر کی زندگی اور گھریلو معاملات میں اللہ کے نیک بندے رمضان کی آمد کے پیش نظر اپنی ساری گھریلو ذمہ داریوں کو شعبان میں ہی پورا کر لیتے ہیں، گھروں کی صفائی ستھرائی بھی شروع ہوجاتی ہے جو بھی سامان سودا سلف خریدنا ہو، وہ رمضان سے پہلے ہی خرید لیتے ہیں۔ وہ اپنے آپ سے عہد کر چکے ہوتے ہیں کہ انہیں رمضان میں دنیاوی امور میں نہیں الجھنا، بلکہ وہ اپنا وقت اللہ کی عبادت، تلاوت قرآن اور ذکر و استغفار میں گزاریں گے۔

رمضان المبارک کے استقبال کے لئے جگہ جگہ نورانی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں، بڑے بزرگوں کی اس طرح رمضان کی تیاریاں دیکھ کر، ان کی باتیں اور تقریریں سن کر بچوں کے اندر بھی احترام ِ رمضان کا جوش اور عقیدت پیدا ہوجاتی ہے۔

گویا ہر فرد مومن بڑا چھوٹا رمضان کے روزوں کی برکتیں حاصل کرنے کے لئے ذہنی و جسمانی، قلبی وروحانی، نفسی و شعوری طور پر تیار ہوجاتے ہیں اور تہیہ کر لیتے ہیں کہ انہیں رمضان کے روزے رکھنے ہیں، تلاوتِ کلام پاک میں منہمک رہنا ہے، اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کی عبادت کو اپنا شعار بنانا ہے، تراویح کا اہتمام کرنا ہے۔ ان کے ذوق و شوق کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ گویا وہ کہہ رہے ہوں کہ رمضان آرہا ہے، رمضان آ رہا ہے۔

رمضان ہی وہ مبارک مہینہ ہے کہ جس میں قرآن کریم خاتم النبیین ﷺ پر نازل ہوا اور اسی طرح دیگر تمام انبیاء و مرسلین کو بھی اسی مہینے میں آسمانی کتابیں اور صحیفے عطا کئے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک میں رسول اللہ ﷺ حضرت جبرائیل امینؑ کو پورا قرآن سناتے جس کی سنّت و اتباع میں آپ کے نیک و صالح امتی بھی اس مہینے سے پہلے ہی قرآن کی تلاوت کا اہتمام شروع کردیتے ہیں۔

رمضان کے استقبال کے لئے اپنے دل کے دروازے کھولنے میں یہ اللہ کے نیک اور خداترس بندے اس پنہاں راز سے بھی آگاہ ہوتے ہیں کہ رمضان ’’مواسات‘‘ کا مہینہ ہے۔ یعنی غریبوں اور حاجت مندوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا مہینہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس مہینے میں ’’تیز چلنے والی ہواؤں سے بھی زیادہ فیاض ہوجاتے تھے۔ کہنے کا مطلب و مقصد یہ ہے کہ جواہل ایمان ہیں وہ رمضان المبارک کی شایان شان پذیرائی کرتے ہیں اور اس کے استقبال و تیاری میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔

اس تمہیدی گفتگو سے یہ بات بتانا اور رمضان کی اس اہمیت کو اجاگر کرنا مقصود ہے کہ ’’استقبالِ رمضان ‘‘ کی تیاری کا یہ عمل امّت اپنے نبی ہادی و رہبر محمد رسول اللہ ﷺ کی سنّت اور اتباع و پیروی میں اختیار کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ معمول تھا کہ رمضان آنے سے پہلے آپ ﷺ رمضان کے استقبال کے لئے صحابہ کرامؓ کے ذہنوں کو تیار کرتے، ان کی فکرو شعور میں رمضان کی اہمیت بٹھاتے، تاکہ وہ رمضان سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکیں۔

احادیث میں ایسے خطبوں کا ذکر ملتا ہے جو خاص اس مقصد کے لئے آپ ﷺ نے رمضان کی آمد سے پہلے دیئے۔ خاص طور پر وہ خطبہ تو بہت طویل اور مشہور ہے جو شعبان کی آخری تاریخ کو آپ ﷺ نے دیا اور جس کے راوی حضرت سلمان فارسیؓ ہیں۔ اس خطبے میں آپ ﷺ نے یہ خوشخبری دیتے ہوئے کہ لوگو، تم پر جلد ہی ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے۔

اس مہینے کی عظمت اور فضیلت کو بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے رمضان کی عظمت و اہمیت کے مختلف پہلو پیش فرمائے، اس میں روزے کے فیوض و برکات کو اجاگر کیا اور اس طرح ذہنوں کو تیا رکیا کہ اس سنہری موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لئے انسان پورے قلبی ذوق و شوق ، ذہنی شعور اور جسمانی ور وحانی تیاری کے ساتھ کمر بستہ ہوجائے۔

رمضان کے فیوض و برکات سے پوری طرح مستفیض و مستفید ہونے اور اس کی خیر و بھلائی کا واقعی مستحق بننے کے لئے ضروری ہے کہ ہم بحیثیت مومن اس سے استفادہ اور کسب فیض کے لئے پہلے اپنے ذہن و فکر اور قلب و روح کو شعوری ادراک کے ساتھ پوری طرح تیار کریں اور تزکیۂ نفس کا سامان فراہم کریں۔ اس شعوری تیاری، قلب و روح کی بیداری اور تزکیۂ نفس کا رمضان نصاب یا کورس درج ذیل طریقے پر ترتیب دیا جانا انتہائی ضروری ہے۔

ذاتی احتساب، اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ رمضان کی پہلی شب اہل ایمان اپنا معاملہ اللہ سے بھی صاف کریں اور اللہ کے بندوں سے بھی۔ سچے دل سے توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے پختہ عہد کریں کہ پروردگار جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا، اب تیر ا یہ بندہ تیرا وفادار رہے گا، نا فرمانیوں سے دامن پاک رکھنے کی کوشش کر ے گا۔

اگر نمازیں قضا ہوئی ہیں تو رمضان کے ایام مقدسہ میں انہیں ادا کرنے کی فکر کریں۔ اسی طرح دیگر فرائض میں جو کوتاہی ہوئی ان کی بھی تلافی کریں۔ بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہوئی ہے تو ان سب سے معافی طلب کریں۔ اس لئے کہ بندوں کے حقوق جب تک بندے خود معاف نہ کریں، اللہ معاف نہیں کرتا۔

اصلاح احوال کے معاملے میں عام طور پر ایک اور کوتاہی عام ہے، وہ یہ کہ جب انسان پر نیکی کے جذبات چھانے اور نیکیاں کرنےکا داعیہ ابھرتا ہے تو اس بات پرنگا ہ نہیں جاتی کہ وہ کن کن چھوٹے بڑے گناہوں میں مبتلا ہے، بلکہ کچھ نوافل و اذکار اور صدقات و خیرات کی طرف ذہن متوجہ ہوجاتاہے، اور آدمی یہ سب کر کے اطمینان محسوس کرتا ہے کہ اس نے دین دارانہ زندگی اپنالی ہے اور فرماں بردار بندوں میں شامل ہوگیا ہے۔

حالانکہ اذکار و نوافل، صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنے سے پہلے سوچنے اور کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ کن کن گناہوں میں مبتلا ہے؟ کبیرہ گناہوں سے مخلصانہ توبہ کرے اور اللہ سے پختہ عہد کرے کہ اس کی توفیق سے آئندہ ان گناہوں کو جانتے بوجھتے کبھی نہیں دہرائے گا۔ صغیرہ گناہوں سے بھی توبہ کرے۔ اگرچہ صغیرہ گناہ اللہ تعالیٰ نیکیوں کی برکت سے معاف کردیتا ہے مگر کبیرہ گناہ وہ بغیر توبہ کے ہر گز معا ف نہیں کرتا اور توبہ ہی بندے کا وہ عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ انتہائی خوش ہوتا ہے۔

رمضان سے حقیقی معنوں میں روحانی اکتساب ِ فیض اور جسمانی فوائد حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ رمضان کے آنے سے پہلی ہی بندہ بارگاہ الٰہی میں سچی توبہ کر لے، تمام گناہوں سےباز آ جائے۔ بندے سے معاملہ صاف کرلینا تو بہ کی لازمی شرط ہے۔ توبہ کے بعد ہی بندہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ رمضان کا شایان شان استقبال کر سکے اور اس حال میں رمضان کا آغاز کرے کہ وہ فی الواقع رمضان سے ایمانی، روحانی، جسمانی، ظاہری، باطنی طور پر مستفیض و مستفید ہو سکے۔

اگر واقعی یہ سنجیدہ خواہش ہے کہ دل کی سر زمین میں نیکیوں کی بہار آئے تو دل کی سر زمین کو پہلے گناہوں اور اللہ کی نا فرمانیوں سے پوری طرح صاف کیجیے، تب ہی تو قع کی جاسکتی ہے کہ اس میں نیکیوں کے پھول کھلیں گے اور بھلائیوں کی بہار آئے گی اور آپ اس بہار سے فیض یاب ہو سکیں گے۔

توبہ کی اس پہلی شرط کو پورا کرنے کے بعد آپ اس لائق ہیں کہ اب رمضان کا استقبال کریں اور یہ آرزو کریں کہ رمضان کے فیوض و برکات، رحمت و مغفرت سے اللہ تعالیٰ آپ کا دامن بھر دے۔

پھر آپ اس تلقین، تشویق اور ترغیب کے واقعی مخاطب ہیں جو اللہ کے سچے رسول ﷺ نے اپنے خطبوں میں رمضان کی آمد کے مواقع پر دی ہیں۔ آپ ان خطبات کے مخاطب بھی ہیں اور آپ کا یہ حق بھی ہے کہ آپ رمضان کی رحمتوں، مغفرتوں، برکتوں اور سعادتوں سے مالامال ہونے کی سعی و جدو جہد کریں۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید