• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس وقت مشرق وسطیٰ اپنی تاریخ کے سب سے خطرناک بحران سے گزر رہا ہے، جو جنگ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف شروع کی تھی وہ چند ہی دنوں میں کم وبیش پورے خطے میں پھیل چکی ہے۔ اس جنگ میں اکیسویں صدی کے جدید ترین ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں۔ 

ماضی کی جنگوں کے بر خلاف یہ جنگ ابھی تک زمین پر نہیں بلکہ فضا میں لڑی جارہی ہے۔ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے بجائے میزائلوں اورجوابی میزائلوں کے درمیان یہ جنگ ہے۔ ایسے خطرناک بم استعمال ہورہے ہیں جو کئی کئی سوفٹ گہرے بنکروں تک پہنچ جاتے ہیں۔

جاسوسی کے وہ نظام بنائے گئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ اسے سائبر لڑ ائی بھی کہا جارہا ہے ۔معلومات اکٹھا کرنے کے لیے سڑکوں پر لگے ہوئے کیمروں کو ہیک کر کے مطلوبہ اہداف تک پہنچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 

جدید ترین عسکری اور سائنسی ٹیکنالوجی سے لڑی جانے والی جنگ مشرق وسطیٰ کی اُس سرزمین کو تاراج کر رہی ہے جو صدیوں قبل تہذیب کا گہوارہ رہی تھی۔جہاں دجلہ و فرات، سمیر اور عکاد کی تہذیبوں نے انسان کو زندگی بسرکرنے کے سلیقے سکھائے تھے۔

جہاں زراعت کا آغاز ہوا تھا اور انسان نے پہلے پہل پہیے کا استعمال سیکھا تھا۔ جہاں تاریخ کے تین مذاہب یہودیت، مسیحیت اور اسلام نے انسان کے نفس کی پاکیزگی کی تعلیم دی تھی اور معاشرے میں صلح وآشتی کے صور پھونکے تھے۔ یہ مشرق وسطیٰ آگ اور خون میں نہلا دیا گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی یہ آگ آج نہیں بھڑکائی گئی، اس کا آغاز کوئی ساڑھے سات عشرے قبل اس وقت ہوا جب برطانوی استعمار نے اس خطے کی جغرافیائی حد بندیاں کیں۔ دوسر ی جنگ عظیم کے بعد 1949 میں فلسطین کی سر زمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی جس کو دوسری عرب ریاستوں نے اپنے خلاف ایک دشمن کو جگہ دے دینے کے مترادف تصور کیا۔ 

اسرائیل ایک ایسے فلسطینی خطے میں قائم کیا گیا جہاں یہودیوں کی مقامی آبادی ایک اقلیت کی حیثیت رکھتی تھی۔ سو دنیا کے مختلف خطوں سے یہودیوں کو یہاں لا کر آباد کیا گیا ۔ اس لحاظ سے یہ ایک استحقاق کی حامل ریاست نہیں تھی بلکہ ایک آبادکاروں کی ریاست(Settlers' State) تھی جس کی بقا کے لیے دوسرے خطوں میں آباد یہودی غیر معمولی اہمیت کے حامل تھے۔ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں بستے ہوں، ان کواسرائیل کی شہریت حاصل ہوسکتی تھی۔

برطانیہ نے جس کی استعماری سلطنت کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا، دو بڑی عالمی جنگیں لڑنے کے بعداس نے عالمی سیاست اور معیشت میں اپنا استعماری کردار امریکہ کے سپردکر دیا اور دوسری بڑی تبدیلی یہ آئی کہ دوسری جنگ کے اختتام کے ساتھ ہی دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہوگئی۔ اشتراکی بلاک کی قیادت سوویت یونین کے اور سرمایہ دارانہ بلاک کی قیادت امریکہ کے حصے میں آئی۔

سرد جنگ کے زمانے میں دونوں بڑی طاقتوں نے دنیا میں اپنے اپنے حلقۂ اثر قائم کیے۔ کئی نو آزاد ممالک سوویت یونین کے حلقۂ اثر میں شامل ہوئے۔ بہت سے ملکوں نے امریکہ یا مغربی بلاک میں جائے پناہ تلاش کی۔ مشرق وسطیٰ کی بادشاہتیں زیادہ تر امریکہ کے حلقے میں شامل رہیں لیکن جن جن ملکوں میں بغاوتوں کے ذریعے انقلابی حکومیتں قائم ہوئیں، انہوں نے عموماً سوویت یونین کے ساتھ تعلق قائم کیا۔

چنانچہ عراق، مصر، لیبیا اور بعض دوسرے ملکوں میں فوجی بغاوتوں کے بعدجو نئی حکومیتں وجود میں آئیں، ان میں سے بالعموم سبھی نے عرب نیشنلزم کے نظریاتی سانچے کو اپنی ریاست کے لیے اختیار کیا، اور اپنے ملکوں کے اُن اثاثوں کو جو مغربی ملکوں کے پاس گروی رکھے گئے تھے، قومیانے کا عمل شروع کر دیا۔

اسرائیل ابتداءہی سے مغربی بلاک میں شامل ہے، خاص طور سے امریکہ کے زیر اثر پروان چڑھنا شروع ہوا تھا۔ قوم پرست عربوں کے ساتھ اس کا اساسی تضاد اسی لیے قائم ہوا۔ یہ عرب ممالک اسرائیل کوامریکی و برطانوی طاقتوں کی پیداوار سمجھتے اور فلسطین کی آزادی کے علمبردار تھے۔ 

عرب ملکوں اور اسرائیل کا یہ اختلاف جو 1967کی عرب اسرائیل جنگ پر منتج ہوا، اس جنگ میںاسرائیل نے عرب ملکوں کو شکست دی۔ مصر کے صحرائے سینائی اور شام کی جولان کی پہاڑیاں اس کے قبضے میں آئیں۔ اردن جو ایک بادشاہت کے تحت تھا اور مغربی دنیا سے قریب بھی تھا،اس کے بھی ایک بڑے علاقے پر اسرائیل نے قبضہ کرلیا جو دریائے اردن کے مغربی حصے پر مشتمل تھا۔ 

اس جنگ کے بعد ایک اور عرب ا سرائیل جنگ1973میں ہوئی جس میں مصر، صحرائے سینائی کے بڑے حصے کو واپس لینے میں کامیاب ہوگیا لیکن اس جنگ سے پہلے ہی عرب نیشنلزم کمزور پڑنا شروع ہوچکا تھا۔ 1970میں مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے انتقال کے بعد انوارالسادت وہاں کے صدر بنے۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کر کے صحرائے سینائی کے بقیہ حصے بھی حاصل کر لیے اور اس کے عوض اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔

کچھ عرصے بعد امریکہ کے دباؤ پراردن نے بھی اسرائیل کو تسلیم کیا۔ اسرائیل نے اس کی قیمت اس طرح ادا کی کہ اردن ہی کے جس علاقے پر اس نے قبضہ کیا تھا ، اس پر فلسطینیوں کی ایک نیم خود مختار حکومت قائم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔

1970کے بعد مشرق وسطیٰ کا منظر نامہ کچھ یوں تھا کہ یہاں سبھی عرب ریاستیں یا تو بادشاہتوں کی حامل تھیں یا فوجی حکمرانی اور شخصی حکومتوں کے زیر اثر تھیں۔ ان ریاستوں میں داخلی اختلافات مختلف شکلوں میں سامنے آرہے تھے۔ اختلاف کا ایک بڑا پلٹ فارم انتہا پسند مذہبی جماعتوں کی شکل میں سامنے آیا۔

ان گروہوں نے اپنے اپنے ملکوں میں نہ صرف موجود حکومتوں کی مخالفت کی بلکہ یہ تنظیمیں عسکریت پسندی کی بھی حامل بنتی چلی گئیں۔ انہیں میں سے بیشتر مذہبی شدت پسند تنظیموں نے اسرائیل کی مزاحمت کا راستہ بھی اختیار کیا۔ 1969 میں ایران میں انقلاب آیا جس کے نتیجے میں امریکہ نواز بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور شہنشاہ آریہ مہر کو امریکہ میں پناہ لینی پڑی۔ ایران کی نئی حکومت مذہبی علما کے ہاتھ میں آئی۔ 

انقلابِ ایران پہلے دن سے امریکہ کی مخالفت پر کاربند ہوا۔ تہران کے امریکی سفارتخانے پر انقلابی نوجوانوں نے قبضہ کرکے سفارت کاروں کو یرغمال بنالیا اور ان کی رہائی کے لیے شرط رکھی کہ شہنشاہ ِایران کو واپس ایران کے سپرد کیا جائے۔

شاہ ایران تو دربدر ہوتے رہے لیکن امریکی سفارت کاروں کا بحران 1980میں الجزائر کی ثالثی سے طے پایا اور باون امریکی یرغمالی ایک سال سے زائد یر غمال رہنے کے بعد رہا ہوئے۔ امریکہ نے اس معاہدے میں یہ وعدہ کیا کہ وہ ایران کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔

ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ اس پورے عرصے میں امریکہ کا مشرق وسطیٰ کے معاملات میں عمل دخل بڑھتا رہا۔1991 میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کی عالمی بالادستی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

تیل کی سیاست اور امریکی مفادات

مشرق وسطیٰ کی سیاست میں امریکہ کے مفادات بنیا دی طور پر وہاں سے حاصل ہونے والے تیل سے وابستہ تھے۔ اور تیل ہی اب تک اس کی مشرقِ وسطیٰ میں سیاست کامحور ثابت ہوا ہے۔ 1973کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد تیل پیداکرنے والے عرب ملکوں نے تیل کی پیداوار، اس کی فروخت اور ترسیل کے کام کو مغربی کمپنیوں کے بجائے براہ راست اپنے ہا تھ میں لینے کا اقدام کیا۔ انہوں نے تیل کی قیمتیں ازسرنو خود طے کیں۔ 

جس سے ان کی اقتصادی طاقت اور خود اعتمادی میں اضافہ ہوا۔ آنے والے برسوں میں امریکہ کے ان عرب ملکوں سے تعلقات بنیادی طور پر اسی تیل کے نکتے کے گرد استوار ہوئے کہ کون سا ملک امریکہ کے ساتھ کاروبار کن شرائط پر کرتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا کردار اس کے اقتصادی اور سیاسی مقاصد کے حوالے سے ایک سامراجی کردار ہے۔ امریکہ دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی یہی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ 

مشرق وسطیٰ میں یہ کردار سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کے دور میں اور بھی زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ اس کے اس کردار کی ادائیگی میں اسرائیل ایک قریب ترین حلیف کے طور پرشامل ہے جو خطے میں امریکی مفادات کا سب سے بڑا ذمہ دار ہے اور امریکہ اس کی بقا اور تحفظ کا ضامن ہے۔ خطے کے دوسرے ملکوں کے حوالے سے امریکہ کے تعلقات مختلف زاویوں سے طے ہوتے ہیں۔

پرانی بادشاہتوں اور شیوخ کی ریاستیں امریکہ کے ساتھ حلیفانہ رشتے کی حامل ہیں۔ وہ خطے میں امریکہ کے کردار کو قبول کرتی ہیں ۔امریکہ کے ساتھ اچھے اقتصادی اور کاروباری رشتے رکھتی ہیں۔ ان کے تیل کی ترسیلات میں امریکی اور یورپی کمپنیوں کو قابلِ ذکر عمل دخل حاصل ہے۔ انہوں نے امریکہ کو اپنی سر زمین پر فوجی اڈے بھی دے رکھے ہیں جو ان ریاستوں کا تحفظ بھی کرتے ہیں اور خود امریکہ کو اس علاقے میں بھرپور دفاعی نظام فراہم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

وہ ملک جوبخوشی امریکہ کے اس سرپرستانہ کردار کو قبول نہیں کرتے او ر تیل کی پیداوار اور سپلائی کے نظام کو تمام تر اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں، ان کے ساتھ امریکہ کا تعلق مخاصمت کا ہوتا ہے۔ امریکہ ان ملکوں کے خلاف مختلف طریقے سے کارروائیاں کرتا ہے۔ ان کے ساتھ کاروباری تعلقات میں ان کو سخت شرائط پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، ان کی حکومتوں کو سیاسی اعتبار سے دباؤمیں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ 

ان میں سے جن ملکوں میں شخصی حکمرانی ، یک جماعتی نظام یا فوجی حاکمیت کی حامل حکومتیں ہوتی ہیں، وہاں امریکہ انسانی حقوق اور سویلین بالادستی کاعلمبردار بن جاتا ہے۔ ان چیزوں کی ضرورت اس کو قدامت پسند بادشاہتوں میں نظر نہیں آتی۔ معاندانہ تعلقات کے حامل ان ملکوں کے ساتھ امریکہ کا براہ راست تصادم تیل کے موضوع پر ہوتا ہے۔ اسی اختلاف اور لڑائی کو سیاسی رنگ دینے کے لیے وہ ان ملکوں کے دفاعی نظاموں پر تنقید کرتا ہے اور ان کو مسخر کرنے کے لیے آغاز ِکاراس الزام سے کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں کرتے ہیں۔

ان کے دفاعی نظام اپنے شہریوں کے خلاف اور خطے کے دوسرے ملکوں کے خلاف کا م آتے ہیں۔ سوان کی ان دفاعی تیاریوں کے آگے بند باندھنے کی ضرورت ہے۔ اور یہاں سے جو بات شروع ہوتی ہے وہ بآلاخر تیل کی ترسیلات پر جاکر ختم ہوتی ہے۔عراق کے ساتھ یہی ہوا۔اس پر پہلے یہ الزام لگا کہ صدام حسین کی حکومت اپنے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرتی ہے، پھر یہ الزام لگایاگیا کہ وہ جوہری اسلحے کی تیاری میں مصروف ہے جس کاا ستعمال خطے میں کیا جائے گا۔

1990 میں پہلی خلیجی جنگ میں اسی الزام کے تحت عراق پر کارروائی ہوئی۔ کویت پر عراق کے قبضے کو سفارتی ذرائع سے ختم کروایا جا سکتا تھا ۔ لیکن مارگریٹ تھیچر اور جارج بش نے عملاً چاہا کہ عراق خود کویت سے واپس نہ آئے بلکہ اس کو جدید ترین امریکی اور مغربی اسلحے کے ذریعے کویت سے نکالاجائے تاکہ امریکہ کی جنگی صنعت کے تازہ ترین اسلحے کی نمائش بھی ہو ،اس کے لیے عالمی مارکیٹ بھی بنے اور اُس نئے عالمی نظام کی آمد کا اعلان بھی ہوجائے جو سوویت یونین کی تحلیل کے بعد امریکہ دنیا بھر کو اپنی بالادستی کے حوالے سے باورکرانا چاہتا تھا۔

اس مہم میں کامیابی کے باوجود صدام حسین اور اس کی حکومت بچ جانے میں کامیاب ہوگئی لیکن اس کے بعد وہ مستقل جوہری اسلحے کی تلاشیوں ، اقتصادی ناکہ بندی، یہاں تک کہ ادویات تک کے عراق پہنچنے پر پابندیوں سے عہدہ برآ ہوتی رہی۔2003میں عراق کے خلاف دوسری جنگ میں صدام حسین کو شکست دے کر اس کو پھانسی دے دی گئی۔ عراق کے تیل کی پیداوار اور سپلائی مغربی کمپنیوں کے ہاتھ میں آگئی۔

تیل کے ذخائر اور امریکہ، چین کی مقابلہ آرائی

تیل کے ذخائر اور اس کی سپلائی کے کاموں میں امریکہ کو جو فوقیت حاصل ہو رہی تھی اس کو ایک اور جانب سے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی اقتصادی دوڑ میں چین امریکہ کے مقابلے میں آکھڑا ہوا تھا۔ چین نے امریکہ کے ساتھ کسی جنگی آویزش میں گھِرنے سے اجتناب کیا، لیکن اقتصادی طور پر اپنے آپ کو اتنامضبوط کیا اور بین الاقوامی تجارت میں ایک مرکزی کردار حاصل کر لیا جو امریکہ کے لیے ایک چیلنج بن رہا تھا۔

امریکہ کے لیے چین کے اس اقتصادی ابھار کا راستہ روکنے کا صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ وہ تیل کے حصول کے چین کے ذرائع کو اپنا ہدف بنائے۔ چنانچہ ایران پر حالیہ حملے سے پہلے وینزویلا کے خلا ف کارروائی کی گئی جو چین کے لیے تیل فراہم کرنے والا ایک اہم ملک تھا۔ 

وینزویلا میں عالمی سطح پر دہشت گردی کے ایک ایسے واقعے نے جنم لیا جس کی نظیربین الاقوامی تعلقات میں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ امریکہ نے وینزویلا کے صدر کو اغوا کر لیا۔ ایسا کرتے وقت بظاہر دو چیزوں کا اعلان کر دیا گیا۔ ایک تو یہ کہ بین الاقوامی قانون امریکہ کی نظروں میں اب کوئی حیثیت نہیں رکھتا ،اور دوسرا یہ کہ اقوام متحد ہ جو ماضی میں بھی کمزور سے کمزورتر ہوتا چلا گیا تھا، اب بالکل ناکارہ ہو چکا ہے۔

ایران کے حوالے سے بھی امریکی حکمت عملی اس کے سامراجی مزاج اور سامراجی کردار کے عین مطابق ہے۔ ایران پر بھی الزامات کا آغاز اسی طرح ہوا کہ ایران نے اپنے شہریوں کو اظہار کی آزادی سے محروم رکھا ہے۔ یہ محرومی امریکہ کو ان عرب بادشاہتوں میں نظر نہیں آتی جو کہ اس کے حلیف بن چکی ہیں ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ علی الاعلان ایران کے عوام سے اپنی حکومت کے خلاف کھڑے ہوجانے کا کہہ رہے ہیں۔

ایران کے حوالے سے بھی امریکہ کی اصل پریشانی یہی ہے کہ اس کے تیل سے چین بھر پور فائدہ اٹھارہا ہے۔ چین کے تیل کی درآمد کا چالیس فیصد آبنائے ہرمز سے ہوکرآتا ہے۔ تیل چین کی اقتصادی ترقی کے لیے ریڑھ ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ 

اس نے اپنی مینوفیکچر نگ اور سپلائی چین کے زریعے عالمی معیشت میں جو حیثیت حاصل کی ہے اس کے تسلسل کے لیے تیل کی دستیابی ناگزیر ہے۔ امریکہ ایران کے تیل سے چین کے استفادے کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ وہ ایران کی دفاعی تیاریوں کو بھی خطے کے لیے اور خود اپنی بالادستی کے نظام کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے۔

تیل اور جوہری تیاریوں کی سیاست

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ یہ امریکہ ہی تھا جس نے ایران کو پہلے پہل تیل سے متعلق پالیسیوں کو اپنے سامراجی مقاصد کے تحت منظم کیا۔ اوریہ بھی کہ امریکہ ہی تھا جس نے ایران کو یورینیم افزودگی کی ٹیکنالوجی فراہم کی۔1953 میں امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں نے قوم پرست وزیراعظم محمد مصدق کا ایرانی فوج کے ذریعے تختہ الٹوایا۔ 

مصدق نے برطانیہ کی اینگلو پرشین آئل کمپنی کو قومیانے کا اقدام کیا تھا ۔فوج نے بغاوت کر کے مصدق کو ہٹایا اور شہنشاہ محمد رضاشاہ پہلوی کو واپس اقتدار سپرد کیا۔ تب سے 1979 میں اقتدار سے محرومی تک شہنشاہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں کے نگراں بنے رہے، بلکہ ان کو ایشیا میں بھی امریکہ کا پولیس مین کہا جاتا تھا۔ 1954 میں امریکہ اور برطانیہ کے دباؤ پر شاہ نے ایک کنسورشئیم ایگریمنٹ پر دستخط کیے جس کے تحت امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی تیل کی کمپنیوں کو ایران کی تیل کی صنعت کے چالیس فیصد مالکانہ حقوق پچیس سال کے لیے حاصل ہوگئے۔

 1957میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹم کے سویلین استعمال کے باہمی تعاون کا معاہدہ طے پایا ،جس کوامریکی صدر آئزن ہاور کی ’ایٹم برائے امن‘ کی پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا۔ اس معاہدے کی رُوسے امریکہ نے ایران کو یورینیم کی افزودگی کا ری ایکٹر فراہم کیا۔ جوہری توانائی کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے یہ قریبی روابط1979میں شاہ کے اقتدار سے محروم ہونے تک برقرار رہے۔

1980 اور 1988کے درمیان ایران اور عراق کی جنگ کے آٹھ سالہ دور میں ہر چند کی امریکہ کے ایران کے ساتھ تعلقات معاندانہ ہی تھے، صدر ریگن نے لبنان میں حزب اللہ کے ہاتھوں سات امریکی یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے خفیہ طور پر ایران کو اسلحہ فروخت کیا۔ 1991کی خلیج کی جنگ میں عراق کی اقتصادی اور عسکری طاقت ختم ہوگئی اور ایران جس نے اس جنگ کے دوران غیر جانبدار رہنے کااعلان کیا تھا، وہ خطے کی بڑی طاقت بن کر ابھرا۔اس سے اب اسرائیل کو بھی خطرہ تھا۔

امریکہ کے بھی خطے میں مفادات کو ایران سے مزاحمت کا سامنا ہوسکتا تھا۔ یہیں سے ایران کے جوہری پروگرام پر تنقید شروع ہوئی۔ اس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کارروائیاں ہوئیں۔ اس کی اقتصادی ناکہ بندی کی گئی۔ ایران نے اس ساری صورت حال میں بعض عرب ملکوں میں اپنے پراکسی گروپ تیار کیے جنہوں نے عرب حکومتوں، اسرائیل اور خود امریکہ کے خلاف مسلح کارروائیاں کیں۔ چنانچہ حماس اور حزب اللہ مشرق وسطیٰ کی اہم سیاسی و عسکری قوتیں بن گئے۔

لہذا ایران کو پیچھے دھکیلنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کے نقطۂ نظر سے یہ ضروری ہوا کہ پہلے ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے اوران کے زیر اثرخطوں پر قبضہ کیا جائے۔2023 سے غزہ میں جو کچھ ہوا، وہ بالواسطہ ایران ہی کے خلاف کارروائی تھی۔ 

غزہ میں جس طرح لاکھوں انسانوں کا قتل عام ہوا اور بربادی کے جو مناظر دنیا کے سامنے آئے اس پر عالمی سطح پر شدید احتجاج ہوا، لیکن وہ امریکہ اور اسرائیل کو اس دہشت گردی سے باز نہیں رکھ سکے۔ اب ایران کو براہ راست ہدف بنانے کا مرحلہ آیا۔

جون 2025 میں اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے اس مہم میں امریکہ کے براہ راست ملوث ہونے کا اعلان کیا ۔پہلی دفعہ امریکہ نے ایران کے علاقے میں بمباری کی اوردعوی کیا کہ اس نے اپنے جدید ترین بموں سے ایران کے بنکروں میں چھپی ہوئی اس کی نیوکلیئر تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔ 

اس کے فوراً بعد ایران میں حکومت مخالف مظاہرے بھی شروع ہوئے جن میں شہری آزادیوں کے مطالبے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے خلاف اور اشیائے صرف کی عدم دستیابی پر احتجاج کیاگیا۔ اب اقتصادی مسائل بھی دو چند ہوچکے تھے جس میں ایران کے اوپر امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کا بھی ایک کردار تھا۔ ان مظاہروں کی امریکہ نے علی الاعلان حمایت کی۔ اس سال فروری میں امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ ایران کی میزائل کی صنعت کو مکمل طور پر تباہ کر دے گااور پھر اس نے ایسا کرنا شروع بھی کیا۔

امریکہ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کوبھی اپنا مقصدقرار دیا اورپھر ایرانی قیادت کو ہلاک کرنے کی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ 28 فروری کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی قیادت کے کئی اہم افراد کونشانہ بنایا گیا۔ 

اس اقدام کے بعد جنگ کی شدت میں اضافہ ہوااور ایران نے مختلف عرب ملکوں میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کیا، یوں یہ جنگ انتہائی خطرناک شکل اختیار کر گئی ۔اس وقت مشرق وسطیٰ بحیثیت مجموعی جنگ کی خوں بار صورت حال سے گزر رہا ہے۔

مستقبل کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ایک تو یہ بات طے ہے کہ اس جنگ کا جو بھی نتیجہ نکلے،اس کے بعد مشرق وسطیٰ کا سیاسی نقشہ بہت حد تک بدلے گا، عرب اسرائیل تنازعہ نئے رخ اختیار کرے گا، عرب ملکوں کی داخلی صورت حال کی حرکیات تبدیلی ہوں گی، امریکہ کی بالادستی اور سامراجی مفادات مضبوط ہوں گے ۔لیکن ساتھ ہی اس کی مزاحمت کے نئے رجحانات بھی جنم لیں گے۔ ان رجحانات کی سیاسی تجسیم کس طور ہو گی اس کا بھی مستقبل ہی میں اظہار ہوگا۔

فوری طور پر کیا حکومت کی تبدیلی ہوجائے گی ؟ اسرائیل کی خواہش تویہی ہے کہ فوراًایران کا قصہ تمام ہوا ور وہاں امریکہ اور اسرائیل نواز حکومت قائم کی جائے ۔سابق شاہ ایران کے بیٹے اعلان بھی کرچکے ہیں کہ وہ ایران کی موجودہ حکومت کے زوال کے بعد وہاں جائیں گے اور پہلا اقدام اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کریں گے۔ لیکن ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ وہاں موجود اقتدار کے ڈھانچے کو اور دفاعی اسٹیبلشمنٹ کواندر سے توڑا جائے۔لیکن ابھی تک پاسداران ِ انقلاب کے اندر کسی ٹوٹ پھوٹ کے آثار سامنے نہیں آئے ہیں۔ 

ایران کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کو ذہنی اور نظر یاتی طور پر قبول کرنے والے عوام بھی بڑی تعدا د میں موجود ہیں۔ ایسے میں شاید امریکہ ایران کو سخت شرائط پر موجودہ قیادت کے ساتھ ہی چلتے رہنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ اس قسم کا راستہ دوسری بڑی طاقتوں مثلاًروس اور چین کو بھی قابلِ قبول ہوسکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ اورحالیہ جنگ کے حوالے سے کوئی بڑا اور کھلا(Pro-active)کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں خود کو نہیں پاتے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید