ہماری نسل نے جہاں اور بہت کچھ دیکھا وہاں اقوام متحدہ کی جانب سے 1975 میں دنیا بھر میں عورتوں کے عالمی سال منانے کا آغاز ہوتے بھی دیکھا، ورنہ اس سے قبل صرف چند سوشلسٹ ملکوں میں ہی عورتوں کا عالمی سال منایا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی میکسکو میں عورتوں کی پہلی عالمی کانفرنس بھی منعقد ہوئی تھی جس میں نصرت بھٹو کی سربراہی میں پاکستانی خواتین کے ایک وفد نے شرکت کی تھی۔
اس کانفرنس میں عورتوں کا عالمی عشرہ منانے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ اس عشرے کے دوران پاکستان میں آمرانہ حکومت کا راج تھا لیکن 1995میں بیجنگ میں ہونے والی عورتوں کی عالمی کانفرنس میں پاکستان کے سرکاری وفد کی قیادت شہیدبے نظیر بھٹو نے کی تھی۔
پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے ایک بڑے وفد نے بھی بیجنگ کانفرنس میں شرکت کی تھی ۔اور اب نصف صدی کے بعد ہم 2026 میں ایک مرتبہ پھر عورتوں کا عالمی دن منا رہے ہیں۔ اس مرتبہ ’’کچھ حاصل کرنے کے لئے کچھ دو‘‘کی مہم کے ساتھ ساتھ یو این کی طرف سے عورتوں کے عالمی دن کا موضوع’’ حقوق، انصاف اور عمل یا ایکشن، ساری عورتوں اور بچیوں کے لئے ‘‘ ہے۔
ابھی تک تو اقوام متحدہ کے حوالے سے بات ہو رہی ہے لیکن یہاں ہم آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ1910میں ایک جرمن مارکسی سوشلسٹ خاتون کلارا زیٹکن نے کوپن ہیگن میں ہونے والی انٹر نیشنل سوشلسٹ کانفرنس میں عورتوں کے حق رائے دہی اور بہتر حالات کار کا مطالبہ کرنے کے لئے عورتوں کا کا عالمی دن منانے کی تجویز پیش کی تھی۔1911میں پہلی مرتبہ ان مطالبات کے حق میں بین الاقوامی مظاہرے ہوئے اور تب سے کچھ ممالک میں آٹھ مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جانے لگا تھا۔
2026 کے عالمی دن کا موضوع ’’دو تا کہ پاؤ‘‘ یا ’’پانے کے لئے دو‘ہے اور اس کا مقصد سخاوت کی ثقافت کو فروغ دینا ہے۔ یہ سمجھانا ہے کہ ایک منصفانہ اور خوشحال معاشرے کے قیام کے لئے عورتوں کو وسائل اور مواقع فراہم کرنا اور ان کی اعانت کرنا ضروری ہے۔ اقوام متحدہ نے ’حقوق، انصاف اور عمل کے لئے بھی اپنی کوششیں جاری رکھی ہیں۔
اقوام متحدہ کی مختلف مہموں کا مقصد ساختیاتی رکاوٹوں کو دور کرنا، اقتصادی خود مختاری کو فروغ دینا اور ترقی کے عمل کو سخاوت اور فراخ دلی کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ اقوام متحدہ مختلف صورتوں میں’ دینے‘ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے یعنی مینٹور شپ یا سر پرستی، خواتین کے لئے بلا منافع کام کرنے والے اداروں کو عطیات دینا اور دقیانوسی تصورات کو چیلنج کرنا،کسی کو کچھ دینے سے آپ کے وسائل کم نہیں ہو جاتے بلکہ ان میں اضافہ ہوتا ہے۔
اگر اس موضوع کو برصغیر کے صوفیا کی تعلیمات کی روشنی میں دیکھیں تو یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک روحانی اصول بن جاتا ہے۔ صوفیا کے نزدیک پانا کبھی مقصد نہیں رہا، دینا ہی اصل مقصد ہے۔’’جو اپنے آپ کو خالی کرتا ہے ، وہی حقیقت سے بھر دیا جاتا ہے۔‘‘ صوفی روایت میں عورت کی علامت خاص طور پر تخلیق، پرورش اور ایثار سے جڑی ہوئی ہے۔
ماں، محبوبہ، مرشد ، یہ سب کردار Give to gainکی زندہ مثالیں ہیں۔ عورت صدیوں سے خاندان اور سماج کی خدمت کرتی چلی آئی ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اس خدمت کو اختیار Agencyمیں بدلا جائے نہ کہ اسے عورت کے لئے ایک بوجھ اور قربانی بنا دیا جائے۔بانٹنا یا دینا دراصل ترقی اور گروتھ کا عمل ہے:
تعلیم دو۔ شعور بڑھے گا
محبت دو۔مزاحمت مضبوط ہو گی۔
آواز اٹھاؤ۔ تاریخ بدلے گی۔
اقوام متحدہ کی خواہش ہے کہ ہر کوئی عورتوں اور لڑکیوں کی ترقی کی حمایت کرے ۔حمایت سے مراد اسٹیریو ٹائپس کا خاتمہ، امتیازی رویوں کو چیلنج کرنا، تعصبات کے خلاف آوازاٹھانا اور عورتوں کی کامیابی پر خوش ہونا ہے۔ امسال عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر ہم سب کے لئے کچھ نہ کچھ دینا ضروری ہے۔ابھی بھی صنفی مساوات کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں لیکن عورتوں کے لئے وسائل مختص کر کے اور ان کی حمایت کر کے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔
ویسے بھی دنیا بھر میں غیر سرکاری تنظیمیں عورتوں کی ترقی کے لئے کام کر رہی ہیں۔ ہمیں ان سپورٹرز کو سپورٹ کرنا چاہئیے یعنی مدد گاروں کی مدد کرنی چاہئے۔ اس مرتبہ عورتوں کے لئے فنڈ ریزنگ عورتوں کے عالمی دن کی تقریبات کا حصہ ہوگی۔
عورتوں کی خود مختاری کے حوالے سے ان کی ڈیجٹل خود مختاری پر اقوام متحدہ، حکومت اور سول سوسائٹی سب ہی توجہ دے رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ عورتوں پر تشدد کے خاتمے کے لئے پیرو کاری بھی جاری ہے۔ آٹھ مارچ کو دنیا بھر کی عورتیں مساوی حقوق اور مساوی انصاف کے حصول کے لئے اکٹھی ہو رہی ہیں۔ اس وقت یعنی2026میں دنیا بھر میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو صرف 64فی صد قانونی حقوق حاصل ہیں۔
زندگی کے بنیادی شعبوں یعنی کام، پیسا، سیفٹی، فیملی، پراپرٹی، کاروبار سے لے کر ریٹائرمنٹ تک دنیا کا قانون مرد کے مقابلے میں عورت کے لئے خسارے کا سودا ہے۔ سماجی رواجوں سے لے کر امتیازی قوانین تک مساوی انصاف کے حصول کے لئے عورتوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہیں، آگے بڑھنے کی بجائے بعض صورتوں میں انہیں پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔ اگر یہی صورت رہی تو اس قانونی صنفی تفاوت کو دور کرنے میں286سال لگیں گے۔ یہ ٹائم لائن نہیں بلکہ ہتھیار ڈالنے والی صورت حال ہے۔
مساوی صنفی انصاف کے بارے میں یو این ویمن کا کہنا ہے کہ عورتوں کے حقوق کا تحفظ اور دفاع کیا جائے قوانین صرف کتابوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کیا جائے تا کہ لوگوں کو مساوی حقوق اور انصاف مل سکے۔
اس کا مطلب تعلیم تک لڑکیوں کی رسائی اور کم عمری کی شادی کے خاتمے کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ عورت کو اپنے لئے کام کا انتخاب کرنے، سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی آزادی ہونی چاہئیے۔ صنفی تشدد کی ہر شکل کا خاتمہ ضروری ہے۔
عورتوں کا عالمی دن مناتے ہوئے ہمیں دنیا کے مختلف ممالک میں عورتوں کو درپیش مسائل کو نہیں بھولنا چاہئیے۔ جیسے
٭افغانستان کی عورتوں پر تعلیم اور ملازمت کے دروازے بند کردئیے گئے ہیں۔ ہمیں ان عورتوں کے لئے عزت اور وقار کے ساتھ جینے کے راستے ڈھونڈنے میں مدد دینا ہو گی۔
٭ کانگو، سوڈان اور جو دیگر افریقی ممالک خانہ جنگی کا شکار ہیں ، وہاں عورتوں کو بہت زیادہ تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہیں خوراک ،طبی سہولتوں اور رہائش کی ضرورت ہے۔
٭میانمار میں فوجی جنتا کی کارروائی کے نتیجے میں روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لے رکھی ہے۔ فوجی کارروائی کے دوران ریپ اور قتل کے واقعات نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ بنگلہ دیش میں پناہ لینے والی روہنگیا برادری کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔
٭فلسطین کی بات کریں تو اکتوبر 2023سے غزہ میں ستر ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔ دو ملین لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، بھوک اور پیاس کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں خوراک اور گرم کپڑوں کے ساتھ ٹراما کاؤنسلنگ کی بھی ضرورت ہے۔
٭شام میں چودہ سالہ طویل خانہ جنگی ختم ہو گئی ہے۔ لیکن لوگوں کی تکالیف ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔ شہری سہولتوں کی قلت ہے۔ عورتوں کو عقوبت خانوں سے رہائی دلانا، مالی امداد، محفوظ پناہ گاہیں، طبی سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔
٭یو کرین میں روس سے جنگ کے نتیجے میں تین اعشاریہ سات ملین لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، چھ اعشاریہ نو ملین لوگ وطن چھوڑ گئے اور ریفیوجی بن گئے ہیں۔عورتوں کو زچگی کے علاوہ دیگر نسوانی امراض کے لئے بھی طبی سہولتیں درکار ہیں۔
ان مسائل کے باوجود 2026 میں عورتوں کا عالمی دن مناتے ہوئے ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ اکیسویں صدی کے پہلے چوتھائی حصے میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ بہت سی قانونی اصلاحات کے ساتھ ساتھ صنفی مساوات قائم کرنا حکومتوں کی ذمہ داری میں شامل ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق1995سے اب تک دنیا بھر میں عورتوں کے مختلف مسائل جیسے تشدد، امتیازی سلوک، عائلی قوانین اور سیاسی شراکت کے حوالے سے 1531قانونی اصلاحات کی جا چکی ہیں۔
اب دنیا بھر میں عورتوں کے اسمبلیوں میں آنے، اعلیٰ سرکاری عہدے سنبھالنے، قیادت کرنے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ جب حکومتیں کچھ کرتی ہیں تو تبدیلی آتی ہے، جب عورتوں کی تحریک کو وسائل فراہم کئے جاتے ہیں تو تبدیلی آتی ہے، جب ایسا نہیں کیا جاتا تو ترقی رک جاتی ہے یا واپس پلٹ جاتی ہے۔
اب تک سب سے واضح قانونی تبدیلی عورتوں پر تشدد کے حوالے سے آئی ہے۔2024 تک چوراسی فی صد ممالک میں گھریلو تشددکے خلاف قوانین بن چکے تھے، یوں واضح طور پر گھریلو تشدد کو لوگوں کا ذاتی معاملہ قرار دینے کا رویہ تبدیل ہوا۔
8مارچ کو عورتوں کا عالمی دن منانے سے قبل ۱۱ فروری کو سائنس کے میدان میں عورتوں اور بچیوں کا عالمی عالمی دن منایا گیا۔ یونیسکو کی فیکٹ شیٹ کے مطابق اس وقت عالمی ریسرچرز میں عورتوں کی تعداد ایک تہائی سے بھی کم ہے۔اس تفاوت کو ختم کرنا انصاف کا تقاضا تو ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے امپیکٹ کی کوالٹی بھی بہتر ہو گی۔
اس وقت دنیا کو سائنس کی ضرورت ہے اور سائنس کو عورتوں اور لڑکیوں کی ضرورت ہے۔ حالیہ اسٹڈیزسے معلوم ہوا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کے کم مضامین شائع ہوتے ہیں، انہیں اپنی تحقیق کا کم معاوضہ ملتا ہے اور مردوں کے مقابلے میں وہ کم عرصہ ملازمت کرتی ہیں۔
لڑکیوں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ وہ سائنس پڑھنے یا سائنسی کام کرنے کے قابل نہیں ہیں، مرد سائنسی شعبوں میں آگے بڑھنے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان ساری رکاوٹوں کے باوجود عورتیں اور لڑکیاں اختراعات اور سائنسی تحقیق کے حوالے سے نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے جان بچانے والی ادویات بنائی ہیں، ساؤنڈ بیرئیر کو توڑا ہے، کائنات کو دریافت کیا ہے اور ڈی این اے کی ساخت کو سمجھنے کی بنیاد رکھی ہے، یہ ساری خواتین آنے والی نسلوں کے لئے متاثر کن رول ماڈلز ہیں۔
ہمارے مستقبل کا انحصار سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی پر ہے اور یہ ترقی اسی وقت ممکن ہو گی جب عورتیں اور لڑکیاں سائنس و ٹیکنالوجی کی لیڈرز اور مالک ہوں گی۔ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں صنفی تفاوت کاخاتمہ ضروری ہے۔ گیارہ فروری کو سائنس میں عورتوں اور لڑکیوں کا عالمی دن منانے کا مقصد ان کے لئے پہلے سے چلے آنے والے لگے بندھے کرداروں کو ختم کرنا اور ترقی کی راہیں کھولنا ہے۔
عورتوں کا عالمی دن مناتے ہوئے ہمارے سامنے بہت سی پاکستانی خواتین ہیں جنہیں رول ماڈل کا درجہ حاصل ہے۔ ان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے کام کرنے والی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی، معذوروں کے حقوق اور ہیومینٹیرزم کے لئے اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر منیبہ مزاری کے علاوہ دیگر اہم شخصیات ہیں جنہوں نے روایات کو توڑ کر غیر معمولی کارنامے سر انجام دئیے ہیں۔ جیسے کوہ پیما ثمینہ بیگ، آسٹرو فزیسسٹ نرگس ماولوالا اور جنگی پائلٹ عائشہ فاروق۔
چار ماہ قبل ہی چند پاکستانی خواتین نے دنیا کو تبدیل کرنے کا ایشیا ایوارڈ حاصل کیا ہے۔ ان میں ایک پاکستانی سول سرونٹ ظل ہما بھی شامل ہیں جنہوں نے کلائمٹ چینج، انسانی حقوق اور عورتوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے بہت کام کیا ہے۔اس سے پہلے انہوں نے آکسفورڈ، یو کے، کے طلبہ اور ریسرچرز کے ساتھ مل کر ورلڈ فرسٹ آکسفورڈ کووڈ 19ٹریکر بنایا تھا۔
پلڈاٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی عورتوں کو ابھی بھی پبلک سروس کے مختلف شعبوں میں داخل ہونے میں مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔اس وقت قومی اسمبلی کے ارکان میں خواتین کی تعداد بائیس فی صد ہے۔اور اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو چیئر کرنے والی خواتین دس فی صد سے بھی کم ہیں۔اکتیس وفاقی وزرا میں صرف ایک خاتون وزیر ہے۔
وفاقی سول سروس میں خواتین ملازمین کی تعداد صرف پانچ اعشاریہ ایک فی صد ہے اور ان میں سے بھی پچھتر فی صد گریڈ سترہ سے نیچے کی ملازم ہیں۔ملک بھر میں عورتیں پولیس ورک فورس کا صرف تین اعشاریہ دو فی صد ہیں۔عدلیہ میں اگرچہ اٹھارہ فی صد عورتیں ججز اور جوڈیشل آفیسرز کے عہدوں پر کام کر رہی ہیں لیکن اعلی ٰعدالتوں میں خواتین ججز کی تعداد صرف پانچ اعشاریہ پانچ فی صد ہے۔سماجی و ثقافتی رسوم و رواج اور صنفی کردار آج بھی عورتوں کو مختلف شعبوں میں قائدانہ کردار ادا کرنے سے روکتے ہیں۔
عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر پاکستانی عورتوں کو ’’متضاد ترقی‘‘کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو وہ تعلیم اور ملازمتوں میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ دوسری طرف انہیں آج بھی پدر شاہی کے اصولوں کی پابندی کرنا پڑتی ہے۔ ایک طرف تو ٹیکنالوجی، ہیلتھ سائنسزاور کاروباری شعبوں میں وہ آگے بڑھ رہی ہیں۔ دوسری طرف صنفی مساوات کے حوالے سے عالمی سطح پر وہ بہت پیچھے ہیں۔
پاکستان کی لیبر فورس میں عورتوں کی تعداد، دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے لیکن 2026کے آغاز میں اس میں تھوڑا سا اضافہ دیکھنے میں آیااور یہ کل لیبر فورس کا چوبیس فی صد ہو گئی ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے عورتوں کو مختلف کاروبار شروع کرنے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔
گھر سے نکلنے اور مارکیٹ میں گھومنے پھرنے پر روایتی پابندیاں آن لائن کاروبار کی راہ میں حائل نہیں ہوتیں۔ اب لڑکیاں زیادہ تعداد میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور روائتی شعبوں کی بجائے ٹیکنالوجی، انجینئیرنگ اور آرٹیفشل انٹلی جنس کے شعبوں میں داخل ہو رہی ہیں۔
حکومت اور سول سوسائٹی عورتوں کے لئے قانونی تحفظات کومضبوط بنا رہی ہیں، جیسے زراعت میں عورتوں کو وراثت میں حق دینااور کام کی جگہوں پر صنفی مساوات کو فروغ دینا۔کے پی ایمپاورمنٹ پالیسی 2026-2030کا مقصد بھی عورتوں کے حقوق، تعلیم اور اقتصادی شراکت کو مستحکم بنانا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ اب سیاست، میڈیا اور گراس روٹ ایکٹیوازم میں عورتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ عورتوں کے مارچ اور سوشل میڈیا کیمپئن کی بدولت صنفی تشدد کے خلاف عورتوں کی آواز توانا ہوتی جا رہی ہے۔
امسال عالمی دن مناتے ہوئے ہمیں عورتوں کو درپیش چیلنجز کو پیش نظر رکھنا ہو گا۔
٭صنفی تفاوت ابھی بھی بہت زیادہ ہے اور عورتوں کی نمائندگی ابھی بھی کم ہے۔سیاست میں عورتوں کی نمائندگی صرف سترہ فی صد ہے اور اعلیٰ لیڈرشپ پوزیشن میں عورتوں کی تعداد کم ہے۔ 2024 کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ میں دنیا کے 146ممالک میں پاکستان کا نمبر 145تھا۔
٭شدید اقتصادی اور اجرتی تفاوت: مردوں اور عورتوں کی اجرتوں میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ عورتوں کی آمدنی مردوں سے اٹھارہ تا تیس فی صد کم ہے۔68فی صد سے زائد عورتیں زراعت کے شعبے میں کام کر رہی ہیں اور انہیں محدود مالی خود مختاری حاصل ہے۔ زمینوں کی ملکیت عام طور پر مردوں کے پاس ہے او ر ستر فی صد عورتوں کوزمینی ملکیت تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
٭صنفی بنیادوں پر تشدد اب بھی سب سے اہم مسئلہ ہے۔ ٭ساختیاتی اور ثقافتی رکاوٹیں: پدر سری عورتوں کی نقل و حرکت اور ٹیکنالوجی تک رسائی کو روکتی ہے۔(موبائل فونوں کی ملکیت میں 38فی صد گیپ ہے)۔
اب ہمیں لیگل فریم ورک سے عمل درآمد کی طرف بڑھنا ہوگا۔ تنظیم برائے اسلامی تعاون OICکی خواتین کے بارے میں نویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔اس کانفرنس میں عورتوں کے لئے قانونی تحفظ کو مضبوط بنانے،مالیاتی اُمور میں شامل کرنے اور عورتوں کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے پر زور دیا جائے گا۔
عالمی دن سے چند ہفتے قبل ہی ویمن آف دی ورلڈ WOWنے اپنی دسویں سالگرہ پاکستان میں منائی۔ اس کی بانی جوڈی کیلی اس موقع پر کراچی آئیں۔ان سے بات چیت سے اندازہ ہواکہ وہ خلوص دل سے دنیا بھر کی خواتین کے ساتھ پاکستانی خواتین کے مسائل کے بارے میں جاننااور ان کے حل کے لئے ان سے تعاون کرناچاہتی ہیں۔
ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ ساری پاکستانی عورتوں کے حالات یکساں نہیں ہیں، سب کی کہانی ایک جیسی نہیں ہے لیکن یہ سب ایک ہی نظام کے تحت رہ رہی ہیں اور وہ ہے پدرسری نظام اس کے ساتھ سارے پاکستانی شہریوں کی طرح وہ بھی طبقاتی نظام کے تحت زندگی گزار رہی ہیں۔
لاہور کی ایک تعلیم یافتہ خاتون سندھ کے کھیتوں میں کام کرنے والی خاتون سے مختلف زندگی گزارتی ہے لیکن دونوں کومختلف زبان میں، مردانہ حاکمیت یا پدرسری، ریاست کی جانب سے نظر اندازی اور اخلاقی نگرانی کا سامنا ہے۔
عورتوں کو درپیش چیلنجز کی شکلیں مختلف ہیں لیکن جڑیں ایک ہیں۔ عورتوں کی نقل و حرکت اور حق انتخاب کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ شہروں میں متوسط طبقے کی لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے لیکن اس کی بھی مختلف حدود ہیں۔
انہیں صرف ان ملازمتوں کی اجازت ملتی ہے جنہیں معاشرے میں معزز گردانا جاتا ہے۔ دیہی عورتوں کے الگ مسائل ہیں، والدین کی طے کردہ شادی ہی ان کے لئے بقا کا راستا ہے لیکن مرضی کی شادی پر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں بہت سی عورتیں تعلیم یافتہ ہیں لیکن ان کے پاس اختیارات اور طاقت نہیں ہے۔ عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر سندھ کی شہری اور دیہی عورتوں کے ایک گروپ نے پاکستان ویمنز فاؤنڈیشن فار پیس کی نرگس رحمن کی قیادت میں درج ذیل تجاویز پیش کی ہیں:
عورتوں کو اختیارات اور وسائل کی فراہمی کے ساتھ آبادی میں بے تحاشہ اضافے کو روکا جائے۔ غربت کے خاتمے کے لئے بالواسطہ ٹیکس کی بجائے امیروں پر براہ راست ٹیکس لگائے جائیں۔ عورتوں کے لئے چھوٹے قرضہ جات اور ان تک رسائی میں اضافہ کیا جائے۔ہوم بیسڈ ورکرز کی سہولت کاری کی جائے۔
ڈیجٹل اور اسکلز ٹریننگز فراہم کی جائیں۔ عورتوں کو کاروبار میں مدد دینے کے لئے فرسٹ ویمن بنک جیسے ادارے قائم کئے جائیں۔ عورتوں کو جائیداد اور زمین کی ملکیت کا حق دیا جائے۔ بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام اوردیگر سوشل سیفٹی نیٹس میں اضافہ کیا جائے۔ عورتوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات کے حصول کو آسان بنایا جائے۔ تعلیم بالغاں کے پروگرامز اور فیملی کاؤنسلنگ سروسز شروع کی جائیں۔
ہمیں امید ہے کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر حکومت ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور انہیں جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے گی۔