سابق وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ اگر ہمارے اندرونی معاملات ٹھیک ہوتے تو بانی پی ٹی آئی جیل میں نہ ہوتے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں قانون اور آئین نہ ہونے کے ساتھ ہماری غلطیاں بھی ہیں۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ مقبولیت اور سپورٹ کے باوجود ہم بانی پی ٹی آئی کو جیل سے نکالنے میں بار بار ناکام ہو رہے ہیں، نیت ٹھیک نہیں ہے یا پھر ہم استعمال ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ میں اپنی ذات کے لیے غصہ نہیں کر رہا بلکہ اپنے لیڈر کے لیے غصہ کر رہا ہوں، یہ تو برداشت کرنا چاہیے۔
پی ٹی آئی کے رہنما کا کہنا ہے کہ ہمیں پریشر بڑھانا ہوگا جو باتوں سے نہیں بڑھتا، ڈائیلاگ اور روزانہ ٹک ٹاک بنانے سے پریشر نہیں بڑھے گا۔
علی امین نے کہا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کو ڈاکٹر کی رسائی کا حق نہیں دلا پا رہے ہیں، میرے پاس آج سرکاری اور پارٹی کا عہدہ نہیں ہے، ایک ورکر ہوں اور احتجاج کی کال پر 2 دفعہ سب سے بڑی ریلی لے کر آیا تھا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں کسی پر الزام نہیں لگا رہا لیکن کوئی وجہ تو ہے جس سے پریشر کم ہوا، اب ٹی وی پر باتوں اور ٹک ٹاک پر دھمکی دینے سے بات نہیں بنے گی۔