؎ کہنے سے کچھ کتراتی ہے… شام سویرے بھر آتی ہے… یوں بھی ہوجاتا ہے اکثر… آنکھ سمندر بن جاتی ہے۔ ’’کہیں جارہے ہیں آپ؟‘‘ نئے سوٹ، جوتوں میں زاہد بڑے اہتمام سے تیار ہو کرجارہے تھے۔ ’’ہاں، وہ آج ایوارڈ کی تقریب ہے۔ شاکراحمد کو سال کے بہترین شاعر کا ایوارڈ مل رہا ہے۔ بہت عُمدہ شاعری کرتا ہے، دنیا دیوانی ہے اُس کی غزلوں کی۔ خیر، تم کیا سمجھو گی۔ مجھے دیر ہوجائے گی ۔ ہم سب دوست شاکر کو ریسیپشن دے رہے ہیں، تو کھانا کھا کر آئیں گے۔‘‘ ’’جی اچھا۔ مجھے بھی جانا تھا۔‘‘ ’’کہاں…؟‘‘ ’’وہیں جہاں آپ جارہے ہیں۔‘‘ ’’خیریت… تم کیا کرنے جا رہی ہو۔
کس نے بُلا لیا تمہیں؟‘‘ ’’وہی سائرہ انور، جو افسانے لکھتی ہے، اُسے بھی ایوارڈ مل رہا ہے۔ اُس کی کتاب کی رُونمائی بھی ہے۔‘‘ ’’تو تم اُس کے ساتھ جائو گی؟‘‘ ’’جی…‘‘ ’’اور بچّے…؟‘‘ ’’بچّوں کو بھی ساتھ لے کر جائوں گی۔‘‘ ’’کرلوگی مینیج؟‘‘ ’’کر لوں گی۔ سائرہ کے میاں گاڑی پر لے جارہے ہیں۔‘‘ ’’تمہاری سہیلیاں بھی خُوب ہیں۔ ویسے اُسے کس طرح مل گیا ایوارڈ، اچھا لکھتی ہے کیا؟‘‘ ’’ہاں بہت اچھا لکھتی ہے۔ جب ہی تو ایوارڈ ملا ہے۔ ایسےہی تو نہیں دے دیتے، کسی کو بھی ایوارڈ۔ پورے مُلک میں دوسرے نمبر پر آئی ہے سائرہ۔‘‘ ’’چلو ٹھیک ہے۔مَیں جارہاہوں۔‘‘ زاہد نے گیٹ سے باہر نکلتے ہوئے کہا۔
’’مَیں بھی تیار ہوجاؤں، سائرہ آجائے گی۔‘‘ اُس نے خود کلامی کی۔ پرانا میرون جوتا پالش سے چمک گیا تھا، بالکل نیا لگ رہا تھا۔ اچھے وقتوں کے لیے سنبھال کر رکھا سوٹ نکال کر اُس پہ بھی استری کرلی۔ میچنگ بیگ کچھ پیسے بچا کر نیا لیا تھا۔ اُس نے تیار ہو کرآئینے میں اپنے آپ کو دیکھا۔وہ پہلے بھی کئی بار سائرہ کے ساتھ ادبی پروگرامز میں جا چکی تھی لیکن آج…آج یہ آنکھ میں ڈھیر سارا پانی کیوں اُتر آیا۔
جیسے آنکھ نہ ہو، سمندر ہو۔ کوئی بےتاب، بےقرار سمندر… اور ضبط کے سارے بندھن ٹوٹنے کو تیار ہوں۔ کیوں، مگر کیوں۔ یہ آنکھیں کیوں بھیگ گئیں۔ اِس کیوں کا جواب کس سے لوں۔ کون دے گا جواب۔ شاید کوئی نہیں۔ سائرہ اُس کی بہت پُرخلوص سہیلی تھی۔ اُسی نے اُسے لکھنے پرآمادہ کیا تھا۔ کہ’’تم بہت اچھا لکھ سکتی، ہو لکھا کرو۔‘‘ وہ اکثر آجاتی۔ اُسے اپنے ساتھ ادبی پروگرامز میں لےجاتی۔ لکھتے لکھتےاُس کی تحریروں میں نکھار آگیا تھا۔ سائرہ نے اُس کی کہانیاں رسائل میں دینی شروع کردی تھیں۔
رفتہ رفتہ اُس کی اپنی پہچان بن گئی۔ رسالےگھر آنے لگے۔ کبھی کبھی کسی جریدے سے اعزازیہ بھی مل جاتا۔ چند سو روپے کوئی ضرورت تو کیا پوری کرتے، بس اس کی آنکھوں کی روشنی بڑھ جاتی، جینے کا حوصلہ مل جاتا۔ اُس کی اس ساری مصروفیت سے زاہد کو کوئی مطلب تھا نہ سروکار۔ اخبارات و جرائد اُس کے سامنےگھرآتے۔ اُس کا نام اکثر جلی حروف میں لکھا ہوتا، مگر زاہد نے کبھی نام دیکھ کربھی پلٹ کےنہ کچھ پوچھا، نہ کہا۔
اسے گھرصاف چاہیے ہوتا تھا۔ بستر کی چادر پر ایک سلوٹ بھی نہ ہو۔ بچّوں کے کھلونے، کتابیں سب جگہ پر ہونے چاہئیں۔ کھانا تازہ اورگرم وقت پرتیارملنا چاہیے۔ چاول لمبے اور الگ الگ، روٹی نرم اور پتلی، سالن کا نمک، مرچ نہ کم نہ زیادہ، ہر کھانے میں سلاد،رائتہ ساتھ رکھا ہو۔ سردی ہویا گرمی، بیماری ہو یا کوئی مصروفیت، زندگی کی جو طے شدہ روٹین تھی، وہ اِدھر اُدھر بالکل نہیں ہونی چاہیے تھی۔
اس کےدل میں تو نہ جانے کون کون سی خواہشیں تھیں۔ سراہےجانےکی، دو اچھے بول کی۔ کبھی تو زاہد کہتے کہ یہ تم نے لکھا ہے، اتنا اچھا۔ کب لکھتی ہو، اتنے بہت سارے کاموں کے ساتھ۔ سائرہ نہ ہوتی تو وہ بھی گم نام ہوتی، بےنام ہی رہتی۔ اظہارِذات کےخُوب صُورت ہنر کےباوجود۔ اور آج توبہت خاص تقریب تھی۔ کسی ادبی فورم نے سال کےبہترین ادیبوں، شاعروں کو ایوارڈ دینے کی تقریب رکھی تھی۔ زاہد کے دوست شاکراحمد کا نام اُس نے بھی سُنا تھا اور زاہد کےمنہ سے ڈھیروں تعریفیں بھی۔
اِس کا مطلب ہے،زاہد بھی ادبی ذوق رکھتے ہیں اور اُن کا کوئی حلقہ بھی ہے۔ ’’تو پھر چلیں؟‘‘ سائرہ اُسےلینےآگئی تھی۔ سائرہ نے اُس کےاور بچّوں کے لیے گاڑی کا دروازہ بہت خوشی اور محبّت سےکھولا۔ اپنے میاں کی گاڑی ہوتے ہوئے وہ بچّوں کے ساتھ سائرہ کی گاڑی میں جارہی تھی۔
شوہر کے برابر والی سیٹ پربیٹھی سائرہ کی خوشی دیدنی تھی۔ راستے میں سائرہ کے شوہر نے اُس کے لیے گجرے خریدے۔ وہ بہت خوش تھا۔ اپنی دوست کو بھی دو۔ سائرہ نے بہت ضد کی، لیکن اُسے گجرے لینا مناسب نہیں لگا۔ یہی بہت تھا، سائرہ اُسے اپنے ساتھ لے آئی تھی۔
وہ ایک طرف خواتین لکھاریوں کے ساتھ بیٹھ گئی۔ بہت سے آشنا اور ناآشناچہرے تھے۔ تقریب کے آغاز میں ادیبوں، شاعروں کا تعارف ہوا۔ سال کےبہترین افسانہ نگاروں کی فہرست میں اُس کابھی نام تھا۔ اُسےاعزاز دینے کا اعلان ہوا۔ وہ دم بخود بیٹھی تھی۔
خوشی کہیں گلےمیں اٹک گئی تھی۔ پہلے شعراء کو انعام اور ایوارڈ دئیے گئے۔ شاکر احمد ایوارڈ لینے آیا تو اُس نے کن انکھیوں سے زاہد کو دیکھا۔ وہ زور زور سے تالیاں بجا رہا تھا۔ شاکر احمد ایوارڈ لے کر واپس پلٹا تو زاہد بڑھ کر اُس کے گلے لگ گیا۔ اب شاید اُس کا نام پکارا جارہا تھا…اُسےکچھ نظر نہیں آرہا تھا کہ ایوارڈ ہاتھ میں تھامے وہ آنکھوں میں آئے آنسوؤں کے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھی۔