• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مہر پرویز احمد دولو، میاں چُنوں

’’سردی‘‘ دراصل اُس کیفیت کا نام ہے، جس میں انسان کا پورا جسم’’نقطۂ انجماد‘‘ کی لکیر پار کرنے کی کوشش میں برف کا گولا سا بن جاتا ہے۔ یہ وہ موسم ہے، جب نازک بال کانٹے بن کر چُبھتے ہیں، اپنے ہی اعضاء اللہ واسطے کی دشمنی پر اُترآتے ہیں۔ ہاتھ کام سے ’’ہڑتال‘‘ کر دیتے ہیں، پاؤں چلنےسے’’بائیکاٹ‘‘ اور دانتوں کا تو جیسے اپنا ہی کوئی موسیقی کا بینڈ تیار ہوجاتا ہے، جو ہمہ وقت بجنے پر مُصر رہتا ہے۔ 

گرمی کے نو مہینوں میں انسان کڑاہی میں بُھونے جانے والے مکئی کے دانے کی طرح پُھولتا رہتا ہے۔ تب گرمی ہماری بےبسی کا مذاق اُڑاتی اور سردی دُور کھڑی تماشا دیکھتی رہتی ہے کہ کاش! یہ انسان جو گرمی کے مارے ستر ڈھانپنے سے بھی عاری ہے، کسی طرح میرے قبضے آئے توروئی کے گالوں (لحافوں) میں دھنسادوں۔

اور پھر اکتوبر کے آخر میں سردی کی یہ ’’حسرت‘‘ پوری ہو ہی جاتی ہے۔ اس باربھی یہی ہوا ہے۔ گرمی نے جب پگھلانے میں کوئی کسرنہ چھوڑی، تو سردی بھی اپنی آئی پر آگئی۔ دُھند ابھی پردۂ سیمیں پر نہیں آئی تھی، مگر ٹھنڈ نے انسانوں کو دیوارِ چین سے اونچے برفانی پہاڑوں کے پیچھے محصور کردیا۔ 

سرما نے گھر میں موجود ہر پرانی، نئی رضائی یک جا کر کے ایک ایسا ’’لحافی قلعہ‘‘ تیار کروایا، جس سے باہر نکلنا ایسا ہی جرم قرار پایا، جیسے کسی غریب مُلک کی معیشت کے لیے سرکاری ملازمتیں۔ سردی نے نقل وحمل پر مکمل پابندی لگوادی۔ حکم صادر ہوا، جو اِس ’’قانونِ سرد‘‘ کی خلاف ورزی کرے، اُسےنزلہ، زکام، کھانسی اور بخار کی سخت سزائیں دی جائیں گی کہ پھر بندہ آپ ہی آپ بستر کا ہو کر رہ جائے گا۔

مگر… جب سردی کا غرور آسمان کو چُھونے لگتا ہے، تو اُس کے ازلی حریف ’’سورج میاں‘‘ میدانِ جنگ سنبھال لیتے ہیں اور خُوب کڑک کر کہتے ہیں۔ ’’اوبی سردی! ذرا ہوش کے ناخن لے۔ میری روشنی میں تھوڑی سی ملاوٹ کیا ہوئی، تُو تو خود کو شہنشاہ سمجھنے لگی؟ انسانوں کو ٹھٹھرتا دیکھ کر بغلیں بجانا شروع کر دیں، مگر یاد رکھ! ہر مرض کی دوا ہے اور تیرا علاج میرے ہی پاس ہے۔‘‘اگلے ہی دن سورج میاں نے پوری آب و تاب کے ساتھ مشرق سے مکھڑا نکالا اورجہاں جہاں سردی نے پنجے گاڑے تھے، وہاں وہاں اپنی کرنیں بچھا کراُسے بھاگنے پر مجبور کردیا۔

جامد جسموں میں پھر سے خون کی روانی شروع ہوئی تو انسانوں کو یاد آیا کہ وہ صرف بستر توڑنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔ لحاف اچانک ہی بھاری لگنے لگے، سویٹر اُتر گئے، پاؤں بند بُوٹوں کی قید سے آزاد ہونے لگے، جیسے قیدِ تنہائی سے رہا ہو کر بہار کے میلے میں آگئے ہوں۔ رات کو بادلوں نے سردی کی ’’چاپلوسی‘‘میں تھوڑی تیزی دکھائی، مگر دن چڑھتے ہی سورج کےجلال کے آگے اُن کی بھی ایک نہ چلی۔ اور بالآخر سردی نے بستر بوریا لپیٹ کر رخصت ہونے ہی میں عافیت جانی کہ واپسی کا رستہ بھی لمبا تھا۔ بہارکی آمد ہوئی، پھولوں نے مسکراہٹیں بکھیریں اور انسانوں نے سجدۂ شُکربجا لانے کے بعد پھر سے دنیاوی رنگ و بُو میں خود کو گم کر لیا۔

سچ ہے، عروج کے ایّام میں زوال یاد رکھنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے۔ سورج کتنا ہی دیر سے کیوں نہ نکلے، اندھیرے اور ٹھنڈ کی بساط لپیٹ ہی دیتا ہے۔

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’ڈائجسٹ‘‘

٭ انتخابِ غزل، زوالِ گفتگو (محمّد صفدر خان ساغر، راہوالی، گوجرانوالہ) ٭ تشکر (خالد نذیر خالد، سیٹلائٹ ٹائون، راول پنڈی) ٭ قبول ہے (مبشرہ خالد، کراچی) تہذیب کا ٹکراؤ، جو رسوا ہوا، سوشل بائیکاٹ (جاوید جواد حسین، گلشنِ اقبال، کراچی) ٭ بار (نعمان اسحق) ٭ نیا سال (راشدہ صدیق عباسی، چاہِ سلطان، راول پنڈی) ٭ مقدر، مَیں واقعی منٹو نہیں (رانا محمّد شاہد، بورے والا) ٭ جامنی جوڑا (قراۃ العین فاروق، حیدرآباد)۔

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’پیارا گھر‘‘

٭ چند بابرکت پودے، سفید زہر، خواہشات اور ضروریات، کھائو من بھاتا، گفتگو، ہرمسئلے کی چابی، آدابِ تحفہ، اصلاحی آداب، زیادہ بولنا، رحمت و ثروت، بچّوں میں کتب بینی، صدقہ، مہمان نوازی، کتب کی اقسام، کیفیتِ مومن، حاصل نعمتوں کا شُکر، عباداتِ الہٰی، کوکونٹ لڈو، تراکیب (راشدہ صدیق عباسی، چاہِ سلطان، راول پنڈی) ٭ سالِ نو کا آغاز (نمرہ نعیم) تربیتِ اطفال (نرجس مختار، خیرپور میرس)٭سردیوں کی سوغات (مبشرہ خالد، کراچی) ٭ معدوم ہوتا جوائنٹ فیملی سسٹم (فیصل کانپوری) ٭ خُود شناسی (ڈاکٹر محمّد افضل کمیانہ) ٭قصّہ انوکھی ڈائٹنگ کا (زہرا یاسمین)۔

سنڈے میگزین سے مزید