تحریر: افشاں نوید
مہمانانِ گرامی: ملک فیصل اینڈ فیملی
عکّاسی: عرفان نجمی
لےآؤٹ: نوید رشید
آپ کے زیرِ نظر یہ تصاویر محض مناظر نہیں، یہ ہمارے گھروں کی رُوح ہے۔ یہ مسلم سماج کے ہر گھر کی سچّی کہانی ہے، جہاں رمضان کے آتے ہی یک سر ساری کی ساری فضا ہی بدل جاتی ہے۔ لہجے نرم، دل حسّاس و غم خوار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ ’’شہرِ مواسات‘‘ میں جینا سیکھ لیتے ہیں اور اپنے رب کی طرف لپک رہے ہوتے ہیں۔ خواتینِ خانہ، باورچی خانے میں افطار کے پکوانوں کی تیاری میں مصروف ہیں۔ چولھے کی دھیمی آنچ پر صرف پکوڑے نہیں بن رہے، رازونیاز بھی جاری ہیں، اُس ہستی سے، جس کے لیے بھوک پیاس سب گوارا ہے۔
درحقیقت، سحر و افطار سے قبل کی فضا ایک مسلمان گھرانے کی تربیت کا حیرت انگیز مظہر ہوتی ہے، خصوصاً افطار دسترخوان سجانے میں چھوٹی بچیاں بھی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہیں، کوئی فروٹ چاٹ کے لیے پھل کاٹ رہی ہے، کوئی شربت بنا رہی ہے۔ کوئی برتن سلیقے سے رکھ رہی ہے اور یہ محض مدد نہیں، یہ ماں کا سکھانے کا انداز ہے کہ گھر ایک مشترکہ ذمّے داری ہے اور عبادت صرف جائے نماز تک محدود نہیں۔ گھر کے بڑے، بچّے چھوٹوں کو نماز کے طریقے سکھا رہے ہیں۔ کہیں سپارہ پڑھایا جا رہا ہے، کہیں وضو کا طریقہ سمجھایا جا رہا ہے۔
یہ گھر کے اندر ہی ایک غیر رسمی درس گاہ ہے، جہاں استاد اور شاگرد اُسی گھر کے مکین ہیں۔ دادا، دادی، نانا، نانی جیسے مینٹور جن بچّوں کو نصیب ہوں، اُن کے نصیب کا کیا ہی کہنا۔ یہاں نصاب تقویٰ ہے اور امتحان گھر کی عملی زندگی۔ حضرات بھی اِسی پاکیزہ فضا کی پاکیزگی بڑھا رہے ہیں۔ ایک طرف ذاتی تذکیر میں مصروف، دوسری طرف خاتونِ خانہ کا ہاتھ بٹارہے ہیں، بچّوں کو ساتھ لے کر مسجد جا رہے ہیں۔ گویا گھر کے ماحول کو روحانی بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔
یہ تصاویر ثابت کر رہی ہیں کہ گھر میں رمضان کی فضا بنانا صرف خاتون خانہ کی ذمّےداری نہیں بلکہ سب برابر کے شریک ہیں اور یہی فضا پورے خاندان کی ’’اجتماعی عبادت‘‘ ہے۔ جب باپ، بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر مسجد کی طرف بڑھتا ہے تو دراصل وہ اِس کے دل میں ایک راستہ بنا رہا ہوتا ہے، ایسا راستہ، جو زندگی بھراللہ کی طرف لے جاتا رہے گا یعنی صراطِ مستقیم کی طرف۔
رات کے پچھلے پہر کا منظر کیا ہی اثر انگیز ہے۔ خاتونِ خانہ تین بجے اُٹھ کر سحری کا اہتمام کررہی ہیں۔ اگرچہ آنکھوں میں نیند ہے، مگر دل میں شوق۔ سحری بن رہی ہے، کیوں کہ سحری میں برکت ہے۔ جن کے لیے دن کی طاقت وقوت کا اہتمام ہو رہا ہے، لبوں پراُن کے لیے دُعائے نیم شبی ہے۔ دن بھر کے امورِ خانہ داری، بچّوں کی دیکھ بھال، افطار کی تیاری۔سب کے ساتھ اپنی عبادت سے جُڑی۔ کتنے پیارے ہیں ایک مسلمان عورت کی تصویر کے یہ رنگ۔
یہ وہ خاموش مجاہدہ ہے، جس کا ذکر کسی اخبار کی سرخی میں تو نہ ہوگا، مگر آسمانوں پر اُس کی قدر لکھی جا رہی ہے۔ پھر بعد ازسحر و نمازِ فجر، پورا گھرانہ تلاوتِ کلامِ پاک میں مصروف ہے۔ قرآنِ مجید کی تلاوت زبانیں ہی تر نہیں کررہی، پُرتاثیر کلامِ الہیٰ پڑھتی میٹھی آوازیں، گھر کے درودیوار، پورا ماحول روحانی کرکے قلب و جاں میں اُتر رہی ہیں۔
سب تلاوت کرچُکے، تو دادی جان باآوازِ بلند تفسیرشروع کرتی ہیں۔ سب اُن کے گرد حلقہ بنا کربیٹھ جاتے ہیں۔ وہ سمجھا رہی ہیں کہ روزہ ہمیں ’’تقویٰ‘‘ سکھاتا ہے۔ تقویٰ یعنی پرہیز گاری، ڈرنا، حفاظت کرنا اور بچنا۔ صرف کھانے پینے سے نہیں، ہر اُس چیز سے بچنا، جو اللہ کو ناپسند ہے۔ ایک تصویر میں بچیاں جائے نماز پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی، دُعائیں مانگ رہی ہیں۔ یہی توعملی تربیت کا اثر ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچّے بھی باوضو ہو کے جائے نماز پر کھڑے ہوں گے۔ گھر میں کوئی بچّہ کُھلم کھلا کھا پی نہیں سکتا۔
اگر آٹھ دس سال کا بچہ بھی نمازِ مغرب سے قبل افطاری کی پلیٹ سے کچھ اُٹھا لے تو بڑی بہن سرگوشی کرتی ہے۔’’رُک جاؤ، ابھی اذان میں تھوڑی دیر ہے۔‘‘ بچّہ جھینپ کر واپس رکھ دیتا ہے۔ یہ شرمندگی نہیں، شعور کی بےداری ہے اور یہی تقویٰ ہے۔ جب دل خُود کو روکنے پر آمادہ ہو جائے۔ ماہِ صیام، صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں سکھاتا، اصل مقصد نفس کی تربیت ہے۔ جب کہا جائے ’’کام کرو‘‘ تو کام کرنا، اور جب کہا جائے ’’رُک جاؤ‘‘ تو رُک جانا ہے۔ یہی تو بندگی ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے، حدود کو پہچاننا اور اُن کا احترام کرنا۔ رمضان اِسی احترام کا مہینہ ہے۔
اور… ان سب تصاویر میں ایک مشترک رنگ ’’تقدّس وپاکیزگی‘‘ کاہے۔ پورے گھر کے ماحول پر ایک سکون، ایک نُور ساچھایا محسوس ہورہا ہے۔ گفتگو میں شائستگی، رویوں میں نرمی و باہمی تعاون، نگاہوں میں حیا۔ یہ وہ مہینہ ہے، جب خاندان صرف ایک چھت کے نیچے رہنے والے افراد نہیں رہتے، ایک روحانی اکائی بن جاتے ہیں۔ مل کرسحری، مل کر افطار، مل کر نماز و تلاوت، ذکر اذکار… اور یہ طرزِعمل رشتوں کو بہت مضبوط کرتا ہے۔
آج کے اِس تیز رفتار دَور میں، جب ہر فرد اپنی اپنی اسکرین میں گم ہے، رمضان ہمیں دوبارہ جوڑتا ہے۔ دسترخوان کے گرد بیٹھنا یاد دلاتا ہے کہ ہماری اصل طاقت ہمارا خاندان ہے۔ یہ بھوکا، پیاسا رہنےکی تربیت اللہ ہی کا نہیں، ایک دوسرے کا قرب بھی عطا کرتی ہے۔ بزرگوں کا ادب، چھوٹوں سے شفقت، خانگی امور میں آگے بڑھ کر خاتونِ خانہ سے تعاون، بچّوں کو ماں کے روزے دار ہونے کا بار بار احساس دلانا۔ یہ سب باتیں خاندانی استحکام کی بنیاد ہیں اور رمضان کریم ان بنیادوں کو تازہ کرتا ،دراڑوں کو بھر دیتا ہے۔
دِلوں کو پھر سےجوڑتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ خاندان کو تقویٰ کا مفہوم اگر پوری گہرائی اور سادگی کے ساتھ سیکھنا ہو تو رمضان سے بہتر کوئی مہینہ نہیں۔ یہی مہینہ سکھاتا ہے کہ عبادت صرف مسجد یا جائے نماز تک محدود نہیں، بلکہ کچن، دسترخوان، بچّوں کی تربیت اور باہمی تعلقات کی نزاکتوں تک محیط ہے۔ یہ تصاویر کہانیاں نہیں، آئینہ ہیں، ہر اُس گھر کا، جہاں ماں کی محنت عبادت، باپ کی کمائی صدقہ، بچّوں کی معصومیت دُعا اور بزرگوں کی نصیحت روشنی ہے۔
’’روحانی پاکیزگی، اخلاقی تربیت اور خاندانی استحکام کا حسین امتزاج…‘‘ بس یہی رمضان کا اصل چہرہ ہے۔ رمضان ہمیں یاد دلا رہا ہے کہ تقویٰ صرف ایک اصطلاح نہیں، ایک طرزِ زندگی ہے۔ اور اس طرزِ زندگی کی سب سے خُوب صُورت تربیت، گھر کی چاردیواری میں ہوتی ہے۔ جہاں ہر دن ایک تصویر ہے اور ہرتصویر ایک پیارا سبق۔