• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نرم و گرم شالز ... شاہانہ، پروقار انداز، گرمائش بھرا احساس

تحریر: ثانیہ انور

مہمان: حیدر علی، گل زمان

شالز: شال باف، لاہور

گرومنگ: Javaid bips

کوارڈی نیشن: عابد بیگ

عکّاسی: عرفان نجمی

لےآؤٹ: نوید رشید

کائنات کا سارا حُسن توازن میں ہے اور توازن دو مختلف یعنی متضاد قوتوں کے ٹکراؤ کا نام ہے۔ دوسرے الفاظ میں دنیا کی خُوب صُورتی تضاد میں چُھپی ہے۔ نظامِ فطرت میں ہر شے اپنے الٹ (contrast) کے ساتھ جُڑی ہے اور اشیاء اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ جہاں آسمان کی سیاہی ستاروں کی جگمگاہٹ کو اُبھارتی ہے، وہیں ٹھٹھراتی سردی کے بعد گرمی جاں فزا لگتی ہے۔ خزاں میں زرد ہوئے پتّوں کے بعد بہار میں پُھوٹتی سبز کونپلیں زیادہ تر و تازہ دکھائی دیتی ہیں، تو اماوس کی کالی رات کے بعد چودھویں کا چاند زیادہ روشن معلوم ہوتا ہے، جب کہ تپتی دھوپ میں چلنے کے بعد چھاؤں مزید ٹھنڈی محسوس ہوتی ہے۔ 

الغرض، ’’تضاد‘‘ زندگی کی حقیقت ہے۔ متغیّر موسم، بدلتا وقت، انقلاب پذیر خیالات و کیفیات، زندگی کے وہ متضاد پہلو ہیں، جو انسانی رُوح کو تازگی بخشتے ہیں۔ درحقیقت تضاد ہی وہ جوہر ہے، جو زندگی کو معنویت اور گہرائی عطا کرتا ہے۔ 

تصویرِ حیات صرف شوخ و شنگ رنگوں سے نہیں سجی بلکہ اِس کا حُسن روشنی اور سائے کے باہمی ملاپ سے ظاہر ہوتا ہے۔ زندگی تضادات کا ایک متوازن مرقّع ہے۔ اگر اس سےتاریکی، تلخی اور دُکھ نکال دیئے جائیں تو روشنی، مٹھاس اور مسرت بھی بےمعنی ہو جائیں۔ خوشی وغم، فتح وشکست ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں۔ خوشی امنگ دیتی ہے، تو غم مضبوط بناتا ہے۔ فتح خُود اعتمادی دیتی ہے، تو شکست عاجزی سکھا جاتی ہے۔ خورشید رضوی نے اپنے شعر میں اِس فلسفۂ تضاد کو کیا ہی عُمدگی سے بیان کیا ہے ؎ تُونے مِرے خمیر میں کتنے تضاد رکھ دیے… موت مِری حیات میں، نقص مِرے کمال میں۔

تضاد کا سب سے دل چسپ اظہار انسانی شخصیت میں پنہاں ہے اور یہ کوئی کجی یا کمی نہیں، انسانی فطرت کی پیچیدگی کا حصّہ ہے۔ انسان بیک وقت رحم دل بھی ہوسکتا ہے اور ظالم بھی، بہادر بھی اور بزدل بھی، اوپر سے چٹان کی طرح سخت نظر آنے والا، اندر سے موم کی طرح نرم بھی۔ یا ظاہراً اَن جان بنے شخص کے دل میں محبّت کے سمندربھی موجزن ہوسکتے ہیں اور یہی حضرتِ انسان کسی دوسرے کی کام یابی پر خوش ہونے کے ساتھ ساتھ اُسی لمحے اُس سے حسد بھی کر سکتاہے۔ بظاہر دوستی نبھانے والا مارِآستین بھی ہوسکتا ہے۔

بعض افراد، رویوں کےتضاد کا شکار ہوتے ہیں۔ مختلف ماحول میں مختلف ردِعمل دیتے ہیں، جیسے کچھ باہر یا کام کی جگہ پر نہایت محنتی، خوش اخلاق ہوتے ہیں، مگر گھر داخل ہوتےہی چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ واضح رہے، شخصیت کا یہ تضاد ہمیشہ منفی نہیں ہوتا، ذہنی ارتقائی عمل میں پرانے خیالات اور نئے تجربات کے درمیان تضاد پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہے۔

کیا کیا جائے، یہ بھی انسانی سرشت میں شامل ہے کہ چیزوں کی موجودگی میں اُن کی وقعت کا اندازہ نہیں ہوتا، مگر چھن جانے کے بعد، عدم موجودگی میں جب ایک تضاد سے گزرنا پڑتا ہے تو پچھلے میسّر کی یاد شدّت سے ستاتی ہے۔ جیسے زندگی کی خوشیاں، غم کے پس منظر میں نمایاں ہوتی ہیں، بیماری کے تجربے کے بعد صحت کی اصل قدرہوتی ہے۔ تنگی، غربت سے نبردآزما ہونے کے بعد تونگری، آسودگی کی افادیت دوچند ہوجاتی ہے۔ ملن کا سُکھ، جدائی سہنے کے بعد سمجھ آتا ہے۔

کسی سے فریب، دھوکا کھا لینے کے بعد، اعتبار، بھروسے جیسی نعمت کی توقیر کی جاتی ہے۔ محبّت، رشتوں کی صحیح قدروقیمت تعلق ٹُوٹنے ہی پر پتاچلتی ہے۔ 

طویل سفر، مسافرت میں اپنے گھر، بستر کا اطمینان یاد آتا ہے۔ مسلسل شور کے بعد خاموشی کا سکون، ہجوم میں گھرے رہنے کے بعد تنہائی کی دولت کا اندازہ ہوتا ہے اور بھوکے پیاسے رہنے کے بعد ہی رزق کی اصل اہمیت عیاں ہوتی ہے۔ 

شاید یہی وجہ ہےکہ انسانی فطرت کے تخلیق کار، خالقِ کائنات نے تمام اُمّتوں پر روزے فرض کیے۔ تاکہ نِعَم سے مالامال انسانوں کو اللہ کی کچھ نعمتوں سے وقتی محرومی کے سبب غریبوں، ناداروں، مفلوک الحال ضرورت مندوں کی بھوک و پیاس اور تکالیف کا بھی احساس ہوسکے۔

بہرکیف، ہماری آج کی محفل کے مہمان، رخصت و ملاقات جیسے متضاد جذبات کے استعارے، ریل کی پٹری پر کھڑے، گویا سادگی و پُرکاری کا ایک بہترین نمونہ معلوم ہو رہے ہیں اورخالص مردانہ رنگوں کی شلوار قمیصوں پر کنٹراسٹ رنگوں کی شالز پورے وقار، سج دھج کے ساتھ خُوب ہی جچ رہی ہیں۔ سیاہ رنگ پہناووں پر آف وائٹ اور مٹیالے رنگ کی شالز، گہرے سُرمئی (چارکول گِرے) پر مسٹرڈ، نیلےلباس پر بادامی اور پستئی سبز رنگ پہناووں پر عنّابی اور جیٹ بلیک شالز، جب کہ سفید ڈریس پر ڈارک بلیک اور آف وائٹ کے ساتھ سیاہ و سُرمئی کامبی نیشن کی شال نہایت حسین انتخاب کا تاثر دے رہی ہے۔ 

یوں کہیے، ہلکےاورگہرےرنگوں کا تضاد اپنا جادو جگارہاہے۔ اِن نرم وگرم شالز کو نوجوان لڑکے اور مرد موقع محل کی مناسبت سے منتخب کر سکتے ہیں۔ محافلِ ذکر ونعت، مشاعرے، مایوں، منہدی، قوالی نائٹ سے لے کر کالج، یونی ورسٹی کے فنکشنز تک میں دوست احباب ایک تھیم کے تحت قمیص، شلواروں کے ساتھ اِنھیں زیبِ تن کرسکتے ہیں۔ یوں بھی آج کل کے روزمرّہ انداز میں نوجوان ایک دوسرے کی اِس طرح کی ڈریسنگ کو ’’کُول (cool)‘‘ کہتے سُنے جاتے ہیں، جو بے پروائی، بے نیازی کے کیژول انداز کے ساتھ خُوب تیاری کا بھی لُک دیتی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید