علاقے کے بدمعاش کو جب بار بار یہ اعلان کرنا پڑے کہ وہ ابھی بھی بہت طاقتور ہے تو سمجھ لیجئے کہ وہ اندر سے کمزور ہو چکا ہے ۔ یہی حقیقت صدر ٹرمپ کے اعلانات اور دعووں کی ہے۔ابھی گزشتہ جون کو امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار بنانے کے الزامات کے تحت فوجی کارروائی کی تھی حالانکہ ایٹمی صلاحیت کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے نے متعدد بار اپنی رپورٹ میں ایران کی ایٹم بم بنانے کی کوششوں کی نفی کی ہے ۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو تو گزشتہ 40 برس سے یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ایران جلد ایٹمی ہتھیار بنا لے گا جو اسرائیل کے خلاف استعمال ہوں گے۔ مگر ابھی تک تو ایسا ہوا نہیں ۔حالیہ مذاکرات کے دوران تو ایران یورینیم افزودگی کی کم از کم سطح پر بھی رضامند ہو گیا تھا جسکی وجہ سے ان مذاکرات کے سہولت کار عمان کے وزیر خارجہ نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کسی معاہدے کی امید ظاہر کی تھی ۔لیکن اچانک اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر ہوائی حملہ کر دیا جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے کچھ افراد شہید ہو گئے اور اب یہ جنگ علاقے کے دوسرے ممالک تک پھیلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ ایران متعدد بار یہ اعلان کر چکا تھا کہ اگر اس کے خلاف حملہ کیا گیا تو وہ خلیج میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا ۔امریکہ اور اسرائیل وقتی طور پر تو شاید اس بات پر خوش ہوں کہ مسلم ممالک آپس میں دست و گریباں ہو گئے ہیں لیکن جیسے جیسے یہ جنگ طول پکڑے گی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان امریکہ اور اسرائیل کو ہوگا جو نہ صرف اسرائیل کی غزہ پر دو سالہ وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں 60 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کی شہادت اور پچھلے سال جون میں تمام عالمی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کیخلاف امریکی و اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے عالمی تنقید اور نفرت کا شکار ہے۔ جبکہ پینٹاگون نے امریکی حکومت کو خبردار کر دیا ہے کہ ان کے ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں یہی حال اسرائیل کا ہے جو گزشتہ ڈھائی سال سے بارش کی طرح میزائل برسا رہا ہے ۔صرف یہی نہیں یہ جنگ تیل کی سپلائی کو شدت کے ساتھ متاثر کر رہی ہے جسکی وجہ سے چین بھارت اور پاکستان سمیت خطے کے دوسرے ممالک شدید متاثر ہوں گے اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوگا۔ اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو اس جنگ میں خطے کے دیگر ممالک بھی کود سکتے ہیں کیونکہ یہی وہ حالات تھے جو اس سے پہلے جنگ عظیم اول اور دوم کی بنیاد بنے تھے۔ یہ بنی نوع انسان کی بدقسمتی ہوگی کہ اگر یہ جنگ تیسر ی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر گئی کیونکہ اس کا انجام دیکھنے والے بہت کم ہوں گے۔
آج گریٹر اسرائیل کی حمایت میں بائبل اور تورات کے مذہبی حوالے دیے جا رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی ہمیشہ کی طرح معاشی مفادات کے حصول کی جنگ ہے جسے مذہبی رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے۔ جیسے 70کی دہائی کے اختتام پر نام نہاد افغان جہاد کو مذہبی جنگ دیا گیا تھا جو درحقیقت دو بڑی طاقتوں کے مفادات کی جنگ تھی۔ تاریخی حقیقت تو یہ ہے کہ مذہبی طور پر تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیے جانے کا ذمہ دار اس وقت کی یروشلم کی یہودی حکومت کو گردانا جاتا ہے۔ مسلمانوں کا تو اس وقت وجود بھی نہیں تھا اور نہ ہی مسلمانوں کی یہودیوں کیخلاف کبھی اس طرح وسیع پیمانے پر جنگیں ہوئیں جس طرح یہودیوں اور عیسائیوں اور بعد میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہوتی رہیں۔ دوسری جنگ عظیم کی ابتدا بھی یہودیوں اور نازی عیسائیوں کی باہمی چپقلش سے شروع ہوئی تھی جبکہ تاریخ میںا سپین پر مسلمانوں کے حملے کے موقع پر وہاں کے یہودیوں نے مسلمانوں کو نہ صرف حملہ کرنےکی دعوت دی بلکہ ان کی ہر ممکن امداد بھی کی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ اور مغربی طاقتوں نے اپنے تاریخی مذہبی حریف یعنی یہودیوں کو اس لیے خطے میں اسرائیل کے نام سے بسایا کہ وہ ان کے معاشی مفادات کی نگرانی کرے گا اور اس کے بدلے میں مغرب اسرائیل کی ناجائز ریاست کو قائم رکھنے میں اس کی امداد کرے گا ۔80 سال تک یہ سلسلہ جاری رہا اب صورتحال بدل گئی ہے ۔ امریکہ معاشی طور پر اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر اپنی چوہدراہٹ کی بقا کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ اسرائیل کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہے کہ امریکی زوال کے بعد اس کا زوال بھی یقینی ہے کیونکہ اکثر مغربی ممالک کئی وجوہات کی بنا پر اس کی حمایت سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ یہ ایک خوفناک صورتحال ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل اپنے مکمل زوال سے پہلے دنیا میں تیسری عالمی جنگ کی قیامت برپا کر سکتے ہیں۔ اس وقت امن سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔میری کتاب ’میں باغی ہوں‘ سے ایک پرانی نظم ’امن‘ جو آج بھی حسبِ حال ہے۔
ایک زخمی فاختہ سہمی ہوئی
چونچ میں زیتون کی پتّی لیے
ایٹمی ہتھیاروں کے انبار سے
گولیوں کی تیز رو بوچھاڑ سے
اور زمیں رنگ دام سے بچتی ہوئی
کب سے بھٹکی پھر رہی ہے چار سو
بھوکی پیاسی اور تھکن سے چور چور
وہ کہاں جائے کہ اس مظلوم کا
آشیاں بھی توپ کے دہانے میں ہے
خود وہ صیّادوں کے نشانے میں ہے