وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کر دی۔
وفاقی آئینی عدالت میں مونال ریسٹورنٹ کی بندش کیخلاف سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔
وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ گرانے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کی تاہم وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کر دی۔
وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جانوروں کے حقوق ہیں لیکن انسانوں کے نہیں، مونال کی لیز تجوید کا کیس سول کورٹ میں زیر التوا تھا، کچھ ریسٹورنٹس کی انٹرا کورٹ اپیلیں بھی ہائیکورٹ میں زیر التوا تھیں۔
وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے سے تمام عدالتوں میں زیر التوا کیسز نمٹانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ متعلقہ فریقین کو سننے کا نکتہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں اٹھایا؟ انھوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں تمام وکیل کیوں گونگے ہوگئے تھے؟
حسن بھون نے کہا کہ ہم تو یہاں بھی ادب سے کھڑے ہیں جیسے سپریم کورٹ میں کھڑے تھے۔
جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ وکیل کا کام قانونی نکات اٹھانا ہے، ادب سے درباری کھڑے ہوتے ہیں، سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست میں ٹھوس نکات تو اٹھائے ہی نہیں گئے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وائلڈ لائف بورڈ کا نیا قانون 2024 میں آچکا ہے۔ تمام وکلا کا اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ کافیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
احسن بھون نے کہا کہ تمام فریقین متفق ہیں کہ سول کورٹ میں کیس چلنے دیا جائے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا وکلاء کے اتفاق سے تو عدالتیں نہیں چلتیں، جس قسم کا سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا وہ اتفاق رائے سے نہیں ختم ہوسکتا۔
جسٹس حسن رضوی نے مزید کہا کہ عدالتی حکم واپس لینے کیلئے تفصیلی فیصلہ دینا پڑے گا، سپریم کورٹ کی طرح کسی پر اپنا فیصلہ تھوپنا نہیں چاہتے۔ آپ چاہتے ہیں ہم بھی سپریم کورٹ کی طرح فریقین کو سنے بغیر فیصلہ کر دیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔