• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سلف صالحین اور اولیائے کرام کا ’’شہر القرآن‘‘

حضورِ اکرم ﷺ نے رمضان المبارک کے مہینے کو غفلت میں گزارنے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور اس ماہ کثرتِ عبادت، تلاوت اور ذکر اذکار کی ترغیب فرمائی ہے۔ مذکورہ ارشادِ نبویؐ کی تاثیر صحابۂ کرامؓ کی زندگیوں میں نمایاں نظر آتی ہے۔

جونہی ہلالِ رمضان کی رویت ہوتی، تو وہ اپنے روز مرّہ معمولات اور مصروفیات محدود کر کے عبادت، تلاوت اور قیام اللّیل میں مشغول ہو جاتے۔ صحابۂ کرامؓ کے بعد پھر تابعین، تبع تابعین اور اولیائےکرام نےبھی اِسی سنّتِ مبارکہ کو اپنے معمولات کا حصّہ بنایا اور رمضان کو حقیقی معنوں میں ’’شہر القرآن‘‘ کی حیثیت سے بسر کیا۔

فقیہ الامّت، سیّدناعبداللہ بن مسعودؓ کا، جو السابقون الاولون میں شمار ہوتے ہیں اور حضور علیہ السلام کے جلیل القدر صحابی ہیں، رمضان المبارک میں خاص معمول تلاوتِ قرآنِ پاک تھا۔ ان کے صاحب زادے، حضرت عبد الرحمٰنؒ بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت عبداللہ بن مسعودؓ عام دِنوں میں ایک ہفتے میں پورا قرآنِ مجید ختم کیا کرتے تھے، لیکن جب رمضان المبارک آتا، تو تین دن میں ایک ختمِ قرآن کا اہتمام فرماتے۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء:ج7، ص218) 

حضرت اسود بن یزیدؒ، جو کبار تابعین میں شمار ہوتے ہیں اور حضرت عُمر فاروق و حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے ممتاز تلامذہ میں سے ہیں، رمضان المبارک کی آمد پر ہر چیز سے کنارہ کش ہوکر تلاوتِ قرآن میں مشغول ہو جاتے۔ حضرت ابراہیم نخعیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت اسود بن یزیدؒ رمضان المبارک میں دو راتوں میں پورا قرآن مجید ختم کرتے تھے اور صرف مغرب و عشاء کے درمیان کچھ آرام فرماتے تھے، جب کہ رمضان کے علاوہ چھے راتوں میں ایک ختمِ قرآن کیا کرتے تھے۔ (حلیۃ الاولیاء:ج2، ص166)

اس روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک رمضان کا ہر لمحہ قیمتی تھا، جسے وہ قرآن کے نور سے معمور کرنا چاہتے تھے۔ یاد رہے، یہ معمول کسی وقتی جوش کا نتیجہ نہیں، بلکہ قرآن سے گہری وابستگی کی علامت تھا، جو ان کے باطن میں راسخ ہوچُکی تھی۔ حضرت مجاہد بن جبیرؒ سے متعلق، جو تفسیر و قرأت کے عظیم امام اور حدیث کے جلیل القدر عالم تھے، منقول ہے کہ وہ رمضان میں مغرب اور عشاء کے درمیان ختمِ قرآن فرمایا کرتے تھے۔ (المستطرف:ص23) 

یہ معمول اس بات کا مظہر ہے کہ وہ اوقات کو انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ عبادت کے لیے مختص کرتےتھے۔ مغرب اورعشاء کے درمیان کا وقت، جو عام طور پر مختصر ہوتا ہے، اُسے انہوں نے قرآنِ پاک کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ 

حضرت ابورجاء عطاردیؒ، جو تابعین میں سےتھے اور طویل عُمرپائی، ان سے متعلق حضرت ابو اشہبؒ بیان کرتے ہیں کہ وہ رمضان المبارک میں ہمارے ساتھ قیام کی حالت میں دس دنوں میں قرآنِ مجید ختم کرتے تھے۔ (حلیۃ الاولیاء:ج2، ص470) اُن کی یہ کیفیت اس اَمر کی شاہد ہے کہ رمضان کا قیام اور قرآن ان کی زندگی کا لازمی جُزو تھا۔ وہ محض انفرادی عبادت پر اکتفا نہ کرتے بلکہ جماعت کے ساتھ قیام میں شریک ہو کر دوسروں کو بھی اس نور میں شامل کرتے۔ یہ عمل اجتماعی عبادت کی رُوح کو زندہ رکھنے کا ایک حسین نمونہ ہے۔

جلیل القدر تابعی، حضرت سعید بن جبیرؒ رمضان المبارک میں مغرب اور عشاء کے درمیان ایک ختمِ قرآن کیا کرتے تھے۔ (حلیۃ الاولیاء:ج4، ص341) اُن کا یہ معمول بھی حضرت مجاہدؒ کی طرح وقت کے بہترین استعمال کا نمونہ ہے۔ یہ افراد جانتے تھے کہ رمضان کے لمحات عام ایّام کی مانند نہیں، بلکہ اس ماہِ مقدّس کا ہر ہر لمحہ ہی کئی گُنا اجر و ثواب کا حامل ہے، اس لیے وہ اپنی تمام تر توانائیاں تلاوت اور قیام میں صرف کرتے۔

اِسی طرح حضرت قتادہ بن دعامہؒ، جو نابینا اور غیرمعمولی حافظے کےمالک ہونے کے ساتھ خوفِ خدا سے سرشار عالمِ با عمل بھی تھے، عام دِنوں میں سات راتوں میں ایک قرآن ختم کرتے، جب کہ رمضان المبارک میں تین راتوں میں اور آخری عشرے میں ہر رات ایک قرآن ختم کرتےتھے۔(حلیۃ الاولیاء:ج2، ص516) چوں کہ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت بہت ہی زیادہ ہے، لہٰذا وہ اس میں عبادت کی رفتار کہیں زیادہ بڑھا دیتے تھے۔

امام اعظم حضرت ابوحنیفہؒ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ رمضان شریف میں اکسٹھ قرآن پڑھتے تھے۔ ایک دن کا، ایک رات کا اور ایک تراویح میں پورے رمضان کا۔ امام دار الہجرہ، حضرت مالک بن انسؒ رمضان کی آمد پر حدیث کی تکرار اور اہلِ علم کی مجالس سے کنارہ کش ہوکر قرآنِ پاک کی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور فرماتے کہ ’’یہ قرآن کا مہینہ ہے۔‘‘ 

حضرت سفیان ثوریؒ کا بھی یہی معمول تھا۔ (المستطرف:ص23) ان اکابرائمہ کا یہ طرزِ عمل اس بات کا غمّاز ہے کہ علمِ حدیث اور فقہ کی عظمت اپنی جگہ مسلّم، مگر رمضان میں اصل توجّہ قرآنِ پاک کی طرف ہونی چاہیے، کیوں کہ یہی اس مہینے کا خاص امتیاز ہے۔ حضرت امام شافعیؒ رمضان المبارک میں ساٹھ قرآن ختم کرتے اور سب نماز میں ختم کرتے تھے، جب کہ اُن کے شاگرد، بویطی ہر روز ایک قرآن پڑھا کرتے تھے۔ (احیاء العلوم:ج1، ص100)

یہ معمول عبادت کی کثرت اور اِخلاص کی گہرائی ظاہر کرتا ہے۔ نماز میں قرآن کا ختم کرنا نہ صرف جسمانی مشقّت کا تقاضا کرتا ہے بلکہ روحانی انہماک بھی چاہتا ہے اور ان حضرات نے رمضان کو اسی کیفیت میں بسر کیا۔امام المحدّثین، حضرت محمد بن اسماعیل بخاریؒ رمضان المبارک میں تراویح کے بعد تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور ہر تین دن میں ایک قرآن ختم کرتے۔ 

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حدیث کے امام ہونے کے باوجود اُن کا تعلق قرآن سے نہایت مضبوط تھا اور وہ رمضان میں اس تعلق کو مزید مستحکم کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم بن ادہمؒ، جو بادشاہی چھوڑ کر زُہد و فقر کی راہ پر گام زن ہوئے تھے، رمضان میں دن کو محنت کرتے اور رات کو نماز و تلاوت میں مشغول رہتے۔ حضرت ابواسحاق فزاریؒ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے تیس دن اِس طرح گزارے کہ نہ رات کو سوئے، نہ دن کو۔ (حلیۃ الاولیاء:ج7، ص344) 

یہ واقعہ ان کی ریاضت اور مجاہدے کی شدّت ظاہر کرتا ہے، اگرچہ یہ ہر شخص کے لیے قابلِ اقتدا نہیں، مگر اس سے ان کے شوقِ عبادت کا اندازہ ہوتاہے۔ حضرت سہل بن عبداللہ تستریؒ پندرہ روز میں ایک مرتبہ کھانا تناول فرماتے تھے اور رمضان میں ایک لقمہ، البتہ روزانہ سُنّت کی اتباع میں پانی سےافطار کرتے تھے۔ (شرح احیاء عن العوارف) یہ عمل ان کی زُہد و ورع کی کیفیت ظاہر کرتا ہے، جس میں وہ نفس کی خواہشات محدود کرکے رُوح کی بالیدگی چاہتے تھے، جب کہ حضرت حماد بن سلمہؒ رمضان المبارک میں روزانہ پچاس افراد کو افطار کرواتے تھے۔ (روح البیان)

ان تمام واقعات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اولیائے کرام اور سلف صالحین کے نزدیک رمضان کا اصل پیغام قرآن سےوابستگی، عبادت میں اِخلاص اور اوقات کی قدر شناسی تھا۔ وہ اس مہینے کو معمول کے مطابق نہیں گزارتے تھے بلکہ اپنی رفتار، ترجیحات اور معمولات سب بدل دیتے تھے۔ ان کی زندگیاں اس بات کی عملی تفسیر تھیں کہ رمضان محض روزہ رکھنے کا نام نہیں بلکہ قلب و رُوح کی تجدید کا موسم ہے۔

آج کے دَور میں گرچہ حالات مختلف ہیں، مگر ان اکابر کی سیرت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہ ہم بھی اس مہینے کو فضول مشاغل سے بچا کر تلاوت، ذکر، قیام اور خدمتِ خلق میں گزاریں، تاکہ ہم بھی انوارِ رمضان سے حقیقی فیض حاصل کرسکیں اور اپنی رُوحوں کو قرآن کے نور سے منوّر کرسکیں۔

سنڈے میگزین سے مزید