گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں شدید بارشوں اور طغیانی (سیلاب) کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے، موسمیاتی تبدیلیوں، مون سون میں بارشوں کی غیر معمولی شدّت اور بالائی علاقوں سے پانی کے اضافی اخراج نے دریاؤں میں سیلابی صورتِ حال پیدا کی، جس سے شہری و دیہی انفرا اسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ مسلسل موسلادھار بارشوں سے مکانات، تیار فصلیں اور مواصلاتی نظام تباہ ہونے کے ساتھ سیلابی ریلوں نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کرکے زرعی زمینوں کو بھی بنجربنا دیا، جس سے معاشی بحران میں اضافہ ہوا۔
2025ء میں بھی شدید بارشوں کے بعد مُلک میں بڑے پیمانے پر سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی، جس کے سبب ایک بار پھر خطّے کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتِ حال پیدا ہوگئی۔ ہر سال مون سون آتا ہے، تو ذہن میں ایک ہی سوال گردش کرتا ہے کہ سیلاب کے خدشات اور تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے ہم کبھی اس مسئلے کا مستقل حل ڈھونڈ پائیں گے؟
اسی پس منظر میں جب میڈیا پر ایک بار پھر کالا باغ ڈیم کی بحث نے سر اُٹھایا، تو ہم نے سوچا، کیوں نہ اس بار کالا باغ شہر کا سفر کیا جائے اور وہ جگہ دیکھی جائے، جہاں کبھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا تصوّر حقیقت کے قریب تھا۔ اس خیال نے کالا باغ شہر کے سفر کی بنیاد ڈالی، اور ہم نے وہاں کا رُخ کرہی لیا۔
دریائے سندھ پر کالا باغ، ضلع میاں والی کے مقام پر تعمیر کیے جانے والے اس بڑے عظیم الشّان آبی منصوبے کا سروے 1953ء میں شروع ہوا اور 1984ء میں فزیبلٹی رپورٹ مکمل ہوئی۔ اس کا مقصد 6.1ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرکے50لاکھ ایکڑ زمین سیراب کرنا تھا۔ تاہم، سیاسی، صوبائی اور ماحولیاتی تحفّظات کے باعث یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑگیا۔ یاد رہے، کالا باغ ڈیم نہ صرف دریائے سندھ کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ یہ مُلک کی زرعی پیداوار کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔
اس کی تعمیر سے ہر سال آبی ذخائر کی قلّت کے باعث سمندر بُرد ہونے والے لاکھوں ملین ایکڑ فٹ پانی کو محفوظ کرکے لاکھوں ایکڑ اراضی سیراب کی جاسکتی ہے۔ تاہم، بدقسمتی سے سیاسی اختلافات اور کچھ خدشات و تحفظات کے سبب یہ اہم ترین منصوبہ دہائیوں سے التوا کا شکار اور محض کاغذوں کی حد تک ہے۔
ہماری گاڑی سی پیک ایم۔14پر کالا باغ کی جانب برق رفتاری سے رواں دواں تھی۔ میاں والی سے تعلق رکھنے والے برادرم، عمران ظفر بطور گائیڈ ہمارے ساتھ تھے۔ اس علاقے کے چپّے چپّے سے واقفیت رکھنے کی وجہ سے انھوں نے خاطر خواہ معلومات فراہم کیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’’کالا باغ میں سیّاحت کے بے شمار مقامات ہیں، جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ضلع میانوالی کے شمال میں دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع کالا باغ ایک مشہور قصبہ نما شہر ہے، جس کے نام سے پاکستان کی سیاست میں آج بھی ہل چل مچ جاتی ہے۔ تحصیل عیسٰی خیل کے اس علاقے میں نواب آف کالاباغ نے وسیع و عریض رقبے پر آموں کے متعدد باغات لگوائے۔
اس شہر سے متعلق کئی روایتیں مشہور ہیں، مثلاً یہاں کے باغات اتنے گھنے تھے کہ سخت دُھوپ میں اُن کے گہرے سبز پتّے راہ چلتے لوگوں کو سیاہ محسوس ہوتے تھے، غالباً نظر کے اس دھوکے ہی نے اس شہر کو کالے باغات کا شہر، یعنی ’’کالا باغ‘‘ کا نام دے دیا۔ بعدازاں، اسی نسبت سے یہاں کے نواب بھی ’’نواب آف کالا باغ‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ نواب آف کالا باغ، ملک امیر محمد خان، 1960ء سے 1966ء تک مغربی پاکستان کے گورنر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ایک چھوٹے قصبہ نما اس شہر میں سیّاحوں کے لیے بہت کچھ ہے۔
یہاں کا سلسلۂ کوہِ نمک اور سرخ پہاڑیوں کا حُسن اپنی مثال آپ ہے۔ پہاڑوں کے درمیان سے بہنے والے دریائے سندھ کے بہاؤ کا خُوب صُورت نظارہ بھی قابلِ دیداور انتہائی دل کش تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ کالا باغ سے متعلق ایک اور روایت بھی مشہور ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کالا نامی ایک ہندو کا باغ تھا، جسے علاقے کے لوگ ’’کالا کا باغ‘‘ کہا کرتے تھے، مگر اب نہ کالا ہندو ہے، نہ ہی اس کا باغ۔‘‘
سی پیک ایم۔14کی وجہ سے گھنٹوں کا طویل سفر اب محض چند گھنٹوں میں طے ہوجاتا ہے۔ پاکستان کی معاشی ترقی میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والی یہ شاہ راہ، ہکلہ، اسلام آباد سے شروع ہو کر ڈیرہ اسماعیل خان تک جاتی ہے اور پہاڑوں، دریائے سندھ کے دشوار گزار راستوں سے گزرتی ہوئی فتح جنگ، مٹھیال، پنڈی گھیب، تراپ اور دائود خیل سے ہوتی ہوئی یارک کے قریب انڈس ہائی وے پر ختم ہوجاتی ہے۔ سی پیک پر داؤد خیل کے مقام سے کالا باغ کی حدود میں داخل ہوتے ہی دریائے سندھ کی فضا سے پورے ماحول میں ایک عجیب ٹھہرائوسا محسوس ہوتا ہے، مگرجیسے جیسے قریب جاتے ہیں، دریا کی نمی سے خوش گوار تازگی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔
سنگلاخ پہاڑوں اور دریا کا نرم، دھیما بہاؤ مل کر کالا باغ کی فطرت کا اصل نقشہ بناتے ہیں۔ داؤد خیل سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر کالا باغ میں ہمارا پہلا سیّاحتی مقام جناح بیراج تھا۔ جناح بیراج سے منسلک ہیڈ پاور ’’جناح ہائیڈرو پاور‘‘ کے نام سے منسوب ہے۔ یہاں سے گزرنے والی نہر تھل کینال، میاں والی، بھکر، خوشاب، لیّہ اور مظفر گڑھ تک کی لاکھوں ایکڑ اراضی کو سیراب کرتی ہے۔
یہ نہر نہ صرف صحرائے تھل کی سرسبز وشادابی بڑھاتی، بلکہ اہلِ تھل کی معیشت کی شہ رگ بھی سمجھی جاتی ہے۔ دریائے سندھ کے پانی کو بھی بڑی حد تک اسی بیراج نے کنٹرول کیا ہوا ہے۔ عید تہواروں پر پاکستان کے دور دراز کے علاقوں سے سیّاحوں کے علاوہ عام لوگ بھی جناح بیراج کی سیر کے لیے آتے ہیں۔ یہاں ایک خُوب صُورت فیملی پارک سے متصل 1928ء میں تعمیرکیا جانے والا تاریخی پُل بھی ہے۔ اس پُل کے ریلوے ٹریک پر1990ءتک ٹرینیں چلا کرتی تھیں۔ اگرچہ اب یہاں ٹرینیں تو نہیں چلتیں، مگر ٹریکس اب بھی موجود ہیں، جس پر عام ٹریفک چلتی ہے۔
پُل کی بناوٹ میں کسی جگہ بھی نٹ بولٹ کا استعمال اور ویلڈنگ کا کام نہیں کیا گیا۔ لوہے کا آہنی پُل عبور کرتے ہی کالا باغ قلعہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر نظر آتا ہے۔ یہ قلعہ ملک امیر محمد خان کے والد نے 1911ء میں تعمیر کروایا تھا، جسے ملک امیر محمد خان نے تزئین و آرائش کے بعد ایک مضبوط رہائش گاہ کے طور پر برقرار رکھا۔ انہوں نے علاقے میں زرعی ترقی، آب پاشی کے نظام اور مقامی انفرااسٹرکچر کی تعمیر و بہتری پر خصوصی توجّہ دی۔
ایک سو کنال سے زیادہ رقبے پر محیط یہ قلعہ دفاعی مقاصد کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، جس میں رہائشی حصّے، اصطبل اور دیگر سہولتیں موجود ہیں۔ نواب نے قلعے کے اندرونی حصّوں کو اپنی ضروریات کے مطابق منظّم کیا، جہاں اُن کے استعمال کی اشیاء اور خاندان کی نادر تصاویر آج بھی موجود ہیں۔ دودھیا سفید رنگ کی محل نما حویلی، باغ کی گلیاں، قدیم عمارتیں اور پہاڑوں کے کناروں پر تعمیر کیے گئے قدیم بنگلے اور محلات آج بھی ان کے اقتدار اور شان و شوکت کی کہانیاں سُناتے ہیں۔
نواب آف کالاباغ، ضلع میاں والی کے مشہور اعوان قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، اُن کا شمار پاکستان کے طاقت وَر ترین سرداروں ہوتا تھا۔ وہ اپنی سخت مزاجی، بہترین انتظامی صلاحیت اور اصول پسندی کے حوالے سے مشہور تھے۔ کالاباغ ہاؤس، جسے ’’بوڑھ والا بنگلا‘‘ بھی کہا جاتا ہے، نواب صاحب کی مرکزی رہائش گاہ تھی، یہ بنگلا دریائے سندھ کے کنارے اب بھی اپنی اصل حالت میں موجودہے۔ محل نما بنگلے میں داخل ہوتے ہی سامنے سب سے پہلے محل کا کشادہ صحن ہے، یہاں سے دریا کا منظر بہت دل کش نظر آتا ہے۔
گائیڈ نے بتایا کہ محل کے اندر کمروں کی قطاریں ہیں، جن میں مہمان خانے، سرداور گرم کمرے اور ہاتھ سے تراشا گیا لکڑی کا نفیس فرنیچر اب بھی موجود ہے۔ محل کے اندر کمروں میں جانے کی اجازت نہیں تھی تاہم، باہر کی تصاویر اتارنے کی ممانعت نہیں تھی، لہٰذا ہم نے اس تاریخی محل میں گزارے کچھ لمحات اپنے کیمروں میں محفوظ کرلیے۔
نواب صاحب کا بوڑھ والا بنگلا اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ ماضی میں سعودی عرب کے شاہ فیصل، سابق صدر ایوب خان، اسکندر مرزا، ذوالفقار علی بھٹو اور امریکی خاتون ِاوّل مسز روز ویلٹ سمیت کئی دیگر عالمی شخصیات یہاں کادورہ کرچکی ہیں۔
یہاں کے باسیوں کی نواب آف کالا باغ سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مرکزی بازار کی اکثر دکانوں میں جا بہ جا ان کی تصویر آویزاں نظر آتی ہے۔ نواب ہاؤس کے قریب ہی دو سو سال پرانا بوڑھ کا درخت آج بھی بڑی شان سے کھڑا نظر آتا ہے اور اسی نسبت سے یہ بنگلا، بوڑھ والا بنگلا کہلاتا ہے۔
نواب ہاؤس کی سیر کے بعد ہم نے کالاباغ شہر کا رُخ کیا۔ اٹلی کے شہر وینس کی ’’ڈارک اسٹریٹ‘‘ سے مشابے یہاں کی گلیاں تنگ و تاریک ہیں۔ کالا باغ شہر کی ابتدائی آباد کاری اور تاریخی اہمیت کے حامل ’’تنگ بازار‘‘ کی گلیاں دو سے تین فٹ تک ہی چوڑی ہیں، جس کی وجہ سے اِنھیں ’’اندھیری گلیاں‘‘ بھی کہا جاتا ہے، جب کہ گلیوں کے اوپر بنائی گئی چھتیں اس قدر نیچی ہیں کہ سر جھکا کر گزرنا پڑتا ہے۔
ان گلیوں کو آج سے تقریباً دو صدی قبل بیرونی گھڑ سوار لٹیروں سے بچانے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے، اُس وقت کے ہندو راجا نے اُن پر چھتیں ڈلوا دی تھی۔سو، ان تنگ گلیوں میں تازہ ہوا اور سورج کی روشنی بھی بمشکل پہنچ پاتی ہے، لیکن اس کے باوجود زندگی رواں دواں ہے۔چوں کہ دریا کی وجہ سے رہائشی علاقے کے ساتھ یہ تجارتی مرکز بھی تھا اور کسی زمانے میں یہاں غلّے، اجناس اور سونے کا کاروبار کیا جاتا تھا، تو اسی وجہ سے گھوڑوں پر سوار چور اور لٹیرے یہاں لوٹ مار کرتے تھے۔
کالاباغ سے کچھ فاصلے پر ایک جزیرہ نما قصبہ آباد ہے، جسے ’’لکڑاں والا‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے باسی اب بھی ماڑی انڈس کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں، کیوں کہ وہاں پہنچنے کے لیے کوئی زمینی راستہ موجود نہیں۔ کالاباغ کی تاریخ کے مطابق انگریز دَور میں جنگ و جدل میں استعمال ہونے والے لوہے کے چھوٹے ہتھیار بنانے کے کارخانے لگائے گئے تھے، جہاں اب لوہے کے برتن بنائے جاتے ہیں۔ شہر میں گھومتے پھرتے اندازہ ہوا کہ یہاں کے مکینوں کا طرزِ زندگی اب بھی پرانا ہی ہے۔ یہاں کے مہمان نواز، سادہ لوح باسی، اپنے وَرثے پر فخر کرتےہیں۔
توے پربنی فرائی کلیجی، کباب اور توے ہی کی روٹی یہاں کی مشہور روایتی ڈش ہے، بازار میں جگہ جگہ اس کی دکانیں موجود ہیں۔ فرائی کلیجی کی بھینی بھینی خوشبو نے بھوک کی شدّت میں اضافہ کیا، تو قریبی ہوٹل چلے گئے۔ ہوٹل کے ملازمین نے مُسکرا کر استقبال کیا اور تازہ گرما گرم فرائی کلیجی، کباب اور توے کی روٹی سامنے رکھ دی۔ ہم نے خوب سیر ہو کر کھایا اورکھانے کے بعد سوئیٹ ڈش، دودی حلوے سے لطف اندوز ہونے کے بعد چائے بھی نوش کی۔
کالا باغ کا یہ علاقہ معدنیات سے مالا مال ہے۔ یہاں جپسم، چونے، پتّھر اور نمکیات کی وافر مقدار پائی جاتی ہے اور مقامی لوگ ان کانوں کو ’’نواب کی کان‘‘ کے نام سے پُکارتے ہیں۔ کالا باغ کے پہاڑوں کے سینے میں چُھپی یہ کانیں دھرتی ماں کے ان خزینوں میں سے ہیں، جو صدیوں سے مقامی لوگوں کی معاشی ترقی کا سامان ہیں۔ کالا باغ کا سرخ و سفید چمکتا ہوا نمک نہ صرف خوراک کا ذائقہ بڑھاتا ہے، بلکہ اس خطّے کی تاریخ اور محنت کش لوگوں کی داستان بھی سناتا ہے۔
ان کانوں کو پاکستان کی معدنی تاریخ کا ایک روشن باب کہا جائے، تو غلط نہ ہوگا۔ یہاں کا سرخ نمک دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے اور زیادہ تر شہریوں کا ذریعۂ معاش نمک کے ان ہی کانوں سے منسلک ہے۔ واضح رہے، نمک کے پہاڑوں کا یہ سلسلہ کھیوڑ ا سے شروع ہوتا ہے۔
ویسے یہ علاقہ شہر سے دُوراور خاصا ویران ہے۔ ہم کافی دیر چلنے کے بعد کانوں تک پہنچے، تو جگہ جگہ سُرخ نمک کے پتّھروں کے ڈھیر نظر آئے۔ بہرکیف، اب ہم کالا باغ میں اُس مقام کی طرف بڑھ رہے تھے، جس کے لیے ایک طویل سفر طے کرکے ہم یہاں تک پہنچے تھے۔ کالا باغ ڈیم کے مجوزہ منصوبے کے مقام پر آنے کا مقصد یہی تھا کہ اس علاقے کو دیکھا جائے کہ آج یہاں کیا کچھ ہے۔
سابق صدر، جنرل محمد ضیاء الحق کے دَورِ حکومت میں یہاں سڑکیں تعمیر کی گئیں، مشینریز منگوائی گئیں اور رہائشی کالونی بھی بنائی گئی، مگر دو صوبوں کے اعتراضات کے باعث یہ ڈیم آج تک نہ بن سکا۔ یہ دیکھ کر ازحد افسوس ہوا کہ ڈیم کے تعمیراتی کام کے لیے مشینریز پڑے پڑے زنگ آلود اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہیں۔ بنجر بیابان راستے میں ایک وسیع رقبے پر انجینئرز اور دیگر ملازمین کے لیے تعمیر کیے گئے پکّے مکانات، اس وقت کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے تھے۔
یہ یقیناً نہ صرف ہمارے لیے، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ آج پاکستان میں پانی کی شدید قلّت ہے، زیرِ زمین پانی تیزی سے نیچے کی طرف جارہا ہے۔ ہر سال برسات میں بارشوں کا پانی شہروں، دیہات میں تباہی مچانے کے بعد دریائوں سے ہوتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے۔
دریائے سندھ کے اس کنارے پھیلا ہوا وسیع تر علاقہ، جہاں کبھی ایک عظیم الشّان منصوبے کا خواب دیکھا گیا تھا، مکمل خاموشی کا منظر پیش کررہا تھا، یوں محسوس ہوا، جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔ ایک پَل کو شدّت سے احساس ہوا کہ اگر منصوبے کے مطابق یہاں کالا ڈیم تعمیر ہو جاتا، تو آج منظر یک سر مختلف ہوتا، یقیناً یہ ڈیم نہ صرف توانائی کے حصول کا بڑا ذریعہ بن سکتا تھا، بلکہ سیلابی پانی محفوظ کرنے اور زرعی مسائل کے حل میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا تھا۔