• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اسرائیلی دورے کے چند گھنٹوں بعد بھارتی اور اسرائیلی ایما پر افغانستان نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کیا جس پر پاکستان نے افغانستان کی 130 چیک پوسٹوں پر جوابی حملہ کرکے افغان طالبان کو منہ توڑ جواب دیا۔ پاکستان کی جوابی کارروائی کو نریندر مودی اور نیتن یاہو نے پاکستان کی افغانستان میں دہشت گردی کہا اور افغانستان کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ امریکہ نےپاکستان کو دفاع کا حق اور یورپی یونین نے طالبان حکومت سے افغان سرزمین کو دہشت گردوں کے استعمال سے روکنے کا مطالبہ کیا۔ افغانستان سے پاکستان پر حملے کا مقصد پاکستان کو افغانستان سے انگیج رکھنا تھا تاکہ وہ آزادانہ طور پر ایران کی مدد نہ کرسکے اور پھر چند گھنٹے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر باقاعدہ فضائی حملے کردیئے اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت وزیر دفاع اور اعلیٰ قیادت کو شہید کردیا۔ امریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی تھی کہ اس جنگ سے ایران میں رجیم چینج کیا جائے۔ ایران نے اس دوران متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور سعودی عرب میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ مجھے فیملی کے ہمراہ عمرے کیلئے روانہ ہونا تھا لیکن متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود بند اور فلائٹس منسوخ ہونے کے باعث عمرے پر نہ جاسکا۔ امریکہ ایران کشیدگی اور پاکستان افغانستان تنازع، خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے، دبئی اور ابوظہبی پر ایرانی میزائل حملوں نے پورے خطے کو آگ میں جھونک دیا ہے جس سے خطے کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی۔ دبئی اور ابوظہبی میں پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں کریش ہوں گی اور سرمایہ کار اپنی پراپرٹیز فروخت کرکے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی کوشش کریں گے۔ خطے میں تیل کی سپلائی کے دو اہم سمندری راستے ہیں۔ آبنائے ہرمز جو ایران اور عمان کے مابین ہے اور خلیج فارس (Persian Gulf)کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے جس سے دنیا کا 20 فیصد تیل اور 30 فیصد گیس سپلائی ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت جیسے ممالک چین، جاپان، بھارت، یورپ اور ایشیاء کو تیل اور LNG سپلائی کرتے ہیں جبکہ تیل سپلائی اور تجارتی کارگو کا دوسرا راستہ سوئس کینال ہے جو بحیرہ روم (Mediterranean Sea) کو بحیرہ مردار (Red Sea) سے ملاتی ہے جو مصر سے گزرتی ہے اور دنیا کی 10 سے 12فیصد تجارت اس کینال کے ذریعے کی جاتی ہے۔ سوئس کینال بند ہونے سے شپمنٹ کو 10 سے 15 اضافی دن اور 7 ہزار میل اضافی فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 92 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں جسکی وجہ سے حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے اور ہفتہ وار تیل کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ پیش گوئی کی جارہی ہے کہ خلیجی ممالک سے تیل سپلائی منقطع ہونے کی صورت میں تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہیں۔ خلیجی ممالک میں لوگوں کے انخلا اور سیاحوں کے نہ آنے کے باعث یو اے ای اور دیگر خلیجی ممالک کی معیشت متاثر ہوگی ۔نئی ملازمتوں کے مواقع نہ ہونے کے باعث ترسیلات زر میں کمی آئے گی ، آئی ایم ایف نے موجودہ حالات میں خطے میں افراط زر بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان کا سالانہ درآمدی بل اربوں ڈالر بڑھ سکتا ہے جس سے تجارتی خسارے میں اضافہ، زرمبادلہ کےذخائر میں کمی اور پاکستانی روپے کی قدر کمزور ہوگی۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں بڑھ جائیں گی اور روپے کی قدر میں کمی مہنگائی میں اضافے کا سبب بنے گا۔ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں ، خطے میں کشیدگی کے باعث معاشی سست روی سے روزگار کے مواقع متاثر ہوں گے جس سے پاکستان کی ترسیلات زر میں کمی آسکتی ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرجاتی ہیں تو ملکی معیشت اس کا بوجھ برداشت نہیں کرسکے گی۔ موجودہ حالات میں دو واضح بلاک نظر آتے ہیں۔ ایک میں امریکہ، اسرائیل، بھارت، افغانستان اور ایک خلیجی ملک شامل ہے جبکہ دوسرے بلاک میں پاکستان، چین، ترکی اور سعودی عرب ہیں۔ اطلاعات کے مطابق روس ایران کو اہم دفاعی معلومات فراہم کررہا ہے۔ اسرائیل کے مطابق پاک سعودی دفاعی معاہدے کی آڑ میں پاکستان مسلم ممالک کو نیوکلیئر شیلڈ فراہم کررہا ہے۔ اسرائیل، پاکستان کی نیوکلیئر صلاحیت کو اسلامک نیوکلیئر بم کے طور پر دیکھتا ہے جو اسے قبول نہیں۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کو احساس ہوگیا ہے کہ وہ اکیلا پاکستان سے جنگ نہیں جیت سکتا لہٰذ ابھارت نے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے منصوبہ بنایا ہے جس میں انہیں امریکہ اور ایک خلیجی ملک کی حمایت حاصل ہے۔ اسرائیل کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملہ ایک ٹیسٹ تھا اور ایران کے بعد ان کا دوسرا ہدف پاکستان ہوگا۔ اسرائیل کے پاس 90 اور پاکستان کے پاس 170نیوکلیئر وارہیڈز ہیں۔ اگر بھارت اور اسرائیل نے پاکستان کے خلاف کسی ایڈونچر کی کوشش کی تو صرف 7 منٹ میں تل ابیب کو صفحہ ہستی سے مٹایا جاسکتا ہے۔ ہمیں اللہ کے بعد اپنی افواج پر یقین کامل ہے۔ قومی اتحاد اور استحکام پاکستان کی اصل طاقت اور وقت کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین