• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭یادش بخیر، دہائیوں پہلے عید کی نماز کے لیے والد صاحب کے نئے کپڑوں پر استری میری ذمّے داری تھی۔ آج جب وہ میرے ساتھ نہیں، تو بھی عید کی صبح، اُس وقت کا تصوّر آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ لبوں پر مسکراہٹ لے آتا ہے۔٭ہم سب بھائی شیر خرما کھا کر ابّا جان کے ساتھ نمازِ عید کے لیے جاتے، واپسی پر اپنے بزرگوں کی قبور پر فاتحہ خوانی کرتے اور پھر رات کو امّاں جان خاندان کے پچاس ساٹھ افراد کی دعوت کا اہتمام کرتیں، جس میں حسبِ مراتب اور عُمر عیدی بھی بٹتی۔٭غربت کے باوجود ہمیں عید پر نئے کپڑے ضرور ملتے۔ گاؤں میں دودھ اور شکر گھر کی ہوتی، حتیٰ کہ اوندھے برتن پر میدے کو بل دے کر سویّاں بٹنا بھی گھر کی خواتین کا کام تھا۔

دوپہر کے کھانے کے لیے گھر کی پلی مرغیوں میں سے کوئی ذبح کی جاتی اور عیدی میں ملنے والے پیسے سب یار، دوست جُھولوں اور مٹھائی پر خرچ کرتے۔٭عید والے دن بابا مجھے ساتھ لے کر اپنے رشتے کی بہن کو عید کی مبارک باد دینے جاتے، مجھے تعجب ہوتا کہ ہمارے مقابلے میں اُن کے بچّوں کو زیادہ عیدی کیوں دیتے ہیں، یہ تو عرصے بعد معلوم ہوا کہ فطرے کی ادائی میں رشتے داروں کا حق پہلے ہے۔٭ہرعید پر گھر کی سجاوٹ کے لیے امّی کچھ نہ کچھ خاص ضرور کرتیں۔ 

کسی سال پردے بدلے جاتے، تو کبھی صوفوں کے کُشن، کبھی بُک شیلف آتا، تو کبھی نئے پودے خریدے جاتے۔ سال بَھر کے ٹالے گئے الیکٹریشن، پلمبر اور رنگ و روغن وغیرہ کے کام ابّو عید ہی پر کرواتے۔٭عید کی شاپنگ میں ماما اور پاپا کے ساتھ جانے کا بہت مزہ آتا۔ ماما منع کرتی رہتیں، مگر پھر بھی پاپا ہمیں چیزیں دِلاتے رہتے۔ منہدی اور چوڑیوں کے بغیر عید، عید نہیں لگتی۔٭عید کی صبح،ہم سب تیار ہو کر دادی جان کو عید مبارک کہنے جمع ہوتے۔ ابّو اُنہیں نئے نوٹوں کی گڈیاں دیتے، جو بعد میں دادی پورے خاندان میں بانٹتیں۔٭میرے نانا ہم سب کزنز کو دس، بیس، پچاس اور سو کا ایک، ایک نوٹ عیدی میں دیتے۔ 

مَیں اُنہیں چھیڑتا کہ نانا 500 اور 1000 والا نوٹ کب دیں گے، آگے پانچ ہزار والا بھی باقی ہے، تو قہقہ لگاتے اور مجھے سو کا ایک اضافی نوٹ دیتے ہوئے کہتے۔ ’’ابّے مرغے! تُو ہمارے کان کاٹے گا۔‘‘٭عید پر عیدی جمع کرنا سب سے اہم مشن ہوتا، پھر ہم سب فرینڈز مل کر عیدی کے پیسوں سے باہر ڈنر کرتے۔٭روزگار کے چکر میں اپنے گھروں سے دُور ہیں، عید پر اپنے جیسے پردیسیوں کے ساتھ گھومنے پِھرنے نکل جاتے ہیں۔ واللہ، اِک عید سے کیا کیا حسین و رنگین و دل نشین یادیں منسوب و مشروط نہیں۔

بات یہ ہے کہ اگر کسی نظریے، فلسفے یا رسم کو معاشرے میں تہذیب یا ثقافت کے طور پر قبولیتِ عام مل جائے، تو پھر دِلوں اور دماغوں سے اسے محو کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے اور ہمارے ہاں بھی عید کی مخصوص روایات سماج میں کچھ اِس طرح رچ بس گئی ہیں کہ اس دن کا لازمہ تصوّر کی جانے لگی ہیں، جیسے میٹھے میں سویّاں، منہدی، چوڑیاں، بناؤ سنگھار، میل جول، دعوتیں، مزے دار پکوان اور سب سے بڑھ کر بڑوں سے ملنے والی’’عیدی۔‘‘ 

ابتدا میں بیان کی گئی یادداشتیں دراصل ہمارے مذہب اور کلچر کا ایسا پُرلُطف مرکب ہیں، جنہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا ممکن نہیں۔ دنیا کے تقریباً تمام بڑے مذاہب اور ثقافتوں میں عید یا تہوار منانے کی روایت موجود ہے۔ یہ دن عموماً کسی مذہبی واقعے، موسم کی تبدیلی یا تاریخی کام یابی کی یاد میں منائے جاتے ہیں۔

اسلام میں عید الفطر اور عید الاضحیٰ، مسیحیت میں کرسمس اور ایسٹر، یہودیت میں عیدِ فسح( pass over ) اور ہنوکا، ہندو مت میں دیوالی اور ہولی، سِکھ مت میں بیساکھی اور گرو پورب وغیرہ، اہم خوشی کے دن شمار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں ثقافتی طور پر عیدِ نوروز، تھینکس گیونگ(Thanksgiving) اور چینی نیا سال، مشرقی ایشیا کے بڑے ثقافتی تہواروں میں شامل ہیں۔

عربی زبان کا لفظ عید’’عود‘‘ سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی بار بار پلٹ کے آنا ہے۔ یہ لفظ عام مفہوم میں خوشی، جشن اور مسرّت کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی ایسی خوشی اور مسرّت، جو بار بار واپس آئے۔ اسلامی تناظر میں یہ وہ دن ہے، جو اللہ تعالی کی طرف سے اُس کے بندوں کے لیے انعام کے طور پر مقرّر کیا گیا ہے۔ رمضان کے روزوں کے بعد عید الفطر، مسلمانوں کے لیے اللہ کی خصوصی رحمت اور کرم ہے۔

یکم شوال سے روزوں کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے اور ہم دن کے اوقات میں بھی اللہ کی نعمتوں، یعنی کھانے پینے وغیرہ سے دوبارہ فیض یاب ہونا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ دن مخلوق کی جانب سے خالق کی شُکر گزاری کا اظہار ہے۔ عید کے ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی پر طویل مدّتی اثرات نمایاں ہیں۔ یہ جشنِ عید ہماری روحانی، اخلاقی، معاشرتی، سماجی، خاندانی، ذہنی، جذباتی، نفسیاتی اور طبّی طور پر آب یاری کا انتظام ہے۔ عید بحیثیتِ فرد اور اُمّت، تربیت کر کے ہمارے اخلاق بلند کرتی ہے، جو تخلیقِ انسانی کا قطعی اور اعلیٰ ترین مقصد ہے۔ 

عید کے دن بندہ روحانی طور پر اپنے اور پروردگار کے درمیان مضبوط تعلق کے تجربے سے گزرتا ہے۔ وہ اللہ کے عطا کردہ فضل و برکت کا مشاہدہ کرتا ہے اور اُس کے دل میں ربّ ِ کائنات کی اُن عنایات اور جود و کرم کا، جو سارا سال جاری رہتے ہیں، احساس گہرا ہوجاتا ہے۔ خالقِ بے نیاز کے بخشے گئے خیر اور فیض کی احسان مندی مخلوق کو اُس کے سامنے جُھکا کر عجز و نیاز کے نئے مقامات سے روشناس کرواتی ہے۔

درحقیقت، یہ عاجزی ہی وجودِ انسانی کو رفعت و بلندی پر پہنچاتی ہے۔ اس قادرِ مطلق کی عظمت اور بزرگی کے سامنے آدم زاد کا سجدہ ریز ہونا اعترافِ نعمت اور ممنونیت کا اظہار ہے اور یہ مشق روحانی بالیدگی، تقویٰ اور احساسِ بندگی پیدا کرتی ہے۔ عید کا دن مسلمانوں کو یوں بھی بے حد طمانیت کا احساس لاتا ہے کہ اُنہوں نے ماہِ رمضان میں اپنی توفیق کے مطابق حکمِ الہیٰ کی بجا آوری میں تزکیۂ نفس اور اطاعت و عبادت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو راضی اور اُس کا بندہ ہونے کا حق ادا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی۔

عید کے اخلاقی پہلو پر نظر ڈالیں، تو یہ فیضانِ عید ہی ہے کہ انسانی کردار سنوارنے، نیک و بد میں تمیز کرنے، سماج میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے سے متعلق اصولوں، رویّوں اور اقدار کا اعادہ محض ایک ہی دن میں ہو جاتا ہے۔ دوسروں کے دُکھ درد محسوس کر کے اُن سے ہم دردی، ایثار اور سخاوت ہی عید کا اخلاقی پیغام ہے۔ صدقۂ فطر میں بھی یہی حکمتِ خداوندی پوشیدہ ہے کہ صاحبِ حیثیت، کم زور مالی حالات میں گزارہ کرتے اپنے رشتے داروں، اہلِ محلّہ یا برادرانِ دینی کا لحاظ کریں تاکہ وہ بھی کُھلے دل سے عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ 

عید کے دن غیر اور اجنبی لوگوں سے بھی مسکرا کر ملنا اِس اخلاقی صفت کو اجتماعی عادت میں بدل دیتا ہے۔ اگر عید کے معاشرتی اور سماجی زاویوں پر غور کریں، تو نمازِ عید میں رنگ و نسل اور سماجی مرتبے یا دولت کو نظر انداز کر کے عید کا دن عملی طور پر مساوات، خیر سگالی، بھائی چارے اور ملی یک جہتی کو فروغ دیتا ہے اور ہر کس و ناکس کو یک ساں طور پر معاشرتی اکائی بنا کر خود اعتمادی اور عزّتِ نفس کی دولت سے نوازتا ہے۔ 

تکبّر اور اَنا پر قابو پا کر صبر و تحمّل اور برداشت سے بطور معاشرہ نظم و ضبط پر قائم رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ عید معاشرتی ذمّے داریاں نبھانے کا سلیقہ بھی سِکھاتی ہے اور یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ہماری خوشی تب تک ادھوری ہے، جب تک ہمارے ارد گرد رہنے والے پس ماندہ گروہ، یتامیٰ و مساکین، پریشان اور مفلوک الحال ہیں۔ عید سوسائٹی کے محروم طبقات کی پُشت پناہی کا نام ہے۔ یہ خود غرضی سے نکل کر انسانیت کی خدمت اور انسانوں سے محبّت پر یقین کا درس دیتی ہے۔

عید کا معاشی رُخ بھی کسی صُورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ معیشت میں تیزی اور معاشی استحکام، تجارت اور خرید و فروخت (گردشِ زر) سے وابستہ ہے۔ عید پر لباس، آرائش، خوراک، گھروں کی دیکھ بھال اور آمد و رفت سے وابستہ ہر طرح کی چھوٹی بڑی صنعت یا کاروبار کو اُبھرنے کا موقع ملتا ہے۔ طلب اور رسد کا قانون، پیداوار میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور معیشت کا جمود ٹوٹ جاتا ہے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور اربوں روپے کا لین دین ہوتا ہے۔ الغرض، ریڑھی پر چنے بیچنے والے سے لے کر بڑی بڑی فیکٹریز چلانے والے سب ہی عید کے سیزن سے مستفید ہوتے ہیں۔

خاندانوں کو جوڑنے، صلۂ رحمی کرنے اور دل کی کدورتیں صاف کر کے معاف کر دینے کے لیے عید ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ دن پرانی رنجشیں ختم اور جذباتی بوجھ سے آزاد ہو کر نئی شروعات کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ پیچیدہ تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنا سماجی ڈھانچے کو مضبوط بناتا ہے۔ عید ذہنی سکون اور آسودگی کا بھی ذریعہ ہے۔

یہ روزمرّہ کے معمولات نظر انداز کر کے تھکن اُتار نے اور دماغ کو زندگی کی عام پریشانیوں سے ہٹا کر خوشی و شادمانی منانے کا وقت ہے۔ عید کے دن غسل کرنا، نئے یا صاف ستھرے کپڑے پہن کر خوش بُو لگانا، خود انسان میں پاکیزگی، طہارت اور فرحت کا احساس پیدا کر کے شخصیت کو نکھارتا ہے۔ عید پر میسّر تعطیلات، تھوڑے فرصت کے لمحات اور اپنی رفاقت میں آپ گزاری چند گھڑیاں انسان کو تروتازہ کر دیتی ہیں۔ خاندان کے افراد اور دوست احباب سے ملاقات یا دِلوں میں بستے دیارِ غیر میں رہتے عزیزوں سے صرف فون پر گفتگو ہی ذہنی دباؤ اور تناؤ سے نجات دِلا دیتی ہے۔

جدید میڈیکل سائنس بھی تہوار منانے کے جسمانی و ذہنی صحت پر حیرت انگیز فوائد بیان کرتی ہے۔ عید کی تسکین بخش مصروفیات میں دسیوں طرح کے مختلف ہارمونز کا دماغ سے اخراج ہوتا ہے، جو مزاج بہتر بناتے ہیں اور اطمینانِ قلب نصیب ہوتا ہے۔ ہنسنے اور جشن منانے سے جسم کا قدرتی دفاعی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ طبّی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ سماجی طور پر متحرّک رہنے سے بلڈ پریشر اور دل کے امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ 

بڑوں سے دُعائیں لینا یا بچّوں کے ساتھ وقت گزارنا اعصابی نظام( Nervous System) کو سکون دیتا ہے۔ مختصراً، کہا جا سکتا ہے کہ عید پر ہونے والی سماجی سرگرمیاں طولِ عُمر کا سبب بنتی ہیں۔ تہوار منانا انسانی نفسیات پر دور رَس اثرات مرتّب کرتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق، تہوار محض روایتی رسومات نہیں ہوتے، بلکہ یہ ذہنی صحت اور جذباتی استحکام کے لیے ایک تھراپی کا درجہ رکھتے ہیں۔ انسان فطری طور پر سماجی حیوان( social animal) ہے۔ 

عید کے موقعے پر جب لوگ اپنے خاندان، دوستوں اور برادری سے ملتے ہیں، تو ان کے اندر تعلق( belongingness) کا ایک احساس بے دار ہوتا ہے، جو ڈیپریشن اور تنہائی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوتا ہے۔ پھر تہوار بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہیں، جسے نفسیاتی اصطلاح میں ناسٹیلجیا(nostalgia) کہتے ہیں، جو انسان کو اپنی جڑوں اور شناخت سے جوڑے رکھتا ہے۔

یہ تسلسل مشکل وقت میں بھی افراد کو اُمید فراہم کرتا ہے۔ خاص طور پر عید بچّوں میں شخصیت سازی اور نفسیاتی نشوونما میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ عید کی تیاریوں کے سلسلے میں فیملی کی اکٹھے مل کر شاپنگ، دعوتوں کی منصوبہ بندی، گھر کی صفائی اور تزئین و آرائش کے مشوروں میں سب اہلِ خانہ کی شمولیت بزرگوں، والدین اور بچّوں میں تعلق کو مستحکم اور رابطے سہل کر دیتی ہے۔

اس موقعے پر انہیں تفویض کردہ چھوٹے چھوٹے کاموں کی ذمّے داری پوری کرنا نہ صرف اُنہیں حوصلے اور خود انحصاری کی جانب رہنمائی دیتا ہے، بلکہ اُن میں والدین کے دست و بازو بننے کا جذبہ بھی اُبھارتا ہے۔ عید کو دل کش بناتے اِن مشاغل کی نشاط انگیزی اور حَظ صرف وقتی نہیں ہوتا، بلکہ یہ زندگی بَھر کے لیے خوش گوار یادوں کے خزانے جمع کرنے کا نادر موقع ہوتا ہے، جس سے نوجوان غیر محسوس طریقے سے سماجی تعلقات اور میل جول برتنا سیکھ لیتے ہیں۔ حُسنِ سلوک، مہمان داری اور دوسروں کے ساتھ خوشیوں میں شرکت کی اہمیت سمجھ آتی ہے اور وہ عید جیسے تہوار کی مذہبی و ثقافتی پہچان سے جُڑ کر اس سے جذباتی وابستگی پیدا کر لیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں قریبی رشتوں میں بھی لطیف جذبات کا اظہار عام طور پر مفقود ہے، تو ایسے میں اپنوں اور غیروں، چھوٹوں اور بڑوں سے گلے مل کر عید منانا دراصل ایک ری چارج پوائنٹ ہے، جو سب میں توانائی بَھر دیتا ہے۔ خاص طور پر جیون ساتھی کو زیرِ لب مسکراہٹ کے ساتھ عید مبارک کہہ دینا، اِس رشتے کی چاشنی مزید بڑھا دیتا ہے۔ اِس دُعا کے ساتھ کہ یہ عید ہماری حَسین یادوں میں اضافہ کرے، سب قارئین کو عید مبارک۔

سنڈے میگزین سے مزید