• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رابعہ فاطمہ

’’عیدالفطر‘‘ایک ایسا مذہبی و سماجی تہوار ہے، جو ایک ماہ کی روحانی ریاضت کے بعد اجتماعی مسرّت کی صُورت جلوہ گر ہوتا ہے۔ رمضان المبارک کے اختتام پر یہ دن شُکرگزاری، انکسار اور باہمی الفت کا عملی اظہار بن جاتا ہے۔ پاکستان میں عیدالفطر کا تصوّر محض ایک عبادت کے بعد خوشی منانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ تہذیبی شناخت، خاندانی نظام اور معاشرتی اقدار کے استحکام کا ذریعہ بھی ہے۔ 

اِس تہوار کے ذریعے فرد اور معاشرہ، دونوں اپنی دینی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ نمازِ عید کے اجتماعات میں مختلف طبقات کے افراد ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر مساوات کی علامت بن جاتے ہیں۔ پھر عیدالفطر کی تقریبات میں جو تنوّع پایا جاتا ہے، وہ مقامی تاریخ، لسانی شناخت اور معاشی حالات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ 

ہر شہر کی تہذیبی روایت اِس تہوار کو ایک جُداگانہ رنگ عطا کرتی ہے، تاہم اس کے بنیادی دینی عناصر یک ساں رہتے ہیں۔ یہ اشتراک اور اختلاف دراصل قومی وحدت کے اندر تہذیبی تنوّع کی علامت ہے۔

شہری علاقوں میں عیدالفطر کے مظاہر نسبتاً جدید اور تجارتی سرگرمیوں سے متاثر ہوتے ہیں، جب کہ چھوٹے شہروں میں روایت کی سادگی اور خاندانی وابستگی زیادہ نمایاں رہتی ہے۔ اِسی تناظر میں مختلف شہروں کا تقابلی مطالعہ عیدالفطر کی سماجی معنویت کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

عہدِ نبوی ﷺ میں عیدالفطر:

مدینہ منوّرہ میں عیدالفطر کا آغاز اسلامی معاشرت کی تشکیل کے ابتدائی دَور میں ہوا۔ تاریخی روایات کے مطابق دوسری ہجری میں پہلی عیدالفطر منائی گئی۔ اِس موقعے پر نبی کریم ﷺ نے اہلِ مدینہ کو زمانۂ جاہلیت کے تہواروں کے بدلے دو اسلامی عیدیں عطا ہونے کی خوش خبری سُنائی۔ اِس اِعلان میں تہذیبی اصلاح کا پہلو نمایاں تھا کہ یہ محض مذہبی تبدیلی نہیں، سماجی اقدار کی ازسرِ نو تشکیل تھی۔

عید کی نماز کُھلے میدان میں ادا کی جاتی تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد شریک ہو سکیں۔ عورتوں اور بچّوں کو بھی شرکت کی ترغیب دی گئی، جو اُس اجتماعیت کی علامت ہے، جو اسلامی تہذیب کا بنیادی وصف ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں عید کے دن خوشی، صفائی، بہترین لباس اور خوش بُو کا استعمال مستحب قرار دیا گیا۔

یہ ہدایات اِس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اسلام روحانیت کو جمالیات سے جُدا نہیں کرتا۔ صدقۂ فطر کو نماز سے پہلے ادا کرنے کی تاکید کی گئی تاکہ معاشرے کا کم زور طبقہ بھی خوشی میں شریک ہو سکے۔ 

عید کے خطبے میں تقویٰ، اخوّت اور سماجی ذمّے داری کی تلقین کی جاتی تھی۔ اِس طرح عہدِ نبوی میں عیدالفطر عبادت، تہذیب اور سماج کے باہمی ربط کی واضح مثال بن گئی۔ یہ بنیاد بعد کے ادوار میں اسلامی تہذیب کی تشکیل کا اہم ستون ثابت ہوئی۔

خلافتِ راشدہ اور بعد کے ادوار میں عید:

خلافتِ راشدہ میں عیدالفطر کی نوعیت کو اگر سماجی نظریے کی روشنی میں دیکھا جائے، تو یہ محض ایک مذہبی اجتماع نہیں، بلکہ اجتماعی شعور کی تشکیل کا ذریعہ تھی۔ ایمل دور کائم کے مطابق، مذہبی تہوار معاشرے میں’’Collective Effervescence‘‘ پیدا کرتے ہیں، یعنی ایسا جذبۂ اجتماع، جو فرد کو اپنی ذات سے بلند کر کے اجتماعی وحدت کا حصّہ بنا دیتا ہے۔ 

خلافتِ صدیقیؓ و فاروقیؓ میں عید کے اجتماعات اِسی اجتماعی جذبے کا عملی اظہار تھے۔ نمازِ عید میں امیر و غریب کی یک ساں شرکت اور صدقۂ فطر کی لازمی ادائی نے طبقاتی تفاوت کم کر کے معاشرتی ہم آہنگی کو تقویت دی۔ اِس تناظر میں عید ایک ایسا سماجی میکانزم تھی، جو ریاستی نظم اور اخلاقی شعور کو مضبوط کرتی تھی۔

حضرت عُمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دَور میں جب ریاستی ادارے مضبوط ہوئے، تو عید کو بھی انتظامی اور فلاحی نظام کے ساتھ مربوط کیا گیا۔ ابنِ خلدون کے نظریۂ عصبیت کے مطابق، کسی بھی ریاست کی بقا اجتماعی ہم آہنگی اور باہمی وابستگی پر منحصر ہوتی ہے۔ 

عید کے اجتماعات اِس عصبیت کو مذہبی تقدّس عطا کرتے تھے، جب کہ Ira M. Lapidus اسلامی معاشرت میں عید کے تاریخی ارتقاء، سیاسی، سماجی اور تہذیبی پہلوؤں کا تجزیاتی مطالعہ فراہم کرتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ نہ صرف مذہبی فریضہ ہے، بلکہ ایک منظّم سماجی اور تہذیبی عمل بھی ہے۔ 

اموی اور عباسی ادوار میں عیدالفطر نے شہری تہذیب کے فروغ کے ساتھ نئی جہت اختیار کی۔ دارالحکومتوں میں عید کے موقعے پر عوامی اجتماعات اور شاہی خطبات سیاسی اقتدار کی علامت تھے۔ خلیفہ کا عوام سے خطاب اور خیرات کی تقسیم سیاسی و اخلاقی قیادت کے اظہار کا ذریعہ بنتی تھی۔ اس مرحلے پر عید مذہب، سیاست اور شہری تہذیب کے باہمی تعامل کی علامت بن گئی۔ اندلس، فاطمی مصر اور عثمانی سلطنت میں عید نے تہذیبی تنوّع کے باوجود مذہبی وحدت برقرار رکھی۔

عثمانی سلطنت میں ”بایرام“ ریاستی سطح پر منظّم تہوار تھا، جس میں سلطان عوام کے ساتھ نماز ادا کرتا اور یہ عمل سیاسی و مذہبی قیادت کے اتصال کو ظاہر کرتا تھا۔ یہاں عید ریاستی وقار، مذہبی شعور اور ثقافتی جمالیات کا مشترکہ مظہر بن گئی۔ نوآبادیاتی اور جدید قومی ریاست کے ادوار میں عیدالفطر نے ایک نئی معنویت اختیار کی۔ 

سیاسی اقتدار کی تبدیلی کے باوجود عید مسلمانوں کی ثقافتی شناخت اور مذہبی خودی کا ذریعہ بنی رہی۔ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں عید قومی اجتماع اور یک جہتی کی علامت ہے۔ جدید ریاست میں سرکاری اعلانات، میڈیا نشریات اور اجتماعات اِس امر کا ثبوت ہیں کہ عید اب بھی نظم و صبط، تہذیبی تسلسل اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ ہے۔

اسلامی ثقافت میں عیدالفطر:

اسلامی ثقافت میں عیدالفطر کے سماجی رنگ مذہبی اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ مرصّع ہیں اور یہ تہوار معاشرتی ہم آہنگی، خیرات اور اخلاقی تربیت کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ صدقۂ فطر معاشرتی مساوات اور کم زور طبقے کی حمایت کا عملی اظہار ہے۔ اسلامی ثقافت میں عید کی تقریبات میں خاندانی رابطے، رشتے داری کی تجدید اور بزرگوں کی عزّت و احترام کے اصول نمایاں ہوتے ہیں، جو معاشرتی ڈھانچے کی مضبوطی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ 

عید کے دن لباس، صفائی اور کھانے کے رواج بھی سماجی اظہار کا حصّہ ہیں۔ ہر علاقے اور معاشرت میں عید کے یہ مظاہر مقامی ثقافت کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر برّ ِعظیم میں شیر خرما، حلوا پوری اور مخصوص پکوان عید کی پہچان ہیں، جب کہ عرب دنیا میں کھجور اور قہوے کے ذریعے خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔ بچّوں کو عیدی دینا، رشتے داروں سے ملاقات اور بزرگوں سے دُعائیں لینا محض رسمی عمل نہیں، اخلاقی اصولوں اور اجتماعی رشتوں کی تربیت کا ذریعہ بھی ہے۔

یہ عمل نسلوں کے درمیان اقدار اور تہذیبی روایت کی منتقلی کو یقینی بناتا ہے۔ معاشرتی سطح پر عیدالفطر ایک ایسا موقع ہے، جب طبقاتی، اقتصادی اور نسلی اختلافات کم زور پڑ جاتے ہیں۔ شادی بیاہ، ولادت یا دیگر سماجی تقریبات کے مقابلے میں عید زیادہ اجتماعی اور ہمہ گیر ہے۔

یہ اجتماعی تجربہ سماجی ہم آہنگی اور اخلاقی شعور کی مضبوطی کا ذریعہ بنتا ہے، جس سے معاشرت میں اخلاقی اور تہذیبی استحکام قائم رہتا ہے۔ مختلف مسلم معاشروں میں اِس کے اظہار کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن بنیادی رُوح، مساوات اور اخوّت کی تعلیم ہر جگہ یک ساں رہتی ہے، جس سے عید ایک عالم گیر تہذیبی اور سماجی ادارہ کے طور پر موجود ہے۔

برّ ِعظیم میں عیدالفطر:

ہمارے خطّے میں عیدالفطر کی تہذیبی روایت صدیوں پر محیط ہے اور اس میں مغلیہ دَور سے لے کر نوآبادیاتی دَور تک کے سماجی اور ثقافتی اثرات شامل ہیں۔ مغلیہ سلطنت میں عید کے دن دربار میں خصوصی جلوس، خطبات اور دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا تھا، جب کہ عوامی سطح پر مساجد میں نمازِ عید کے اجتماعات ہوتے۔

اِس دوران عید کے موقعے پر شیر خرما، حلوا پوری اور مخصوص روایتی کھانے عوامی اور درباری ثقافت کے امتزاج کی علامت بن گئے۔ نوآبادیاتی دَور میں عید کی رسومات پر برطانوی انتظامیہ کا اثر محسوس کیا گیا، مگر اس کے باوجود عید کے سماجی اور مذہبی پہلو برقرار رہے۔ اِس دوران مسلمان آبادی نے عید کو اپنی شناخت اور ثقافتی وحدت کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ 

چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں خاندانی اجتماعات، بزرگوں کی تعظیم اور صدقۂ فطر کی ادائی جاری رہی، جب کہ شہری مراکز میں بازاروں میں خریداری، نئے ملبوسات اور تہذیبی تقریبات نے عید کو معاشرتی سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل کر دیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد عیدالفطر نے قومی شناخت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔

مختلف صوبوں اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے لوگ ایک ہی دن خوشی مناتے ہیں اور ایک دوسرے سے عیدی، تحائف اور دُعائیں وصول کرتے ہیں۔ اِس سے نہ صرف خاندانی اور سماجی روابط مضبوط ہوتے ہیں، بلکہ قومی وحدت اور تہذیبی اشتراک کی تصویر بھی واضح ہوتی ہے۔ میڈیا اور تجارتی مراکز نے عید کے مظاہر کو مزید عوامی اور وسیع پیمانے پر قابلِ رسائی بنایا، جس سے یہ تہوار ہر شہری اور دیہی گھرانے تک پہنچ سکا۔

برّ ِعظیم میں عید کی رسومات مقامی ثقافت کے مطابق رنگ بدلتی رہیں، لیکن بنیادی مذہبی اصول اور اخلاقی تعلیمات ہر جگہ یک ساں رہیں۔ بازاروں کی گہما گہمی، روایتی پکوان، لباس اور مہمان نوازی کے مظاہر مقامی تہذیب اور معاشرتی اقدار کے امتزاج کا عملی مظہر ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عید صرف مذہبی دن نہیں بلکہ ایک تہذیبی ادارہ ہے، جو نسلوں کے درمیان ثقافت، اخلاق اور مذہبی شعور منتقل کرتا ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں عیدالفطر:

پاکستان کے شہروں میں عیدالفطر کی رسومات تاریخی، ثقافتی اور سماجی عوامل سے متاثر ہیں اور ہر شہر اپنے مخصوص ماحول میں اس تہوار کو مناتا ہے۔ لاہور میں عید کی تیاری میں تاریخی بازاروں، کھانوں اور ملبوسات کا خصوصی کردار ہے، جب کہ گھر کی صفائی اور آرائش تہذیبی روایت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہاں کی عید کی تقریبات میں ثقافتی رنگ، خاندانی رابطے اور روایتی پکوانوں کی اہمیت زیادہ نمایاں ہے۔

کراچی میں عیدالفطر کی تقریبات شہری اور کثیرالثقافتی زندگی کے اثرات سے متاثر ہیں۔ یہاں مختلف صوبوں اور قومیتوں کے لوگ اپنی اپنی روایات کے مطابق عید مناتے ہیں، جس سے ایک ہمہ جہت تہذیبی منظرنامہ تشکیل پاتا ہے۔ نمازِ عید کے اجتماعات بڑے اور متنوّع ہوتے ہیں، جب کہ بازاروں میں تجارتی سرگرمیاں شہر کے جدید طرزِ زندگی کا عکس پیش کرتی ہیں۔ 

کراچی میں عید کا جشن جدیدیت اور روایت کے امتزاج کی بہترین مثال ہے، جہاں مقامی ثقافت کے ساتھ عالمی رجحانات بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ پشاور میں عید کی تقریبات قبائلی اقدار اور مذہبی روایات کے ساتھ منائی جاتی ہیں۔ چاند رات پر بازاروں میں سرگرمی نسبتاً محدود، مگر معقول ہوتی ہے، جب کہ خاندانی حلقوں میں خریداری اور تیاری مکمل کی جاتی ہے۔

گھر میں روایتی کھانے اور مہمان نوازی کی روایت مضبوط ہے۔ کوئٹہ میں عیدالفطر بلوچ اور پشتون ثقافت کے اثرات کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ یہاں چاند رات اور نمازِ عید میں سادگی، وقار اور قبائلی ہم آہنگی غالب رہتی ہے۔ مقامی پکوان، اجتماعی کھانے اور عیدی دینے کی روایات نسلوں کے درمیان تعلق اور ثقافتی شناخت برقرار رکھتی ہیں۔ 

اسلام آباد میں عیدالفطر نسبتاً منظّم، پُرسکون اور شہری طرزِ زندگی کے مطابق منائی جاتی ہے۔ چوں کہ دارالحکومت میں مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں، اِس لیے یہاں عید کا تجربہ مخلوط ثقافتی ماحول میں ہوتا ہے۔ نمازِ عید کے اجتماعات منظّم اور باقاعدہ انتظامات کے ساتھ منعقد ہوتے ہیں، جب کہ خاندانی میل جول قدرے محدود ہوتا ہے۔

عصرِ حاضر میں عید الفطر:

عصرِ حاضر میں عیدالفطر کی رسومات میں شہر اور دیہات کے درمیان فرق بڑھ گیا ہے اور یہ فرق جدید شہری طرزِ زندگی، تجارتی اثرات اور سوشل میڈیا کے اثرات سے وابستہ ہے۔ شہری علاقوں میں عید کی تیاریوں میں مارکیٹ کے تجارتی رجحانات غالب ہیں، جیسے نئے کپڑے، تحائف اور ڈیجیٹل شاپنگ، جو اس تہوار کو ایک صارفیت(Consumerism) کی شکل دینے لگے ہیں۔ 

تاہم، دیہات میں سادگی اور خاندانی وابستگی اب بھی برقرار ہے۔ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ جدیدیت نے تہذیبی اور مذہبی پہلوؤں پر اثر تو ڈالا ہے، مگر بنیادی روح، یعنی عبادت اور اخلاقی تربیت، برقرار ہے۔ سوشل میڈیا نے عید کی رسومات کی خصوصیات کو عالمی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ لوگ اپنے عید کے لمحات، تصاویر، تحائف اور روایتی پکوان آن لائن شیئر کرتے ہیں، جس سے مقامی ثقافت کی تشہیر ہوتی ہے اور نوجوان نسل میں عید کی معنویت کو نئی جہت ملتی ہے۔ 

تاہم یہ رجحان بعض اوقات تہذیبی اور مذہبی اصل سے انحراف بھی پیدا کرتا ہے، جیسے عید کو صرف دکھاوا یا تفریح تک محدود کر دینا۔ یہ صُورتِ حال معاشرتی تجزیہ کاروں کے لیے ایک چیلنج ہے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی اور تہذیب کے روایتی اصولوں کو متوازن کیا جائے۔ ڈیجیٹل عید کے دوران خیرات، عیدی اور سماجی روابط بھی آن لائن منتقل ہو رہے ہیں۔

بینک ٹرانزیکشن اور موبائل والٹس کے ذریعے صدقۂ فطر اور عیدی دینے کی روایات کو جدید شکل دی جا رہی ہے، جس سے سماجی انصاف اور معاشرتی ذمّے داری کی اقدار برقرار رہتی ہیں۔ اس کے باوجود، یہ عمل حقیقی رشتوں اور خاندانی رابطوں کے متبادل نہیں بن سکتا، کیوں کہ عید کی تہذیبی اور اخلاقی تربیت جسمانی اجتماعات اور شخصی تعلقات کے ذریعے مضبوط ہوتی ہے۔

عصرِ حاضر میں عیدالفطر نہ صرف ایک مذہبی فریضہ ہے، بلکہ ایک زندہ سماجی اور تہذیبی روایت کے طور پر بھی اپنی اہمیت برقرار رکھتی ہے۔ جدید دَور میں عید کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیوں کہ یہ نوجوان نسل کے لیے ایک عملی تربیتی فریم ورک کے طور پر کام کرتی ہے۔ 

سوشل میڈیا اور عالمی رابطوں کے ذریعے مبارک بادیں اور اجتماعی سرگرمیاں نوجوانوں کو وسیع مسلم دنیا کے تجربات سے جوڑتی ہیں اور عید کی اجتماعی خوشی کی روایت زندہ رکھتی ہیں۔ تاہم، اِس سب کے بیچ، عید کی بنیادی رُوح یعنی عبادت، شُکرگزاری اور باہمی تعلق برقرار رہتی ہے۔ یوں عیدالفطر عصر حاضر میں ایک ہمہ جہت تہذیبی اور سماجی روایت بن گئی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید