مدوّن و مرتب: عرفان جاوید
(بلال حسن منٹو)
اُنہوں نے اس پر روشنی نہ ڈالی اور بس عمران خان والا جھوٹا قصّہ بتا کے اُن خواتین کو اپنے گھر سے فوراً نکل جانے کے لیے کہا اور جب یہ دونوں جلدی جلدی اُس گھر سے باہر نکل رہی تھیں تو پیچھے سے چلّا کر یہ بھی کہا کہ پہلے تو مَیں یہ پتا چلاؤں گی کہ اِس اختر سلطانہ کے بیٹے کے دماغ میں یہ بات آئی کس طرح اور اِسے میری بیٹیوں کی ہوا لگی کیسے اور اگر مجھے پتا چلا کہ میری سخت تربیت کے باوجود اِس معاملے میں میری بیٹیوں کا کوئی ہاتھ ہے، تو میں اُن کے پرخچے اُڑا دوں گی۔
ہوسکتا ہے کہ وہ کپتان فراز کے پرخچے بھی اُڑانا چاہتیں مگر وہ فوجی تھا اور فوج اسلحے سے لیس ایک بہت طاقت وَر ادارہ ہے، اور چوں کہ وہ ایک چالاک عورت تھیں، تو یہ بات خُوب سمجھتی تھیں، اِس لیے ایسا کچھ نہیں کہا۔ بہرحال، یہ بات طےتھی کہ آنے والا وقت فری، پری کے لیے بہت ہی کڑا تھا۔ ہم یہ کہانی سُنتے جاتے تھے اور دَم بخود تھےکہ اِس درجہ دیوانی ایک عورت ہمارے گھر کےعین ساتھ رہتی ہے۔ ابّا کے پاس ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہنے کو ہوتا تھا، مگر وہ بھی خاموش تھے۔
تھوڑی دیر بعد اُنھوں نے صرف یہ کہا کہ’’میرا خیال ہے کہ اِس کا خاوند اس کو چھوڑ کے بھاگا ہوگا۔‘‘ یہ اُنھوں نے اس لیے کہا تھا کہ آپا صغراں نے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ اُن کا شوہر ایک نہایت بدذات آدمی تھا، اس لیےاُنھوں نے اُسے چھوڑ دیا۔ کبھی اُنھوں نے کسی کو یہ نہیں بتایا تھا کہ اُن کے میاں نے کیا بدذاتی کی تھی اور اب یہ بات صاف ہوچلی تھی کہ اصل بدذات صرف وہ تھیں، بلکہ دنیا نے ابھی واقعہ پورا بیان ہی کیا تھا کہ اخترآنٹی کا فون آگیا۔
وہ رو رہی تھیں۔ امّی نے کہا کہ ایسی خبیث عورت، جو ذہنی طور پر بیمار ہے، اس کی باتوں پررونا نہیں چاہیے۔ مگر آنٹی نے کہا کہ اُنھیں شدیداحساسِ ذلت ہورہا ہے۔ امّی نے کہا کہ باجی دیکھیں، مَیں بھی آپ کے ساتھ گئی تھی اوراُس نےمیری بھی تو کتنی بےعزتی کی، مگر مَیں رونہیں رہی، کیوں کہ مَیں یہ بات سمجھ چُکی ہوں کہ وہ عورت پاگل ہے۔ اختر آنٹی نے کہا کہ ہاں آپ گئی تھیں اور آپ کی بھی اُس نے بےعزتی کی، جس کی وجہ سے مَیں آپ سے شرمندہ ہوں، کیوں کہ آپ کو وہاں میرے کہنے پرجانا پڑا، مگر مجھےآپ سے زیادہ احساسِ ذلت ہےکہ آخررشتہ میرے بیٹے کا تھا۔
گو بات شاید صحیح تھی، مگر مجھے محسوس ہوا کہ وہ امی سے جیتنا چاہ رہی ہیں کہ جی نہیں، میری ذلت آپ سے زیادہ ہوئی ہے اور ساتھ ہی اپنے رونے کا جواز بھی پیش کررہی ہیں، تاکہ امّی اُن کا مذاق نہ اُڑائیں۔ اختر آنٹی نے کچھ دیر بعد امّی کو یہ بھی بتایا کہ اُنھوں نے فرازکوفون کرکے تمام واقعہ بتادیا ہےاور وہ غصّے سے دیوانہ ہورہا ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ فراز نے کہا ہے کہ اب مَیں اس عورت کو مزہ چکھاؤں گا۔ یہ بات اُس وقت واضح نہ ہوئی، کیوں کہ اخترآنٹی خُود بھی نہیں جانتی تھیں کہ فراز کس طرح آپا صغراں کو مزہ چکھائے گا، مگر کسی شک وشبے کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ ایسا کر سکتا تھا۔ وہ بہرحال فوجی تھا اوراُس کی پہنچ اوپر تک تھی، جب کہ ایک بار نوید بھائی کو پولیس کے چنگل سے چُھڑوا کروہ یہ بات ثابت بھی کرچُکا تھا۔
کچھ دن بعد اخترآنٹی نےامّی کو پھرفون کیا اور رونے لگیں۔ امّی نےکہا کہ اخترآپا! چھوڑو، جو ہوا، سو ہوا بلکہ آپ کو خوش ہونا چاہیے کہ ایسی جگہ رشتہ نہ ہوسکا، ورنہ آپ تمام عُمر روتی رہتیں۔ اِس پر اختر آنٹی نے کہا کہ وہ اپنی اُس ذلّت پرنہیں رو رہیں، جو آپاصغراں کے ہاتھ اُٹھانا پڑی بلکہ اُس ذلّت پہ رورہی ہیں، جو اُنھیں اِس واقعے کے بعد اپنے بیٹے کے ہاتھ اُٹھانا پڑی ہے۔ اُنھوں نےبتایا کہ کپتان فراز نے اس واقعے کے اگلے ہی دن آپا صغراں کےگھرفون کیا اور اُنھیں ڈرایا دھمکایا۔
اُنھیں کہا کہ وہ اُنھیں سیدھا کردےگا، اگراُنھوں نےفری، پری میں سے ایک کےلیےاُس کا رشتہ قبول نہ کیا۔ امّی بہت حیران ہوئیں اور کہا کہ ہاں، یہ تو بڑی ذلّت کی بات ہے کہ اُس عورت نےجو سلوک آپ کےساتھ کیا، اُس کےبعد بھی فراز نے اُس کی بیٹی سے شادی کی ضد کی۔ اختر آنٹی کو امّی کا یہ کہنا پسند نہ آیا کہ ذلّت صرف اُن کی ہوئی تھی، جب کہ امّی بھی اُن کے ساتھ گئی تھیں اور اُنھیں بھی آپا صغراں نےاُسی طرح گھر سے نکالا تھا۔
سو، اُنھوں نے کہا کہ ’’اور تمہاری بےعزتی کیا کم ہوئی تھی ندرت؟ رشتے کی بات تو تمہی نے کی تھی۔‘‘ کہ جیسے امّی نوید بھائی کا یا میرا رشتہ مانگنے گئی ہوں۔ خیر، امّی نے اِس بات پر کوئی ردِعمل ظاہر نہ کیا، کیوں کہ اخترآنٹی بڑی دل گرفتہ تھیں اور ویسے بھی امّی تفصیلات جاننےکی زیادہ خواہاں تھیں کہ ٹھیک کس طرح فراز نےاختر آنٹی کی مزید ذلّت کا موقع پیدا کیا تھا۔ اختر آنٹی نے بتایا کہ جب فراز نے آپا صغراں کو فون کیا تو اُنہوں نےاُسے بہت موٹی موٹی گالیاں دیں، ایسی کہ جن کو بیان کرنا ناممکن ہے۔
گوکہ سب اُن کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ کیسی گالیاں ہوتی ہیں۔ تو بس وہی گالیاں دیں اور فون بند کر دیا۔ تو بس، اُسی ٹیلی فون کےبعد فرازنےاپنےہاتھ لمبے کرنے شروع کیے اور پھرجوتفصیلات پردۂ شہود پرآئیں، وہ ایسی گھناؤنی ہیں کہ سُن کرسب نےدانتوں تلے انگلیاں دبا لیں۔ یہ تفصیلات کپتان فراز نے ٹیلی فون کرکے آپا صغراں کو بتائیں اور پوچھا کہ وہ اب کہاں جا کے چُھپیں گی؟ یہ بھی کہا کہ وہ اِن تفصیلات کی روشنی میں عن قریب اُنھیں مزہ چکھانے والا ہے۔
پہلی بات جو پتا چلی وہ یہ تھی کہ آپا صغراں کا پیدائشی نام آسیہ فرید تھا اور وہ کسی فرید احمد کی بیٹی ہوا کرتی تھیں، جو راول پنڈی میں رہتے تھے۔ دوسری بات یہ پتاچلی کہ اُن کےبےچارے باپ نےاُنھیں ڈاکٹری کی تعلیم کے لیے لاہور میں لڑکیوں کے میڈیکل کالج میں داخل کروایا تھا، جہاں وہ ہاسٹل میں رہ کر ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرتی تھیں۔
چوں کہ وہ کوئی بےوقوف لڑکی نہیں تھیں، اِس لیے چارسال تو باقاعدہ کالج کے امتحان پاس کرتی رہیں، مگرآخری عرصےمیں، جب پڑھائی مزید سخت ہوئی اور اسپتال میں بھی کام کرنا پڑا، تو اُن کی طبیعت اس بکواس سے اچاٹ ہوگئی اور وہ امتحانوں میں فیل ہونے لگیں۔ ویسے بھی ان کے مزاج میں یہ داخل نہ تھا کہ وہ محنت اور حق حلال جیسی چیزوں پر زیادہ توجّہ دیتیں۔
اُنہوں نے کالج کے امتحان میں اپنا پیہم فیل ہونا گھر والوں سے چُھپائے رکھا، حتیٰ کہ ایک روز کالج والوں نے اُن کی طالب علمی کا دَورختم کیا اور اُنھیں کالج سے نکال دیا۔ اُنھوں نے یہ بات بھی اپنے گھروالوں کو نہ بتائی اور اُسی طرح لاہور میں رہتی رہیں کہ جیسے کالج کی طالبہ ہوں۔
کالج والوں نے ظاہر ہےکہ ہاسٹل سے بھی نکل جانےکا کہا ہوگا، تواس اثناء وہ کہاں رہیں، یہ ہم نہیں جانتے۔ ہو سکتا ہے، کرائے پر کہیں رہی ہوں یا کالج ہی میں کسی سہیلی سے کہا ہو کہ مجھے اپنے کمرے میں کچھ عرصہ رہنے دو یا شاید کوئی غم ناک، جھوٹی کہانی سُنا کر کالج والوں سے کہا ہو کہ مجھے کچھ عرصہ مزید ہاسٹل میں رہنے دو۔
بہرحال،یہ قیاس آرائیاں ہیں، کیوں کہ یہ تفصیل اختر آنٹی نے ہمیں فراہم نہ کی تھی۔ اس اثناء، جب وہ کالج کی طالبِ علم نہیں رہی تھیں، وہ روز کیا کرتی تھیں، کہاں جاتی تھیں اور اپنا وقت کیسے گزارتی تھیں، یہ بھی ہم نہیں جانتے، مگر یہ ضرور معلوم ہوا کہ اسی دوران اُن کی ملاقات مزمل صاحب سےہوئی، جن سے بعد میں انھوں نے شادی کرلی۔
یہ شادی پسند کی تھی، مگر اُنھوں نے اپنے گھروالوں سےچُھپائے رکھا کہ وہ پہلےسے مزمل صاحب کو جانتی ہیں اور مزمل سے کہا کہ وہ باقاعدہ اُن کے لیے رشتہ لے کر راول پنڈی آئیں۔ ایک توشاید یہ اس لیے چُھپائے رکھا کہ ہمارے ہاں یہ بات سخت معیوب سمجھی جاتی ہے کہ کوئی لڑکی خُود کسی لڑکے سے مِلے جُلے اور پھرکہے کہ مَیں اِسی سے شادی کروں گی۔
اگر کبھی ایسا ہوبھی جائے تو عام طور پہ لوگ ششدر رہ جاتے ہیں اور کئی بار تو ایسی لڑکیوں کو قتل بھی کردیتے ہیں۔ ہلاک نہ بھی کریں، تو یہ تو کہتے ہی ہیں کہ ایسی بات کرنے سے پہلے تو ڈوب کیوں نہ مَری یازمین پھٹ کیوں نہیں جاتی اور تُو اس میں سما کیوں نہیں جاتی۔
دوسری وجہ شاید یہ ہوگی کہ پھریہ بھی بتانا پڑتا کہ اگر وہ ڈاکٹری کی سخت تعلیم حاصل کر رہی تھیں، روزکالج جاتی، کالج سے واپس سیدھی ہاسٹل آتی تھیں، دَم مارنے تک کی فرصت نہ تھی، تو محکمہ ریلوے کےبےچارے مزمل سے اُن کی ملاقات کیسے ہوئی؟ کسی ریل گاڑی پر؟
جوں جوں کالج کا آخری سال ختم ہو رہا تھا، آسیہ کی بےچینی بڑھتی جارہی تھی، کیوں کہ یہ راز بالآخر کُھلنا تھا کہ وہ ڈاکٹرنی نہیں بن سکی، ساتھ ہی یہ راز بھی کُھل جانا تھا کہ وہ تو کچھ ماہ سے کالج جاتی ہی نہیں۔ جب وہ مستقبل کی فکروں میں ڈوبی ہوئی تھیں، تی ہی اُن کے حق میں ایک کرامت ہوگئی، جو اُن کی آنے والی زندگی اور اب تک کےحالات کا پیش خیمہ بنی۔ اُنھوں نے اخبار میں ایک خبر پڑھی اور اُن کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
اُن کی آنکھیں اِس لیے نہیں چمکیں کہ ایک بےچاری لڑکی، جس کا نام صغراں تھا اور جو اُسی میڈیکل کالج میں اُن سے دو جماعتیں آگے رہی تھی، بس میں سوار اپنے گھر گوجرانوالہ جاتے ہوئے ایک حادثے میں ماری گئی تھی۔ اس بات پہ تو ممکن ہے، اُنھیں خبر پڑھتے کچھ نہ کچھ افسوس ہی ہوا ہو کہ جی۔ ٹی روڈ پر جہلم کے نزدیک سامنے جاتے ہوئے ٹرک میں لدے سریےکی سلاخوں میں سے ایک اُس بےچاری کے سینےکے آرپار ہوگئی تھی اور وہ موقعے ہی پہ دَم توڑ گئی۔
مگر چمک تو اُن کی آنکھوں میں یقیناً آئی تھی، اِس لیے کہ اخبار میں لکھا تھا کہ بےچاری متوفی صغراں کے بد نصیب والد کا نام بھی فرید احمد تھا۔ آپا صغراں ایسےغیبی اشارے، غیبی مدد کو ضائع کرنے والوں میں سے نہ تھیں۔ سیدھے سادے ماں باپ اور سیدھے سادے محکمہ ریلوے کے مزمل صاحب کو اپنا نام آسیہ سے صغراں تبدیل کرنے کی یہ وجہ بتانا کافی تھا کہ ایک بہت قابل نجومی نےمشورہ دیا ہےکہ تمہیں تمہارا موجودہ نام راس نہیں۔ تم کوئی ایسا نام رکھو، جو حرف ’’ص‘‘ سے شروع ہوتا ہو۔
صغراں فرید ولد فرید احمد کا نیا شناختی کارڈ بنانا کچھ مشکل نہیں تھا اوراِسی طرح یونی ورسٹی سےجھوٹی سچّی خط و کتابت کرکے ڈگری گم جانے کا بہانہ کر کے صغراں فرید کے نام کی ڈگری کی ڈپلیکیٹ کاپی جاری کروانا بھی مشکل نہیں تھا۔ چوں کہ وہ پنڈی میں رہتی تھیں، اس لیےتقسیمِ اسناد کے جلسے پر لاہور جانا بھی کوئی بہت ضروری نہیں تھا۔
صرف اتنا مسئلہ رہ جاتا کہ بعد میں سند پر ''Duplicate'' لکھا دیکھ کرکبھی کوئی پوچھ بیٹھتا کہ یہ کیا ہے، ’’ڈپلیکیٹ‘‘ کیوں لکھا ہے، اصل ڈگری کہاں گئی؟ ایسا ہو بھی جاتا تو یہ کہناآسان تھا کہ چوں کہ مَیں نے بیماری کےسبب جلسے میں جا کر سند نہیں لی تھی،تووہ وہیں کہیں گم ہوگئی اوراب یہ اُس کی نقل بنوانا پڑی ہے۔
یوں بھی، بھلا کون ڈگریاں دیکھنے کے چکروں میں پڑتا ہے؟ آپ کہہ دیں کہ مَیں پاس ہوگئی ہوں، تو عام طور پہ تو لوگ مان ہی لیتے ہیں۔ مزمل صاحب سے شادی کے بعد آپا صغراں نے پہلے تو پنڈی کے ایک پرائیویٹ کلینک میں کچھ عرصہ کام سیکھا اور پھر پنڈی کے راجا بازار کی ایک گلی میں اپنا کلینک کھول لیا۔
وہ کیا کلینک تھا، آپا صغراں کیا خدمات انجام دیتی تھیں، ایسی تفصیلات ہیں، جو مجھے بہت دیر میں سمجھ آئیں۔ باقی تفصیلات کا ذکر تو امّی نے میرے سامنے ابّا کے گوش گزار کیا تھا، مگر یہ بات کہ اُس کلینک میں کیا کام ہوتا تھا، میرے سامنے نہ کی گئی اور کربھی دیتیں تو مجھے کچھ خاص پتا نہ چلتا، کیوں کہ تب تک مجھے اِن معاملات کا کوئی علم ہی نہیں تھا کہ انسان اور جانور اپنے چھوٹے چھوٹے بچّےکس طرح ایجاد کرتےہیں اوریہ کہ کوئی ایسے حالات بھی ہو سکتے ہیں کہ کسی بچّےکا پیدا ہونا ناگزیر ہو جائے۔
’’آپ سمجھ جائیں ناں۔‘‘ امّی نے ابّا سے کہا۔ ’’یہ ’’وہ‘‘ کام کرتی تھی۔‘‘ ابّا تو فوراً تمام بات سمجھ گئے اور چوں کہ مَیں وہیں موجود تھا، اِس لیے اُنھوں نے امّی کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ میرا خیال ہے کہ اگر نوید بھائی وہاں موجود ہوتے تو وہ بھی سمجھ جاتے، کیوں کہ وہ بہت ہوش یارتھےاوردنیاکےمعاملات کا کافی علم رکھتے تھے۔
لوگ آپا صغراں کے بارے میں جوبھی کہیں، اُن کےخلاف جیسی مرضی باتیں کریں، اُن پر جتنا بھی کیچڑاچھالیں، مَیں نےجو بھی تفصیلات سُنیں، اُن کی بناء پرمَیں ان کی چالاکی اور اعلیٰ عقلی کابہت قائل ہوا اور دل ہی دل میں ہراِک بات پر بار بار آفرین کہا۔ یہ سچ ہے کہ اِس تمام کام میں بےچاری اصل صغراں فرید کی بروقت موت اُن کی مددگار رہی تھی، مگرایسا خیال اور ایسا حیرت انگیز منصوبہ ذہن میں آنا کیا بےحد اعلیٰ عقلی کا ثبوت نہیں تھا؟ پھر یہ بھی کہ اُنھوں نےنہایت کام یابی سے اپنا کلینک چلایا اور کافی عرصہ چلایا۔
اگر بدقسمتی سے وہ ایک عورت اُن کے کلینک میں اُن کے ہاتھوں ہلاک نہ ہوتی، وہ ایک عورت، جس کےہلاک ہونے کی خبراُن کے کلینک پر صفائی کا کام کرنے والی ایک نمک حرام ملازمہ نے پولیس کودے دی، تو آپا صغراں کو اپنی بیٹیوں کو لے کر رُوپوش ہونا اور نقل مکانی کرکے لاہورنہ آنا پڑتا؟ کیا یہ زبردست عورت ابھی تک پنڈی کے راجا بازار میں اپنا کلینک پوری کام یابی سے چلائےنہ جا رہی ہوتی؟
اور وہ عورت، جس کی قسمت میں موت لکھی تھی، اگر اُن کے ہاتھوں ہلاک نہ ہوتی تو مزمل صاحب کو آپا صغراں کے کاروبار کے بارے میں بھلا کچھ بھی کیوں معلوم پڑتا اور وہ کیوں اس قدر گھبرا کر فوراً اُن کو طلاق دیتے۔ کپتان فراز نے یہ سب تفصیل ٹیلی فون پر آپا صغراں کے گوش گزار کی اور کہا کہ ذلیل اور بدتمیز عورت، تو دیکھتی جا، اب مَیں تیرے ساتھ کرتا کیا ہوں۔
بس، یہی کپتان فراز کی غلطی تھی، جس کی وجہ سے اُسے منہ کی کھانا پڑی، کیوں کہ آپا صغراں جیسی زبردست عورتیں کبھی کسی بدقسمتی کی وجہ سے مصیبت میں پھنس جائیں تو پھنس جائیں، ورنہ ایک کپتان فراز کیا، پانچ براعظموں کے تمام ممالک کی تمام افواج بھی اکٹھی ہوجائیں، تو اُن کی صلاحیتوں کے آگے بےبس ہیں۔
اگلی صبح جب ہم اُٹھے تو اسماعیل نے بتایا کہ آپا صغراں اور فری، پری رات ہی رات میں گھر خالی کر کےجا چُکی ہیں۔ اُس نے یہ بھی بتایا کہ گھرکے باہرمالک مکان، یعنی ناصرصاحب اورایک اورآدمی میں تکرارہو رہی ہے، کیوں کہ وہ آدمی وہاں اپنے سامان سے بھرے ٹرک کے ساتھ موجود ہے اور مُصر ہے کہ اُس نےکل ہی خُود یہاں آکرایک موٹی عورت سے یہ گھر کرائے پر لیا ہے اور اُسےچھے مہینے کا کُل بہتّر ہزار روپے کرایہ ایڈوانس دیا ہے۔ وہ آدمی ناصرصاحب کو باقاعدہ رسید دکھا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ یہ دیکھیے، دستخط بھی ہیں اور اُس عورت نےصاف صاف حروف میں دست خط کے نیچے اپنا پورا نام بھی لکھا ہے۔ ’’بیگم اختر سلطانہ، والدہ کیپٹن فراز۔‘‘