• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حق بحقدار: خوابیدہ و دَرماندہ و ناکارہ اب اَفکار ...

گہر اعظمی

خوابیدہ و دَرماندہ و ناکارہ اب اَفکار

’’حق‘‘ زیرِ قلم کرنا گہرؔ ہوگیا دُشوار

سرکار کی جانب سے ہے پابندئ گُفتار

ممکن نہیں اَلفاظ سے جذبات کا اِظہار

آئے نہ پسند دہر میں جن کا ہمیں کردار

لکھتے نہیں ہم اُن کا قصیدہ کبھی، زنہار

ہر بات خیالات سے اُس کے متصادم

خوابیدہ کراچی میں ہے، اِس مُلک کا معمار

کچھ سر پھرے آتے ہیں نظر جو کہ ہیں جی دار

اَندیشہ ہے ہو جائیں گے کچھ دن میں تڑی پار

کم فہم ہیں چھیڑیں جو گہرؔ تار سخن کے

فی الوقت ہیں ویسے سبھی حاکم کے طرف دار

سَردار کا، سائیں کا، زمیں دار کا کل بھی

ہوتا تھا بھلا، آج بھی صاحب کا وَفادار

قبروں میں وہ بَرزخ کا مزہ لُوٹ رہے ہیں

جو لوگ کہ خبروں کے لیے پڑھتے تھے اَخبار

ٹی وی پہ نظر آتے ہیں اَب اَیسے مناظر

مہمان ہمہ وقت لڑائی پہ ہوں تیّار

آپس میں نظر آتے ہیں دشمن یہ بظاہر

اَندر سے یہ ہوتے ہیں مگر یارِ طرح دار

اِس وقت وہ جو مُلکی وسائل کے ہیں مالک

اپنے ہی خزانے سے ہے ان سب کا سروکار

اب مُلک کے حالات ہیں خستہ و شکستہ

ہر آدمی جس سے ہے گہرؔ بَرسرِپیکار

نہ مُلک کے اندر ہے، نہ باہر ہے کوئی کام

تعداد ہے لاکھوں میں، جو افراد ہیں بے کار

چُھوٹ اُن کے لیے، اُن کو پکڑتا نہیں کوئی

آمدنی سے آتے ہیں نظر جو سِوا زردار

زیر آتے ہیں تن خواہ پہ ہے، جن کا گزارہ

جو ٹیکس ہے لازم، وہ نہیں دیتے ہیں تجّار

بجلی نہیں، پانی نہیں اور گیس نَدارد

دام ان کے بڑھانے میں لگی رہتی ہے سرکار

جانے کو تو بہتیرے چلے جاتے ہیں بازار

چند ایک ہی ہوتے ہیں مگران میں خریدار

قیمت میں ہر اِک چیز کی روزانہ اِضافہ

ہو جاتی ہے صارف کے لیے جو کہ گراں بار

ہر روز ہی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے ان پر

ہر ایک سڑک ہوگئی اب جان کا آزار

ڈر ہے کہیں اک دن نہ اُبل جائے یہ لاوا

سینوں میں دبا رَکّھیں گے کب تک بھلا انگار

حالات اسی طرح سے ہوں گے جو دگرگوں

کیا ہوگا اگر سوئے ہوئے ہو گئے بےدار

مَیں زندہ ہوں خود سر پہ لیے عمرِ ضعیفی

ہے سامنے گزرے ہوئے حالات کا اَنبار

انسان ہوں اِک ادنیٰ، ازل سے ہوں گنہ گار

اعمالِ سیہ کے لیے، توبہ کا طلب گار

ظاہرپہ فقط جائیں نہ باطن کو بھی دیکھیں

سونا نہیں ہوتی ہے، ہر اِک چیز چمک دار

سنڈے میگزین سے مزید