روبینہ شاہد
’’فَاذْکُرُونِیْٓ اَذْکُرُکُمْ وَاشْکُرُولِیْ وَلَا تَکْفُرُون۔ یَٰا أیُّھَا لَّذِیْنَ اٰمَنُوا اِسْتَعِینُو بَالصَّبْرِ وَالصَّلوٰۃِ اِنَّ اللہَ مَعَ الصَّابِرِیْن (153۔ البقرۃ) ترجمہ: ’’تم مجھے یاد کیا کرو، مَیں تمہیں یاد کروں گا، اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشُکری نہ کرنا۔ اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔ بے شک، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
مالکِ دو جہاں نے کائنات تخلیق کی تو اپنے نائب حضرتِ انسان کے لیے دنیا کی ہرنعمت اُتاری۔ ساتھ ہی اچھائی اور برائی میں تمیز کے لیے، خوشی کے ساتھ غم، راحت کے ساتھ دُکھ درد، اجالے کے ساتھ تاریکی، آسانیوں کے ساتھ مشکلات رکھیں، مگر انسان ذرا سےدُکھ، تکلیف میں بلبلا اُٹھتا ہے اور راحت و آسانی میں بھول جاتا ہے کہ رب کا باربار شُکر بھی ادا کرنا ہے۔
جو اُس نے دیا ہے، اُس پر شُکر کرو اورجو نہیں دیا، اُس میں اس کی کوئی مصلحت پوشیدہ ہے، اِس لیے صبر سے کام لو۔ وہ مُسبّب الاسباب ہے، ہمارے لیے ہماری سوچ سے بھی بہتر اسباب پیدا کرتا ہے۔ سو، ہرحال میں اس کا شُکر ادا کرو۔‘‘ نانو نے قرآنی آیات بمع ترجمہ و تشریح سُنا کر شاہدہ خالہ اور طیّبہ بھابھی کو دلاسا دیا۔ طیّبہ بھابھی کی دبی دبی سسکیاں ماحول سوگوار کررہی تھیں۔ تمام خواتین کام ختم کر کے نانو سے رخصت لینے آئی تھیں۔
مائبہ کی آنکھوں میں رقم سوال ’’کیا ہوا…؟‘‘ شازماں نے پڑھ لیا تھا، اِس لیے خواتین کے رخصت ہوتے ہی افسردگی سے بولی۔ ’’وہ اصل میں روڈ کے قریب جو ٹھیّےتھے ناں، وہ ہٹا دیئے۔ طیّبہ بھابھی پریشان ہیں کہ ٹھیّا ہٹنےکے بعد شفقت بھائی کیا کریں گے اور شاہدہ خالہ کی تو دہری پریشانی ہے۔ عید کے سات روز بعد اُن کی بڑی بیٹی سامعہ کی شادی ہے اور سلیم خالو بے روزگار ہوگئے۔‘‘ ’’اللہ مُسبّب الاسباب ہے، وہ ضرور کوئی بہتر راہ نکالے گا۔‘‘ مائبہ دھیرے سے بس اتنا ہی کہہ سکی۔
وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی۔ بندہ بشر تو ہے ہی بےخبر، اُسے نہیں خبر کہ اُس کا رب رکھتا ہے، اُس کے پل پل کی خبر۔ یادوں کی کشتی میں سوار ہوئی، تو ایک کے بعد ایک، کئی مناظر سامنے پھسلنے لگے۔ اُس کے ماسٹرز کرنے سے پہلے ہی امّی نے رشتے والی سے بات کرلی اور ہر ہفتے، پندرہ دن میں لوگ اُسے دیکھنے آنے لگے۔ ڈھیروں خاطر مدارت کے بعد بھی جواب انکار میں آتا۔ اُس نے ماسٹرز کرلیا، ایک اسکول میں ملازمت کرلی، مگر رشتہ نہ ہوسکا۔ کسی کے استخارے میں نہ آتا، کوئی سِرے سے جواب ہی نہ دیتا، حالاں کہ وہ اچھی خاصی خوش شکل، تعلیم یافتہ، مہذّب تھی۔
نہ کوئی ڈیمانڈ، بس متوسّط خاندان کا مہذّب لڑکا درکارتھا، مگر تلاشِ برمیں امّی اور نانو کودوسال گزر گئے تھے۔ ہر بارنانو کا ایک ہی دلاسا ہوتا۔ ’’اللہ نے ہمارے لیے کچھ بہتر ہی سوچ رکھا ہے۔ اُس کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔‘‘وہ انتیس دسمبرکی ایک اداس شام تھی۔ جب نانو نے اُسے کہا کہ وہ بھی رات اُن کے ساتھ اُن کی کزن کے پوتے کے ولیمے پر جارہی ہے۔ اُس نے ہمیشہ کی طرح جان چھڑوانی چاہی۔’’ایک تقریب میں سب ہی کا جانا ضروری نہیں ہوتا۔‘‘ تب پتا چلا، ابّو کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ شازماں کے سیمسٹر کا آخری پیپر ہے۔
ماموں، ممانی کو کسی اورتقریب میں شرکت کرنی ہے، لہٰذا اُسے امّی اور نانو کے ساتھ ہر قیمت پر جانا ہی ہے۔ ناچار تیار ہونا پڑا۔ وہ، امّی، نانو، رکشے والا اور اُس کا کھچاڑا رکشہ اوپر سے سرد ہوا کے شریر جھونکے، اُس کے ریشمی لباس سے چھیڑچھاڑ کر کےاُسے کپکپانے پر مجبور کر رہے تھے۔ امّی اورنانو مزے سے گرم شالز میں لپٹی ہوئی تھیں۔
بہرحال، ہلتےجُلتے، ہچکولے کھاتے منزل مقصود تک پہنچ ہی گئے۔ خُوب صُورت آرائش وزیبائش، جھلملاتی روشنیاں بھی مائبہ کی توجّہ اپنی جانب مبذول نہ کرواسکیں، کیوں کہ اُسے اچانک ہی یاد آیا تھا کہ تقریبات میں وہ کھانا نکالنے جیسے کام سے سخت گھبراتی ہے۔ یہ کام ہمیشہ، ابّو، ماموں یا شازماں کرتے تھے، مگر آج اُن کی غیر حاضری میں یہ ذمّےداری اُسے اُٹھانی تھی۔
امّی اور نانو تو سب سے ہنسی خوشی مل رہی تھیں اور وہ الجھن میں پڑی تھی۔ اِدھر کھانا شروع ہوا اور امّی اور نانو کی طرف سے اُسے مہم پر روانہ ہونے کا سندیسہ مل گیا۔ بمشکل معرکہ سر کرنے پہنچی اور دو بڑی پلیٹوں میں وہ سب بھر لیا، جو نانو اور امّی کو پسند تھا۔ وہ خُود تو تقریبات میں صرف بریانی کھاتی تھی، لیکن اُن دونوں کی وجہ سے سالن، نان، رائتہ، سلاد، سب رکھنا پڑا۔
دونوں ہاتھوں میں پلیٹیں پکڑے وہ آنِ واحد میں امّی اور نانوتک پہنچنا چاہتی تھی اوراِسی جلدی میں سیدھے ہاتھ والی پلیٹ، جس میں سالن اور رائتہ تھا، اچانک سامنے آجانے والے بندے سے ٹکرا گئی۔ نظر اُٹھی توآنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، کیوں کہ سالن اور رائتے کے چھینٹے اُس کا کوٹ داغ دارکرچُکے تھے۔ وہ نہ صرف گھبرائی، بوکھلائی بلکہ ہکلا بھی گئی ’’س، سس، سوری د،دد، داغ لگ گئے۔‘‘ ’’داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔‘‘ ٹکرانے والے نے قدرے آہستہ مگر شوخی و بشاشت سے اشتہار والا جملہ، کان کے ذرا قریب ہو کر بولا تو وہ مزید گھبرا کر آگے بڑھی۔
پیچھے سے کہا گیا۔ ’’داغ نہ ہوتے تو ڈٹرجنٹ پاؤڈرز بنانے والے تو بھوکے مرجاتے۔‘‘ وہ اُتنی ہی گھبرائی ہوئی ٹیبل تک واپس آئی تھی۔ امّی اور نانو نے فوراً جان لیا کہ ضرور کوئی حادثہ پیش آیا ہے۔ سارا واقعہ سُن کر دونوں ہنس رہی تھیں اورکچھ ہی دیر بعد وہ صاحب خُود اُن کی میز پر موجود تھے۔ وہ بھی نانو کی کسی کزن کے پوتے تھے۔ نام عمیر بن حسّان تھا اور اب داغ دارکوٹ سمیت یہاں آن پہنچے تھے۔ اور پھر… صرف دور روز بعد ہی موصوف والدین کو لے کر مائبہ کے گھر موجود تھے۔
مائبہ کا رشتہ مانگا گیا۔ تو گویا سرد موسم میں خوشی کے شادیانے بج اُٹھے۔ حسّان ملک کا خُوب رُو، تعلیم یافتہ، اکلوتا بیٹا، جو ایم بی اے کے بعد بزنس میں والد کا ہاتھ بٹا رہا ہے اور بزنس بھی ماشاءاللہ بیرونِ مُلک تک پھیلا ہوا۔ مائبہ کے گھر والے تو متوسّط خاندان میں رشتہ ڈھونڈ رہے تھے، مگر اُن لوگوں کومائبہ ایسی بھائی کہ رشتہ پکا ہوا، بات رسم تک پہنچی۔ رسم سے منگنی تک گئی اور نکاح ہی پر آکر ٹھہری… نکاح سادگی سے مسجد میں ہواکہ دو دن بعد ہی عمیر اور اُس کے والد کو بزنس کے سلسلے میں بیرونِ مُلک روانہ ہونا تھا۔
رخصتی کی تاریخ 29؍مارچ مقرر ہوئی۔ جہیز کےنام پرایک تنکا بھی دینے سے منع کیا گیا۔ جس تک بھی مائبہ کے نکاح کی خبر پہنچی، ہر ایک نے قسمت پررشک کیا۔ خُود اس کی اپنی زندگی میں تو جیسے بہاروں نے ڈیرےڈال دیئے۔ سوچا بھی نہ تھا، جن داغوں کو دیکھ کر وہ گھبرائی اورہکلائی تھی، زندگی میں اس طرح قوسِ قزح کے رنگ بکیھر دیں گے۔ وہ بس حیران و پریشان، گم صُم تھی۔
رب کی مصلحت بندہ بشر نہیں جان سکتا۔ گھر والے ہال، بینکوئیٹ دیکھنےمیں مصروف تھےکہ جلد از جلد کوئی جگہ منتخب کرلی جائے۔ اُدھر عمیر اورحسّان صاحب کے رخصت ہوتے ہی بیگم حسّان نےکال کی کہ مائبہ کو شاپنگ کروانا چاہتی ہیں۔ پرنانو نے یہ کہہ کر مطمئن کردیا۔ ’’آپ اپنی پسند سے جو لائیں گی، ہماری بیٹی کو پسند آئے گا۔‘‘ اگلے روز اُنہوں نے پھر کال کر کے مائبہ کی امّی سے شادی کا وینیو پوچھا۔
امّی نے کہا۔ ’’دیکھ رہے ہیں، ایک دو دن میں بکنگ کروا لیں گے۔‘‘ تب اُنہوں نے اپنی منتخب کردہ جگہ بتا کر ایک نئی پریشانی میں مبتلا کردیا۔ باتوں باتوں میں یہ بھی کہہ دیا ’’ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے بس، آپ شادی کے انتظامات اور جگہ ہمارے مہمانوں کے شایانِ شان رکھیے گا۔‘‘ جو جگہ اُنہوں نے بتائی تھی، اُس کا تو کرایہ ہی اِتنا تھا کہ سن کرہوش اُڑگئے۔ جہاں خوشیوں کے شادیانے بج رہے تھے، قدرے سوگواریت سی طاری ہوگئی۔
شازماں نے مائبہ کو مشورہ دیا۔ ’’تم عمیر بھائی سے بات کرو۔‘‘ مگر مائبہ کواچھا نہ لگا کہ وہ اُس کی امّی کے متعلق کوئی بات شکایتی انداز میں کرے، حالاں کہ جانتی تھی، ابّو کے لیے یہ انتظام کتنا مشکل ہوگا۔ وہ ایک چھوٹی سی کمپنی میں ملازم تھے۔ اُس کی نانو جہاں آرا بیگم جوانی ہی میں بیوہ ہوگئی تھیں۔ شوہر مکان اور ایک دکان چھوڑ گئے تھے۔ دو بچّے تھے، بیٹی عذرا اور اُس سےآٹھ برس چھوٹا علی۔ عذرا کی شادی اپنے یتیم بھانجے مختار سے کر کے گھر داماد رکھ لیا۔
عذرا اور مختار کی دو بیٹیاں تھیں۔ مائبہ اور شازماں اور علی اور ارسلہ کے دو بیٹے تھے۔ ایک دس اور دوسرا آٹھ سال کا۔ علی کی شادی سے پہلے ہی جہاں آرا نے عذرا کو اوپر پورشن بنوا دیا تھا۔ وہ خُود علی کے ساتھ نچلے پورشن میں رہتی تھیں۔ دکان کا کرائے سے اپنے اور نواسیوں کے اخراجات پورے کرتیں۔ یوں زندگی کی گاڑی بآسانی چل رہی تھی۔
خیر، سارا گھرانہ اِسی تگ ودو میں لگ گیا کہ مسز حسّان کی مرضی پوری ہوجائے۔ ابّو نے آفس میں پراویڈنٹ فنڈ کے لیے اپلائی کردیا۔ نانو نے دکان سیل کرنے کا کہا، مگر ابو نے روک دیا۔ ماموں کی بھی انکم اتنی زیادہ نہ تھی۔ خیر، جیسے تیسے بکنگ ہوگئی۔ اِس ساری پریشانی میں بس سب کوتسلی دیتی رہیں کہ ’’اللہ مُسبّب الاسباب ہے۔‘‘
عمیر روز نانو کی خیریت معلوم کرنے کے بہانے کال کرتا اور نانو کی اجازت سے مائبہ سے بھی بات کرتا۔وقت کا کام گزرنا ہے اور وہ گزر ہی رہا تھا کہ ہر طرف سے ایک نئی وبا پھیلنے کی خبریں آنے لگیں۔ شادی کی تاریخ سے پندرہ دن پہلےعمیر اور حسّان صاحب واپس تو آگئے، لیکن اُس کی رخصتی سے چند روز پہلے تمام شادی ہالز بند ہوگئے۔ تقریبات کینسل کردی گئیں۔ ہر طرف لاک ڈاؤن ہوگیا۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔
اسی دوران 29؍ تاریخ آئی اور گزرگئی۔ اپریل بھی گزر گیا۔ مسز حسّان کی طبیعت خراب ہورہی تھی۔اُن کے چوکی دار کے سوا تمام ملازمین چُھٹی پرچلے گئے تھے۔ عمیر اور حسّان صاحب سخت پریشان تھے، مگر رخصتی کی کوئی صُورت نہ بن رہی تھی۔ مسز حسّان کی طبیعت مزید بگڑی۔ کورونا ٹیسٹ ہوا، رپورٹ پازیٹو تھی۔ مسز حسّان کو قرنطینہ کردیا گیا۔ تب نانو اور حسّان صاحب نے فیصلہ کیا کہ فوری مائبہ کی رخصتی کردی جائے کہ اُس گھرکو ایک خاتون کی اشد ضرورت تھی اور یوں جس سادگی سے نکاح ہوا تھا، اُس سے بھی زیادہ سادگی سے رخصتی ہوگئی۔
مائبہ کے ساتھ بس ایک بیگ تھا۔ کھانا مائبہ کےساتھ گیا تھا، مگر کھایا نہیں گیا کہ رمضان کا چاند ہوگیا تو سحری ہی کریں گے۔ عمیر، نماز اور تراویح سے فارغ ہو کر من چاہے محبوب کے دیدار کو آیا تو وہ نماز کے بعد گھر سمیٹ رہی تھی۔ یونہی کام کرتے کرتے عمیر نے اُسے ایک خُوب صُورت سا بریسلیٹ پہنایا۔ اُس کے بعد سحر تا افطار ہر کام اُس نے اپنے ہاتھ میں لےلیا۔
آنٹی کے لیے دلیا، سوپ، چائے، قہوہ سب خود تیارکرکے وقتاً فوقتاً کمرے میں جاکے دیتی۔ اُن کی طبیعت تیزی سے سنبھل رہی تھی۔ عمیر کے گھر تقسیم کے لیے راشن کے تھیلے آئے تو اُس نے اپنے محلّے کے سفید پوش گھرانوں کو بھی یاد رکھا۔ گھر گئی توپتا چلا، ابّو کی ملازمت ختم ہوگئی ہے۔ وہ تو خوشی خوشی گئی تھی، مگر یک دم دُکھی ہوگئی۔ پھر خُود ہی نانوکی باتیں دہرانے لگی۔ ربِ کریم نے ہر خوشی کے ساتھ غم، راحت کے ساتھ دُکھ، آسانی کے ساتھ پریشانی رکھی ہے۔
ہمیں صبر و شُکر کے ساتھ مسائل کا حل ڈھونڈنا چاہیے۔ وہ ابو کے لیے کام کا سوچنےلگی۔ امّی، ابّو نے بتایا تھا۔ اُس کے جوپیسے رکھے ہوئے ہیں کہ شادی پر نہ اُسے کچھ دیا اور نہ انتظامات پرخرچ ہوئے، وہ چیک کی صُورت اُسے دیں گے کہ حسّان صاحب نے عید کے بعد گھر ہی پر ولیمہ رکھا تھا۔ وہ سسرال میں اپنےتمام فرائض پوری خوش اسلوبی سے انجام دے رہی تھی، مگر اب اُس کے والدین پریشان تھے، تو اس نے اُنھیں وہ رقم کسی چھوٹے موٹے کام میں استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ ’’محنت، ایمان داری سے شروع کیے کام میں اللہ خُود برکت ڈال دیتا ہے۔‘‘ بات نانو کے دل کو لگی۔
آنِ واحد میں فیصلہ ہوگیا کہ جلد ازجلد کام شروع کردیا جائے۔ صاف ستھری دالیں، چاول، چنے اور دیگر مسالا جات تھوک کے بھاؤلا کر چھوٹی چھوٹی پیکنگز میں گھروں، محلوں میں سپلائی کا کام شروع کیا گیا۔ ماموں بھی ساتھ شامل ہوگئے اور کچھ ہی عرصے میں کام خُوب چل نکلا۔ اُس کا میکے آنا کم ہوتا، مگر فون پر مسلسل رابطہ رہتا۔ عید کے بعد چھت پر ایک بڑا کمرا بنوایا گیا۔
کاروبار میں محلے کی کئی خواتین بھی شامل ہوچُکی تھیں۔ سب لوگ جاتے ہوئے عصر کے وقت نانو کی سربراہی میں مُلک اور دنیا کے وبا سے پاک ہونے کی دُعا لازماً کرتے۔ نانو مائبہ کی گود ہری ہونے کی بھی دُعاکرتیں اور پھر مائبہ کو دہری خوشی ملی۔ ایک پیارا سا گل گوتھنا بیٹا تو ویکسین آجانے سے لاک ڈاؤن سے نجات۔اُس کے والدین کے کام میں بھی مسلسل برکت آرہی تھی۔
اور… اب پھر رمضان کا مہینہ تھا۔ آج کل اُس کے ساس، سُسر بیرونِ مُلک گئے ہوئے تھے، تو وہ اِدھر ہی آئی ہوئی تھی۔اِسی رمضان ابّو نے اُسے اس کے حصّے کا منافع بھی دیا تھا۔ تو بس، اِن ہی سب سوچوں کے جھرمٹ میں اُس نے ایک فیصلہ کیا اور پھر شام کو عمیر سے اجازت طلب کی کہ ’’ابو کے دیئے گئے منافعے کی رقم سے مَیں شاہدہ خالہ اور طیّبہ بھابھی کے لیے کچھ کرناچاہتی ہوں۔‘‘ ’’جو چاہو، کرو‘‘
عمیر نے ہمیشہ کی طرح خوش دلی سےجواب دیا، تو اُس نے عمیر ہی کے ساتھ جا کر سلیم خالو اور شفقت بھائی کے لیے رکشے بُک کروا دیئے کہ کماکر کھائیں اور قسطیں بھی ادا کرتے رہیں۔ عمیر سے بھی کہا کہ عید کے بعد آپ کو شاہدہ خالہ کی بیٹی سامعہ کی شادی کے انتظامات میں حصّہ ڈالنا ہوگا۔ جواباً عمیر نےخوشی سے حامی بھرتے ہوئے کہا۔ ’’سرکار! کبھی اپنے لیے بھی کوئی فرمائش کرلیا کریں۔‘‘ وہ دھیرے سے بس اتنا ہی کہہ سکی۔ ’’آپ کے ہوتے مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔‘‘
عید سے چند روز پہلے اُس کےساس، سُسر واپس آگئے تھے۔ ڈھیروں تحائف کے ساتھ بہو کے لیے ڈائمنڈ کا سیٹ لائے تھے۔ اور عید کے دن وہ تیار ہوئی، تو خُود کو آئینے میں دیکھ کر سوچ رہی تھی۔ ’’اگر ہم اپنے رب کو یاد رکھتے ہیں، تو بےشک وہ بھی ہمیں یاد رکھتا ہے اور جو کچھ ہمیں میسّر ہو، اُس کا شُکر ادا کرتے رہیں تو وہ کئی گنا زائد سے نوازتا ہے۔‘‘ مائبہ کی آنکھیں مسلسل بھیگ رہی تھیں۔ بے اختیار لبوں سے نکلا۔ ’’بےشک، وہ بڑا مُسبّب الاسباب ہے۔‘‘