ثمینہ نعمان
’’روفی! پیارے بھائی، ذرا گرم گرم مونگ پھلیاں تو لادو۔‘‘ سارہ نے چچازاد بھائی کی منّت کرتے ہوئے کہا۔ ’’ہرگز نہیں، سارہ آپی! مَیں اب آپ کا کوئی کام نہیں کروں گا، جب آپ کا مطلب ہوتا ہے، اتنے پیار سے بات کرتی ہیں، ورنہ ہر وقت ڈانٹتی رہتی ہیں۔ اتنی دُور سےچیزیں منگواتی ہیں، مگر اکیلے ہی کھاتی ہیں، پوچھتی بھی نہیں کہ چلو چھوٹا بھائی ہے، تواُسے بھی کچھ دے دوں۔‘‘
روفی نان اسٹاپ شروع ہوگیا تھا۔ ’’ہاں تو نہ لائو، مَیں کسی اور سے منگوا لوں گی، کیا تم ہی رہ گئے ہو۔‘‘ سارہ بھی اپنے نام کی ایک تھی، شرمندہ ہونا تو اُس نے سیکھا ہی نہ تھا۔ یہ شہر کے پوش علاقے میں عرفان صاحب کا تین منزلہ گھر تھا، جہاں وہ اپنے والدین اور دو بھائیوں کے ساتھ رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو بہت پیارا دل دیا تھا۔
نوجوانی کے دِنوں میں بھی کم آمدن ہونے کے باوجود اپنے عزیزوں پر خرچ کر کے خوشی محسوس کیا کرتے، پھر وقت کے ساتھ الله نے کاروبار میں وسعت دی تو یہ گھر بنوا کر اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کو بھی اپنے ساتھ ہی رکھ لیا، جوکرائے کے گھر میں رہتے تھے۔ تینوں بھائیوں میں بہت پیار تھا، والدین کی اچھی تربیت اطوار سے نمایاں نظرآتی۔ تینوں کی شادیاں بھی قریبی عزیزوں میں ہوئیں، بیگمات ملن سار، صلح جُو، نیک فطرت تھیں۔
گھر میں چین وسُکون کا بسیرا تھا۔ عرفان صاحب کے تین بیٹےارحم، محب اورحمّاد تھے۔ بیٹی کی نعمت کے ترسے ہوئے اپنے بھائیوں کی بیٹیوں پرخُوب پیار نچھاور کرتے۔ خاص طور پر درمیان والے بھائی سلمان کی اکلوتی بیٹی، جو کہ شادی کے دس سال بعد ایک تحفے کی طرح دنیا میں آئی تھی، اُس میں تو اُن کی جان تھی۔ وہ تھی بھی اتنی پیاری کہ سب اُس کی طرف کھنچتے تھے۔ وہ ماں باپ، دادا دادی اور تمام گھروالوں کےحد سے زیادہ لاڈ پیار سے کچھ خُودسر، خُود پسند سی ہوگئی تھی۔
سب سے چھوٹےبھائی نعمان کی دو بیٹیاں صائمہ، صالحہ اور ایک بیٹا روفی تھا، جوگھر کے تمام بچّوں میں سب سے چھوٹا ہونے کے سبب سب کی آنکھوں کا تارا تھا۔ شرارتی اور باتونی بھی اوّل نمبر کا تھا۔ عرفان صاحب اپنے دو بڑے بیٹوں کی شادیاں کرچُکے تھے، اب چھوٹےحمّاد کے لیے لڑکی کی تلاش زور و شور سے جاری تھی اور اِس کام میں سارہ پیش پیش تھی۔ اُس کا کہنا تھا کہ بڑی دونوں بھابھیاں تو رشتے اور عُمر میں کافی بڑی ہیں، اس لیے اُن سےدوستی کا تعلق نہیں، مگر حمّاد کی بیوی تو ہم عُمر ہوگی، اس لیے صائمہ، صالحہ کے ساتھ وہ بھی میری دوست بن جائے گی۔
آج کل گھر میں کچھ اَن کہی سرگوشیوں کے ساتھ پُراسرار بیٹھکیں لگ رہی تھیں، جہاں کوئی بچہ آتا سب یا تو خاموش ہوجاتے یا آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں ہونے لگتیں۔ سب ہی اس بات کومحسوس کررہے تھے، مگر بڑوں سے پوچھنے کی ہمّت نہیں تھی۔ آج بھی یہی ہوا، رات کے کھانے کے بعد سب بڑے، دادی کے کمرے میں آگئے اور سارہ، صائمہ، صالحہ کو چائے بنانے بھیج دیا گیا۔ سارہ نے یہ کام دونوں کے حوالے کیا اور خُود دادی کے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔
’’تائی امّی! میرے کالج میں ایک بہت اچھی لڑکی ہے، اگر آپ حمّاد سے اُس کی شادی کردیں گی تووہ ہم کزنز کے گروپ میں شامل ہوجائے گی، میری اُس سےبہت اچھی ہیلوہائے ہے۔‘‘ سارہ نے بڑے جوش سے تائی امّی کے حضور اپنی رائے پیش کی توسب بےاختیار ہی اُس کی بات پر ہنس پڑے۔
’’تایا ابّو! یہ کیا بات ہوئی، ارحم اور محب بھائی کی شادیاں آپ لوگوں نے اپنی مرضی سے کیں، اب کیا حمّاد کی شادی میں بھی میری مرضی نہیں چل سکتی؟‘‘ اُس نے ناراضی کا اظہار کیا۔ اِس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتی، امّی اُسے بہانے سے اپنے ساتھ دوسرے کمرے میں لے آئیں اور پھر دروازہ بند کرکے گویا سارہ کے سرپربم پھوڑ دیا۔
سارہ توبس پتھرائی آنکھوں سے زبیدہ بیگم کو دیکھے گئی۔ جب کچھ حواس بحال ہوئےتو ایسا واویلا مچایا کہ الامان الحفیظ۔ ’’کمال ہے، آپ لوگوں نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا۔ حمّاد کے ساتھ تومَیں بہن بھائیوں کی طرح پلی بڑھی ہوں، مَیں اُس سے شادی کیسے کرسکتی ہوں۔‘‘ سارہ کا سب سے بڑا اعتراض یہی تھا۔ وہ کسی صُورت اس رشتےکےلیےمان کر نہیں دے رہی تھی۔
سب ہی نے باری باری سمجھا لیا۔ دوسری طرف حمّاد کا کہنا تھا کہ ’’میری تو بچپن سے آج تک سارہ سے نہیں بنی، ہر بات میں اختلاف، ہر چیز پہ لڑائی، تو ہم ساری زندگی کیوں کر ساتھ گزارسکیں گے۔‘‘ کئی دنوں تک سمجھانے بجھانے اور بہلانے کے بعد آخرسارہ اس شرط پرمان گئی کہ شادی سے پہلے حمّاد الگ گھر لے۔ ’’مَیں رخصت ہو کر اپنے گھر جاؤں گی۔ یہ کیا کہ بچپن، جوانی بھی اِسی گھر میں گزری اور اب شادی کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں۔
مَیں اس جنجال پورے میں ساری زندگی نہیں گزار سکتی۔‘‘ اُس کی اس شرط سے تمام گھر والوں کا بہت دل دُکھا، حمّاد بھی غصّے سے آگ بگولا ہوگیا۔ وہ تو پہلے ہی اِس شادی کے حق میں نہ تھا۔ مگر بڑوں نے سمجھایا کہ ’’اِس کا یہ الگ گھرکا شوق چند روزہ ہی ہوگا۔ سالوں سے اتنے بَھرے پُرے گھرمیں رہنے والی لڑکی کا دل تنہا گھر میں کہاں لگے گا۔ پھر یہاں اُس کو سب سے جو محبت ملتی ہے، وہ اُسے عن قریب اپنوں میں کھینچ لائے گی۔‘‘
آج دونوں گھروں میں چراغاں تھا، خُوب رونق لگی تھی۔ ساری رسمیں عرفان صاحب کے گھر ہونے کے بعد سارہ کی رخصتی حمّاد کے کرائے پرلیےگئے بڑے سے گھر میں ہو رہی تھی، جو کہ بقعۂ نوربنا ہوا تھا۔ سارہ دلہن بن کر انتہائی حسین لگ رہی تھی۔ دو چار روز تک تو تمام گھر والےسارہ اورحماد ہی کے گھرٹ ھہرے، مگر ولیمے اور چوتھی کی رسموں کےبعد سب اپنے گھر سدھارے۔
بعد میں بھی کئی روز فیملی کی طرف سے دونوں کے چاؤ چونچلے ہوتے رہے۔ پھر وہ ہنی مون کے لیے چلے گئے۔ واپس آنے پر بھی دونوں کی خوب آؤ بھگت ہوئی۔ اب شادی کو چھے ہفتے ہو چلے تھے کہ صُبح صُبح سارہ کی آنکھ حمّاد کی آواز سے کُھلی۔
وہ قدرے غصّے میں تھا۔ ’’بیگم صاحبہ! اب اُٹھ بھی جائیے، شادی کو کافی عرصہ ہوگیا، ہم گھوم پِھر بھی آئے، اب روٹین لائف شروع کرنی ہے یا نہیں… مَیں کب سےجاگ کےتمہارے اُٹھنے کا انتظار کررہا ہوں، مگر تمہاری نیند ہےکہ پوری ہوکے ہی نہیں دیتی۔ مجھے شدید بھوک لگ رہی ہے، فٹافٹ ناشتا بناؤ۔‘‘ سارہ آنکھیں ملتی اُٹھی اور جمائیوں پر جمائیاں لینے لگی۔
’’اگر تم اِسی رفتار سے اُٹھا کروگی، تو مَیں تو آفس سے روز لیٹ ہوجاؤں گا۔ پرسوں سے میری چُھٹیاں ختم ہورہی ہیں، اب تمہیں ہر کام وقت کی پابندی کے ساتھ کرنا ہوگا۔‘‘ حمّاد نے گویا اُسے خبردار کیا۔ سارہ نے ناشتا بنایا، پھر کھانا بھی بنا لیا، کیوں کہ اُس کی امّی اور چچی نے اپنی بیٹیوں کو کچن کے سب کاموں میں طاق کردیا تھا۔ کام مسئلہ نہیں تھے، وہ تو بس یہ سوچ سوچ کرہول رہی تھی کہ جب حمّاد صُبح سے شام تک کے لیے آفس چلا جایا کرے گا، تو وہ پیچھے کیا کرے گی۔
شادی کے ڈیڑھ ماہ ہی میں اُسے اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا کہ اُس کا الگ رہنےکا فیصلہ نہایت غلط اور بچکانہ تھا۔ مگر اب غلطی کو کیسے سدھارے، یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔ اُس کےاکیلے ہونےکے سبب حمّاد کوئی ملازم رکھنےسے بھی کترا رہا تھا۔ بس عرفان صاحب ہی پرانے ملازمین کو ہفتے میں دو مرتبہ بھیج کر اُن کے گھر کی صفائی سُتھرائی، لان کی دیکھ بھال، اور سودا سلف وغیرہ کا انتظام کروا دیتے۔
سارہ اور حمّاد اکثر رات کو گھر والوں سے ملنےچلے جاتے تھے۔ اب سارہ کو وہ گھر جنّت لگتا۔ امّی، ابو، دادا دادی، تایا، تائی اور چچا چچی کی بے پایاں شفقت، کزنز کے ساتھ گزارا ہوا بہترین وقت، بھابھیوں کا خیال رکھنا اور یہاں تک کہ روفی سے رہنے والی نوک جھونک…وہ سب بہت شدّت سے مِس کرنے لگی تھی۔ پتا نہیں، اُس نے پہلے کیوں یہ سب محسوس نہیں کیا۔ اُسے رہ رہ کر خُود ہی پرحیرت اور افسوس ہوتا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سارہ کچھ زیادہ ہی تنہائی محسوس کرنے لگی تھی، بلکہ اب تو یہ تنہائی جیسے اُسے کاٹنے کو دوڑتی تھی۔ وہ ہر وقت اداس، کھوئی کھوئی سی رہنے لگی۔ ایک دن حمّاد کے آفس جانے کے بعد گلا خراب ہونے کی وجہ سے بخار نے آ لیا، تو وہ اکیلے لیٹے لیٹے سوچ رہی تھی کہ پہلے جب کبھی بیمار پڑتی تو تمام گھر والے آگے پیچھے گھومتے تھے، اور آج کیسی بےبسی ہےکہ اُٹھ کرپانی پینےتک کی ہمّت نہیں۔ حمّاد کو کال کی، مگر میٹنگ میں ہونے کے سبب اٹینڈ نہ کرسکا۔
ویسے حمّاد اُس کا ہر طرح خیال رکھتا، مگر سارہ جیسے اندرہی اندر گُھل رہی تھی۔ طبیعت کچھ سنبھلی تو وہ باہر آگئی۔ وسیع رقبے پر پھیلے گھر کے سبزہ زار کی مخملیں گھاس پر چہل قدمی کرتے کرتے تھک گئی تو گھنے درختوں کے سائے میں لگے جھولے پرآکر بیٹھ گئی اور درختوں کے پتّوں سے چَھنتی سردیوں کی نرم دھوپ، پھولوں کی خوشبو اپنے اندر اتارتے سوچ رہی تھی، اِس گھر میں سب کچھ ہے، لیکن اپنوں کےنہ ہونے سے کتنی اداسی و ویرانی ہے۔
وہ ساری رات اُس نے بہت بےچینی میں گزاری۔ رات کی ڈسٹربینس کی وجہ سے اگلے روز کھانا بھی ٹھیک سے نہ کھا سکی۔ کوئی بھی شخص اُس کا گھر، رہن سہن، اوڑھنا بچھونا دیکھتا تو ہرگز یہ ماننے کو تیارنہ ہوتا کہ اُسے بھی کوئی غم، فکرلاحق ہو سکتی ہے، جب کہ اُس کا حال یہ تھا کہ تنہائی کا عفریت جیسے اُسے مارے ڈال رہا تھا۔
رمضان المبارک نزدیک آ گیا تھا۔ وہ سب لوگ ہمیشہ سے ایک ساتھ، ایک ہی دستر خوان پر سحر و افطار کیا کرتے تھے۔ روزے کے باوجود مل کرہنستے بولتےسب کام کرنے میں دن گزرنے کا پتا ہی نہ چلتا تھا۔ مرد تمام نمازیں، تراویح مسجد میں ادا کرتے اور خواتین گھر پہ۔ تراویح کی نماز خاص طور پر سب خواتین ایک ساتھ ادا کرتی تھیں۔ مل کر پڑھنے سے اتنی لمبی نماز بھی آسانی سے پڑھ لی جاتی تھی۔ صُبح گھر میں دورۂ قرآن ہوتا تھا، جس میں محلے کی خواتین کےساتھ تمام گھر والوں کی شرکت لازمی ہوتی۔
عید کی تیاری رمضان سے قبل ہی کر لی جاتی تھی، سب مل کرشاپنگ پر جاتے تو کس قدر لُطف آتا تھا۔ چاند رات پر، گھر ہی پہ منہدی لگانے والی کو بلا لیاجاتا تھا۔ وہ یہ سب باتیں یاد کرکر کے جیسے پاگل ہوئی جارہی تھی۔ آخر اُس نے فیصلہ کر ہی لیا کہ آج رات، جب وہ گھر والوں سے ملنے جائے گی، تو اپنی انا کی دیوار گرا کر سب کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کر کےدوبارہ اُسی خوشیوں کے گہوارے میں جانے کی اجازت چاہے گی۔ وہ اپنے الگ رہنے کے فیصلے پر دل سے پشیمان تھی اور اسے پوری اُمید تھی کہ سب اُسے خوش دلی سے اپنا لیں گے۔
’’روفی! پیارے بھائی مجھے میری سہیلی کے گھر ڈراپ کردو، عید ملن پارٹی میں سب سہیلیاں اکٹھی ہورہی ہیں۔ اور پلیز، شام کو پِک بھی کر لینا۔‘‘ سارہ نے سارے جہاں کی محبّت اپنے لہجے میں سموکر روفی سے فرمائش کی۔ ’’سارہ باجی! اب تو آپ کے ساتھ حمّاد بھائی ہیں، اب تو میرا پیچھا چھوڑدیں۔ آپ نے تو روفی ہی کو ہر مرض کا علاج سمجھا ہوا ہے۔
مجھ سے اب یہ آپ کی ہر روز کی چاکری نہیں ہوتی۔‘‘ روفی نے ہمیشہ کی طرح آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں۔ ’’میرے پیارے بھائی! مَیں تمہاری بائیک کی ٹینکی فُل کروا دوں گی اورمارکیٹ جاؤں گی تو تمہارے لیے تمہاری پسندیدہ چاکلیٹس بھی لاؤں گی، اب تو لےچلو۔‘‘ سارہ نے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔ ’’سارہ باجی!صرف ڈھائی ماہ اکیلے رہنے سے آپ کے توسب نٹ بولٹ ٹائٹ ہوگئے۔‘‘روفی نے شرارتی انداز میں کہا۔ ’’نٹ بولٹ کے بچّے…‘‘ سارہ نے ہنستے ہوئے روفی پرکُشن کھینچ مارا۔ سارہ کو لگا، آج بہت دِنوں بعد وہ دل سے ہنسی ہے۔ سچ ہے، دل خوش نہ ہو، تو ہر آسائش بےمعنی ہے۔ اور… عید تو نام ہی اپنوں کی دید کا ہے۔