مصنّف: الطاف حسن قریشی
صفحات: 144، قیمت درج نہیں
ناشر: قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل، یثرب کالونی، والٹن روڈ، لاہور کینٹ۔
فون نمبر: 0515101 - 0300
الطاف حسن قریشی شاعر بھی ہیں اور صحافی بھی۔ وہ اُس روایت کے آخری آدمی ہیں، جسے مولانا محمّد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان، چراغ حسن حسرت اور شورش کاشمیری جیسی یگانۂ روزگار شخصیات نے پروان چڑھایا۔ ان کے نزدیک صحافت، ذریعۂ معاش ہی نہیں، ایک نصب العین بھی ہے۔ انہوں نے جو دیکھا اور محسوس کیا، وہی لکھا۔
اُنہوں نے تمام زندگی، قلم سے تلوار کا کام لیا۔ الطاف حسن قریشی جیسے عظیم صحافی کی کتاب پر تبصرہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ مجھے فخر ہے کہ مَیں اُن کے عہد میں زندہ ہوں۔ اللہ اُنہیں سلامت رکھے اور مزید سرفرازیاں عطا فرمائے۔ بانی جماعتِ اسلامی، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی سے متعلق الطاف حسن قریشی کی زیرِ نظر کتاب ایک دستاویز کا درجہ رکھتی ہے۔
بلاشبہ، مولانا مودودی کی تحریریں اخلاقی اور تہذیبی اقدار کے فروغ کا ایک وسیلہ ہیں۔ یہ کتاب 1991ء میں’’مکتبہ اردو ڈائجسٹ‘‘ نے شائع کی تھی اور اب اسے علّامہ عبدالستار عاصم نے کچھ اضافوں کے ساتھ دوبارہ شائع کیا ہے۔ الطاف حسن قریشی نے جس عقیدت و محبّت سے مولانا مودودی کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، اُس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ مولانا کے کتنے قریب تھے۔
کتاب میں مولانا مودودی کا ایک تفصیلی انٹرویو بھی شامل ہے، جس میں اُن کی زندگی کی ہر جہت کے حوالے سے سوالات کیے گئے ہیں اور مولانا مودودی نے جو جوابات دیئے، اُن کی تاریخی حیثیت بھی مسلّم ہے۔ مولانا مودودی کا ایسا یادگار اور معلوماتی انٹرویو الطاف حسن قریشی ہی کرسکتے تھے۔
نیز، ’’آزادی‘‘ کے موضوع پر بھی مولانا مودودی سے ایک فکر انگیز گفتگو شامل ہے، جس کے محرّک الطاف حسن قریشی ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب میں آباد شاہ پوری، مجیب الرحمان شامی اور نظر زیدی نے بھی مضامین تحریر کیے ہیں، جن میں مولانا مودودی کی شخصیت کے مختلف گوشے اجاگر کیے گئے ہیں۔ اُمید ہے کہ مولانا کے اَن گنت قدردان اور اسلامی تحریکوں سے دل چسپی رکھنے والے احباب، کتاب کی اشاعتِ نو کا خیرمقدم کریں گے۔