شاعر: ساجد رضوی
صفحات: 240، ہدیہ: دعائیں
ناشر: زینہ پاکستان پبلی کیشن ہاؤس، کراچی۔
فون نمبر: 1560550 - 0300
سیّد ساجد رضوی کا شمار اُن شعراء میں ہوتا ہے، جو درجۂ استادی پر فائز ہیں۔ اُنہیں مملکتِ شعر و سخن میں آباد ہوئے 60سال ہوگئے، اُن کی عُمر 80برس سے تجاوز کرگئی ہے، لیکن آج بھی میدانِ ادب میں متحرّک اور فعال دِکھائی دیتے ہیں۔
گرچہ وہ تمام اصنافِ سخن پر کامل دسترس رکھتے ہیں، لیکن بنیادی حوالہ غزل ہے، جب کہ دوسرا مضبوط حوالہ تقدیسی شاعری ہے۔ حمد، نعت، مناقب اور سلام کے علاوہ 9مرثیے بھی تخلیق کیے، جس سے اُن کی کہنہ مشقی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ساجد رضوی کی زیرِ نظر کتاب میں چار حمدیں، دس نعتیں، 47مناقب،16سلام اور تین مرثیے شامل ہیں۔ ویسے اُن کی تقدیسی شاعری روایتی شاعری سے بہت مختلف ہے کہ اُنھوں نے پرانے مضامین کی نئے انداز سے جامہ دری کی ہے، جب کہ فنی اعتبار سے بھی یہ مجموعہ قابلِ قدر ہے۔ کتاب پر پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر شاداب احسانی، ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی، خالد عرفان، زاہد حسین جوہری اور نسیم شیخ جیسے صاحبانِ نقد و نظر نے مضامین تحریر کرکے ساجد رضوی کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
استاد الاساتذہ، پروفیسر سحر انصاری کے اِن تاثرات کے بعد مزید کسی تبصرے کی گنجائش نہیں۔’’ساجد رضوی نے مرثیہ گوئی میں لفظیات اور رثائی بیانیے کو روایتی اظہار سے بچایا ہے، اِس لیے اُن کے ہر مرثیے کا مجموعی تاثر، رثائیت کے ساتھ، سخن گوئی کے لوازم سے مملو نظر آتا ہے، مجھے امید ہے کہ ساجد رضوی نے جو ’’سبز ہے شاخِ ہنر‘‘ کا التزام کیا ہے، اُن کی شاخِ ہنر، ہمیشہ سبز رہے گی۔‘‘