• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّفہ: محمودہ غازیہ

صفحات: 252، قیمت: 1500روپے

رابطہ: ہاؤس نمبر 540، اسٹریٹ نمبر 98، 10/4، اسلام آباد۔

محمودہ غازیہ کا شمار سینئر قلم کاروں میں ہوتا ہے، شاعرہ بھی ہیں اور افسانہ نگار بھی، جب کہ آرٹ سے بھی اُنہیں خصوصی لگاؤ ہے۔ اُنہوں نے لاتعداد علمی، ادبی، فلمی، سماجی اور سیاسی شخصیات کے انٹرویوز کیے، جو مختلف اخبارات میں شائع ہوئے۔ شاعری، افسانہ نگاری اور ناول نگاری کے حوالے سے اُن کی کئی کتابیں منظرِعام پر آچُکی ہیں اور ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ شاعرہ بڑی ہیں یا افسانہ نگار، تاہم دونوں میدانوں میں خُود کو منوا ضرور چُکی ہیں۔ 

اس وقت ہمارے پیشِ نظر محمودہ غازیہ کے افسانوں اور کہانیوں پر مشتمل کتاب ہے، جس میں قدرت اللہ شہاب، محمّد منشا یاد اور محمّد حمید شاہد جیسے معتبر قلم کاروں نے اُن کی افسانہ نگاری کو سراہا ہے۔ ان کا ہر افسانہ، ایک نئے ذائقے سے آشنا کرتا ہے۔ بعض کہانیاں خُود کو پڑھوا لیتی ہیں اور محمودہ غازیہ کی کہانیوں میں یہ وصف بدرجۂ اتم موجود ہے کہ اُن کا قاری اُن کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ 

محمّد حمید شاہد موجودہ عہد کے نہایت اہم افسانہ نگار ہیں۔ مصنّفہ سے متعلق اُن کے مضمون کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔’’محمودہ غازیہ نے اپنی سنگلاخ زندگی کو ایک کوہ کن کی طرح کاٹ، کاٹ کر ر ہنے کے قابل بنایا ہے۔ ان کا تجربہ گہرا اور تخیّل اِتنا ہرا بھرا ہے کہ لکھتے ہوئے اُن کی کہانیوں میں زمینیں اور زمانے سما گئے ہیں۔ وہ افسانہ لکھیں یا ناولٹ، یہ ہر بار آج کی عورت کی کہانی بن جاتی ہے۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید