• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقت کا درست استعمال: کامیابی کی کنجی، نجات کا ذریعہ

اریبہ سہیل، کراچی

وقت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور امانت ہے، جس کے بارے میں ہم سے قیامت کے دن سوال کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں وقت کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے اور قرآنِ کریم و احادیثِ نبویؐ میں بار بار اس کی قدروقیمت اور درست استعمال پر زور دیا گیا ہے۔

یاد رہے، انسان کی زندگی لمحوں اور سانسوں کی امانت ہے، جو آہستہ آہستہ گھٹتی رہتی ہے۔ اس دوران جو انسان وقت کی قدر کرتا ہے، وہ کام یابی کی منازل طے کرلیتا ہے اور جو اسے ضائع کرتا ہے، وہ ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینِ اسلام نے وقت کو خاص اہمیت دی اور اس کی حفاظت کی تعلیم فرمائی ہے۔

قرآنِ پاک کی روشنی میں وقت کی اہمیت: قرآنِ پاک میں کئی مقامات پر وقت کی قدرو قیمت بیان کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر سورۃ العصر میں اللہ تعالیٰ زمانے کی قسم اُٹھا کر فرماتے ہیں۔ ’’بےشک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کیے، حق بات کی تلقین کی اور صبر اختیار کیا۔‘‘ گویا وقت کا دُرست استعمال ہی کام یابی کی کُنجی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ 

اِسی طرح سورۃ الفجر کا آغاز بھی وقت کی قسم سے ہوتا ہے۔ ترجمہ: ’’فجر کی قسم ہے اور دس راتوں کی۔‘‘ ان آیات سے پتا چلتا ہے،وقت ایک ایسی نعمت ہے، جس کی قسم خُود اللہ تعالیٰ نےکھائی ہے۔ سو ہمیں کسی صُورت اسے لہو و لعب میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

احادیث کی روشنی میں وقت کی اہمیت: نبی اکرم ﷺ نے وقت کی قدر اور اس کے درست استعمال پر بارہا زور دیا۔ ایک مشہور حدیث ہے۔ ’’دو نعمتیں ایسی ہیں، جن میں اکثر لوگ نقصان اُٹھاتے ہیں، صحت اور فراغت۔‘‘ (صحیح بخاری) اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اکثر انسان اپنی صحت اور فرصت کے لمحات کو فضول، بے کار کاموں کی نذر کردیتے ہیں، حالاں کہ یہی دونوں چیزیں زندگی میں کام یابی کی ضمانت، نیک اعمال کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ 

ایک اور حدیث میں رسول اکرم ﷺ نےفرمایا۔ ’’قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے، جب تک اُس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ ہو۔ اُس نے زندگی کہاں گزاری؟ اُس نے علم کہاں استعمال کیا؟ اُس نے مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور اُس نے اپنا جسم کہاں بوسیدہ کیا؟‘‘(ترمذی)یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وقت بھی اللہ تعالیٰ کی ایک امانت ہے، جس کا ہمیں روزِ آخرت حساب دینا ہوگا۔

وقت کے زیاں کے نقصانات: عصرِحاضر میں وقت کا غلط استعمال ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم روزانہ کئی گھنٹے غیرمفید مجالس ومحافل، لغو باتوں اورخاص طور پرموبائل فون اسکرولنگ کی نذر کردیتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہےکہ نوجوان تعلیمی میدان میں پیچھےرہ گئے ہیں،تو دیگر افراد اپنے فرائض پورے نہیں کر پا رہے۔ معاشرہ ترقّی کی بجائے زوال کا شکار ہونے لگا ہے۔ 

یاد رہے، وقت ضائع کرنے والا شخص دُنیا میں عزّت پاتا ہے اور نہ ہی آخرت میں سُرخ رُو ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے وقت کی قدر کی، اللہ تعالیٰ نے اُنہیں عظمت و سربلندی، مقام ومرتبے سے نوازا۔ خلیفۂ ثانی، حضرت عُمر فاروقؓ کا معمول تھا کہ وہ دن کے کام دن میں اور رات کے کام رات میں کرتے، تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔

وقت کی اہمیت کے حوالے سے امام شافعیؒ فرماتے ہیں۔’’وقت تلوار کی مانند ہے، اگر تم اُسے نہ کاٹو گے، تو یہ تمہیں کاٹ دے گا۔‘‘ امام غزالیؒ نے فرمایا کہ ’’انسان کی زندگی دراصل اُس کا وقت ہے۔ جب وہ وقت ضائع کرتاہے، توگویا اپنی زندگی ضائع کرتا ہے۔‘‘ یہ مثالیں ہمیں سبق دیتی ہیں کہ وقت کی حفاظت ہی کام یابی کا پہلا زینہ ہے۔

وقت کا دُرست استعمال: اسلام ہمیں اپنی زندگی میں اعتدال و توازن اپنانےکا درس دیتا ہے۔ وقت کے مفید اور نتیجہ خیزاستعمال کے لیے ہمیں اسےمختلف حصّوں میں تقسیم کرنا چاہیے۔ مثال کے طورپر کچھ وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت، ذکرو اذکار کے لیے، کچھ تعلیم، مطالعے اور تحقیق کے لیے، کچھ کام اور حصولِ رزقِ حلال کے لیے، کچھ اہلِ خانہ اور معاشرتی ذمّے داریوں کے لیے اور کچھ آرام کے لیے مختص کرنا چاہیے کہ وقت کی اِسی تقسیم میں ہماری اصل کام یابی پوشیدہ ہے۔ نیز، اگر ہم وقت ضائع کرنے کی بجائےاُسے منظّم طور پر استعمال کریں، تو دنیاوی ترقّی کے ساتھ اخروی کام یابی بھی ہمارا مقدّر بن سکتی ہے۔

واضح رہے، وقت ایک ایسی دولت بلکہ خزانہ ہے، جو اگر ایک بار ہاتھ سے نکل جائے، تو دوبارہ واپس نہیں آتا۔ اسلام وقت کی حفاظت کو ایمان کا حصّہ قراردیتا ہے اور جو مسلمان وقت کو اللہ کی اطاعت، نیک اعمال، تعلیم اور خدمتِ خلق کے لیے استعمال کرتا ہے، وہ خورسند رہتا ہے اور جو اِسے فضولیات میں ضائع کرتا ہے، وہ ہمیشہ نقصان اُٹھاتا ہے۔ لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ ہم وقت کی بھرپور قدر کریں اور اپنی زندگی کا ہر ہرلمحہ اللہ کی رضا کے مطابق گزاریں۔ یہی اسلام کا پیغام اور کام یاب زندگی کا راز ہے۔

یاد رہے، وقت اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ایک عظیم نعمت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر لمحے کو بامقصد بنائیں اور اپنے وقت کو عبادات، علم کے حصول اور انسانیت کی خدمت میں صَرف کریں۔ یاد رکھیں، وقت ہی وہ میزان ہے، جس پر ہماری دُنیا اور آخرت کی کام یابی کی پیمائش کی جاتی ہے۔ 

دُنیا کے عظیم مفکّرین، سائنس دانوں اور فاتحین کی زندگی کا مطالعہ کریں، تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کام یابی کا سب سے بڑا راز وقت کی پابندی تھا۔ وقت کا صحیح استعمال ہی انسان کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے اور جو شخص آج وقت کی قدر کرے گا، وہ کل ایک روشن مستقبل کا مالک ہوگا۔

سنڈے میگزین سے مزید