• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق فوری توجہ کی متقاضی

عالمی سطح پر مسابقت کے لیے اپنی جامعات کو تحقیق و جدّت کا مرکز بنانا ہوگا۔
عالمی سطح پر مسابقت کے لیے اپنی جامعات کو تحقیق و جدّت کا مرکز بنانا ہوگا۔

ڈاکٹر محمّد جلال عارف

اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور قومی طاقت کا باہمی تعلق انسانی تاریخ کی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ آج کی دنیا میں ریاستوں کی طاقت کا انحصار فوجی قوّت یا قدرتی وسائل کے ساتھ، اِس بات پر بھی ہے کہ وہ علم و تحقیق اور ٹیکنالوجی میں کس مقام پر کھڑی ہیں۔

اکیسویں صدی کو بجا طور پر’’علم کی صدی‘‘ کہا جاتا ہے، کیوں کہ اب معیشتیں کارخانوں کے دھوئیں سے نہیں، جامعات کی تجربہ گاہوں سے جنم لینے والی تحقیق سے چلتی ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنی جامعات کو قومی ترقّی کے بنیادی ستون کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ 

امریکا، چین، جرمنی اور جنوبی کوریا جیسے ممالک نے اپنی یونی ورسٹیز کو صرف تعلیمی اداروں کے طور پر نہیں، بلکہ صنعتی ترقّی، معاشی استحکام اور قومی سلامتی کے مراکز کے طور پر تشکیل دیا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان ایک ایسا مُلک ہے، جہاں نوجوان آبادی کی تعداد بہت زیادہ ہے، مگر اعلیٰ تعلیم و تحقیق پر محدود سرمایہ کاری کے باعث یہ صلاحیت ابھی تک مکمل قومی طاقت میں تبدیل نہیں ہو سکی۔

امریکا کی مثال نہایت واضح اور سبق آموز ہے۔ وہ اِس وقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، جس کا حجم تقریباً ستائیس کھرب ڈالرز سے تجاوز کر چُکا ہے اور اس کام یابی کی بنیادی وجہ اس کی جامعات اور تحقیق پر غیر معمولی سرمایہ کاری ہے۔ امریکی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے مطابق صرف امریکی یونی ورسٹیز نے دو ہزار چوبیس میں تحقیق و ترقّی پر ایک سو سترہ ارب ڈالرز سے زائد خرچ کیے۔ یہ رقم کئی ترقّی پذیر ممالک کے مجموعی قومی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ 

امریکا میں تحقیق کو قومی ترجیح حاصل ہے اور حکومت، نجی شعبہ اور جامعات مل کر ایک ایسا تحقیقی نظام تشکیل دیتے ہیں، جس کے نتائج براہِ راست صنعت اور معیشت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ امریکی حکومت ہر سال اربوں ڈالرز یونی ورسٹی تحقیق پر خرچ کرتی ہے، کیوں کہ اُسے ادراک ہے کہ تحقیق ہی مستقبل کی معاشی طاقت کی بنیاد ہے۔ امریکا کی بڑی جامعات جیسے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، اسٹینفورڈ یونی ورسٹی، ہارورڈ یونی ورسٹی اور کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی عالمی سطح پر تحقیق اور جدّت کے مراکز سمجھے جاتے ہیں۔

اسٹینفورڈ یونی ورسٹی کی مثال اِس ضمن میں اہم ہے کہ اِسی یونی ورسٹی نے’’سلیکون ویلی‘‘ کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔ آج سلیکون ویلی دنیا کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی مرکز ہے، جہاں گوگل، ایپل، فیس بُک، انٹیل اور ٹیسلا جیسی عالمی کمپنیز قائم ہوئیں۔ ان کمپنیز کی بنیاد کسی صنعتی کارخانے میں نہیں بلکہ یونی ورسٹیز کی تحقیق پر رکھی گئی۔ اِسی طرح میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے گریجویٹس نے ہزاروں کمپنیز قائم کیں، جن کی مجموعی مالیت کھربوں ڈالرز ہے۔

یہ تمام مثالیں یہ حقیقت واضح کرتی ہیں کہ جدید دنیا میں یونی ورسٹیز ہی صنعتی ترقّی اور معاشی طاقت کی اصل بنیاد ہیں۔ امریکا میں یونی ورسٹی اور صنعت کے درمیان ایک مضبوط و مربوط نظام موجود ہے۔ طلبہ اپنی تعلیم کے دوران ہی صنعتی اداروں میں کام، تحقیق کرتے اور نئی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔

یونی ورسٹیز میں ہونے والی تحقیق فوری طور پر صنعت میں منتقل کی جاتی ہے، جس سے نئی ٹیکنالوجیز اور نئی صنعتیں جنم لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریک مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی میں دنیا کا رہنما ہے۔ گویا، امریکا کی معاشی طاقت کا ایک بڑا حصّہ اس کی جامعات کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔

امریکا کے35 ویں صدر جان ایف کینیڈی نے1963ء میں امریکی یونی ورسٹی، واشنگٹن میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ہمیں اپنی جامعات کو صرف تعلیم مہیا کرنے کے مراکز کے طور پر نہیں بلکہ امن، ترقّی اور انسانی مستقبل کی تعمیر کے مراکز کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ کیوں کہ ایک قوم کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں میں نہیں، اُس کے ذہنوں میں ہوتی ہے۔‘‘ یہ خطاب نہ صرف امریکی تعلیمی پالیسی کا بنیادی اصول بن گیا، بلکہ دنیا کے لیے بھی ایک سبق ثابت ہوا کہ تحقیق اور علم ہی قومی طاقت کی اصل ضمانت ہیں۔

پاکستان کی صُورتِ حال یک سر مختلف ہے۔ یہاں تقریباً دو سو سے زائد جامعات موجود ہیں، جن میں تقریباً بیس لاکھ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد قیامِ پاکستان کے ابتدائی عشروں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے، لیکن اصل مسئلہ تحقیق پر سرمایہ کاری کا ہے۔ 

پاکستان کا مجموعی تحقیقاتی بجٹ اس کی مجموعی قومی پیداوار کا صفر اعشاریہ تین فی صد سے بھی کم ہے، جو عالمی معیار سے بہت کم ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا سالانہ ترقیاتی بجٹ تقریباً ساٹھ سے ستّر ارب روپے کے درمیان رہتا ہے، جو ایک درمیانے درجے کی امریکی یونی ورسٹی کے تحقیقاتی بجٹ سے بھی کم ہے۔

پاکستان کی جامعات میں تحقیق کی رفتار میں اضافہ ضرور ہوا ہے کہ یہاں گزشتہ دو دہائیوں میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالوں کی تعداد اس کا ثبوت ہے اور پاکستانی جامعات عالمی درجہ بندی میں بھی جگہ بنانے میں کام یاب ہوئیں، لیکن تحقیق کا معیار اور اس کا معاشی اثر ابھی محدود ہے۔ پاکستان میں ہونے والی زیادہ تر تحقیق نظریاتی ہے، جس کا صنعتی یا معاشی استعمال بہت کم ہے اور اس کی بنیادی وجہ جامعات اور صنعت کے درمیان کم زور رابطہ ہے۔ 

پنجاب میں حالیہ عرصے کے دَوران اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے وزیرِ اعلیٰ پنجاب، مریم نواز شریف کی قیادت میں متعدّد اہم اصلاحات کا آغاز کیا گیا، جن کا بنیادی مقصد جامعات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور طلبہ کو عالمی معیار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ پنجاب حکومت نے’’ہونہار اسکالرشپ پروگرام‘‘ کے ذریعے ہزاروں ذہین، مگر مالی مشکلات کے شکار طلبہ کو مکمل مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا، جس کے تحت نہ صرف سرکاری بلکہ نجی جامعات میں بھی میرٹ پر داخلہ لینے والے طلبہ کی فیس حکومت ادا کر رہی ہے۔ 

اِسی طرح لیپ ٹاپ اسکیم کی بحالی کا مقصد طلبہ کو ڈیجیٹل تحقیق اور جدید علمی ذرائع تک رسائی فراہم کرنا ہے تاکہ وہ عالمی علمی دھارے کا حصّہ بن سکیں۔ پنجاب حکومت نے نواز شریف آئی ٹی سٹی، لاہور جیسے منصوبوں کے ذریعے جامعات اور ٹیکنالوجی صنعت کے درمیان براہِ راست تعلق قائم کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے تحقیق کو عملی معاشی سرگرمی میں تبدیل کرنے کی راہ ہم وار ہو رہی ہے۔

مزید برآں، جامعات میں جدید لیبارٹریز کے قیام، غیر مُلکی جامعات کے ساتھ اشتراک، فیکلٹی کی تربیت اور تحقیقی گرانٹس میں اضافے جیسے اقدامات اِس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ صوبائی سطح پر اعلیٰ تعلیم کو ترقّی کی بنیاد تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہ اصلاحات اگر تسلسل کے ساتھ جاری رہیں، تو پنجاب نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطّے میں علمی و تحقیقی مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے اور یہی وہ راستہ ہے، جو کسی بھی معاشرے کو پائے دار ترقّی کی طرف لے جاتا ہے۔

آج دنیا ایک نئے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے، جسے’’چوتھا صنعتی انقلاب‘‘ کہا جاتا ہے۔ اِس انقلاب میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، بڑے ڈیٹاز اور جدید ٹیکنالوجی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تمام ٹیکنالوجیز یونی ورسٹی تحقیق کا نتیجہ ہیں۔ امریکا نے اپنی جامعات کو اِس انقلاب کا مرکز بنایا ہے اور اسی وجہ سے وہ ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی قیادت کر رہا ہے۔ پاکستان ابھی اس میدان میں ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اِسے عالمی سطح پر مسابقت کے لیے اپنی جامعات کو تحقیق و جدّت کا مرکز بنانا ہوگا۔ 

بلاشبہ، پاکستان کے پاس بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ مُلک کی نوجوان آبادی ایک بہت بڑا قومی اثاثہ ہے اور اگر اسے معیاری تعلیم اور جدید تحقیق کے مواقع فراہم کیے جائیں، تو وہ یقیناً پاکستان کو ترقّی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ جامعات کو ہر طرح کی خصوصاً سیاسی مداخلت سے آزاد رکھا جائے اور انہیں تحقیق کے لیے مناسب وسائل فراہم کیے جائیں۔

دنیا کی ترقّی یافتہ اقوام نے اپنی جامعات کو قومی ترقّی کا محور بنایا اور تحقیق پر سرمایہ کاری کو مستقبل پر سرمایہ کاری سمجھا۔ پاکستان کے پاس بھی یہی موقع موجود ہے کہ وہ اپنی جامعات کو مضبوط بنا کر اپنی معیشت مستحکم کرے۔ اگر پاکستان نے اعلیٰ تعلیم و تحقیق کو ترجیح دی، تو وہ نہ صرف معاشی بحران سے نکل سکتا ہے، بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار مقام بھی حاصل کر سکتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم صرف تعلیمی شعبہ نہیں بلکہ قومی بقا، معاشی خودمختاری اور مستقبل کی ضمانت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے، جو پاکستان کو ترقّی، استحکام اور عالمی وقار کی نئی منزلوں تک لے جا سکتا ہے۔ (مضمون نگار، سابق پروفیسر اور چیئرمین، شعبہ اینٹومالوجی، یونی ورسٹی آف فیصل آباد ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
تعلیم سے مزید