• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جہاں ہر روز قرباں ہو رہے ہیں ماؤں کے بچّے

وہاں کیسے زباں کہہ دے مبارک عید ہو تجھ کو

عید مسلمانوں کیلئے خوشی کا تہوار ہے لیکن یہ تہوار اس مرتبہ ایسے دکھ کی گھڑی میں آیا ہے جب پورا عالم اسلام لہولہان ہے۔ ایک طرف غزہ میں کھلے آسمان کے نیچے فلسطینی اپنے ہی وطن میں دیارِ غیر کی طرح بے بس پڑے ہیں جن پر اسرائیلی درندے گزشتہ ڈھائی سال سے آگ برسا رہے ہیں جسکے نتیجے میں 70 ہزار سے زیادہ نہتے فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ جن میں معصوم بچے بوڑھے اور خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک سال میں دوسری مرتبہ اقوام متحدہ کے تمام اصولوں کو پامال کرتے ہوئے ننگی جارحیت کی ہے اور بے گناہ مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا ہے۔ماہِ رمضان میں مسلمانوں کو رمضان شریف کی مبارک باد دے کر صدر ٹرمپ نے مسلمانوں پر میزائلوں کی جو بارش کی ہے وہ مسلمانوں کی حالتِ زار کا تمسخر اڑانے کے مترادف ہے جو ابھی تک آپس میں بھی دست و گریباں ہو رہے ہیں۔اگرچہ تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے ہم اسے مذہبی جنگ نہیں سمجھتے کیونکہ دنیا کا کوئی مذہب بے گناہوں کا خون بہانے کی اجازت نہیں دیتا البتہ جنگ جیتنے کیلئے مذہب سمیت ہر اس چیز کا سہارا لیا جاتا ہے جس کا اس جنگ سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ ہر جنگ کی بنیاد معاشی اور قومی مفادات پر مبنی ہوتی ہے لیکن آگے چل کر وہ مذہبی، لسانی، قومیتی، گروہی اور جغرافیائی، غرض ہر قسم کی عمودی اور افقی تقسیموں میں بٹ جاتی ہے۔ جیسے تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو اصل مذہبی دشمنی تو یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان تھی جنہوں نے حضرت عیسیٰ اور ان کے ماننے والوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے۔ اسلام تو اس کے تقریبا ً پونے چھ سو سال کے بعد آیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کا آغاز بھی بظاہر یہودیوں پر مظالم کے حوالے سے عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان ہوا تھا۔جب مغربی استعمار نے اسرائیل کے قیام کا فیصلہ کیا تو انہیں پہلےبراعظم افریقہ میںاسرائیل قائم کرنےکی آفر دی تھی جو انہوں نے منظور نہیں کی تھی۔ اب فرض کیجئے کہ اگر اسرائیل براعظم افریقہ میں ہوتا اور تیل کے ذخائر مشرق وسطیٰ یا خلیجی ممالک میں نہ ہوتے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے تو اس بحران کا کیا نقشہ ہوتا؟ پھر اس خطے اور اس میں بسنے والوںکی وہ اہمیت نہ ہوتی جو آج ہے۔ اس صورت میں یہ جنگ اس خطے کے بجائے کہیں اور ہو رہی ہوتی اور وہاں جس مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہوتی تو وہ یہ خیال کرتے کہ یہ جنگ ان کے مذہب کے خلاف ہو رہی ہے۔ بالکل اسی طرح جب محمود غزنوی نے ہندوستان پر 17 اور احمد شاہ ابدالی نے آٹھ حملے کیے تو پنڈتوں نے اپنے حلوے مانڈے بچانےکیلئےانہیں مذہبی جنگوں کا نام دے دیا۔ حالانکہ محمود غزنوی کی فوج میں بعد میں تو بڑی تعداد میں ہندو سپاہی اور جرنیل بھی شامل ہو چکے تھے۔ ماضی قریب میں لڑی جانے والی دنیا کی خوفناک ترین جنگ عظیم دوم میں آپس میں لڑنے والے اکثر ممالک عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ وہ طالبان جن کیلئے پاکستان نے نصف صدی سے اپنی ثقافت معیشت اور امن و امان کو تباہ کر لیا ہے اور جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ مسلمان ہونے کے ناطے وہ ہماری مغربی سرحدوں کے محافظ ہیں۔ آج ہندوتوا کے پرچارک نریندر مودی کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کی مغربی سرحدوں کیلئےسب سے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ یہی حال دیگر مسلم ممالک کا ہے جن کی اسرائیل کے بارے میں بھی ایک پالیسی نہیں ہے۔ کئی ابھی تک چپ سادھے بیٹھے ہیں۔ اگر ہم مذہبی یکسانیت کو ایک طرف بھی رکھ دیں تو بھی ایک ہی خطے میں ہونے کی وجہ سے ان ممالک کا جغرافیائی اتحاد بھی ان کی طاقت بن سکتا تھا لیکن اس معاملے میں بھی وہ متحد نہیں اور سات سمندر پار واقع امریکہ ان کا محافظ بنا ہوا ہے جس نے برائی کے محور اسرائیل کے نہ صرف جنم میں بنیادی کردار ادا کیا تھا بلکہ گزشتہ 80 سال سے اپنے غنڈے کے طور پر اسے عربوں پر مسلط کیا ہوا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت ابھی تک علم و تحقیق اور سائنسی علوم میں تمام اقوام سے پیچھے ہے ۔کیونکہ جنگ روکنے کیلئے بھی جنگی صلاحیت کا برابر ہونا لازمی ہے ۔البتہ طاقتور اور سائنسی طور پر ترقی یافتہ اقوام کا المیہ یہ ہے کہ وہ تاریخ کے اس اصول سے سبق نہیں سیکھتیں کہ ہر جنگ میں اصل فاتح موت ہوتی ہے۔ اسی حوالے سے’’میں باغی ہوں‘‘ سے ایک نظم ’فاتح کون ‘پیش کررہا ہوں جنگ باز انسانو !/نفرتوں کی آتش میں جلنے والے دیوانو !/توپیں بہری گونگی ہیں/ گولیوں کے سینے میں ماں کا دل نہیں ہوتا /بم میزائل اندھے ہیں /کس کا سینہ زد پہ ہے خنجروں کی نوکوں پر کچھ لکھا نہیں ہوتا / اس ہوس کی جنگ میں / زندگی تو روتی ہے/ موت اس میں فاتح ہے ہار سب کو ہوتی ہے۔

تازہ ترین