مارچ کا مہینہ ہماری قومی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اس کی سب سے بڑی اہمیت تو قراردادِ پاکستان کے حوالے سے ہے جو لاہور میں 23 مارچ 1940ءکو منظور ہوئی جسکے سات سال بعد پاکستان کا قیام عمل میں آیا ۔لیکن قیامِ پاکستان کے بعد ہماری سیاسی تاریخ میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جن کا تعلق بھی مارچ کے مہینے سے ہے اور جنہوں نے ہماری قومی اور سیاسی زندگی پر دور رس نتائج مرتب کیے۔ ان واقعات کا تعلق پاکستان کے اولین منتخب وزیراعظم اور پاکستان کے متفقہ دستور اور ایٹمی پروگرام کے بانی جناب ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمۂ قتل اور ان سے وابستہ کرداروں سے ہے۔ جناب بھٹو کے خلاف مقدمہ قتل کو ابتدا سے ہی عدالتی قتل قرار دیا جانے لگا تھا کیونکہ انکے مقدمے کا آغاز نچلی عدالت یعنی سیشن کورٹ کی بجائے براہِ راست ہائی کورٹ سے کیا گیا تھا اور ملزم کو ایک پورے عدالتی درجے سے اپنی صفائی پیش کرنے کے موقع سے محروم کر دیا گیا تھا اور پھر بھٹو صاحب کے شدید مخالف جسٹس مولوی مشتاق حسین کو بھٹو صاحب کے خلاف مقدمہ قتل کے بینچ کا سربراہ بنا دیا گیا تھا۔ یہ وہی مولوی مشتاق تھے جنہیں لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس نہ بنانے پر بھٹو صاحب سے اختلاف دشمنی کی حد تک تھا۔ جنرل ضیا نے نہ صرف انہیں لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا بلکہ چیف الیکشن کمشنر بھی بنا دیا۔ اسی مولوی مشتاق کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ نے 18 مارچ 1978 کو جناب بھٹو کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا ۔جسے دنیا کے نامور قانون دانوں نے عدالتی قتل قرار دے دیا تھا۔ امریکی سابق اٹارنی جنرل ریمزے کلارک اور سری لنکا کے سابق چیف جسٹس ٹی ڈبلیو راجہ رتنم اس سلسلے میں پیش پیش تھے۔ راجہ رتنم نے تو بھٹو کے مقدمہ قتل کی ناانصافیوں کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھی تھی جس کا نام تھا ’’ جوڈیشری ان کرائسز‘‘ یعنی عدلیہ کا بحران۔ بھٹو صاحب کیخلاف مقدمہ قتل اس قدر بوگس اور نا انصافی پر مبنی تھا کہ کبھی کسی قانون دان نے عدالت میں اس مقدمے کی نظیر پیش نہیں کی۔ میں نے جناب بھٹو کے مقدمہ قتل کے حوالے سے پاکستان ٹیلی ویژن کیلئے ایک ڈاکومنٹری ’آزادئ جمہور‘ کے نام سے بنائی تھی جس میں اس وقت کے کئی نامور قانون دانوں عابد حسن منٹو، عاصمہ جہانگیر، اعتزاز احسن اور بھٹو صاحب کے شدید سیاسی مخالفین جسٹس جاوید اقبال اور ایس ایم ظفر کے انٹرویو بھی شامل تھے۔ ان سب کی متفقہ رائے تھی کہ بھٹو صاحب کے خلاف بنایا گیا مقدمہ انتہائی بوگس اور جھوٹ پر مبنی تھا۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ میں بھٹو کے مقدمہ قتل کی سماعت کرنے والے جسٹس نسیم حسن شاہ نے معروف اینکر پرسن افتخار احمد کے پروگرام میں خود اعتراف کیا تھا کہ ان پر بھٹو صاحب کو مجرم قرار دینے کیلئے اس وقت کی فوجی حکومت کا شدید دباؤ تھا ۔پھانسی سے پہلے بھٹو صاحب کے آخری الفاظ یہ تھے کہ’خدا گواہ ہے میں بے گناہ ہوں‘ ۔بھٹو صاحب کی پہلی بے گناہی کی شہادت تو یہ تھی کہ کردار کشی کی تمام ترحکومتی کوششوں کے باوجود عوام نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا تھا اور انہوں نے اس عدالتی قتل کے 11 سال کے بعد ہونے والے عام انتخابات میں تمام تر حکومتی دھاندلی کے باوجود ان کی بیٹی کو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب کیا ۔جبکہ گزشتہ نصف صدی سے آج بھی ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست کا مرکزی کردار اور افسانوی شخصیت ہیں۔ جناب بھٹو کی دوسری بے گناہی بھی مارچ ہی کے مہینے میں ظاہر ہوئی۔ جناب آصف علی زرداری کی جانب سے بھٹو شہید کے مقدمہ قتل کی شفافیت کو چیلنج کرنے کے ریفرنس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے یہ فیصلہ سنایا کہ جناب بھٹو کے مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے تھے۔ اتفاق سے یہ فیصلہ بھی مارچ ہی کے مہینے میں سنایا گیا یعنی 6 مارچ 2024 کو۔اس کے بعد اسی سال 23 مارچ 2024 کو جناب ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کا سب سے بڑا سول قومی اعزاز نشانِ پاکستان عطا کیا گیا۔ یوں قدرت نے 18 مارچ 1978 کو ہونے والی ناانصافی کا ازالہ 6 مارچ 2024 کو کر دیا۔ لیکن ماہِ مارچ میں اس حوالے سے ہونے والا سب سے حیرت انگیز اور عبرت ناک واقعہ اس وقت رونما ہوا جب 30 مارچ 1989 کو جسٹس مشتاق حسین کے جنازے پر شہد کی مکھیوں نے اچانک حملہ کر دیا۔ ہمارے ایک دوست راؤ اکبر جو اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔ بتاتے ہیں کہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ تمام لوگ مولوی مشتاق کا جنازہ چھوڑ کر بھاگ گئے ۔اس بھگدڑ میں کئی لوگ زخمی ہو گئے اور ایک شخص وفات پا گیا۔ اس سے پہلے 17 اگست 1988 کو جنرل ضیا طیارے کے حادثے میںمارے گئے ۔مون ڈائجسٹ کے مدیر ادیب جاودانی مرحوم نے اس سلسلے میں خصوصی نمبر بھی شائع کیا تھا جس میں ان لوگوں کے انجام کا ذکر تھا جو کسی نہ کسی حوالے سے بھٹو شہید کے مقدمہ قتل سے منسلک تھے۔ یہ واقعات آج اور کل آنیوالے ان تمام حکمرانوں کیلئے نوشتہ دیوار ہیں جو اپنے سیاسی حریفوں کیخلاف ہر ناانصافی اور جبر کو انصاف کا نام دیتے ہیں۔ اس زمانے میں اس واقعے پر میں نے بھی ایک نظم" شہد کی مکھیاں" کے عنوان سے لکھی تھی ۔
مکھیاں وہ شہد کی
گواہی اپنے عہد کی
کہ بن کے خوف کی جو لہر
وہ ایک جج کی لاش پر
جو یک بیک تھیں پل پڑیں
وہ کتنا کچھ تھی کہہ گئیں
مریض کے لیے شفا
ہے روگ کے لیے دوا
کہ منصفِ عظیم کا
جو حکم ہو تو اک سزا
کہ ظالموں پہ قہر ہیں
یہ خوفناک زہر ہیں