میرے خیال میں چینیوں کو یاد نہیں ہوگا کہ پاکستان کے موجودہ وزیرِخارجہ سے پہلےبھی کوئی پلستر باندھ کے ان کے پاس آیا ہوبہر حال جب ہمارے وزیر خارجہ ترکیہ،مصر اور خاص طور پر سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ کی اسلام آباد آمد کے موقع پر سچ مچ گرے تو ان کے ایک وفادار نے محنت سے بنائے ان کے بالوں کی جانب اشارہ کیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے سنوار لیں پھر ایک اسمارٹ قسم کا پلاسٹر انہیں اس طرح باندھا گیا جو صرف اہلِ درد کو دکھائی دیتا ہے اس کے ساتھ یہ خبریں بھی ہیں کہ ہمارے صدر زرداری اسی رات دیر گئے چینی سفارت خانے گئے،جسکی سرکاری پریس ریلیزجاری نہیں کی گئی البتہ اس کے بعد انہوں نے جناب اسحاق ڈار سے کہا کہ چینی وزیرِ خارجہ آپ کے منتظر ہیں،جلد وہاں پہنچئے،عام طور پر چینی اپنے جذبات چھپانے کا فن جانتے ہیں تاہم سب نے میڈیا پر دیکھا کہ چینی وزیرِ خارجہ کے چہرے پر ہمدردی کے ایسے تاثرات تھے کہ اندر سے ہمارے وزیرِ خارجہ کا جی چاہا ہوگا کہ وہ ان سے گلے ملتے ہوئے ایک دو اشک بہا دیں ممکن ہے کہ یہاں آنے سے پہلے انہوں نے چھوٹے یا بڑے میاں صاحب سے سرگوشی بھی کی ہو کہ زرداری صاحب نے یہ کیوں کہا ذرا جلدی کریں اس سے پہلے کہ بھارت افغانستان کے خوارج کے ذریعے کوئی دھماکہ کرانے کی کوشش کرے مگر سب نے سنا اور دیکھا کہ انہیں چین میں پانچ نکات بتائے گئے۔
ہمارے کچھ شاگرد، دوست اور استاد چین میں رہے ہیں وہ بتا سکتے ہیں کہ چین کو پانچ کے عدد سے کیوں دلچسپی ہے؟ جب امریکہ اور مغرب سے ہم توقع باندھے ہوئے تھے کہ وہ بھارت کے خلاف ہمیں تحفظ بھی دیں گے اور کشمیر کا مسئلہ حل بھی کرائیں گے تو انیس سو باسٹھ سے پہلے چین ،بھارت،مصر اور یوگو سلاویہ کی قیادتیں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے دنیا کو ’’پنج شیلا‘‘ کا درس دے رہے تھے ۔ پھر یہ ہوا کہ دلائی لامہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ لداخ سے بھارت کی پناہ میں چلے گئے اور جواہر لال نہرو جیسے مدبر بھی شاید اپنے وزیرِ دفاع کرشنامینن کی اکساہٹ میں آ کر نیفا میں چین سے الجھ گئے اور پھر شاید نہرو جی کو عارضہ قلب ہوا اور بعض واقعات جلدی جلدی ہونا شروع ہوئے۔
انہوں نے کشمیر کے نظر بند وزیرِ اعلیٰ شیخ عبداللہ کو رہا کیا اور پاکستان میں فیلڈ مارشل ایوب خان کے پاس بھیجا کہ بھارت پاکستان سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرنے کیلئے تیار ہے اور وادی کشمیر میں استصواب رائے کیلئے بھی راضی ہے تب امریکہ نے بھی شاید ایوب خان سے کہا کہ چین اور بھارت کے تنازع سے بے تعلق ہو جائیں ہم’’ضامن‘‘ ہیں۔بیشتر پاکستانی سمجھتے تھےاور اب بھی جانتے ہیں کہ مشکل وقت ٹالنے کا یہ پنڈت جی کا حربہ تھا۔ ستمبر پینسٹھ کی جنگ ہوگئی اور معاہدہ تاشقند ہوا ۔لال بہادر شاستری کا تابوت وہاں تیار ہوا اور ایوب خان کے وزیرِ خارجہ اور کنونشن مسلم لیگ کے سیکرٹری ذوالفقار علی بھٹو نے استعفیٰ دیا اور قومی افق پر ایک مقبول عوامی رہنما نئے روپ میں طلوع ہوئے۔
ریٹائرڈ ائیر مارشل اصغر خان نے کہا کہ میں اسے کوہالہ کے پل پر لٹکائوں گا،پر ہم جیسے چاہنے والوں کے نزدیک وہ پاک چین دوستی کا معمار تھا وہ چیئرمین مائو کی مٹھی کو غور سے دیکھتا تھا جس نےتقریباََ ایک ارب چینیوں کواس میں تھاما ہوا تھا مگر وہ اس کے وزیرِ اعظم چو این لائی کو سیاسیاتِ عالم کا بڑا ماہر خیال کرتا اور ہر ملاقات میں یہ دونوں قریب تر ہو جاتے یا یوں جانیں کہ پاک چین دوستی مستحکم ہو جاتی ۔امریکہ اور اس کے اتحادی چین کے ایک جزیرےفارموسا میں سمٹی جنرل کائی شیک کی حکومت کو پورے چین پر مسلط کرنا چاہتے تھے اسے ہی سلامتی کونسل کے پانچ بڑوں کی سیٹ پر بٹھا رکھا تھا مگر پاکستان نے اپنے قیام کے دو برس بعد ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ فارموسا کی کٹھ پتلی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائیگا اور بھٹو کے دور میں اس کے لئے عالمی سطح پر سفارت کاری تیز تر ہوئی اور مائو اور چو این لائی کے چین کو سلامتی کونسل کی یہ نشست اکتوبراکہتر میں واپس ملی ۔
تب چین نے دوستانہ طریقے سے پاکستان کے جنرل یحییٰ خان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے مابین چھ نکات پر سمجھوتا نہ ہوا تو بھارت مسلح جارحیت کی طرف آئے گا،ہم سب کیلئے سولہ دسمبر ایک سیاہ دن ہےمگر چار اپریل سیاہ تر! اسے کس نے پھانسی پر چڑھایا تھا؟
جنرل ضیا،مولوی مشتاق ،شریف الدین پیرزادہ اور ان کے ساتھیوں کے نام تاریخ میں درج ہیں،قاضی فائز عیسیٰ جیسے دلیر جج نے سپریم کورٹ کی طرف سے غلطی کا اعتراف کر لیا اسی بھٹو نے ایک متفقہ آئین میاں محمود علی قصوری،حفیظ پیرزادہ اور دیگر احباب کی مدد سے بنایا،اسی نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کرائی اور پھر اس کی درخواست پر یاسر عرفات اس کانفرنس میں شیخ مجیب الرحمن کو لے آئے،اسی کانفرنس میں شاہ فیصل ،حافظ الاسد کے ساتھ کرنل معمر قذافی تھے اب سب جانتے ہیں کہ معمر قذافی نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کیلئے مالی وسائل فراہم کئے تھے۔ اکیاون برس کی عمر میں اسے موت کی کال کوٹھڑی میں ڈالا گیا اس کے خلاف ہزار ہا کالے صفحے لکھے گئے مگر کیا اس کا نام لوگوں کے دلوں سے نکالا جا سکا؟ کل رات سے ہمارا کامریڈ عرفان شمسی شاد عظیم آبادی کی غزل بار بار سنوا رہا ہے ’’ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم‘‘ حالانکہ شادعظیم آبادی پاکستان کے قیام سے بھی بیس برس پہلے وفات پا گئے۔
آج امریکی صدر ٹرمپ کا خطاب ہے کہ ناسا ہمیں چاند کی طرف دوبارہ لے جا رہا ہے وہاں سے وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی کرے گا۔ممکن ہے صدر ٹرمپ کو کوئی کیومرثی ابنِ یمین کا شعر سنائے۔
بر آسماں ستارہ بوَد بے شمار لیک
رنجِ کسوف بر دلِ شمس و قمر بوَد
(کسوف گہن کو کہتے ہیں)۔