دانیال حسن چغتائی
شہد کا ایک چمچ شاید آپ کے لیے زیادہ اہمیت نہ رکھتا ہو، مگر شہد کی بارہ مکھیوں کو اس قدر شہد تیار کرنے کے لیے پوری زندگی محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شہد کی مکھی کس قدر محنت کَش اور مستقل مزاج مخلوق ہے۔
شہد کی مکھیاں پُھولوں کا رس چُوس کرشہد بناتی ہیں اورانہیں صرف آدھا کلو شہد تیار کرنے کے لیے چمن چمن گھوم کر تقریباً 20لاکھ پُھولوں کا رس چُوسنا پڑتا ہے۔ اِن کی ایک انوکھی بات یہ بھی ہے کہ چھتّے میں موجود سبھی مکھیاں انڈے نہیں دیتیں، بلکہ صرف ’’رانی مکھی‘‘ ہی انڈے دیتی ہے، جو جسمانی طور پر باقی سب سے بڑی ہوتی ہے۔
یہ باقی مکھیوں کی ماں ہوتی ہے اور اس کا کام صرف حُکم چلانا اور انڈے دینا ہوتا ہے۔ ’’رانی مکھی‘‘ ایک دن میں 15سو سے 2ہزار انڈے دیتی ہے اور دوسری مکھیوں کو ہدایات دینے اور انہیں منظّم رکھنے کے لیے مختلف طرح کی بُو (Pheromone) خارج کرتی ہے، جسے دیگر مکھیاں اپنے انٹینا سےمحسوس کرتی ہیں اور ہر بُو کا الگ مطلب ہوتا ہے۔
چھتّے میں جو مکھیاں سب سے زیادہ تعداد میں موجود ہوتی ہیں، اُنہیں ’’مزدور مکھیاں‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مادہ مکھیاں ہوتی ہیں اور ان کی ذمّے داریوں میں پُھولوں کا رس چُوس کر شہد بنانا، چھتّے کی حفاظت کرنا اور دوسری مکھیوں کو کھانا کھلانا شامل ہوتا ہے۔ چھتّے میں موجود تیسری قسم کی مکھیوں کو ’’ڈرونز‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ نرمکھیاں ہوتی ہیں اور تعداد میں مزدور مکھیوں سے کم ہوتی ہیں۔ البتہ یہ جسامت میں مزدور مکھیوں سے بڑی اور ’’رانی مکھی‘‘ سے چھوٹی ہوتی ہیں۔
یہ نر مکھیاں ’’نکھٹو‘‘ ہوتی ہیں اور ہر وقت چھتّے ہی میں موجود رہتی ہیں، جہاں مزدورمکھیاں انہیں خوراک فراہم کرتی ہیں۔ جس طرح نکھٹو، نکمّے انسانوں کی کوئی عزّت نہیں ہوتی، اِسی طرح اِن مکھیوں کو بھی ذلّت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر موسمِ سرما میں عموماً شہد کی مکھیاں شہد تیار نہیں کرتیں، لہٰذا چھتّے میں موجود ذخیرہ شُدہ شہد ہی پر گزارہ کیا جاتا ہےاور اس دوران باقی مکھیاں مل کر ان نکھٹّو مکھیوں کو چھتّے سےنکال دیتی ہیں۔ چوں کہ یہ ’’ڈرونز‘‘ سدا کے سُست اور کاہل ہوتے ہیں، لہٰذا چھتّے سے باہر نکلتے ہی خوراک نہ ملنے اور موسم کی شدت کے سبب مَر جاتے ہیں۔
اکثرلوگ شہدکی مکھی کےڈنک سے بہت ڈرتے ہیں اور ڈرنا بھی چاہیے، کیوں کہ اِس کی تکلیف بہت زیادہ ہوتی ہے، مگر یاد رہے، ساری شہد کی مکھیاں ڈنک مارنے کے قابل نہیں ہوتیں۔ چھتّے میں موجود صرف مزدور مکھیاں اور ’’رانی مکھی‘‘ ہی ڈنک مار سکتی ہے، نکھٹو مکھیاں اِس صفت سےعاری ہوتی ہیں۔ یہاں ایک دِل چسپ اَمریہ بھی ہے کہ شہد کی مکھیاں خواہ مخواہ ڈنک نہیں مارتیں۔
آپ نے اکثر اُنہیں باغ میں پُھولوں کا رس چُوستے دیکھا ہوگا اور کبھی کبھار تو یہ جِلد پر آکر بیٹھ بھی جائیں، تو کچھ نہیں کہتیں۔ یعنی یہ جارحانہ مزاج کی حامل نہیں ہوتیں، لیکن جب کوئی اُنہیں بلاوجہ تنگ(Provoke) کرتا ہے یا اُنہیں لگتا ہے کہ اُن کے چھتّے کو کوئی خطرہ لاحق ہے، تو تب یہ جوابی حملہ کرتی ہیں، مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب مزور مکھیاں کسی کو ڈنک مارتی ہیں، تو کچھ دیر بعد خُود بھی مرجاتی ہیں، یعنی ڈنک مارنا اُن کی موت کاسبب بن جاتاہے، اوراُنہیں یہ پتانہیں ہوتا کہ یہ جارحانہ ردِعمل اُن کی اپنی موت کا سبب بن جائے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ شہد کی مکھی کا ڈنک اس کےپیٹ کے عقبی حصّے پرموجود ہوتا ہے اور جب یہ کسی انسان یا جانور کو کاٹتی ہیں، توڈنک، کھردری سوئی کی مانند دوسرے جسم میں اِس قدر پھنس جاتا ہے کہ باہر نکالنے کی ہرکوشش ناکام رہتی ہے ، یہاں تک کہ اِسی جدوجہد میں ڈنک کے ساتھ جُڑا اُن کے پیٹ کا کچھ حصّہ بھی جُدا ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ کچھ ہی دیر میں ہلاک ہوجاتی ہیں کہ جسم سے الگ ہونے والےحصّے میں اُن کا پورا نظامِ ہاضمہ موجود ہوتا ہے۔
شہد کی مکھیاں میلوں کا سفر طے کر کے اور طرح طرح کے پُھولوں کا رس (نیکٹر) چُوس کر شہد بناتی ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے، مکھیاں شہد کیسے بناتی ہیں؟ دراصل مکھیاں پُھولوں سے جو رس چُوستی ہیں، وہ منہ کے راستے ان کے معدے (Honey Stomach) میں داخل ہوتا ہے اوروہاں موجود کیمکلز (اینزائمز) اِسے شہد میں تبدیل کرتے ہیں۔
پھر وہ اِس شہد کو چھتّے کے چھوٹے چھوٹے خانوں میں ذخیرہ کرتی ہیں۔ اس شہد میں تقریباً 70سے 80فی صد پانی موجود ہے، لیکن یہ مکھیاں اپنے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے اتنی گرمائش پیدا کرتی ہیں کہ زیادہ تر پانی آبی بخارات بن کر اُڑ جاتا ہے اور وہ کئی گنا زیادہ میٹھا ہوجاتا ہے۔ یہ شہد اس قدر میٹھا ہوتا ہے کہ اس میں بیکٹریا وغیرہ کی افزائش بھی نہیں ہوپاتی، اس لیےطویل عرصے تک خراب نہیں ہوتا۔ بعدازاں، یہ مکھیاں شہد کو چھتّے کے خانوں میں ذخیرہ کر کے اُنہیں موم سے بند کردیتی ہیں۔
شہد کی مکھیوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ جو شہد بناتی ہیں، وہ بطور خوراک خُود بھی استعمال کرتی ہیں اور انسان بھی اِسے استعمال کرتا ہے۔یہ خُوبی دوسرے حشرات میں نظر نہیں آتی۔ شہد کی مکھیاں جب پُھولوں کا رس چُوستی ہیں، تو اِن پر موجود پولنز کو بھی اکٹھا کرلیتی ہیں، جسے یہ خوراک کےطور پراستعمال کرتی ہیں، لیکن یاد رہے کہ شہد کی مکھیاں پولنز کو شہد بنانے کے لیے استعمال نہیں کرتیں۔ پولنز پروٹینز، جب کہ رس یا نیکٹر کاربوہائیڈریٹس کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے۔
عام طور پر ایک بڑے چھتّے میں تقریباً 50ہزار شہد کی مکھیاں موجود ہوتی ہیں، مگر اُن کی رانی صرف ایک ہی ہوتی ہے اور اس کی عُمر بھی باقی مکھیوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ سازگار ماحول میں یہ 3 سے5 سال تک زندہ رہ سکتی ہے، جب کہ مزدورمکھیوں کی اوسط عُمر 45 دن اور نکھٹو مکھیوں کی 30دن ہوتی ہے۔ ’’رانی مکھی‘‘ جب بوڑھی یا بیمار ہوجاتی ہے، تو اس انڈے دینے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے اور تب باقی مکھیاں اُسے مار دیتی ہیں۔
’’رانی مکھی‘‘ کی جان لینے کا طریقہ ’’بالنگ‘‘ کہلاتا ہے۔ اس عمل کے دوران ساری مکھیاں اُس کے ارد گرد جمع ہوجاتی ہیں اور اپنے پروں کو اتنے زور سے پھڑپھڑاتی ہیں کہ اُن کے جسم کا درجۂ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور شدید گرمی کی تاب نہ لاتے ہوئے ’’رانی مکھی‘‘ دَم توڑ دیتی ہے۔