• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودی عرب کا حج کیلئے 15 سال عمر کی پابندی کا فیصلہ چند گھنٹوں بعد واپس لے لیا گیا

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

سعودی عرب نے حج کے لیے عازمین کی حد عمر 15 سال مقرر کرنے کی پابندی عائد کی اور پھر فیصلہ چند گھنٹوں بعد ہی واپس لے لیا گیا۔ 

نئی پالیسی کے تحت فیصلہ کیا گیا تھا کہ 15 سال سے کم عمر افراد حج کے لیے سعودی عرب نہیں آ سکتے، تاہم چند گھنٹے بعد ہی اس پابندی کے فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔

نئی سعودی پالیسی سے متعلق ترجمان پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اب 3 مئی 2026ء سے 15 سال سے کم عمر عازمین کو حج پروازوں میں سفر کی اجازت نہیں ہو گی۔

ابتدائی بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پابندی کے نفاذ کے بعد 15 سال سے کم عمر تمام عازمین کے حج ویزے منسوخ قرار دے دیے گئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق 27 مئی 2026ء تک 15 سال کی عمر مکمل نہ کرنے والے عازمینِ حج سعودی عرب کے سفر کے اہل نہیں ہوں گے۔

بیان کے مطابق سعودی حکومت نے نئی حج پالیسی سے متاثرہ تمام عازمین کو مکمل رقم کی واپسی کی یقین دہانی کروائی ہے۔ سعودی امیگریشن حکام نے تمام ایئر پورٹس کو ہدایت کی ہے کہ 15 سال سے کم عمر عازمین کو ایئر پورٹ پر ہی حج پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا جائے۔

تاہم چند گھنٹوں بعد پی اے اے کی جانب سے ایک اور بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ سعودی عرب نے حج کے لیے 15 سال عمر کی پابندی واپس لے لی۔

پی اے اے نے واضح کیا کہ 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کو حج کی اجازت بحال کر دی گئی۔ سابقہ پالیسی بحال کردی گئی ہے اور 12 سال یا زائد عمر کے عازمین حج کے اہل قرار دے دیا گئے ہیں۔ 

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق 15 سال پابندی کے تحت مسترد ویزوں کو دوبارہ پراسیس کیا جائے گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید