خاندان کو جوڑنے، متحد رکھنے میں گھر کے بزرگوں کا کردار انتہائی اہم، کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہےکہ اس راہ میں اُن کا صبر، تجربہ اور برداشت ہی چھوٹے چھوٹے مسائل نظر انداز کر کے رشتوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ وہ معاملات میں رہنمائی کرکے، درست سمت دے کر خاندان کو ایک مرکز پر قائم رکھتے ہیں۔ بزرگ اپنی حکمتِ عملی سے چھوٹوں کی غلطیاں کو نظر انداز کرتے ہیں، جس سے گھر کا ماحول خوش گوار رہتا ہے۔ پھر خاندانی معاملات میں اپنے صائب مشوروں، درست فیصلوں سے سب کوملائے رکھتے ہیں۔
غرض یہ کہ ان کی موجودگی خاندان میں محبّت و یک جہتی کو فروغ دیتی ہے۔الحمدللہ، ہمارے دادا ابّو نے بھی اپنی اولاد کو ہمیشہ متحد اور باہم میل ملاپ سے رہنے کا درس دیا۔ دادا ابّو کو سب پوتے، پوتیاں ’’ابّا جی‘‘ کہتے تھے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا اسکول چلاتے تھے اور ہزاروں طلبا اُن سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے شعبوں میں کام یاب زندگیاں بسر کررہے ہیں۔
دادا ابّو کو خصوصاً انگریزی زبان پر مکمل عبور حاصل تھااوراُن کےپڑھانے کا اندازہ بھی جداگانہ تھا۔ نیز، تمام طلبہ پر اُن کا بہت رعب و دبدبہ تھا۔ سب انہیں ’’بڑے استاد جی‘‘ کہتے تھے۔ دادا ابّو کے بعد اُن کے بیٹوں اور پوتوں نے بھی درس و تدریس ہی کا پیشہ اختیار کیا۔ بڑے بیٹے سرکاری اسکول میں، دو چھوٹے بیٹے اپنے نجی اسکول میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں، تو دو پوتے سرکاری اسکول سےبحیثیت ٹیچر منسلک ہیں۔ جب کہ سارا گاؤں ہمارے خاندان کو ’’ماسٹر کا خاندان‘‘ کہتا ہے۔
دادا ابّو اسکول سے واپس آنے کے بعد اپنے پوتے، پوتیوں کو پڑھانے بیٹھ جاتے اورپھر شام تک یہ سلسلہ جاری رہتا۔ پڑھائی کے دوران کسی کی جرأت نہیں ہوتی تھی کہ کوئی غیر ضروری بات کرسکے۔ وہ کم سِنی ہی میں تبلیغِ دین سے بھی وابستہ ہوگئے تھے۔ پابندِ صوم و صلوٰۃ اور تہجّد گزار تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جو پینشن ملتی، اس میں سے کچھ حصّہ مدرسے میں دینے کے بعد بقیہ رقم سے اسلامی موضوعات پر مبنی کتابیں خرید لاتے۔
بڑی تعداد میں دینی کتب سے سجی ہمارے گھر کی الماریاں کسی اسلامی لائبریری کا منظر پیش کرتی ہیں اور اس کمرے کو ہم اب بھی ’’ابّا جی کاکمرا ‘‘کہتے ہیں۔ دادا ابّو نے ساری زندگی سخت محنت و مشقت میں گزاری۔ صبح اسکول جاتے، وہاں سے سیدھا کھیتوں کی طرف چلے جاتے اور شام تک ہل چلاتے رہتے۔ خوراک سادہ کھاتے، لباس بھی سادہ پہنتے۔ دودھ اور لسّی جیسی خالص غذا استعمال کرتے تھے۔
خود سادگی سے زندگی گزاری، لیکن اولاد کی گزر اوقات کے لیے قطعہ زمین خریدا۔ دادا ابّو ہمیشہ سیدھی سچّی بات کرتے، خواہ کسی کو کتنی ہی کڑوی ہی کیوں نہ لگے اور ہمیشہ ہرایک کا بھلا سوچتے۔ ساری زندگی صحت کے زرّیں اصولوں کے تحت گزاری، مگر عمر کے آخری حصّے میں سرطان جیسے مہلک مرض کا شکار ہوگئے اور ایک ماہ علیل رہنے کے بعد اس فانی دنیا سے منہ موڑگئے۔
ان کے جنازے میں ہزاروں کا مجمع تھا اور ہر آنکھ اشک بار تھی۔ دادا ابّو کا یوں بھری محفل سے رخصت ہوجانا ہمارے خاندان کے لیے سوہانِ روح، ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرما کر جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔ (اسماء راشدطور، جہلم)
ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘
٭ محرّکات (جاوید جواد حسین، گلشن اقبال، کراچی)٭بِلا عنوان ، سچّا واقعہ (سعیدہ جاوید، بلال گنج، لاہور)٭اللہ کا احسان (عطروبہ عدنان خان زادی، سکرنڈ، ضلع شہید بے نظیر آباد)تلاش (لجپت رائے متلانی)٭چند دن کا مہمان (محمد عثمان بھٹّی، شادمان کالونی، سرگودھا)٭بلاوا آتا ہے (شائستہ عابد، لاہور)٭کھیس خریدنے والی عورتیں (ظہیر انجم تبسّم، جی پی او، خوشاب)٭والدین کی دُعائیں ضائع نہیں جاتیں(اسلم قریشی، ٹھنڈی سڑک، آٹو بھان روڈ، حیدر آباد)٭ٹیکسی ڈرائیور اور خدمت کا جذبہ (واجد علی شاہین)٭کشمیر کی زعفرانی وادیوں میں جلتے فانوس (ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی، لاہور)٭سو جان سے تصدّق(امین شیدائی، اورنگی ٹاؤن، کراچی)٭تین مختصر واقعات (ڈاکٹر رانا محمد اطہر رضا، فیصل آباد)۔
برائے صفحہ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘
٭ میرے استاد، رانا محمد ارشد خان مرحوم (ڈاکٹر رانا محمد اطہر رضا، فیصل آباد)٭ابھی زندہ ہے ماں میری (محمد صفدر خان ساغر، گوجرانوالہ)٭والد ِ مرحوم کو خراجِ عقیدت (فرقان علی، ٹبّہ سلطان، ضلع میلسی)٭پروفیسر، ماہرِ تعلیم عبداللطیف چنّا (ارشد حسین چنا، اسلام آباد)٭میرے بڑے بھائی، ہیڈ ماسٹر محمد شامی مرحوم (انجینئر حافظ عبدالقیوم سوہدروی)۔
برائےصفحہ ’’متفرق‘‘
٭قائدِ اعظم اور کردار سازی (خورشید بیگم، گوجرہ)٭انسانی حقوق کا عالمی دن(دانیال حسن چغتائی، کہروڑ پکا) ٭ڈیرا پٹھانا سے مہر محمد بوٹا تک( نام نہیں لکھا) ٭آن لائن ارننگ میں درپیش مسائل (محمد عمیر جمیل، منگھوپیر، کراچی) ٭لیلۃ القدر کی عظمت (ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی، لاہور)۔