• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے پیارے بابا جان، پیر سیّد علی شاہ بنّوں میں پیدا ہوئے۔ گریجویشن کے بعد صحافت کے پیشے سے منسلک ہوگئے اور مقامی اخبار کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ صحافت کے علاوہ ادب سے بھی گہرا رشتہ ہے۔ زیادہ تر وقت مطالعے میں گزارتے۔ وہ کچھ عرصے بنوں کے مشیر بھی رہے۔ بچّوں سے بے حد پیار و محبت کا برتائو کرتے۔ اکثر ہمیں ہمیں اپنے بچپن کے قصے سنایا کرتے۔

وہ بچپن ہی سے بہت ذہین طالب علم تھے۔ بھی میٹرک ہی میں زیر تعلیم تھے کہ ان کے پاس ڈاک سے اس قدر خطوط آنے لگے کہ ایک دفعہ اسکول کی پرنسپل صاحبہ نے ان سے کہا کہ’’پیر سیّد علی شاہ! تمہارے پاس ڈاک سے جتنے خطوط آتے ہیں، اتنے تو میرے پاس بھی نہیں آتے ۔‘‘

غرض یہ کہ اُس دَور کاایسا کوئی میگزین اور رسالہ نہیں، جو بابا نے پڑھا نہ ہو۔ مجھے پڑھنے لکھنے کا شوق بابا جان ہی سے وراثت میں ملا۔ اُن ہی کو دیکھ کر مَیں ’’جنگ، سنڈے میگزین ‘‘ سمیت دیگر کتب و رسائل پڑھنے لگی۔وہ اب بھی باقاعدگی سے مجھے جنگ سنڈے میگزین اور ہر سوموار کو اخبار جہاں لاکر دیتے ہیں۔

باباجان ایک انتہائی صابر اور شکر گزار انسان ہیں۔ مَیں نے کبھی انھیں گلہ شکوہ کرتے نہیں دیکھا۔بچپن میں ہمارے معاشی حالات بہت اچھے تھے، ہماری ایک بہت بڑی سی مارکیٹ تھی، جس کے بابا بلاشرکت غیرے مالک تھے۔ مگر بدقسمتی سے حالات نے ایک دم پلٹا کھایا اور ہمارے معاشی حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے۔ لیکن ان تمام وقت میں بابا نے صبر سے کام لیا اور اللہ سے کبھی گلہ نہیں کیا۔

وہ ہمیں ہر مغرب کی نماز کے بعد سورئہ واقعہ اور ہر جمعے کو سورئہ کہف پڑھنے کی ہدایت کرتے ہیں۔بیٹیوں سے بہت محبت پیار کرتے ہیں۔ دو بھائیوں کی پیدائش کے بعد اوپر تلے ہمیں چاروں بہنیں پیدا ہوئیں، لیکن باباجان نے ہمیں کبھی بوجھ نہیں سمجھا۔ وہ ہر معاملے میں بیٹوں سے زیادہ بیٹیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔بیٹوں سے زیادہ بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی تاکہ پڑھ لکھ کر اپنے لیے خود کچھ کرسکیں اور کبھی دوسروں کی محتاج نہ ہو۔

آج زندگی کے اس موڑ پر پیچھے مڑ کر اپنے بابا کی محنت، جدوجہد دیکھتی ہوں، تو اپنی قسمت پر ناز ہوتا ہےکہ مجھے اتنے اچھے بابا جان ملے۔ جو ہمارے ہر خواہش اور دلی تمنا کو ہمارے آنکھوں سے پہچان کر ہمارے بولنے سے پہلے پوری کرلیتے ہیں۔ جنہوں نے اپنی اولاد کا بے حد خیال رکھا اور کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔وہ ہم سب بھائی بہنوں کے آئیڈیل ہیں ۔بابا جان کے بغیر ہم کچھ نہیں۔وہ ہماری پہچان ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ ہم پر تادیر سلامت رکھے، آمین۔ ( انشاء سیّد(ماہین)، کامرہ، اٹک)

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘

٭ محرّکات (جاوید جواد حسین، گلشن اقبال، کراچی)٭بِلا عنوان ، سچّا واقعہ (سعیدہ جاوید، بلال گنج، لاہور)٭اللہ کا احسان (عطروبہ عدنان خان زادی، سکرنڈ، ضلع شہید بے نظیر آباد)تلاش (لجپت رائے متلانی)٭چند دن کا مہمان (محمد عثمان بھٹّی، شادمان کالونی، سرگودھا)٭بلاوا آتا ہے (شائستہ عابد، لاہور)٭کھیس خریدنے والی عورتیں (ظہیر انجم تبسّم، جی پی او، خوشاب)٭والدین کی دُعائیں ضائع نہیں جاتیں(اسلم قریشی، ٹھنڈی سڑک، آٹو بھان روڈ، حیدر آباد)٭ٹیکسی ڈرائیور اور خدمت کا جذبہ (واجد علی شاہین)٭کشمیر کی زعفرانی وادیوں میں جلتے فانوس (ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی، لاہور)٭سو جان سے تصدّق(امین شیدائی، اورنگی ٹائون، کراچی)٭تین مختصر واقعات (ڈاکٹر رانا محمد اطہر رضا ، فیصل آباد)۔

برائے صفحہ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘

٭ میرے استاد، رانا محمد ارشد خان مرحوم (ڈاکٹر رانا محمد اطہر رضا، فیصل آباد)٭ابھی زندہ ہے ماں میری (محمد صفدر خان ساغر، گوجرانوالہ)٭والد ِ مرحوم کو خراجِ عقیدت (فرقان علی، ٹبّہ سلطان، ضلع میلسی)٭پروفیسر، ماہرِ تعلیم عبداللطیف چنّا (ارشد حسین چنا، اسلام آباد)٭میرے بڑے بھائی، ہیڈ ماسٹر محمد شامی مرحوم (انجینئر حافظ عبدالقیوم سوہدروی)۔

برائےصفحہ ’’متفرق‘‘

٭قائدِ اعظم اور کردار سازی (خورشید بیگم، گوجرہ)٭انسانی حقوق کا عالمی دن(دانیال حسن چغتائی، کہروڑ پکا) ٭ڈیرا پٹھانا سے مہر محمد بوٹا تک( نام نہیں لکھا) ٭آن لائن ارننگ میں درپیش مسائل (محمد عمیر جمیل، منگھوپیر، کراچی)٭لیلۃ القدر کی عظمت (ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی، لاہور)۔

سنڈے میگزین سے مزید