• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارے مربی، سرپرست، پشت پناہ: بہت عظیم بڑے بھیا

ہمارا اپنے بڑے بھائی، سیّدذوالفقار علی سے محبت و خلوص، ایثارو قربانی اور تعلیم و تربیت پر مبنی رشتہ کیسا گہرا، اٹوٹ تھا، اُسے الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے ہمیں معاشرے کے ذمّے دارا فراد بنانے کے لیے ایک مثالی تعلیمی ماحول فراہم کیا اور ہم نے بھی اُن سے تربیت کے مراحل اور سیکھنے کے عمل میں بہت کچھ حاصل کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ’’کلائی پر گھڑی بندھی ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں وقت کی قدر شناسی، طرئہ امتیاز ہونی چاہیے۔‘‘ اُن سے ہمیں گویائی کا اسلوب اور سلیقہ ملا۔ اُن کی سنگت سے درسِ استقامت لیا۔ اُن کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے مشقّت وایثار کے معنی سیکھے۔ وسعتِ قلبی کا درس ملا،تسخیرِ ِکائنات کے مفہوم سےآشنا ہوئے۔ غرض یہ کہ وہ فروغِ علم کا ایک روشن مینار اور وقت کی تیرہ سامانیوں کے درمیان روشنی پھیلانے والی قندیل کی مانند تھے۔ 

قصّہ مختصر، یوں جان لیں کہ ہم بہن، بھائیوں نے اُن کی قربت میں جتنا وقت گزارا، ہمارا علمی خزانہ بڑھتا ہی رہا۔ حریمِ دل کے طاقچوں میں اُن کی یادکا ایک ایک لمحہ سجا ہوا ہے۔ اُن کی نشست وبرخاست کی جگہوں، درودیوار تک سے صدائے باز گشت سنتے ہیں۔ ہم نے ان کی تربیت میں ایک زندگی میں نہ جانے کتنی زندگیاں جی لیں، وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ زندگی ہماری نہیں، بلکہ اللہ کی امانت اور دوسروں کے کام آنے کے لیے ہے۔

1970ء میں ہمارے والد صاحب نے پولیس کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا، توگھر کی ذمّے داری کا بوجھ بڑے بھائی کے کاندھوں پر آن پڑا۔ وہ مجھ سے 22برس بڑے تھے۔ والد کی ملازمت ختم ہونے کے بعد ہم سب گویااُن کی زیرِ تربیت اور کفالت آگئے۔ والد صاحب اپنے محکمے کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتے اور بڑے بھائی کو زمانے کی اونچ نیچ سکھاتے رہتے۔

پھر جب بھائی محکمۂ پولیس سے وابستہ ہوئے، تو والد صاحب کی دی ہوئی تربیت کے مطابق ہمیشہ اصولوں کی پاس داری کی، پوری زندگی ایمان داری و دیانت داری سے ملازمت کی۔ مَیں نے جب اُنھیں پہلی بار پولیس کی وردی میں دیکھا، تو مجھے اُن پر بے حد فخر ہوا۔ ہم چار بھائی اور ایک بہن بس غربت میں پَل بڑھ گئے، مگر غربت کے اس ماحول میں بھی بڑے بھائی نے جس انداز سے ہماری تعلیم وتربیت کا انتظام کیا، لائقِ صد تحسین ہے۔

بچپن ہی سے گھر اور چھوٹے بھائی بہنوں کی ذمّے داریوں کا بوجھ اٹھانے کے باوجود وہ انتہائی ہنس مکھ، بذلہ سنج اور مجلسی طبیعت کے مالک تھے۔ والد صاحب کے دوستوں سے خاص عقیدت مندی رکھتے، اُن کی محفل میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہوتے۔

اکثر میرے بچپن کی باتیں میرے دوستوں کو سناتے، لڑکپن میں پتنگ اُڑانے کے بعد والدہ کی طرف سے دی گئی سزا اور سرزنش کا بار بار تذکرہ کرتے، تاکہ ہم میں قوتِ برداشت پیدا ہو، یہ اُن کی تربیت ہی کے انداز تھے۔ ہم بھائیوں نے بچپن کے تمام روایتی کھیل کھیلے۔ پرندے پالے۔باغبانی بھی کی۔ بھائی قوالی سننے کے رسیا تھے، تواکثر مجھے بھی ساتھ رکھتے اور دُور دراز قوالی اور نعت خوانی کی محافل میں لے جایا کرتے۔

میرے بھائی اپنے محکمے میں محنت، لگن اور دیانت داری سے ترقی کرتے ہوئے 2010ء میں سب انسپکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اُن کی ریٹائرمنٹ کے بعد مَیں بھی2019ء میں سرکاری عہدے سے ریٹائر ہوا۔ سب سے چھوٹا بھائی ایک حسّاس ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز ملک و قوم کی خدمت میں مصروفِ عمل ہے، جب کہ منجھلا بھائی اللہ کی راہ میں سرگرداں، حیات وممات کے فلسفے کو سمجھنے اور سمجھانے میں رات دن ایک کیے ہوئے ہے۔

بھائیوں اور بہن کی شادی کے بعد سب اگرچہ الگ الگ ہوگئے، مگر بھائی سے اٹوٹ رشتہ برقرار رہا۔ اُن کی نظر میں عشق کی انتہا روزانہ ملاقات سے تھی۔ اس دنیا میں غمِ دوراں، غمِ جاناں اور غمِ روزگارکم کم ہی مہلت دیتے ہیں، مگر ایسے میں بھی ہم بھائی ملنے کی سبیل کرلیتے تھے۔ اور پھر 8فروری2026ءکی رات، ہمارے بھائی سیّد ذوالفقار علی نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ اُن کی رحلت ہمارے خاندان کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔ اب تو بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے جوارِ رحمت میں خاص مقام عطا فرمائے، آمین۔ ( سیّد اعجاز علی، ریٹائرڈ ورکس مین، حیدر آباد)

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘

٭ محرّکات (جاوید جواد حسین، گلشن اقبال، کراچی)٭بِلا عنوان ، سچّا واقعہ (سعیدہ جاوید، بلال گنج، لاہور)٭اللہ کا احسان (عطروبہ عدنان خان زادی، سکرنڈ، ضلع شہید بے نظیر آباد)تلاش (لجپت رائے متلانی)٭چند دن کا مہمان (محمد عثمان بھٹّی، شادمان کالونی، سرگودھا)٭بلاوا آتا ہے (شائستہ عابد، لاہور)٭کھیس خریدنے والی عورتیں (ظہیر انجم تبسّم، جی پی او، خوشاب)٭والدین کی دُعائیں ضائع نہیں جاتیں(اسلم قریشی، ٹھنڈی سڑک، آٹو بھان روڈ، حیدر آباد)٭ٹیکسی ڈرائیور اور خدمت کا جذبہ (واجد علی شاہین)٭کشمیر کی زعفرانی وادیوں میں جلتے فانوس (ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی، لاہور)٭سو جان سے تصدّق(امین شیدائی، اورنگی ٹاؤن، کراچی)٭تین مختصر واقعات (ڈاکٹر رانا محمد اطہر رضا، فیصل آباد)۔

برائے صفحہ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘

٭ میرے استاد، رانا محمد ارشد خان مرحوم (ڈاکٹر رانا محمد اطہر رضا، فیصل آباد)٭ابھی زندہ ہے ماں میری (محمد صفدر خان ساغر، گوجرانوالہ)٭والد ِ مرحوم کو خراجِ عقیدت (فرقان علی، ٹبّہ سلطان، ضلع میلسی)٭پروفیسر، ماہرِ تعلیم عبداللطیف چنّا (ارشد حسین چنا، اسلام آباد)٭میرے بڑے بھائی، ہیڈ ماسٹر محمد شامی مرحوم (انجینئر حافظ عبدالقیوم سوہدروی)۔

برائے صفحہ ’’متفرق‘‘

٭قائدِ اعظم اور کردار سازی (خورشید بیگم، گوجرہ)٭انسانی حقوق کا عالمی دن(دانیال حسن چغتائی، کہروڑ پکا) ٭ڈیرا پٹھانا سے مہر محمد بوٹا تک( نام نہیں لکھا) ٭آن لائن ارننگ میں درپیش مسائل (محمد عمیر جمیل، منگھوپیر، کراچی)٭لیلۃ القدر کی عظمت (ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی، لاہور)۔

سنڈے میگزین سے مزید