• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علم کی معراج: تدبر، بندگی اور معرفتِ الہٰی

خدیجہ طیّب

’’علم‘‘ محض معلومات کے حصول کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ فہم و شعور ہے، جو انسان کو حق و باطل میں تفریق و تمیز، عاجزی و انکساری سکھاتا، اس کی عقل کو معرفتِ الہٰی تک لے جاتا ہے۔ نیز، اِسے بندگی سے رُوشناس کرواتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔’’کہہ دو، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں۔ نصیحت تو صرف عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔‘‘

مذکورہ آیت دراصل علم کی حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ اہلِ علم وہی ہے، جو نصیحت حاصل کرے، جب کہ اس کے برعکس ہمارے ہاں عمومی رویّہ یہ ہے کہ ہم قرآن و احادیث پڑھ تو لیتے ہیں، مگر اُنہیں سمجھنے اور اُن کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم قرآنِ پاک کی تلاوت تو کرتے ہیں،لیکن کلام اللہ پر غوروفکر نہیں کرتے، حالاں کہ قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں، سمجھنے اور عمل کے لیے نازل ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ نےفرمایا۔’’یہ ایک بابرکت کتاب ہے، جو ہم نےتم پر نازل کی، تاکہ لوگ اس کی آیات میں غوروفکر کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں۔‘‘ علم کا مقصد ہی یہی ہے کہ انسان یہ جان سکے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا کہنا چاہتا ہے۔ علم ہی انسان میں اللہ کی معرفت کی پیاس جگاتا، رُوح کو یقین کی منزل تک لے جاتا اور فکر کو روشنی میں بدلتا ہے، لیکن بدقسمتی سے آج علم کے بغیر رائے دینا اور فہم کے بغیر بحث کرنا عام طرزِعمل بن گیا ہے۔ 

اکثر ایسا بھی ہوتا ہے، ایک شخص اصلاح کی نیّت سے دلیل دیتا ہے، مگر دوسرا شخص سخت بُرا مان جاتا ہے،حالاں کہ دلیل کا مقصد ہمیشہ بحث جیتناہی نہیں،مقابل کوسمجھانا بجھانا بھی ہوسکتا ہے، مگرجب علم کم اور انا زیادہ ہو، تو بحث علم کو بھی زنگ آلود کردیتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ ’’میری طرف سے پہنچا دو، خواہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ تبلیغ کا آغاز نرمی اور دلیل سے کی گئی بات سے ہوتا ہے۔ جب دل قائل ہو جائے، اُس کے بعد عمل کا مرحلہ آتا ہے اور اگر مقرّر مخلص اور سامع سچ کا متلاشی ہو، تو اللہ تعالیٰ دونوں کو ہدایت عطا فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے۔ ’’کیا وہ قرآن میں تدبرّ نہیں کرتے؟‘‘

یہ آیت دراصل ہمیں دعوتِ غور و فکر دیتی ہے کہ قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں، فہم و تدبّر کےلیے نازل کیا گیا ہے اورعلم کا بلند ترین درجہ یہی ہے۔ یاد رہے، قرآن واحادیث کی تفہیم کے لیے صرف عربی زبان سے واقفیت یا تفاسیر کا مطالعہ ہی کافی نہیں، اس مقصد کے لیے بصیرت اور شعورِ قلب کی بھی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے۔’’یقیناً اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے، جو سوچتے ہیں۔‘‘

یعنی علم کے دروازے اُن ہی کے لیے کُھلتے ہیں، جو غوروفکر کرتے ہیں۔ آج ہم نے قرآنِ پاک کو محض ایک روایت بنا دیا ہے، حالاں کہ یہ ایک تحریک ہے۔ اِسی طرح ہم نے حدیث کو صرف ایک حوالہ سمجھ لیا ہے، جب کہ یہ ہدایت کا زندۂ جاوید نقشہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے کہ جہاں ’’علمِ حقیقی‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

وہ علم کہ جو سوال سے نہیں ڈرتا، بلکہ ہر سوال کے ذریعے اللہ کی حکمت جاننے کی کوشش کرتاہے۔ نبی کریم ﷺ نےفرمایا۔ ’’جس شخص کو اللہ خیر دینا چاہے، اُسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔‘‘ یہی وہ ’’علمِ نافع‘‘ ہے، جس کے لیے نبی اکرم ﷺ نے یہ دُعا کی تھی کہ ’’اے اللہ! مَیں تجھ سے نفع دینے والا علم مانگتا ہوں۔‘‘ یعنی وہ علم کہ جو دل بدل دے، رُوح جگا دے، ہماری ذات کو نفع دے اور ہماری وجہ سے کسی دوسرے کو فہم عطا ہوجائے۔

ایک موقعے پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ’’علم عمل کا امام ہے اور عمل اس کا پیروکار۔‘‘اور یہ بھی فرمایا کہ ’’جو بغیر علم کے عمل کرے، وہ اصلاح سے زیادہ فساد کرتا ہے۔‘‘ یہ دو کلمات دراصل انسانی زندگی کے توازن کا راز ہیں۔ علم، عمل اور احساس و جذبہ اگر ایک ہی محور پر جمع ہو جائیں، تو انسان دوسروں کے لیے روشنی بن جاتا ہے، مگر جب ان میں سے کوئی ایک عُنصر بھی موجود نہ ہو، تو علم بوجھ، عمل محض وقتی جوش اور احساس گُم راہی بن جاتا ہے۔ 

یہی وہ مقام ہے، جہاں جذباتی بصیرت علم کا امتحان لیتی ہے، کیوں کہ علم اُس وقت تک مفید نہیں، جب تک انسان اپنے جذبات قابو میں نہ رکھے۔ غصّہ، ضد، طعنہ زنی، انا اور منفی ردِعمل جیسے جذبات علم کا نور دھندلا دیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے۔ ’’اُس چیز کے پیچھے مت چل، جس کا تجھے علم نہیں۔‘‘یہ صرف فکری نہیں، جذباتی تربیت بھی ہےکہ انسان اپنے احساسات کو بھی علم کے تابع کرے، نہ کہ علم کو جذبات کا غلام بنائے۔

نفسیات کا ماننا ہے کہ انسان کے دماغ میں دو مراکز ہوتے ہیں، ایک عقل کا اور دوسرا احساس کا۔ جب جذبات حاوی ہوں، تو عقل خاموش ہوجاتی ہے، مگر جب علم دل کو منوّر کرتا ہے، تو جذبات تابع رہتے ہیں اور یہی وہ توازن ہے، جسے ’’ایمان‘‘ کہا گیا۔ پیغمبرِ اکرمﷺ نے فرمایا۔ ’’قوی مومن بہتر ہے، اُس مومن سے کہ جو کم زور ہے‘‘۔ یاد رہے، یہاں قوی ہونا صرف جسمانی طور پر طاقت وَر ہونا نہیں، درحقیقت مضبوط اعصاب کا حامل ہونا قوی کہلاتا ہے۔ 

قرآن یاد دلاتا ہے۔’’اللہ سے تو صرف وہی ڈرتے ہیں، جو علم رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی علم کا کمال خوف میں ہے، فخر میں نہیں۔ شیطان کے پاس بھی علم تھا، مگر عاجزی نہیں تھی، جب کہ آدمؑ کے پاس شاید کم معلومات تھیں، مگر شعور تھا۔ شیطان جانتا تھا، آدمؑ پہچانتا تھا اور یہی فرق ’’علم‘‘ اور ’’بصیرت‘‘ میں ہے۔ نفسیاتی طور پر جب انسان علم کے ساتھ عاجزی اختیار کرتا ہے، تو اس کے دل و دماغ میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔

سائنس کا ماننا ہے، ایسے انسان کے دل کی دھڑکن اور دماغ کی لہریں ہم آہنگ ہوجاتی ہیں اوریہی کیفیت’’سکینت‘‘ کہلاتی ہے، جو اہلِ ایمان کے دِلوں پر نازل ہوتی ہے۔ جب علم، عمل، اور جذبہ ایک لَے میں آجائیں، تو بندہ عارف بن جاتا ہے۔ وہ صرف جانتا ہی نہیں، پہچانتا بھی ہے۔

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ’’عالم کتنا اچھا شخص ہے کہ جب اُس کی ضرورت پڑے، تو نفع دے اور اگر اس سے لاپروائی برتی جائے، تو وہ اپنے آپ کو بےنیاز رکھے۔‘‘ تب وہ اپنے رب کے سامنے جُھکتے ہوئے کہتا ہے۔ ’’اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘ المختصر، علم کی معراج یہ جاننا ہے کہ علم دراصل بندگی و معرفتِ الہٰی کا دوسرا نام ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید