• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’اقبالیات‘‘ کے نئے گوشوں کی دریافت میرا جنون ہے

ماہرِ اقبالیات، ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی پاکستان، ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی، علّامہ محمّد اقبال پر پی ایچ ڈی کرنے والے بلوچستان کے پہلے اسکالر ہیں۔ اُنہیں 2026ء میں تحقیقی خدمات پر ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ وہ اقبالیات اور اورینٹل اسٹڈیز پر اردو، فارسی، پشتو اور انگریزی میں59 کتب کے مصنّف ہیں، جب کہ65 بین الاقوامی اور 35 قومی کانفرنسز میں شرکت کر چُکے ہیں۔ اُنہیں 2024ء میں بلوچستان میں علّامہ اقبال پر پہلی عالمی کانفرنس منعقد کروانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کی علمی و ادبی زندگی کا ایک دِل چسپ پہلو یہ ہے کہ اُنہوں نے ایم ایس سی کی ڈگری باٹنی کے مضمون میں حاصل کی، جس کے بعد اقبالیات کی طرف ایسے راغب ہوئے کہ پوری زندگی مفّکرِ پاکستان کی زندگی کے نت نئے گوشے دریافت کرنے میں گزار دی۔ ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی سے گزشتہ دنوں خصوصی بات چیت ہوئی، جس کا احوال قارئین کی نذر ہے۔

س: اپنے ابتدائی حالاتِ زندگی، تعلیم اور خاندانی پس منظر سے متعلق کچھ بتائیے؟

ج: 1968ء میں بلوچستان کے شہر چمن میں پیدا ہوا، میٹرک وہیں کے سرکاری اسکول سے کیا۔ اتفاق سے اِمسال اُس اسکول کی صدسالہ تقریبات بھی منائی جا رہی ہیں۔ زمانۂ طالبِ علمی میں مساجد میں عربی اور فارسی پڑھتا رہا۔ ایف ایس سی چمن، کالج سے کیا۔ 1987ءمیں بی ایس سی گورنمنٹ سائنس کالج، کوئٹہ سے اور1989ء میں نمایاں پوزیشن کے ساتھ ایم ایس سی، باٹنی بلوچستان یونی ورسٹی سے کیا۔

بعدازاں، ایم اے پشتو میں یونی ورسٹی میں ٹاپ کیا، پھر ایم اے اسلامیات بھی کیا۔ علّامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ایم فِل اقبالیات کیا، جس کا موضوع ’’پشتو شاعری پر اقبال کے اثرات‘‘تھا۔ ’’افغانستان میں اقبال شناسی کی روایت‘‘کے موضوع پر اِسی یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی اقبالیات کی اور بلوچستان سے پہلے پی ایچ ڈی اقبالیات کا اعزاز حاصل ہوا۔ 

اس کے علاوہ، پروردگار نے اقبالیات ہی میں ڈبل پوسٹ ڈاکٹریٹ کا اعزاز عطا فرمایا ہے۔ ہمارے خاندان کا تعلق بنیادی طور پر توبہ اچکزئی سے ہے، بعد میں ہمارا گھرانا چمن شہر منتقل ہوا۔

نمایندۂ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے…(عکّاسی: عرفان نجمی)
نمایندۂ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے…(عکّاسی: عرفان نجمی)

س: ’’اقبالیات‘‘ کی طرف رجحان کیسے ہوا؟

ج: اسکول کے زمانے میں تقریری مقابلوں میں حصّہ لیتا رہا۔ شاعری کا شوق بچپن ہی سے تھا اور تقاریر کے سلسلے میں حضرت اقبال کے اشعار سے شناسائی ہوئی۔ ستّر کی دہائی میں وفاقی حکومت کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک پشتو ماہ نامہ’’ اولس، کوئٹہ‘‘ کے نام سے شائع ہوتا تھا، جب کہ دیگر زبانوں میں بھی اِسی طرح کے رسائل شایع ہوتے تھے، تو میرے بڑے بھائی، عبدالودود خان میرے لیے یہ رسائل لاتے۔

پھر مَیں نے بھی اسکول ہی کے زمانے سے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ جانا شروع کردیا تھا، جہاں پروگرامز میں حصّہ لیتا اور ادارے کی لائبریری سے مستفید ہونے کا بھی موقع ملتا۔ دورانِ طالبِ علمی چمن کالج کے سالانہ میگزین’’کوژک‘‘ کا اسٹوڈنٹ ایڈیٹر مقرّر ہوا۔1984ء میں اقبال پر میرے دو مضامین، ایک انگریزی اور دوسرا اردو زبان میں شائع ہوئے، نیز، ماہ نامہ’’اولس، کوئٹہ‘‘ میں بھی اقبال پر میرے مقالات شائع ہوتے رہے، جن پر کچھ اعزازیہ بھی ملتا، جس سے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرتا۔ 1993ء میں دعوۃ اکیڈمی، اسلامی یونی ورسٹی کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں ایک رائٹرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ڈاکٹر محمّد ریاض نے، جو تہران سے اقبالیات میں پی ایچ ڈی تھے،’’اقبال اور ملّتِ افغانہ‘‘ کے عنوان سے لیکچر دیا۔ 

علّامہ صاحب سے دل چسپی کی وجہ سے اُس تاریخی لیکچر کو مَیں نے بڑے انہماک سے سُنا۔ مَیں نے وقفۂ سوالات کے دوران اُن سے سوال کیا کہ’’جب علّامہ اقبال سفرِ افغانستان سے واپسی پر2 نومبر1933ء کو چمن شہر تشریف لائے، تو اُنہیں حاجی خوشی محمّد کے گھر سے پینے کے لیے حقّہ پیش کیا گیا۔ آپ یہ بتا دیجیے کہ کیا علّامہ صاحب کے رختِ سفر میں حقّہ شامل نہیں تھا اور اگر شامل تھا، تو پھر چمن میں اُنہیں حقّہ پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟‘‘ 

میرے اِس غیر روایتی سوال پر وہ انتہائی حیرت سے مجھے دیکھنے لگے اور جواباً فرمایا کہ اِس کے دو اسباب ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ مسلمانانِ ہند کو علّامہ اقبال سے عقیدت تھی، تو اُنہیں اِس نیّت سے حقّہ پیش کیا ہوگا کہ اُن کے ہونٹ اُس پہ ثبت ہوجائیں یا پھر کسی خاص برانڈ کے تمباکو کی وجہ سے وہ حقّہ پیش کیا گیا ہوگا۔ لیکچر کے اختتام پر ڈاکٹر ریاض نے مجھ سے پوچھا۔’’بیٹا! آپ کیا کرتے ہو؟‘‘ مَیں نے بتایا کہ بینک افسر ہوں۔ 

اُنہوں نے پھر استفسار کیا کہ کس مضمون میں ماسٹرز کیا ہے؟مَیں نے بتایا کہ نباتیات، اسلامیات اورپشتو ادبیات میں ماسٹرز کیے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا۔’’ بس، بس بیٹا! میرا کام ہو گیا۔ آپ ایم فِل اقبالیات میں داخلہ لیں۔‘‘ اِس سے پہلے مَیں نے’’اقبالیات‘‘کی اصطلاح نہیں سُنی تھی، تو پوچھا۔’’اقبالیات میں داخلہ لے کر کیا کروں گا؟‘‘ اُنھوں نے فرمایا۔’’بیٹا! مَیں آپ میں کچھ دیکھ رہا ہوں۔‘‘ بعد میں مجھے پتا چلا کہ ڈاکٹر محمّد ریاض علّامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے شعبۂ اقبالیات کے سربراہ تھے۔بہرکیف، مَیں نے داخلہ لے لیا۔

س: آپ کے پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کے موضوعات کیا تھے؟

ج: پی ایچ ڈی کا موضوع’’افغانستان میں اقبال شناسی کی روایت‘‘ تھا اور اِس موضوع کے انتخاب کا ایک دل چسپ پس منظر ہے۔ تقسیمِ ہند سے پہلے محکمۂ تعلیم بلوچستان میں سیال کوٹ سے تعلق رکھنے والے استاد، عبدالحمید عرفانی تعیّنات تھے، جنہیں قیامِ پاکستان کے بعد قائدِ اعظم، محمّد علی جناح نے ایران میں پاکستان کے ثقافتی نمائندے کے طور پہ مقرّر کیا تھا۔ 

اُن کی تصنیف’’اقبال، ایرانیوں کی نظر میں‘‘ میری نظر سے گزری، تو مجھے خیال آیا کہ علّامہ محمّد اقبال پر ایران سے پہلے تو افغانستان میں کام شروع ہوا تھا، تو کیوں نہ اِس موضوع پر تحقیق کی جائے۔ جب مَیں نے’’افغانستان میں اقبال شناسی کی روایت‘‘کے عنوان سے پی ایچ ڈی کے لیے synopsisجمع کروایا، تو بورڈ آف ایڈوانس اسٹڈیز نے مواد کی عدم دست یابی کی بنا پر موضوع مسترد کر دیا۔

بورڈ ماہرین نے مؤقف اختیار کیا کہ اِس موضوع میں آپ پھنس جاؤ گے۔مَیں نے کہا۔’’مجھے کسی روایتی، پیشہ ورانہ پروموشن یا انکریمنٹ وغیرہ کا لالچ تو ہے نہیں، مَیں تو ایک کمرشل انسٹی ٹیوٹ میں ایگزیکٹیو پوسٹ پر کام کر رہا ہوں۔ اقبالیات کے نئے گوشوں کی دریافت میرا جنون ہے۔‘‘ چناں چہ یہی موضوع بورڈ سے منظور کروایا اور الحمدللہ، اقبالیات کے ایک بنیادی گوشے پر، جو مدّتوں سے تشنۂ تحقیق تھا، بین الاقوامی سطح کی تحقیق کی۔ 

میرے اِس مقالے پر ایم فِل کا تحقیقی کام’’ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کی افغانستان میں اقبال شناسی کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ‘‘ بھی ہوچُکا ہے۔ میرے ایک پوسٹ ڈاکٹریٹ کا مقالہ’’افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کی بہتری میں فکرِ اقبال کا کردار‘‘اور دوسرے کا موضوع’’این میری شمل کی اقبالیاتی خدمات‘‘ ہے۔

س: کیا علامّہ اقبال کبھی بلوچستان آئے تھے؟

ج: علّامہ صاحب نے بلوچستان کے تین اسفار کیے تھے۔ پہلے سفر کے دَوران اپنے کسی رشتے دار کے گھر واقع کواری روڈ ٹھہرے تھے، جو کوئٹہ میں موٹرمیکینک تھے۔ مَیں نے خاصی کوشش کرکے وہ فیملی تلاش کی۔ اُس موٹر میکینک کا خاندان اب بھی کوئٹہ میں مقیم ہے، جس میں ایک خاتون صوبائی سِول سیکریٹریٹ میں افسر ہیں۔

حضرت علّامہ کا دوسرا سفرِ بلوچستان اُس وقت ہوا، جب اُن کے بڑے بھائی، شیخ عطا محمّد پر بلوچستان میں دورانِ ملازمت(محکمہ ایم ای ایس) ایک محکمانہ مقدمہ بنا۔ علّامہ اقبال اُس مقدمے کی پیروی کے سلسلے میں ڈی آئی خان کے راستے کوہِ سلیمان کے دانہ سر کی پہاڑی اور وہاں سے آگے ژوب تشریف لائے۔ اُس وقت شیخ عطا محمّد کی پوسٹنگ ژوب میں تھی، جسے اُس زمانے میں فورٹ سنڈیمن کہتے تھے۔

علّامہ نے دو دن وہاں قیام فرمایا۔ اُن کا بلوچستان کا تیسرا اور آخری سفر، افغانستان سے واپسی پر ہوا۔ وہ 2نومبر 1933ء کو چمن پہنچے اور اُسی شام وہاں سے روانہ ہو کر رات کو کوئٹہ پہنچے۔ کوئٹہ کے ڈاک بنگلے میں قیام فرمایا اور3نومبر کو وہاں سے بذریعہ ٹرین ملتان روانہ ہوئے۔

س: کیا علّامہ محمّد اقبال کی فکر نے مشرق کے ساتھ مغرب کو بھی متاثر کیا اور وہ مغرب میں کس حد تک جانے جاتے ہیں؟

ج: یہ بہت بنیادی سوال ہے اور اِس کے دو رُخ ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت علّامہ کا تصوّرِ پاکستان اور دوسرا یہ کہ بین الاقوامی سطح پر اُن کے افکار کو کتنی پذیرائی ملی۔ حضرت علّامہ کی ولادت مسلمانوں کی جنگِ آزادی میں ناکامی کے20سال بعد ہوئی۔20 برس کے تھے، جب عالم گیر اسلامی اُمّہ کے مفّکر سیّد جمال الدین افغانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ 

اُس وقت علّامہ صاحب فکری ارتقائی سفر کے ایک اہم موڑ پر تھے۔ اِس کے بعد اُنھوں نے مشرق و مغرب کے اسفار کیے، گول میز کانفرنسز، تحصیلِ علم اور سیاسی تعلیمی دورے وغیرہ۔ وہ اِس نتیجے پر پہنچے کہ مشرقی فکر کی احیا و بقا کے لیے کوشش ہونی چاہیے، کیوں کہ مشرق کی بحالی، ناگزیر ہے۔ مشرقی وسائل، اس کی جغرافیائی اہمیت اور روایات کی دنیا کو ضرورت ہے۔

اُنھیں’’حکیم الامّت‘‘ کا خطاب اِسی بنیاد پر ملا کہ اُن کے نظریات میں نہ صرف مشرق کی نجات کے نسخے موجود ہیں، بلکہ مغرب بھی افکارِ اقبال سے مستفید ہو سکتا ہے۔ اُنھوں نے فرمایا کہ؎ مشرق سے ہو بے زار، نہ مغرب سے حذر کر… فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر۔ اِن نظریات کے عملی اطلاق کے لیے اُنھوں نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی اسلامی مملکت کا تصوّر پیش کیا، جو رنگ ونسل، زبان اور جغرافیہ و ثقافت سے یک سر ماورا ہو اور محض نظریاتی بنیاد پر قائم ہو۔

یعنی ایک ایسی نظریاتی مملکت، جو دین کی پاس داری اور عقائد کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آئے، جو قرآنِ پاک کے اصول و ضوابط اور سیرۂ مبارکہؐ کے اتباع میں ایک رول ماڈل کے طور پہ پیش کی جا سکے۔یوں اقبال کو عالمی سطح پر پہلے شاعر کا اعزاز ملا، جس کے تصوّر پر دنیا میں ایک نظریاتی مملکت معرضِ وجود میں آئی۔ آپ کے سوال کا دوسرا حصّہ کہ مغرب میں اقبال کی پذیرائی کتنی ہوئی، تو اِس وقت پوری اسلامی اُمّہ میں سیرتِ طیبہؐ کے بعد سب سے زیادہ کام اقبال ہی پر ہوا ہے۔ 

دنیا کی 45 زبانوں میں تقریبا ساڑھے 7ہزار کتب علّامہ کے فن، شخصیت ، افکار اور نظریات پرطبع ہو چُکی ہیں۔ اقبال اکادمی، پاکستان نے’’کتابیاتِ اقبال‘‘ پر ڈاکٹر رفیع الدّین ہاشمی کو ایک پراجیکٹ تفویض کیا تھا اور وہ اپنی وفات تک6 ہزار کتب کا ڈیٹا مرتّب کر چُکے تھے، جب کہ اِس فہرست میں کوئی ڈیڑھ ہزار کتب ابھی مزید شامل کرنی باقی ہیں۔ مغرب بتدریج فکرِ اقبال کی جانب متوّجہ ہو رہا ہے۔ 

اِس وقت اقبال اکادمی کی ویب سائٹس کی ویورشپ 40ملین سے زائد ہے، جن میں سرِفہرست مغربی ممالک ہیں۔ اِس وقت مشرق و مغرب کے درمیان ایک تہذیبی تصادم بپا ہے، جسے ختم کرنے کے لیے فکرِ اقبال بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔ حقیقت پسندانہ سوچ کے ساتھ عالمِ انسانیت کے لیے علّامہ اقبال کا پیغام، قرآنی اور آفاقی ہے۔

اقبال کی عالمی پزیرائی پر یہ رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں مغرب کی مختلف یونی ورسٹیز میں اقبالیات ایک مستقل مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔ دنیا کی کئی یونی ورسٹیز میں اقبالیات پر مختلف زبانوں میں ماسٹرز، ایم فِل، پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ سطح کے 1500کے قریب مقالات لکھے جا چُکے ہیں۔

س: اقبال اکادمی، پاکستان کا قیام کب عمل میں آیا، اِس کا دائرۂ کاراور مستقبل کے منصوبے کیا ہیں؟

ج: اقبال اکادمی، حکومتِ پاکستان کے زیرِ انتظام ادارہ ہے، جس کی داغ بیل قائدِ اعظم محمّد علی جناح نے خُود ڈالی تھی۔ پاکستان (باقی صفحہ 14پر)

کے پہلے بجٹ میں، جو قائد کی زیرِ نگرانی تیار ہوا، تمام تر معاشی چیلنجز کے باوجود اقبال اکادمی کے لیے ایک لاکھ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی تھی۔ یہ اِس امر کی دلیل ہے کہ قائدِ اعظم کو ادراک تھا کہ فکرِ اقبال نہ صرف اِس کثیر الثقافتی اور کثیر اللسانی اسلامی نظریاتی مملکت کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اخوّت، یگانگت اور فلاح و بقا میں کلیدی کردار کی حامل ہے۔ 

اِس کا قیام ایک وفاقی ادارے کے طور پر’’اقبال اکادمی ایکٹ 1951ء‘‘ کے تحت عمل میں آیا۔ بعدازاں، اقبال اکادمی آر ڈی نینس 1962ء کے تحت بطور مرکزِ فضیلت برائے اقبال شناسی تشکیل دیا گیا۔ یہ ادارہ حکومتِ پاکستان کی وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے زیرِ انتظام کام کر رہا ہے۔ 

اس کے دائرۂ کار میں علّامہ اقبال کے افکار کا مطالعہ و تفہیم، تحقیق و تدوین، ابلاغ و تعارف اور نشر و اشاعت کا اہتمام ہے۔ اقبال اکادمی اب تک دنیا کی ستائیس زبانوں میں سیکڑوں علمی و تحقیقی کتابیں شائع کر چُکی ہے۔ ڈاکٹر محمّد رفیع الدین، ڈاکٹر شہرت بخاری، عبدالحمید کمالی، احمد فراز، ڈاکٹر وحید قریشی، پروفیسر مرزا محمّد منور، سہیل عُمر اور ڈاکٹر بصیرہ عنبرین جیسی شخصیات ڈائریکٹر کے طور پر فرائض انجام دے چُکی ہیں۔

س: حکومت اکادمی کو مزید فعال بنانے کے لیے کیا کرے؟

ج: مُلک کے تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اقبال اکادمی کے علاقائی مراکز کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ وفاقی اکائیوں میں نظریاتِ اقبال کی بنیاد پر ایک مضبوط فکری ہم آہنگی پیدا ہوسکے۔ نیز، مُلک کی تمام جامعات میں اقبالیات ایک مستقل مضمون کے طور پر متعارف کروائی جائے تاکہ وفاق اور صوبوں کے تعلیمی نصاب میں فکرِ اقبال صرف اردو کے ایک سبق کی بجائے ایک باقاعدہ فکری تربیت کے طور پر شامل ہو جاسکے۔ 

یوں ہمارے تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل مختلف کمپنیز کا ایندھن بننے کی بجائے تقدیر ساز اور صاحبِ کردار بن کر اُبھر سکیں گے کہ اقبال کے شاہین کی پرواز دام اور دانے سے بلند تر ہوتی ہے۔ وہ زیست کو شکم پروری سے تعبیر نہیں کرتا، بلکہ تخلیقِ آدمؑ کے اعلیٰ و ارفع فلسفے کی رُوح بھانپتے ہوئے انسان کو زمین پر اللہ کے خلیفہ کے عظیم منصب پر فائز دیکھنا چاہتا ہے۔ 

فلسفۂ اقبال کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کے لیے خصوصی وظائف جاری کیے جائیں۔ بیرونِ مُلک یونی ورسٹیز میں قائم اقبال چیئرز پر نہ صرف ماہرین تعیّنات کیے جائیں، بلکہ اُنہیں اقبال اکادمی کے ساتھ براہِ راست منسلک کرکے اس تعداد میں اضافہ بھی کیا جائے۔ 

 اقبال اکادمی کا ایک مستقل’’انڈومنٹ فنڈ‘‘ قائم کیا جائے تاکہ اس عظیم فکری و نظریاتی ادارے کو خود انحصاری حاصل ہو اور قومی و بین الاقوامی سطح پر کانفرنسز کا انعقاد، اشاعتی اور تحقیقی منصوبے بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکیں۔ نیز، علّامہ اقبال کی نثر اور شاعری کو جدید عالمی زبانوں(مثلاً چینی، ہسپانوی اور روسی وغیرہ )میں منتقل کرنے کے لیے بھی ایک بڑے بجٹ کی ضرورت ہے۔

س: بحیثیت ڈائریکٹر اقبال اکادمی آپ نے کیا اقدامات کیے اور کن مسائل کا سامنا ہے؟

ج: میرا اور میری ٹیم کا بنیادی مقصد علّامہ اقبال کے آفاقی پیغام کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھال کر نئی نسل تک پہنچانا ہے۔ اِس سلسلے میں کچھ اہم اور بنیادی اقدامات کا تذکرہ لازمی ہے۔ مَیں نے فکرِ اقبال کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے تکثیر افکارِ اقبال پر زور دیا اور اس کی عملی تعبیر مرتّب کرنے کی کوشش کی۔ 

مثلاً شایع ہونے والی کتب کی تعداد تو 500یا ہزار ہوگی، لیکن انٹرنیٹ کے سبب دنیا کے جغرافیائی فاصلے سمٹ گئے ہیں اور اِی لائبریریز کا تصوّر قبولیت پا رہا ہے، آن لائن کتب سے ہزاروں، لاکھوں لوگ مستفید ہوسکتے ہیں، لہٰذا ہم نے فکرِ اقبال پر مختلف زبانوں کے تراجم، تحریرات، تشریحات اور تحقیقات ڈیجیٹلائز کرکے دنیا کے طول و عرض تک پہنچانے کی کوشش کی۔ 

اقبال اکادمی نے دنیا میں سب سے پہلے اردو اِی لائبریری کی داغ بیل ڈالی اور اب ہم نے مصنوعی ذہانت کو مستند علمی مواد کی فراہمی کے لیے اپنی سائبر نیٹ لائبریری پر موجود تمام کتب اور تحقیقی رسائل کو تحقیقی انداز(ریسرچ موڈ) پر منتقل کردیا ہے۔ اے آئی پر مواد کی استناد کے لیے اپنے منابع کی نشان دہی کے سلسلے میں اقبال اکادمی کا نام اور گوگل لوگو کے ساتھ اقبال اکادمی کا لوگو بھی شامل ہوتا ہے۔اقبال کی ذاتی لائبریری کتب کو بھی آن لائن کیا جارہا ہے۔ 

گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران چار بین الاقوامی اقبال کانفرنسز منعقد کرچُکے ہیں، جن میں ایک عالمی اقبال کانفرنس2024 ء میں ای سی آئی کی اسپانسرشپ سے منعقد ہوئی، جس میں مختلف ممالک کے مندوبین کے علاوہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے اقبال اسکالرز نے شرکت کی۔

نومبر 2025ء میں رحمت اللعالمین فاؤنڈیشن اور تعمیرِنو ٹرسٹ کے اشتراک، وزیرِاعلی بلوچستان کی مالی اعانت سے کوئٹہ میں تین روزہ عالمی اقبال کانفرنس منعقد کی گئی، جو بلوچستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد عالمی کانفرنس تھی، جب کہ دسمبر 2025ء میں یونس ایمرے سینٹر، تُرکیہ کے تعاون سے لاہور میں بین الاقوامی اقبال، رومی کانفرنس منعقد کی۔ پہلی مرتبہ چاروں صوبوں کے مختلف اداروں سے فکرِ اقبال کی ترویج و اشاعت کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دست خط کیے۔ سیال کوٹ میں اقبال تحقیقی و ثقافتی مرکز کے لیے وفاقی حکومت سے بجٹ میں ایک ارب روپے منظور کروائے۔ 

علاوہ ازیں، اس مرکز کے لیے سیال کوٹ ویمن یونی ورسٹی کے امام بی بی کیمپس میں دس ایکڑ زمین بھی یونی ورسٹی کے سنڈیکیٹ سے منظور کروائی۔ لاہور میں علّامہ محمّد اقبال کی رہائش گاہ واقع میکلوڈ روڈ کو اقبال اکیڈمک میوزیم بنانے کا منصوبہ وزارتِ ثقافت کو پیش کیا ہے، جو منظوری کے مراحل میں ہے۔ یہ عالمی سطح پر بالعموم اور ایشیا میں بالخصوص ایک منفرد میوزیم ہوگا۔ اقبال اکادمی دو سالوں کے دوران مختلف زبانوں میں اقبالیات پر ستاون کتب شائع کرچُکی ہے۔ 

مختلف ممالک میں اقبال شناسی کے جائزے کے ضمن میں سیمینارز کیے گئے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا اور انسائیکلوپیڈیا امریکانا کے اسلوب پر انسائیکلوپیڈیا اقبالیکا پر کام کا آغاز ہوا، جس کے ذریعے جدید علمی دنیا کو اقبالیات پر جامع ومستند علمی منبع ملے گا۔ تحقیقاتِ اقبال کے نام سے ایک پورٹل پر اکادمی کے زیرِ اہتمام کام کا آغاز ہوچکا ہے۔

شاعری کے علاوہ، نثر میں اقبال کے مکتوبات ایک اہم اور بنیادی منبع ہیں، اِس سلسلے میں پہلی مرتبہ اقبال کے تقریباً سترہ سو پینتیس مکتوبات پر مشتمل ’’کلیاتِ مکتوباتِ اقبال‘‘ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اِس سے اقبال کے افکار و نظریات کی تسہیل و تفہیم میں مدد ملے گی اور بہت سے نئے مباحث نئی جہتوں کے ساتھ معرضِ وجود میں آئیں گے۔ مختلف علمی اداروں میں’’گوشۂ اقبال‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

طلبہ کے لیے اکادمی کے مطالعاتی دوروں کا اہتمام کیا گیا تاکہ وہ اپنے قومی اثاثوں سے جُڑ سکیں۔ تعلیمی اداروں میں سیمینارز کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ تُرکیہ، افغانستان، ایران، تیونس، مصر، قطر اور دیگر اسلامی ممالک کے ماہرینِ اقبالیات کے ساتھ آن لائن لیکچرز کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

جدید نصاب میں فکرِ اقبال کی شمولیت کے لیے وفاقی وزارتِ تعلیم اور ایچ ای سی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ پھر رواں برس،9 نومبر سے اگلے برس9نومبر تک’’سالِ اقبال‘‘ قومی سطح پر منایا جائے گا۔2027ء میں علّامہ اقبال کے 150ویں یومِ ولادت کی مناسبت سے150تصانیف شائع کی جائیں گی اور خصوصی تقاریب کا انعقاد ہوگا۔

واضح رہے، اکادمی کو درپیش مسائل میں قواعد و ضوابط کی باقاعدہ تشکیل نہ ہونا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اکادمی کے پاس بہت سے عظیم الشّان منصوبے موجود ہیں، لیکن محدود بجٹ کی وجہ سے اُن کی رفتار سُست ہے۔ تحقیقی کام کے لیے ماہرینِ اقبالیات اور زبانوں(فارسی، جرمن، عربی وغیرہ ) پر عبور رکھنے والے افراد کی بھی کمی ہے۔ اِسی طرح سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو فلسفۂ اقبال سے متعارف کروانا بھی ایک بڑا تخلیقی اور تیکنیکی چیلنج ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید