دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت میں کچھ پہلوؤں کے اعتبار سے سوشل میڈیا کا استعمال کارآمد ثابت ہوا ہے۔
(1)اس کی بدولت دعوتِ دین اور خدمتِ دین کا عمل انتہائی آسان اور تیز رفتار ہوگیا۔
(2) گھر بیٹھے دین سے متعلق معلومات اور تعلیمات بہ آسانی دست یاب ہیں۔
(3) دین کی افادیت اور حقّانیت ثابت کرنے کے وسیع تر مواقع فراہم ہوئے۔
(4) علمی و تحقیقی سافٹ ویئرز متعارف ہونے کی بدولت اسلامی تعلیمات اور حوالہ جاتی مستند دینی کتب کے ذخائر تک رسائی ممکن ہوئی۔
(5) غیر مسلموں تک اسلام کے آفاقی پیغام کو پہنچانے میں سوشل میڈیا ایک بہترین معاون کے طور پر استعمال ہوا۔ واضح رہے انفرادی اور اجتماعی سطح پر مختلف افراد اور دینی جماعتیں دعوتِ دین کے لیے کسی نہ کسی صورت مختلف ویب سائٹس کا استعمال کر رہی ہیں، جن کی بدولت غیر مسلموں تک دین کی تعلیمات پہنچانے میں معاونت حاصل ہو رہی ہے۔
(6) سوشل میڈیا ویب سائٹس کے ذریعے تجوید و قرأت کے اصولوں کا جاننا اور سیکھنا سابقہ ادوار کی بہ نسبت بہت آسان ہوگیا ۔ تب ہی تجوید و قرأت اور دینی علوم کا شوق رکھنے والے افراد گھر بیٹھے اپنی ان صلاحیتوں کو نکھار رہے ہیں۔
(7) انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید دَور میں متعدد ایسے ویب پیجز، سافٹ ویئرز اور ایپس دست یاب ہیں،جن کی بدولت قرآنِ مجید، احادیثِ مبارکہ اور مختلف اسلامی حوالہ جات تک رسائی اور انھیں محفوظ کرنا انتہائی سہل ہوگیا ہے۔
قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہ کے سافٹ ویئرز متعارف ہونے کی بدولت عظیم علمی ذخائر و دینی سرچشموں تک رسائی ممکن ہوئی ہے۔ جیسا کہ قرآن و حدیث اور اسلامی حوالوں کے اعتبار سے الجامع الکبیر اور المکتبۃ الشاملۃ وغیرہ بہترین سافٹ ویئرز ہیں۔
علاوہ ازیں، قرآن و حدیث اور عقیدہ و فقہ کے بھی کئی سافٹ ویئرز منظرِ عام پر آچکے ہیں، جن میں کثیر موضوعات پر مبنی ہزارہا کتب و جرائد شامل ہیں، جو کہ اسلامی تحقیق کے لیے انتہائی کارگر ثابت ہو رہے ہیں۔(بحوالہ:سوشل میڈیا اور ہماری زندگی، صفحہ 151)۔
مختصر یہ کہ سوشل میڈیا کا حدود و قیود، اعلیٰ اخلاقی اقدارکے ساتھ استعمال اور اختلاف کے آداب ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے نقطۂ نظر کو سلیقے کے ساتھ مثبت انداز میں دلائل کی بنیاد پر پیش کرنا یا فریق مخالف سے اختلاف رائے رکھتے ہوئے کسی امر پر اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کرنا قابلِ مذمّت نہیں ہے، بلکہ دینِ اسلام میں یہ قابلِ ستائش عمل ہےکہ اس سے علم و تحقیق کی نئی راہیں کُھلتی ہیں۔
یہ اقدام اس صُورت میں ناجائز قرار پاتا ہے، جب اس کے اظہار میں شدّت پسندی اور تنگ نظری کا مظاہرہ کیا جائے، اپنے نقطۂ نظر ہی کو حق سمجھتے ہوئے باہم دست و گریباں ہوا جائے۔ سو، عصرِ حاضر میں ان ہی اصول و ضوابط کو مدِّنظر رکھتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
مطلب، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سوشل میڈیا صارفین پر یہ ذمّے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بلاوجہ کسی کی پگڑی نہ اُچھالیں، کسی کی عزت پر حملہ کریں، نہ کسی کی کردار کُشی۔ اپنی زبان اور قلم کا سوداہرگز نہ کریں۔ اپنے منصب کو قابلِ فروخت نہ بنائیں، حق پر مبنی بات کہنے میں کسی مزاحمت کو خاطر میں نہ لائیں اور کسی بھی قسم کا خوف و خطراور لالچ انہیں حق کے اظہار سے نہ روک سکے۔کیوں کہ اگر اختلاف ِرائے کی آڑ میں ذرائع ابلاغ کے اس آدم خور دیو کو بے لگام چھوڑ دیاگیا، تو یہ ایمانیات کے ساتھ انسانوں کی اخلاقیات بھی پیروں تلے روند کر رکھ دے گا۔
مثبت و منفی کردار کا تقابلی و تنقیدی جائزہ
کنگ عبداللہ میڈیکل یونی ورسٹی، مکّہ مکرّمہ کے ٹیکنالوجسٹ مولانا محمد نعمان مکّی سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں، فوائد و نقصانات کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’یہ امر کسی پر مخفی نہیں، بلکہ ایک روشن حقیقت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دَور میں انسانیت گویا کسی جنگ کے میدان میں ہے۔ ایک ایسی جنگ، جس میں ایٹمی ہتھیار نہیں، بلکہ فکری اور تہذیبی یلغار ہے۔ دراصل یہ ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی کا میدانِ کارزار ہے۔
اگر ہم اسے ’’مائنڈ کنٹرولنگ‘‘ کے حصول کی جنگ کہیں، تو غلط نہ ہوگا اور جو لوگ سوشل میڈیا سے وابستہ ہیں، وہ غیر محسوس طور پر اس جنگ کا حصّہ ہیں۔ مائنڈ کنٹرولنگ ایک ایسا عمل ہے، جس میں کسی فرد یا جماعت کے دماغوں تک، غیر محسوس طریقے سے ایسے پیغامات بھیجے جاتے ہیں، جو انفرادی یا اجتماعی رائے، انتخاب اور سوچ و فکر کو کسی مخصوص نظریے کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔
یہ کام بہت دھیرے دھیرے ترتیب کے ساتھ غیر محسوس انداز میں کیا جاتا ہے اور بعدازاں، لوگوں کے نظریات، احساسات اور جذبات کسی مخصوص گروہ، جماعت یا کسی فیصلے کی تائید یا تردید میں موافق یا مخالف بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر متحرک کوئی بھی شخص جو اس کے استعمال کی حدود یا اصول و ضوابط سے ناواقف ہے، وہ اس کے منفی اثرات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
جس طرح تزکیہ و تصوّف اور دعوت و تبلیغ میں مثبت مائند کنٹرولنگ متاثر کُن ہے، جو انسان کی سوچ، جذبات، نظریات اور احساسات کو حتی الامکان مثبت اور تعمیری بناکر بھلائی کی طرف موڑ دیتی ہے اور اسے ہم ’’پازیٹو مائنڈ کنٹرولنگ‘‘ کہہ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان کے اندر یقین، تقویٰ، حیا، خودداری، خود اعتمادی، اجتماعی اور اعلیٰ معیار کی سوچ (Critical Thinking) پیدا ہوتی ہے۔
اسی طرح جو لوگ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متحرک رہتے، مگر اس کے استعمال کی حدود و قیودسے ناواقف ہوتے ہیں، وہ دین دار ہونے کے باجود کسی نہ کسی درجے میں انٹرٹینمنٹ انڈسٹریز سے متعارف ہوکر اس سے لُطف اندوز ہونے کے عادی بن جاتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دجّالیت اور حسّاسیت سے ناآشنا اور نفس پر قابو نہ رکھ پانے کی وجہ سے اکثر لوگ اس میں اتنے مستغرق ہوجاتے ہیں، گویا اُن پر سوشل میڈیا کا نشہ چڑھ جاتا ہے، ایسے لوگ سو فی صد کسی نہ کسی درجے میں منفی یا نگیٹیو مائنڈ کنٹرولنگ سسٹم کا حصّہ بن جاتے ہیں۔ چوں کہ یہ غیر محسوس طریقے سے انسان کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے، لہٰذا ممکن ہے کہ کچھ لوگ اس بات سے اتفاق نہ کرسکیں۔
دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دَور میں ضروریاتِ زندگی سامنے رکھتے ہوئے نہ ہم جدید ٹیکنالوجی سے بہرہ وَر ہوسکتے ہیں اور نہ سوشل میڈیا کا استعمال ترک کرسکتے ہیں۔ ہاں، یہ ضرور کرسکتے ہیں کہ ملّتِ اسلامیہ کے سامنے سوشل میڈیا کے منفی و مثبت پہلو اجاگر کریں، تاکہ ہر فرد اس کی حدود و قیود سے متعارف ہوکر اس مفید، مثبت، تعمیری اور صحیح استعمال سیکھے، اس سے مستفید ہوسکے اور اس کے بالمقابل سوشل میڈیا کے بے جا اور غیر محتاط استعمال کے نقصانات سے خود بھی بچے اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی بچائے کہ یہ وقت کا اہم تقاضا ہے۔‘‘ (ندیم ماہر/سوشل میڈیا۔ فوائد اور نقصانات،صفحہ 8)۔
غیر مفید، بے مقصد استعمال کے نقصانات، منفی پہلو
سوشل میڈیا کی اہمیت و افادیت، مثبت ،تعمیری استعمال سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آج محض خود ساختہ کسی مذہبی، مسلکی، سیاسی یا نظریاتی اختلاف کے باعث اپنے فریق ِمخالف کے خلاف جس طرح سوشل میڈیا کا منفی استعمال کیا جارہا ہے، وہ ہماری دینی، مذہبی اور اخلاقی اقدار کے قطعاً برخلاف ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پریہ منفی استعمال معاشرتی بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔
اسلام میں اظہارِ رائے کی آزادی کا تصوّر ضرور موجود ہے، تاہم مادر پدر آزادی یا تمام حدود و قیود پامال کرکے محض اپنی سوچ یاخود ساختہ نظریات مسلّط کرنا، اسلامی تعلیمات اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے منافی عمل ہے۔ ایسے اقدامات اور رویّوں کو سندِ جواز فراہم نہیں کی جاسکتی۔ اس ضمن میں ایک توجّہ طلب مسئلہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کا بھی ہے کہ عموماً سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مزید شیئرنگ کے عمل میں حقائق کی جانچ کیے بغیر غلط اور گم راہ کن معلومات کو تیزی سے پھیلانا آسان ہوجاتا ہے، جس کے حقیقی دنیا پر حد درجہ سنگین اثرات بھی مرتّب ہوتے ہیں۔
تحقیقی مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ سوشل میڈیا کا بہ کثرت استعمال تنہائی، ڈیپریشن، پریشانی اور منفی جذبات کو بڑھا سکتا ہے۔ پرائیویسی کے خاتمے کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا مستقل تنقید کی زد میں ہے، جب کہ اخلاقی اقدار، اسلامی تعلیمات اس ضمن میں بہترین راہ نمائی فراہم کرتی ہیں۔ یہ بات جاننا بے حد ضروری ہے کہ استعمال کن مقاصد کے لیے کیا جارہا ہے۔ اس کے سبب کسی علت کا شکار تو نہیں ہوتے جارہے؟
کسی کو دھمکانے، خوف زدہ کرنے یا کسی اورمنفی سرگرمی کے لیے تو استعمال نہیں کر رہے؟ یہ وہ سوالات ہیں، جو ہر سوشل میڈیا صارف کو خود سے کرنے چاہئیں۔ اگرچہ اس کے نقصانات کے متعلق ابھی کم مطالعات سامنے آئے ہیں، لیکن واقعات اور شواہد کی روشنی میںجو منفی پہلو بھی واضح ہوئے، اختصار و جامعیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ذیل میں چند کا ذکر کیا جارہا ہے۔
.....O ناموسِ رسالت، ناموسِ صحابہؓ و اہل بیتؓ و مقدّسات کی شان میں گستاخی اور توہینِ آمیزی۔.....O عقیدۂ ختم نبوت کا انکار۔.....Oتوہینِ مذہب۔ توہینِ قرآن۔.....O دینی شعائر اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے دُوری۔.....O مزاج کی برہمی، عدم برداشت، انتہا پسندی۔.....O الحاد، لامذہبیت، مذہب بے زاری۔ .....Oمعاشرتی اور تہذیبی قدروں کا زوال۔.....Oاخلاقی انحطاط، سماجی و معاشرتی رویّوں میں تبدیلی۔.....Oاظہارِ رائے کی آزادی کا غلط اور منفی استعمال۔ .....Oمصنوعی شناخت، فیک آئی ڈیز کا منفی اور غلط استعمال۔.....Oدروغ گوئی، غلط بیانی، افواہ سازی۔.....O معصوم، بے گناہ خواتین پر بے بنیاد الزامات اور افتراء پردازی۔.....Oبغیرتحقیق بے بنیاد خبروں اور پیغامات کی اشاعت، بہتان تراشی۔ .....O تجسّس، کھوج کرید، لوگوں کے نجی معاملات میں مداخلت۔.....O والدین، خاندانی رشتوں، عزیزو اقارب سے بے توجّہی و لاتعلقی۔.....Oڈیپریشن، نیند کی کمی، اعصابی تناؤ، انسانی صحت پر مضر اثرات۔.....Oوقت کا زیاں، سُستی، کاہلی اور تنہائی پسندی۔.....Oاخلاقی اقدار اور تعلیم و تربیت سے دُوری۔.....Oمقدّس رشتوں کی بے توقیری۔.....Oکتب بینی، کتاب کلچر اور مطالعۂ مذہب میں بتدریج کمی۔ .....Oمنشیات اور نشہ آور ادویہ کے استعمال کا رجحان۔.....Oخودکشی و خود سوزی کے بڑھتے واقعات۔ .....Oذہنی صحت اور یادداشت پر برے اثرات۔.....O لسانی، گروہی، فرقہ وارانہ، قبائلی تعصبات کا فروغ اور تشہیر۔.....Oبے بنیاد الزام تراشی، تضحیک آمیزی،.....Oفحاشی، جنسی ہراسانی، عریانیت کا فروغ،فحش، اشتہاء انگیز اور غیر اخلاقی مواد کی تشہیر۔.....Oملک دشمنی، لاقانونیت، ریاست و مملکت کے خلاف منفی پروپیگنڈا۔.....Oمقتدر ریاستی حلقوں اور ملک و ملّت کے خلاف منفی سرگرمیوں کا فروغ۔.....Oجذباتی ردِّعمل، اشتعال انگیزی اور ملک و ملّت کے خلاف منفی افکار و نظریات کی تشہیر۔.....Oحقائق کے برخلاف، من گھڑت، افواہ سازی پر مبنی پروپیگنڈا۔.....Oعسکریت پسندی، دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی۔ .....Oعالمی سطح پر شانِ رسالتؐ میں گستاخی۔ .....Oاسلاموفوبیا اور دینی اقدار و شعائر پر بے بنیاد حملے۔ .....Oتہذیبی تصادم کے نظریے کا فروغ۔.....Oمغربی دنیا میں اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کے خلاف منفی پروپیگنڈا۔
اسلام کی تہذیبی و معاشرتی اقدار پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات
سوشل میڈیا کے استعمال میں بے اعتدالی اور مخالفین کے خلاف پراپیگنڈے کی مکمل آزادی نے معاشرے میں نہ صرف انتہا پسندی جیسے معاشرتی ناسور کو پنپنے کے مواقع فراہم کیے، بلکہ اخلاقی اقدار کی پامالی، نفرت، کینہ، حسد اور عناد جیسے منفی رویّوں کو بھی بال و پَر عطا کیے ہیں۔ انتہا پسند تنظیمیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ سوشل میڈیا کو سامانِ جنگ کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔
وہ اسے نظریاتی، علمی اور نفسیاتی ہتھیار بنا کر، غیر حقیقی خوش کن تصوّرات، خیالات اور دلائل سے نوجوان نسل کو متاثر کر رہی ہیں۔ خاص طور پر مقبول ترین سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ’’فیس بک‘‘ پر جاری منفی و غیر اخلاقی سرگرمیوں کی وجہ سے معاشرے میں نفرت، بے راہ روی اور دیگر ایسی اخلاقی و سماجی خرابیاں اور سرگرمیاں فروغ پارہی ہیں، جو معاشرے کے مختلف طبقات اور مکاتبِ فکر کے مابین باہمی انتشار و خلفشار پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔
ان کی ویب سائٹس ایسی ٹکسال بن چکی ہیں، جہاں عصبیت، منافرت اور انتہا پسندی کے سکّے ڈھالے جاتے ہیں۔ کسی قسم کی روک ٹوک نہ ہونےکے سبب ہر شخص اچھی بُری بات کہنے اور لکھنے میں آزاد ہے۔ کوئی بھی کسی بھی مذہبی شخصیت اور مذہبی نظریات کو مطعون کرسکتا ہے اور مخالف مذہبی سوچ کی محترم شخصیات پر کیچڑ اچھال سکتا ہے۔(حسن محی الدین، ڈاکٹر/سوشل میڈیا اور ہماری زندگی،صفحہ165)۔
پھر باقاعدہ اصول و ضوابط نہ ہونے سے اس جدید سہولت کو فحاشی اور بے حیائی کے فروغ کے لیے بھی بے دھڑک استعمال کیا جارہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس قبیح عمل کو برا جاننے کے بجائے فحش مواد کو میکانیکی تہذیب کا حصّہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تاکہ عوام النّاس میں اسے بُرا سمجھنے کا ادراک اور شعور ہی باقی نہ رہے۔
یہی وجہ ہے کہ لوگ اسے معیوب جاننے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور بے حیائی کا سیلاب نسلِ نو کو انتہائی خطرناک انداز میں خس و خاشاک کی طرح بہائے لیے جارہا ہے۔(بحوالہ سوشل میڈیا اور ہماری زندگی، صفحہ166)۔
سوشل میڈیا کا بے جا استعمال صارف کو اس کے نشے کا اس حد تک عادی بنا دیتا ہے کہ وہ گویا اپنے گرد و پیش ہی سے غافل ہوجاتا ہے، جو کہ ایک خطرناک پہلو ہے۔ اس کے مسلسل استعمال کی عادت اعصابی تناؤ کے ساتھ دماغی صحت پر بھی منفی اثرات مرتّب کرتی ہے اور ایسے افراد معاشرتی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔
خصوصاً نسلِ نو اور بچّوں پر جو منفی اثرات مرتّب ہورہے ہیں، اس کی وجہ والدین، بالخصوص ماؤں کا گھریلو امور کی انجام دہی دوران بچّوں کو موبائل فون تھما دینا ہے۔ تب ہی بچّوں کی طبیعت میں غصّہ، جھنجھلاہٹ، چڑچڑا پن، اپنے ساتھیوں سے نفرت اور حسد جیسے جذبات جنم لینے لگتے ہیں، وہ صحت مند سرگرمیوں سے دُور ہوتے جارہےہیں۔
قصّہ مختصر، سوشل میڈیا ویب سائٹس کا بلاوجہ منفی استعمال صارف کی ذہنی پراگندگی اور تنزّلی کا سبب بنتا ہے۔دماغ طرح طرح کے شیطانی تصوّرات، فضول خیالات کی آماج گاہ بن جاتا ہے اور پھر ایسے افراد معاشرے میں کسی بھی قسم کا مثبت، تعمیری کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ (جاری ہے)