• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوشل میڈیا کا مثبت اور تعمیری استعمال اور اس کے تقاضے ( قسط نمبر1)

محبوبِ ربّ العالمین، سیّدالمرسلین، خاتم النّیین، نبوّت و رسالت کے ماہِ تمام، سراجِ منیر، خیرالانام، سرنامۂ کون و مکاں، فخرِدوجہاں، احمدِ مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی حیاتِ طیّبہ کا ہر گوشہ اور آپؐ کی سیرت و کردار کا ہر رُخ اُمّتِ مسلمہ کے لیے رُشد و ہدایت کا سرچشمہ، روشن مثال، کامل و مکمل نمونہ اور مینارۂ نور ہے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں انفرادی و اجتماعی زندگی گزارنے کے لیے ہر شعبۂ زندگی کے ہرہرقدم پر تعلیماتِ نبوی ﷺ سے راہ نمائی کی اشد ضرورت ہے۔

آپﷺ کا اسوۂ حسنہ اور آپؐ ﷺکے ارشادات و تعلیمات حکمت و دانائی اور فکر و دانش کا سرچشمہ ہیں۔ محسنِ انسانیت، سرورِ عالم، حضرت محمدﷺ کے اسوۂ کامل اور سیرتِ طیبہ کا ہر پہلو تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ حیاتِ نبویؐ کا ہر دَور اور ہر لمحہ مشعلِ ہدایت اور منبع سعادت ہے۔ رسالت مآب ﷺ کی حیاتِ طیّبہ اور آپؐ کی تعلیمات اہلِ ایمان کے لیے سرچشمۂ ہدایت بھی ہیں اور مرکزِ عشق و محبت بھی، اہلِ ایمان کا دینی وتہذیبی نظام معلّمِ کتاب و حکمت، دینِ مبین کے مبلّغ و داعی اعظم، حضرت محمد ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر قائم اور عمل کی دنیا بھی آپؐﷺ کے ارشادات و احکام پر استوار ہے۔

معراجِ خیال بھی آپﷺ ہی کا پیغام ہے، میزان عمل بھی آپؐ کی سنّت و شریعت ہے۔ یوں آپؐ کا اسوۂ حسنہ اور مثالی تعلیمات تاریخ کے ہر دَور اور ہر زمانے میں مسلمانوں کی قوت و رفعت کا سرچشمہ ہیں۔

عصرِ حاضر میں عالمِ انسانیت کو بالعموم اور اُمّتِ مسلمہ کو بالخصوص، جو مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں۔ اُن میں سوشل میڈیا (ذرائع ابلاغ) کے انفرادی و اجتماعی کردار یعنی ایک عام آدمی سے ریاست ومملکت کے سربراہِ حکومت تک ذمّے داریوں کے تعیّن کے حوالے سے بڑا چیلنج درپیش ہے۔ 

اسی ’’میڈیا وار‘‘ کے تناظر میں سوشل میڈیا کے مثبت و منفی استعمال، نیز، اس کی حدود و قیودکے ضمن میں فوری ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ نیز، اس کے مثبت کردار اور ذمّے داریوں کے حوالے سے اسلام اور پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کی روشن تعلیمات سے راہ نمائی کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ آپؐ کی حیاتِ طیّبہ اور مثالی تعلیمات، اس سلسلے میں واضح ہدایات، کامل و مکمل راہ نمائی اور جامع منشور کی حیثیت رکھتی ہیں۔

سوشل میڈیا، ابلاغ عامّہ کی جدید ترین شکل ہے۔ موجودہ دَور ’’گلوبلائزیشن‘‘ کا دَور کہلاتا ہے اور دنیا کو گلوبلائز کرنے میں سوشل میڈیا کا کردار سب سے زیادہ اہم گردانا جاتا ہے۔ جیسا کہ آج عالمی گاؤں (Global Village) کی اصطلاح عام ہوچکی ہے، جیسے سب سے پہلے مارشل میک لوہان (Marshal Mcluhan) نے متعارف کروایا۔ تو اس عالمی گاؤں کو گاؤں بنانے والا سوشل میڈیا ہی ہے۔ 

’’سوشل میڈیا‘‘سے مراددراصل سماجی روابط کی سہولت فراہم کرنے والے آن لائن سماجی ذرائع ہیں، جن کی مدد سے دنیا بھر سے انٹرنیٹ سے منسلک (ڈیجیٹل افراد) کی بڑی تعداد کے مابین سماجی روابط قائم ہوتے ہیں۔ اس کے ذریعے لوگ مختلف ایپلی کیشنز استعمال کرتے ہوئے معلومات، خیالات، آڈیواور ویڈیو پیغامات ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں۔ (بحوالہ:فرحت نسیم علوی/ ثقافتی و معاشرتی اقدارپر مغربی میڈیا کے اثرات، ایشین ریسرچ انڈیکس)۔

انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا میں درج ہے کہ سوشل میڈیا (ایس ایم) کی اصطلاح سب سے پہلے 1994ء میں ٹوکیو کے آن لائن میڈیا ماحول میں استعمال ہوئی، جسے میٹیس کہتے ہیں۔ اور اب مختلف تعریفات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ انٹرنیٹ پر مبنی ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے، جو خیالات، تصوّرات اور معلومات کو ورچوئل نیٹ ورک اور کمیونیٹیز کے ذریعے منتقل کرتی ہے اور یہ صارفین کو فوری ابلاغ میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ 

ان کے ذریعے صارفین ذاتی معلومات، دستاویزات، تصاویر اور ویڈیو کا باہم تبادلہ بھی کرسکتے ہیں۔سو، اس تناظر میں یہ کہنا یقیناً مبالغہ نہیں کہ سوشل میڈیا نے دنیا کو حقیقی معنوں میں گلوبل ویلیج میں تبدیل کردیا ہے، جس میں صارفین کمپیوٹر، ٹیبلٹس یا اسمارٹ فونز کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط و منسلک ہیں۔

عصرِ جدید کے نظامِ خبر رسانی میں سوشل میڈیا کا کردار

انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا دو دھاری تلوار کی طرح ہے۔ اس کے فوائد و ثمرات، مضرات و نقصانات ہر سطح کے افراد کے لیے یک ساں نوعیت کے نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص اس وبا سے مختلف انداز میں متاثر ہو رہا ہے۔ آج کا مادّی دَور ترقی کی اُس ارتقائی منزل کی طرف رواں دواں ہے، جس کا ذکر اب سے پیش تر قصّے کہانیوں میں سنا جاتا تھا، لیکن آج کے اس ترقی یافتہ دَور میں دھیرے دھیرے یہ افسانوی کردار حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں اور اس ارتقائی یا جادوئی دنیا کا ہیرو ’’انٹرنیٹ ‘‘ ہے۔

انٹرنیٹ کے ارتقاء کا عمل کچھ اس طور انجام پایا کہ اس دنیا نے جو بہت سے نشیب و فراز دیکھے، یہ اُن کا گواہ بن گیا۔ آج انٹرنیٹ اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ پوری دنیا سمٹ کر ایک چھوٹی سی ڈبیا (موبائل فون) میں قید ہوکر ہاتھوں میں آچکی ہے۔ عالمی اعداد و شمار کی ویب سائٹ (https://www.statista.com) کے اعتبار سے اپریل 2023ء تک دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 518بلین تھی۔

مختصر یہ کہ سوشل میڈیا نے فاصلوں کو سمیٹ کر پیغام رسانی کو آسان اور جدید ابلاغی ذرائع اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ارتقائی عمل نے دنیائے انسانیت کے لیے مختلف علوم و فنون سے استفادہ آسان تر کر دیا ہے۔ یعنی دنیا بھر کی معلومات کا حصول اب ناممکن سے ممکن ہوگیا ہے۔ (بحوالہ:ندیم ماہر/سوشل میڈیا۔ فوائد اور نقصانات، صفحہ،17-16)۔

عالمی سطح پرسوشل میڈیا کی مقبولیت، ہمہ گیر مثبت و منفی اثرات 

سوشل میڈیا ،ورچوئل نیٹ ورکس (مجازی رابطوں)کے ذریعے خیالات و معلومات کے اشتراک کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی شئے اپنی ذات میں اچھی یا بُری نہیں ہوتی، اس کا استعمال اسے اچھا یا بُرا بناتا ہے۔ 

تب ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے ذرائع میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ دَورِ جدید، بہ الفاظِ دیگر آج کی ترقی یافتہ اور شب و روز بدلتی دنیا میں اس کی مقبولیت، اہمیت و افادیت کی ایک روشن دلیل ہے۔

اس کے فوائد میں سے ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ اسے تربیت گاہ میں بدل سکتے ہیں، کیوں کہ کمپیوٹر، آنے والی نسلوں کی تربیت کا ایک موثر و بہترین ذریعہ، جس کا انحصار اس کے مثبت اور تعمیری استعمال پر ہے۔

اسلامی معاشرے، مسلمان نوجوانوں پر گم راہ کن اثرات 

مغربی میڈیا بالخصوص اور سوشل میڈیا بالعموم، مغربی تہذیب و ثقافت اور اسلام دشمن افکار و نظریات مسلمان نوجوانوں میں منتقل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ضمن میں انٹرنیٹ ٹریفک پر نظر رکھنے والی ایجنسیوں نے یہ الم ناک رپورٹ دی ہے کہ انٹرنیٹ پر پورن اور بالغ ویب کا مشاہدہ کرنے والے سرِفہرست دس میں سے سات کا تعلق مسلمان ممالک سے ہے۔

یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیلا جارہا ہے، خصوصاً یہ فحاشی و عریانی پر مبنی ویب سائٹس تو مسلمان معاشرے کے لیے گہری دلدل کے مترادف ہیں۔ کیوں کہ درحقیقت اسلام جہاں آزادئ اظہار ِرائے کی اجازت دیتا ہے، وہیں معاشرے پر اس کے مضر اثرات کے تناظر میں اصول و آداب بھی وضع کرتا ہے، جن پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔

مثبت و تعمیری استعمال کی ضرورت و اہمیت

دورِ جدید میں ابلاغی اعتبار سے ’’سوشل میڈیا‘‘ کو جسم میں دل کی سی حیثیت حاصل ہے۔ کوئی شخص اسے نظر انداز کرسکتا ہے، نہ اس سے لاتعلق رہ سکتا ہے۔ یوں کہیے، ملک و قوم کی تعمیر و تخریب میں اس کا کردار مسلّمہ ہے۔اس لحاظ سےاس کی افادیت کے چند نمایاں امور درج ذیل ہیں۔

(1) سابقہ ادوار میں دُور دراز علاقوں سے متعلق آگاہی، معلومات کا حصول انتہائی کٹھن عمل تھا، جس کے لیے ہفتے، مہینے درکار ہوتے، میلوں کا سفر طے کرنا پڑتا۔

کسی شخص کی خیریت، مزاج پُرسی، حالات دریافت کرنے کے لیے ہفتوں ڈاک کا انتظارکیا جاتا۔ اس کے برعکس آج سوشل میڈیا نے اس عمل کو انتہائی آسان اور قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔ گھر بیٹھے محض ایک کلک سے پوری دنیا صارف کے سامنے آجاتی ہے، جس کے ذریعے نہ صرف وہ آن لائن معلومات تک بآسانی رسائی حاصل کرتا ہے، بلکہ دوسروں کے ساتھ ہر طرح کی معلومات کا تبادلہ بھی کرسکتا ہے۔

(2) معاشرتی و سماجی ترقی میں نوجوانوں کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے اور سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کی توجّہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے۔ مثبت سوچ کی حامل، اور تخلیقی اپروچ کی مالک نوجوان نسل کی زندگیوں پر اس کے مثبت اثرات نظر انداز نہیں کیے جاسکتے۔ یہ نوجوانوں کے لیے علم و ہنر کے میدان میں آگے بڑھنے، تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے، مہمیز دینے، صیقل کرنے اور مزید برآں، روزگار کے سنہری مواقع حاصل کرنے میں حد درجہ معاون ثابت ہوا ہے۔

(3) اس کا شعوری طور پر درست استعمال طلبہ میں جواب دہی کا احساس، شعور کی بے داری اور احساسِ ذمّے داری پیدا کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

(4) دَورِ جدید کا انسان وسائل اور مادّی ضروریات کی کمی پوری کرنے کے لیے دن رات کولھو میں بیل کی طرح جُتا رہتا ہے۔ اس بے پناہ مصروفیت کے باعث اسے تفریح کے مواقع بہت کم میسّر آتے ہیں، تو یہ کسی حد تک اس کی یہ کمی پوری کرنے میں بھی کارگر ثابت ہو رہا ہے۔

(5) سوشل میڈیاکا فلاحی و رفاہی کاموں میں استعمال بھی معاون ثابت ہوا ہے۔ مختلف پیجز پر تحریروں، ویڈیوز کے ذریعے عامّۃ النّاس میں خدمتِ خلق کی اہمیت اُجاگر کی جاتی ہے۔ نیز، فلاحی و رفاہی ادارے اپنی سرگرمیوں کو موثر طبقات اور مالی اثر و رسوخ رکھنے والے متموّل افراد تک آن لائن پہنچانے کی سہولت سے فیض یاب ہورہے ہیں۔

(6) نسلِ نو میں اخلاقِ حسنہ پیدا کرنے کے لیے اہلِ علم و دانش کے پروگرامز اور لیکچرز رہنما اور رہبر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ (بحوالہ:حسن محی الدین، ڈاکٹر/سوشل میڈیا اور ہماری زندگی، صفحہ نمبر157)۔

ہمیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ انٹرنیٹ/سوشل میڈیا نے بہ حیثیت ایک ٹیکنالوجی ہماری تمدّنی ترقی کو کئی خُوب صُورت، احسن موڑ بھی دیے ہیں۔ اس نے دنیا کے انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا ہے، بے آوازوں کو آواز بخشی ہے۔ اطلاعات کو سستا، آسان کرکے عام آدمی کی طاقت بڑھائی ہے، حق کے غلبے کی راہ آسان کی ہے۔

یہ اسلام کے تمدّنی مقاصد میں شامل ہے، بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ انٹرنیٹ کا مثبت، تعمیری اور متوازن استعمال مثالی اسلامی معاشرے کے قیام کی منزل قریب تر کرسکتا ہے۔ درحقیقت، اسلام کے داعیوں کے لیے ایک بڑی نعمت ہے۔ آج صرف فیس بُک استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً دو بلین ہوچکی ہے۔ 

یعنی فیس بک اگر کوئی ملک ہوتا، تو آج سب سے بڑا ملک ہوتا۔ تو یہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے اپنے پیغام کی ترسیل کا بہت بڑا موقع ہے۔ مسلمانوں کی اصل طاقت پیغام ہی کی طاقت ہے۔ اُن کے پاس اللہ کا جو پیغام ہے، وہ بڑی کشش رکھتا ہے اور سوشل میڈیا نے اس اصل طاقت کو بروئے کار لانے کے مواقعّ کئی گنا بڑھا دیے ہیں، امکانات کی ایک وسیع دنیا کے در واکر دیے ہیں۔(سوشل میڈیا اور مسلم نوجوان، صفحہ 21)۔

انسانی زندگی کے زمین پر وجود میں آنے سے آج اکیسویں صدی تک، ہر دَور کے انسان نے اپنے نقطۂ نظر کی تشہیر کے لیےمروّجہ وسائل اور ذرائع استعمال کرکے اپنا پیغام دوسروں تک پہنچایا ہے، جب کہ دین ِاسلام کی ترویج و اشاعت میں درج ذیل پہلوؤں کے اعتبار سے ’’سوشل میڈیا‘‘ کا استعمال کارآمد ثابت ہوا ہے۔ (جاری ہے)

سنڈے میگزین سے مزید