• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مجید امجد جھنگ میں پہلی جنگِ عظیم کے آغاز کے سال میں پیدا ہوئے،ان کی وفات کو باون برس ہو گئے،نظم ان کی پہچان ہے،کسی کو ان کی نظم آٹو گراف،پسند ہے کسی کو پنواڑی۔کسی کو کنواں،کسی کو توسیعِ شہر،یا کوئی اور نظم ۔ان کی اولاد نہیں تھی،انہیں بچوں سے بہت پیار تھا،خاص طور پر ان بچوں سے جن کے ماں باپ اپنے کم سن بالے کوچونا،کتھا،پان کی کٹوری ترکے میں دے کر پنواڑی ہی بنانے پر مجبور تھے،جہاں اپنے باپ کی طرح سگریٹ کی خالی ڈبیاں ہی سجاوٹ کے لئے تھیں تاہم ان کی آرزو تھی کہ یہ بچے اجلی وردی پہن کے اسکول جائیں جہاں بے شک ’’پراٹھوں جیسے چہروں والے منافق‘‘ کہیں ننھو! تمہیں سردی نہیں لگتی ہے کیا؟ اور وہ بہادر بن کے بِنا بٹن کے کاج میں قمیص کا پلّو اڑس کے کہیں ’نہیں تو‘تاہم مجید امجد کی ایک نظم’جیون دیس‘ کے کچھ مصرعے پیش کروں،جس میںغریب لڑکی کی شادی کا منظر ہے، غربت لڑکی پر تقدیر کی طرح مسلط ہے،مگر وہ کوشش کر رہی ہے کہ اپنے بیٹے کو پڑھائے لکھائے اس کے لئے خونی بازاروں میں ایک ایک کرکے اس کی چوڑیاں بکتی جاتی ہیں وہ اس بچے کو جاگ جاگ کے لوریاں سناتی ہے،پنکھیاں جھلتی ہے مگر مجبور ہے کہ اپنے متوالے بالے کے ننھے ہاتھوں میں ریڑھی تھمائے اور وہ موڑ موڑ پر درد کی سوغات بیچے

بجتی ڈھولک،گاتی سیّاں،نیر بہاتی خوشیاں

جاگتے ماتھے،سوچتے نیناں۔آنیوالے زمانے

خونی بازاروں میں بِکتی اک اک میلی چوڑی

پنکھیاں جھلتی ننگی باہیں،نیند آنند پنگھوڑے

کنٹھا پہنے،اک متوالا بالا،ریڑھی والا

موڑ موڑ پہ جیون رُت کی زخمی کلیاں بانٹے

جینے کے یہ سارے جتن،انمول سمے کی مایامجید امجد کی زندگی میں ان کی ایک کتاب شبِ رفتہ شائع ہوئی مگر ان کی وفات کے بعد’شبِ رفتہ کے بعد‘ آئی جس پر ہمارے استاد خواجہ محمد زکریا کے کچھ تحفظات تھے،انہوں نے خود کلیاتِ مجید امجد مرتب کی،مگر باقیاتِ مجید امجد کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور تازہ ترین اعلان انہوں نے خود کیا کہ وہ جو کچھ لانے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کے بعد بہت سے مجید امجد شناسوں کے چہروں سے نقاب سرک جائے گا۔مجید امجد جب ساہیوال میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر تھے تو ملتان کے ایک باغی شہزادے سید حسن رضا گردیزی تحصیلدار تھے (قیام ِ پاکستان سے پہلے اور شاید بعد میں بھی بڑے بڑے خانوادوں کی اولاد کی شان تحصیل داری میں تھی،تاہم میں گردیزی صاحب کو چھیڑا کرتا تھا کہ اردو،فارسی،انگریزی اور سرائیکی جاننے کے باوجود وہ کئی مرتبہ معطل ہوئے اور آخر کار نائب تحصیلدار کے طور پر ریٹائر ہوئے ،ان کی غیر مطبوعہ ہجویات بہت کچھ سناتی ہیں) وہ بتایا کرتے تھے کہ میری بیوی نے یہ سوچ کر کہ مجید امجد محکمہ خوراک جیسے محکمے میں افسر ہے اس لئے ایک مرتبہ چاول اور چینی کی ایک ایک بوری منگوائی کہ ان کے گوداموں میں یہ بوریاں پڑی ہیں ،کچھ ماہ بعد انہیں خیال آیا کہ گردیزی صاحب کے اتنے مہمان آتے ہیں ایک ایک بوری کی فرمائش کر دی تب مجید امجد کے ایک ماتحت نے یہ بتا کر شاہ جی جیسے ہنسوڑ کو اداس کر دیا کہ مجید امجد اپنی قلیل تنخواہ میں سے پچھلی فرمائش کی قسطیں ابھی چُکا رہے ہیں۔ میرا مقصد مجید امجد پر کوئی مضمون لکھنا نہیں صرف یہ بتانا تھا کہ یہ عجیب شاعر تھا ،زیادہ پڑھے لکھوں نے اس کی شخصیت اور کلام کو سماجی یا سیاسی شعور سے ا لگ کر کے بھی دیکھا ہے مگر چار باتیں تو سامنے کی ہیں کہ وہ اردو کا شاعر تھا مگر روایتی معنی میں اہلِ زبان نہیں تھا اس لئے کراچی کے ادبی میلوں میں وہ کوئی مناسب جگہ نہ پا سکا،دوسرے اس کا خیال تھا کہ خالقِ کائنات کے پاس دکھ،درد کا اسٹاک وافر ہے اس لئے اس شاعر کے کلام میں بہت گہرائی ہے تیسرے وہ بچوں اور نوجوانوں سے مکالمے کا شیدائی تھا مگر شام پڑتے ہی اپنی بیٹھک میں خود کو مقفل کرکے چابی بھی اپنے ملازم کو دے دیتا تھا حتیٰ کہ ہفتہ وار تعطیل آتی یا کوئی اور تعطیل اس معمول میں تبدیلی نہ آتی یہی وجہ ہے کہ جب وہ فوت ہوئے تو کسی کوخبر نہ ہوئی اور چوتھی بات یہ ہے کہ کسی کے پاس کوئی بچہ،کوئی سوالی اپنی ماں کی میلی پوٹلی میںچار پیسے لائے اپنی فیس کے لئے،اپنی پنشن کے واجبات کے لئے، سر چھپانے کی کوئی جگہ کا اصلی کاغذ لینے کے لئے تو مجید امجد کی اس نظم کو دوبارہ پڑھ لے۔اور تو اور آج ہر آدمی دعویدار ہے صدر ٹرمپ کی طرح کہ میں سچا آدمی ہوں ،دیانت کا پُتلا ہوں،پارسا بھی انتہا درجے کا ہوں،میرے پاس تیل بھی ہے اور میں سمندروں کے اندر ہی نہیں زمین کی پاتال میں بھی جھانک سکتا ہوں بلکہ میں نے آسمان بھی مسخر کر لئے ہیں،میں چاہوں تو آدھے گھنٹے میں دنیا پر قیامت برپا کر سکتا ہوں،زلزلے اور سونامی لا سکتا ہوں میرے پاس علم ہے ٹیکنالوجی ہے تو میرا جی چاہتا ہے اس کی خدمت میں مجید امجد کی ایک نظم ’’جن لفظوں میں میرے دلوں کی بیعتیں ہیں‘‘ پیش کروں اسے آپ خود پڑھ لیں ۔ ایک اور بات پر غور کیجئے کہ سعادت حسن منٹو کی احمد ندیم قاسمی سے دوستی تھی،اس نے فرانسیسی اور روسی ادب کے ترجمے کئے تھے،ویو پوائنٹ میں گورڈن کالج پنڈی کے پروفیسر سجاد شیخ انگریزی میں لکھتے تھے،میں نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا سعادت حسن منٹو کو مجید امجد نے کیوں منتخب کیا کہ مجھ پر ایک نظم لکھواور پھر جب نظم منٹو کو ملی تو اس نے بے تکلفی سے مجید امجد سے کہا ’مجھے ٹالو نہیں،دوبارہ لکھو‘ اور مجید امجد جیسے زود رنج نے دوبارہ لکھی اور وہ منٹو کی شخصیت کی بہترین عکاس ہے،سجاد شیخ نے بہت اونچی آواز میں قہقہے لگائے ان کے احباب نے کہا کہ ضیا الحق کے مارشل لا نے شیخ صاحب کو دیوانہ کر دیا ہے۔

تازہ ترین