دنیا کو ایک نئی جنگ کا سامنا ہے۔ مشرقی وسطی،وسطی ایشیا اورخلیجی ریاستیں ان حملوں سے شدید متاثرہیں۔ پاکستان اگرچہ ان حملوں سے براہ راست متاثر نہیں مگر ان ممالک سے پاکستان کے تعلقات، پاکستان کا ان پر معاشی انحصار اور پاکستان کی جغرافیائی حیثیت نے ملک کو مشکل میں لا کھڑا کیا ہے۔عالمی گزرگاہوں کی بندش اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کےباعث ایندھن کی پیداوار اور اس کی آزادانہ نقل وحرکت شدید متاثرہورہی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے متوقع طور پر عوامی غصے کو جنم دیا ۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ ایسے جھٹکے بار بار کیوں آتے ہیں ،ایک بنیادی حقیقت سے آغاز کرنا ہوگا کہ پاکستان توانائی کے لیے گہری حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔مقامی ریفائنریاں پیٹرول (گیسولین) کی طلب کا صرف تقریباً 30 فیصد پورا کرتی ہیں جبکہ لگ بھگ 70 فیصد تیار شدہ پیٹرول درآمد کیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اپنی تیل کی کل ضروریات کا قریباً 80 فیصد درآمد کرتاہے۔ یہ انحصار کوئی معمولی کمزوری نہیں بلکہ پاکستان کی توانائی معیشت کی بنیادی خصوصیت ہے۔یہ انحصار کھپت کے انداز سے مزید بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان روزانہ تقریباً 50 سے 75 ملین لیٹر ایندھن استعمال کرتا ہے، جس کا اندازہ لگانے کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں۔ پیٹرول ایک بڑا جزو ہے، لیکن ڈیزل بھی اتنا ہی اہم ہے کیونکہ یہ مال برداری، زراعت اور لاجسٹکس کے اس پورے نظام کو چلاتا ہے جو معیشت کو متحرک رکھتا ہے۔ جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ جلد ہی خوراک کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور مجموعی مہنگائی میں شامل ہو جاتا ہے۔اسی تناظر میں حالیہ قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کو سمجھنا چاہیے۔گزشتہ دنوں ابتدائی طور پر پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس سے قیمت 321 روپے سے بڑھ کر 458 روپے ہوگئی تاہم 24 گھنٹوں کے اندر حکومت نے ان قیمتوں پر نظرثانی کرتےہوئے اس اضافے میں 80 روپے کی کمی کر دی، جس کے بعد حتمی قیمت 378 روپے فی لیٹر مقرر ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے یہ اعلان خود ٹی وی پر خطاب کےدوران کیا۔ پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کےفوری بعد تقریبا چوبیس گھنٹے میں کمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت اس صورتحال میں عوامی ردعمل اور مشکلات سے غافل نہیں۔ وفاقی حکومت نے بروقت پیڑول اور ڈیزل کی قیمت میں قابل ذکر کمی کرکے ظاہر کیا کہ سنجیدہ اقدامات کےذریعے عوام کی پریشانی کسی حد تک کم کی گئی۔اگرچہ یہ کمی صارفین پر پڑنے والے بوجھ کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتی، تاہم یہ اعلیٰ سطح پر ایک حد تک ردعمل اور حساسیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک ایسے پالیسی ماحول میں جہاں مالیاتی حقیقتیں اور بیرونی دباؤ موجود ہوں، جزوی ہی سہی مگر قیمتوں میں نظرثانی کی آمادگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت معاشی مجبوری اور عوامی مشکلات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہی کشمکش حکومتی ردعمل کے مرکز میں ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد اعلان کردہ ریلیف اقدامات وسیع اور بظاہر پرعزم ہیں۔ پنجاب اور اسلام آباد کی صوبائی حکومتوں نے عوامی ٹرانسپورٹ کو مفت کردیا تاکہ شہری مسافروں کو فوری ریلیف دیا جا سکے۔ سندھ نے رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالکان کے لیے ماہانہ 2 ہزارروپے دینے کی تجویز دی ۔وفاقی سطح پر توجہ گھریلو صارفین اور سپلائی چین دونوں پر مرکوز ہے۔ موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی، جو ابتدائی طور پر ماہانہ 20 لیٹر تک محدود ہوگی۔ چھوٹے کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے کی ایک مرتبہ ادائیگی کی جائے گی ۔اس صورتحال میں سب سے اہم اقدام ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے کے لیے ہے، جہاں ایندھن کی قیمتوں کے ثانوی اثرات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ مال بردار گاڑیوں کو ماہانہ 70,000 روپے دیے جائیں گے، جبکہ ضروری اشیاء لے جانے والے ٹرکوں کے لیے بھی اسی نوعیت کی معاونت ہوگی۔ بڑے ٹرانسپورٹ وہیکلز کو 80 ہزارروپے ماہانہ ملیں گے۔ بین الاضلاعی و عوامی سروس گاڑیوں کو 1 لاکھ روپے تک ماہانہ دیے جائیں گے تاکہ کرایوں میں اضافہ نہ ہو۔ کم آمدنی والے مسافروں کیلئے ریلوے سفر کو بھی سبسڈی دینے کا عندیہ دیا گیا ۔
مجموعی طور پر یہ اقدامات اس طریقہ کار کو کمزور کرنے کے لیے ہیں جس کے ذریعے ایندھن کی قیمتیں خصوصاً غذائی مہنگائی میں منتقل ہوتی ہیں۔ یہ واضح کیا گیا کہ اگر ٹرانسپورٹرز کرایوں اور مال برداری کے اخراجات میں اضافہ نہ کریں تو مجموعی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔تاہم ان اقدامات کی اپنی حدود ہیں۔ اول، یہ مالی لحاظ سے مہنگے ہیں۔ سبسڈیز، چاہے ہدفی ہی کیوں نہ ہوں، پہلے سے دباؤ کا شکار بجٹ پر مزید بوجھ ڈالتی ہیں۔ دوم، ان کا انتظامی پہلو پیچیدہ ہے۔ یہ یقینی بنانا کہ اس کے فوائد چھوٹے کسان یا ٹرانسپورٹرز جیسےطبقے تک پہنچیں، یہ ایک ایسا چیلنج ہوگا جو ماضی میں برقرار رکھنا مشکل رہا ہے۔لیکن آگے کا راستہ کیا ہوسکتا ہے؟سب سے پہلےتودرمیانی اور طویل مدت میں توجہ علامات کے بجائے وجوہات کے حل پر مرکوز ہونی چاہیے۔
اس کا مطلب ہے کہ مقامی ریفائننگ کی صلاحیت کو بڑھایا جائے ، توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا بھی اہم ہے ۔ وسیع تر معاشی استحکام کے ذریعے روپے کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ ایندھن کی قیمتوں میں زرِ مبادلہ کے عنصر کو کم کیا جا سکے۔یہ سب فوری حل نہیں ۔ مگر ان کے بغیر پاکستان ایک ایسے چکر میں پھنسا رہے گا جہاں عالمی تیل کی قیمتوں میں تبدیلی فوراً مقامی معاشی دباؤ میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اس کے باعث عجلت میں پالیسی اقدامات اور عارضی ریلیف دیا جاتا ہے۔لہٰذا حالیہ قیمتوں میں اضافے کےبعد اس کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش جیسے اقدامات کےلیے قبل از وقت تیاری ضروری ہے۔ جب تک یہ بنیادی کہانی تبدیل نہیں ہوتی، ایندھن کی قیمتیں معیشت پر بھاری رہیں گی اور حکومتیں معاشی ضرورت اور سیاسی حقیقت کے درمیان توازن قائم کرنے پر مجبور رہیں گی۔