بے شک عالمی لیڈراور پریس امریکہ ایران جنگ کو رکوانے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ نریندر مودی کے اپنے ملک کی اپوزیشن اور ان کے تھنک ٹینک ششی تھرور(جو اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل رہے اورآج سے بیس برس پہلے سیکرٹری جنرل کے منصب کے امیدوارتھے مگر ایشور کی کِرپا سے شکست کھا گئے) نے بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اس وقت سفارت کاری کا مرکز بن گیا ہے۔بھارتی جیوتشی سنیچر کو اچھا دن نہیں مانتے اس لئے امکان ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین نہ صرف پائیدار امن کا سمجھوتہ ہو جائیگابلکہ امریکہ نے تو ایران کی تعمیرِ نو میںامداد کی پیش کش بھی کر دی ہے تاہم ہمیں چاہئے کہ اپنی قیادت کو نظرِبد سے بچانے کی تدابیر بھی کریں۔آپ کو یاد ہو گا چوہدری خلیق الزماں تحریکِ پاکستان کے رہنما تھے شاید لکھنؤ سے ان کا تعلق تھا مشرقی پاکستان کے گورنر بھی رہے مگر وہ ان سب سیاسی قائدین کی عقل اور ذہانت پر افسوس کرتے تھے جو پان نہیں کھاتے تھےاور ان کے ایک بیان کو فکاہیہ کالموں کا موضوع بنایا گیا ’’پاکستان کے بیشتر سیاست دانوں سے زیادہ سوجھ بوجھ تو ہمارے لکھنوی سائیس میں تھی جوہماری بگھی ہانکتا تھا‘‘ اگر میری یادداشت دھوکہ نہیں دے رہی تو چوہدری صاحب کی اہلیہ محترمہ زاہدہ خلیق الزماں نے پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان کو امام ضامن بھی باندھا تھا۔ہمارے وزیرِ اعظم کو توشہ خانہ چیک کرانا چاہئے اس میں ممکن ہے وہی نہیں اور بھی امام ضامن مع کرنسی نکل سکتے ہیں۔اب بھی مائیں اپنے بچوں کو نہلادھلا کے تِل کے برابر کالا نشان لگا دیتی ہیں۔بے شک آپ کو اس موقع پر پطرس بخاری کی پیروڈی یاد آ رہی ہو اردو کی آخری کتاب میں ’’ماں اپنے بچے کا منہ دھلاتی ہے اور جی کڑا کر کے کہتی ہے کیا چاند سا چہرہ نکل آیا ہے‘‘۔ کچھ محکمے ایسے ہیں جن کے وزیر ایسے بد فال یا بد شگون ہیں کہ وہ جونہی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہماری ریلوے خسارے سے نکل آئی ہے اسی روز کوئی نہ کوئی حادثہ ہو جاتا ہے جیسےآج کے اخبارات میں ہے کہ کل بھی شالیمار ایکسپریس کی کچھ بوگیاں الٹ گئی ہیں۔ ریلوے کے زیادہ تر وزیر حاجی غلام حیدر بلور اور شیخ رشید احمد جیسے آئے جن سے کسی حادثے کے بعد اگر کہا جاتا کہ آپ علامتی طور پر ہی مستعفی ہو جائیں تو وہ پلٹ کے کہتے تھے ’کیوں؟ میں ٹرین چلا رہا تھا‘۔
مشرقی پاکستان کے گورنرچوہدری خلیق الزماں کے ذکر سے خیال آ رہا ہے کہ بنگال کے نواب سراج الدولہ کے میرِ سپاہ میر جعفر کی اولاد ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بنی ہے۔ہمارے ہاں انیس سوچھپن کے دستور کی منظور ی سے پہلے گورنر جنرل ہوتے تھے اس لئے پہلے صدر میجر جنرل اسکندر مرزا تھے جو انہی میر جعفر کے شاید پڑپوتے تھے تب کچھ لوگ دبی زبان سے اس نسبت کی طرف اشارہ کرتے تھے جس پر گرمی کھا کے جناب اسکندر مرزا کے صاحب زادے ہمایوں مرزا نے چار سو سے زائد صفحات کی کتاب لکھی ’’فرام پلاسی ٹو پاکستان‘‘ جو یونیورسٹی پریس آف امریکا سے شائع ہوئی اور اس میں کہا کہ میرے جدِ امجد کو غداری کا طعنہ نہ دیں وہ بنگال کے عوام کو تباہی سے بچانا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے عملیت پسند عوام دوست سیاست دانوں کی طرح انگریزوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔اب مغربی بنگال میں انتخابات کے موقع پر مرشد آباد میں آباد اس خانوادے کے کم و بیش دو سو ووٹ خارج کر دئیےگئے ہیں کہ یہ بھارتی شہری نہیں ہیں۔پہلے پاکستانی اخبارات میں بھارتی پریس کا اچھا انتخاب مل جاتا تھا اب ان کے ہاں سے زیادہ تر جنگ باز صحافی یا اینکر نظر آتے ہیں ۔گویا آئندہ دو دن پاکستانیوں کے لئے اہم ہیں امریکہ ایران مذاکرات کے آغاز سے پہلے ،سیکورٹی تو اہم ہے ہی بھارت اور افغانستان کا اتحادنیٹ فلکس پر فلمیں ہی نہیں پیش کرےگا کوئی بھی مہم جوئی کر سکتا ہے۔پھر امریکی صدر بگڑ کر جیسی شکلیں بناتے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں پہلے خیال جاتا تھا کہ انہوں نے امریکی رائے عامہ کو متاثر کرنےکیلئے ناسا کے اس مشن کا ذکر کیا ہے جو چاند پر قدم رکھنے والے پہلے قمر نوردوں کے ستاون برس کے بعد نئی تکنیکی مہارت و تربیت اور شاید نئے اہداف کے ساتھ اب بھیجا گیا ہے،واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ مریخ انسان کی آئندہ منزل ہے وہاں زندگی کے آثار پائے جانے کے امکانات ہیں،ماہرین اس سیارے کو سرخ بتاتے ہیں اس لئے عین ممکن ہے کہ ہمارے کامریڈ صلاح الدین حیدر اور کامریڈ عرفان شمسی کو بھی وہاں جانے سے دلچسپی ہو مگر وہ ہمارے دوست امریکہ کی بجائے روس یا چین کے خلائی تحقیق کے پروگرام پر بھروسہ کرتے ہوں گے۔پاکستان میں توپہلے قمر نوردوں کے مشن پر تین چوتھائی پاکستانیوں نے شک و شبہ کا اظہار کیا تھا تاہم آج فضا مختلف ہے ہمارے پاکستانی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اعلیٰ تعلیم کیلئے جو میدان منتخب کر رہے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ سائنسی شعور نے جہالت سے قدامت کے سفر کو مختصر کر دیا ہےپھر بھی جب ٹرمپ نے تسخیرِ ماہتاب کے مشن سے امریکہ کی دھاک بٹھانے کی کوشش کی تھی تب کچھ لوگوں نے میر تقی میر ؔکے نوعمری کے پہلے عشق کے بعد ان کی دیوانگی کا ذکر کرنا شروع کردیا تھا جب انہیں بقول خود
نظر آئی اک شکل ماہتاب میں
کمی آئی جس سے خور و خواب میں
جگر جورِ گردوں سے خوں ہو گیا
مجھے رُکتے رُکتے جنوں ہو گیا
اسی لئے میرؔ کو حق پہنچتا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کو مشورہ دیں
عاشقی میں میر جیسے خواب مت دیکھا کرو
بائولے ہو جائو گے مہتاب مت دیکھا کرو
اور پھر خودکشی کرنے والے ہمارے شاعر شکیب جلالی نے کہا تھا
طے کی ہے،ہم نے صورتِ مہتاب راہِ شب
طولِ سفر سے پائوں میں چھالے نہیں ہوئے