حالیہ امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور اس کی فوجی اور سیاسی قابلیت کی پوری دنیا پر دھاک بٹھا دی ہے اور پوری دنیا کی حکومتیں پاکستان کے کردار کی دل کھول کر تعریف کر رہی ہیں۔ ایران امریکہ جنگ جو علاقائی تنازع سے بڑھ کر ایک خوفناک عالمی جنگ کی شکل اختیار کرتی جا رہی تھی اور یوں لگتا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکیاں کہیں حقیقت میں نہ بدل جائیں خاص طور پر امریکی صدر کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن میں جب چند گھنٹے باقی رہ گئے تھے اور کسی جنگ بندی معاہدے کو ناکام بنانے کیلئےاسرائیل کی شیطانی حکومت نے ایران کی پیٹرو کیمیکلز کی تنصیبات پر حملہ کر دیا تھا۔ جس کے جواب میں ایران نے سعودی عرب کی پیٹرو کیمیکلز تنصیبات کو جوابی نشانہ بنایا تھا۔ اس وقت صورتحال بے قابو ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا اور پاکستانی لیڈروں نے دن رات کی محنت سے فریقین کو قریب لانے کا جو کارنامہ سرانجام دیا تھا وہ ناکام ہونے کے قریب تھا لیکن اس مشکل وقت میں بھی پاکستانی قیادت نے نہ صرف اپنے اعصاب کو قابو میں رکھا بلکہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال کو بھی انتہائی دانشمندی سے سنبھالا۔ پاکستان کا کردار ایک تنے ہوئے رسے پر چلنے جیسا تھا جسکی ذرا سی غلطی سے کھیل کا پانسا پلٹ سکتا تھا کیونکہ جہاں ایک طرف برادر اسلامی ملک ایران تھا تو دوسری طرف سعودی عرب ، جو نہ صرف پاکستان کا دفاعی پارٹنر ہے بلکہ اس نے مشکل کی ہر گھڑی میںپاکستان کی مدد کی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کی سیاسی اور ملٹری لیڈرشپ نے حیران کن طریقےسے اپنی غیر جانبداری کو برقرار رکھا اور بالآخر 8 اپریل کو عارضی جنگ بندی کا معاہدہ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی اور پاکستان جسے آج تک دہشت گردی کے فروغ کے حوالے سے بدنام کیا جاتا رہا تھا، دنیا کے افق پر عالمی امن کا علمبردار بن کر ابھرا ۔جس کیلئے پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے ۔پاکستان جو عرصے سے اپنے سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے دنیا سے تقریباً کٹ چکا تھا اور جسے گزشتہ حکومت کی ناقص خارجہ پالیسیوں نے اپنے قریبی دوستوں چین اور سعودی عرب سے بھی دور کر دیا تھا ۔ گزشتہ دو سال میں ایک نئے توانا اور خارجہ محاذ پر متحرک پاکستان کے طور پر ابھرا ہے ۔ دنیا نے پہلی مرتبہ پاکستان کی اہمیت اور طاقت کو اس وقت محسوس کیا جب گزشتہ سال 10 مئی 2025 ءکو پاکستان نے اپنے سے سات گنا بڑے دشمن کو فوجی میدان میں وہ دھول چٹائی کہ دنیا دنگ رہ گئی اور اپنے جدید اسلحے اور معاشی برتری کے نشے میں غلطاں بھارتی قیادت کو پوری دنیا کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا ۔10 مئی 2025 ایک نئے پاکستان کے جنم کا دن تھا ۔جس نے امریکہ جیسی سپر پاور کو بھی بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی برتر اہمیت کا احساس دلانے پر مجبور کر دیا۔ پہلے جون 2025کو امریکہ اسرائیل اور ایران کشیدگی میں کمی کیلئےپاکستان نے اپنی سفارتی اہمیت اور مساعی میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا تھا اور اس جنگ بندی کے معاہدے نے تو بھارت کو سیاسی اور جغرافیائی لحاظ سے بالکل پچھاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ جس کا اعتراف ساری دنیا کے ساتھ ساتھ انڈیا کی اپوزیشن پارٹیاں اور لبرل دانشور بھی کر رہے ہیں ۔ پاکستان نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے کے بعد آج پھر وہی مقام حاصل کر لیا ہے جس پر بحیثیت قوم ہمیں ناز کرنا چاہیے اس سے پہلے بھٹو شہید کے دور حکومت میں جنگ میں شکست خوردہ ہونے کے باوجود بھارت سے معاہدہ شملہ کرنا جسکے تحت 90 ہزار جنگی قیدی اور مغربی پاکستان کا پانچ ہزار مربع میل علاقہ واپس لینا اور پاکستانی فوجی افسروں پر جنگی جرائم کے تحت مقدمات چلانے کی بھارتی اور بنگلہ دیشی کاوشوں کو ناکام بنانا، کامیاب ڈپلومیسی کی وہ شاندار مثالیں ہیں جس پر اس وقت کی بھارتی اپوزیشن بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئی تھی کہ بھارت نے 71 کی جیتی ہوئی جنگ معاہدہ شملہ کے ذریعے ہار دی ۔ اس کے بعد مارچ 1974کو لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس ، پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کی معراج تھی جس میں جناب بھٹو نے تمام اسلامی ملکوں کو اکٹھا کیا تھا اور انہیں امریکہ اور سوویت یونین کے مقابلے میں ایک تیسرے طاقتور اسلامی بلاک کے قیام کیلئے راضی کر لیا تھا یہی وہ وقت تھا جب بھٹو شہید نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا جس کیلئے سعودی عرب شاہ فیصل اور لیبیا کے کرنل قذافی نے مالی امداد دینے کا وعدہ کیا اس پر عالمی سامراج جناب بھٹو کی جان لینے پر تل گیا ۔ بھٹو شہید نے اپنی جان تو قربان کر دی لیکن پاکستان کو ایٹمی طاقت کے ذریعے ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ پاکستان کا ایٹم بم اور چین اور سعودی عرب کی دوستی پاکستانی دفاع کیلئے بھٹو شہید کے ناقابلِ فراموش کارنامے ہیں جناب بھٹو کے بعد تقریباََ نصف صدی کے بعد پاکستان پھر کروٹ لے کر بیدار ہو رہا ہے۔ حالیہ عارضی جنگ بندی گو صرف 15 دنوں کیلئے ہے، جسے اسرائیل کی شیطانی حکومت ناکام بنانے کی پوری کوشش کرے گی جسکی طرف جنگ کے خلاف مستعفی ہونے والے امریکی انٹلیجنس کےسربراہ نے بھی خبردار کیا ہے لیکن امید ہے کہ امریکہ اور ایران کے اسلام آباد میں جاری مذاکرات میں مستقل جنگ بندی کے حوالے سے ہمیں اچھی خبر ملے گی ۔ پاکستان زندہ باد
اے وطن تیری حرمت کی ہم کو قسم
دشمنوں کو ترے یوں مٹائیں گے ہم
تیرا امن و سکون تجھ کو لوٹائیں گے
تجھ کو جنت کا ٹکڑا بنائیں گے ہم