• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طلعت نفیس

اسپتال کی خنک، اُداس راہ داری میں اس وقت وہ بالکل تنہا تھی اور اسپتال کی ٹھنڈی دیواروں پر جیسے نوحے رقم تھے۔ اس جامد سناٹے کو اگر کوئی آواز توڑ رہی تھی، تو وہ صرف اسٹریچر کے پہیوں کی چرچراہٹ اور نرسوں کے قدموں کی چاپ تھی۔ اور اسے وہ بھی اُسے گریہ زاری کرتی محسوس ہو رہی تھی۔ 

ویسے تو وہ اس ماحول کی عادی تھی کہ وہ خُود بھی ایک نہایت قابل، باوقار سرجن تھی۔ کراچی کے ایک بڑے اسپتال سے وابستہ تھی۔ مگر آج اُس کا پیشہ ورانہ حوصلہ مفقود تھا۔ آج وہ صرف ایک ماں تھی۔ ایک ماں، جس کا بیٹا زندگی و موت کی کشمکش میں تھا۔ آپریشن تھیٹرکے دروازے کے اُس پارکیا ہورہا ہے، وہ سب جانتی تھی اور یہ ادراک ہی اس کے لیے جان لیوا تھا۔

وہ منتظر تھی۔ اپنے شوہر عمیر عباس اور اپنے بابا جانی کی، جن کے سینے پر سر رکھ کر وہ ہمیشہ اپنی ہر پریشانی بھول جایا کرتی تھی۔ جن کے ایک جملے’’بابا جانی ہیں ناں بیٹا…!!‘‘ میں پوری کائنات کی تسلی ہوا کرتی تھی۔ مگر تنہائی کے یہ جاں گسل لمحات اُسے اندر ہی اندر نگل رہے تھے۔ بابا جانی اور عمیر، پارس سے ملنے کینیڈا گئے ہوئے تھے۔ یہ اسپتال اُن دونوں کے لیے بھی نیا نہ تھا، دونوں بخوبی واقف تھے۔ ایمن نے آنکھیں موند کر بینچ کے سرہانے سر ٹکا لیا۔ اور یادوں کا ایک ہجوم اُسے گھیرنے لگا۔

اُس کی زندگی کے تمام بڑے فیصلے ہمیشہ بابا جانی ہی نے کیے تھے۔ وہ اینیستھیزیا کے ماہر تھے۔ نہایت قابل، بہترین فیصلہ کرنے والے معالج۔ ایمن کی شادی کا فیصلہ بھی انہی کی پسند سے ہوا تھا۔ عمیر عباس ایک کام یاب کارڈیالوجسٹ تھے۔ بابا جانی کو یہ رشتہ ایسا بھایا کہ شادی کے لیے فوراً ہاں کردی۔ ایمن اور عمیر کی زندگی خوشیوں سے بھرپور تھی۔ پہلے بیٹی پارس پیدا ہوئی اور اس کے دوسال بعد بیٹا رمیز عباس، جس نے دنیا میں آکر ان کی فیملی کو مکمل کر دیا۔ بابا جانی بیٹی کو خوش دیکھ کر بہت مطمئن، پُرسکون تھے۔

پارس نے میڈیکل کی تعلیم سے انکار کردیا تھا۔’’یار مما؟ دل بھر گیا ہے، چاروں طرف ڈاکٹر ہی ڈاکٹر دیکھ کر۔ بابا، آپ، نانا جانی سب ایک جیسے لگتے ہیں۔ مجھےکچھ الگ کرنا ہے۔ مجھے کامرس میں ماسٹرز کرنا ہے۔‘‘اور حیرت انگیز طور پر تیمور حسین (نانا جانی) اُس کے مکمل حمایتی تھے۔ ایمن نے ناراضی سے کہا۔ ’’بابا جانی! یہ تو چِیٹنگ ہے۔ جب مَیں نے کہا تھا کہ مجھے میڈیکل نہیں پڑھنا۔ 

تب توآپ نے زبردستی داخلہ دلوایا تھا۔‘‘ بابا جانی ہنس کر بس اتنا بولے۔ ’’بیٹا جانی! اصل سے سُود پیارا ہوتا ہے۔‘‘ اور یوں پارس نے اپنی پسند سے تعلیم اور زندگی کا راستہ چُنا۔ ایک سادہ، سلجھا ہوا سافٹ ویئر انجینئر امان شیخ اُس کا جیون ساتھی بنا۔ پارس اب ماں بننے والی تھی۔ 

آخری مہینہ چل رہا تھا، کسی بھی وقت خوش خبری آ سکتی تھی۔ اِسی لیے اُسے رمیز کے حادثے کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ عمیر نے امان شیخ کو اعتماد میں لیا، مگر پارس کو کچھ نہ بتایا۔ رمیز، عمیر اور ایمن اور کا لاڈلا بیٹا، نہایت فرماں بردار، نرم خُو بچّہ تھا۔ اس نے چند ماہ پہلے ہی میڈیکل کالج میں داخلہ لیا تھا۔ وہ اُسی راہ پر چل پڑا تھا، جس پر اُس کے ماں باپ اور نانا جانی تھے۔

مگر قسمت کوکچھ اور ہی منظورتھا۔ ایک رات دوستوں کے ساتھ ڈنر پر گیا اور واپسی پر ایک بے قابو ڈمپر نے اُس کی گاڑی کو روند ڈالا۔ تین لڑکے بچ گئے، مگر رمیز اور ساتھ بیٹھا ایک لڑکا شدید زخمی حالت میں تھے۔ اور اب رمیز زندگی و موت کی جنگ لڑ رہا تھا۔

ایمن بینچ پر بیٹھی تھی۔ سرجُھکائے ہاتھوں میں تسبیح، دل میں اُمید و نا اُمیدی کی کیفیت لیے۔ اسپتال کے مریض اور اُن کے لواحقین جانتے تھے کہ وہ ایک نہایت درد مند دل رکھنے والی ڈاکٹر ہے۔ مگر آج اس کا درد سوا تھا۔ آج وہ ایک ڈاکٹر نہیں، صرف ایک ماں تھی۔ پچھلے ہفتے وہ ایک ماں کو تسلی دے رہی تھی، جس کا بیٹا دائمی ڈائیلیسز پر آ چکا تھا۔ وہ ماں ایمن سے فریاد کررہی تھی۔ ’’میرا گردہ لے لو، میری جان لے لو، بس میرے بیٹے کو بچا لو۔‘‘ اور اُس وقت ایمن نےکہا تھا۔ ’’اللہ کی یہی مرضی ہے۔‘‘ پر آج وہ جملہ، اُس کے دل میں خنجر کی طرح پیوست ہورہا تھا۔ ایک بےجان، سرد، پیشہ ورانہ جملہ۔

اچانک کندھے پرکسی نے اپنائیت سے بھرا ہاتھ رکھا۔ وہ چونک کر مُڑی۔ سامنے بابا جانی اور عمیر کھڑے تھے۔ وہ چہرے، جو اُس کے لیے ہمیشہ طاقت و قوت کا مظہر تھے۔ آج شکست خوردہ تھے۔ بابا جانی نے ایمن کا چہرہ تھاما اور کہا۔’’ایمن بیٹا! ان شاءاللہ رمیز ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ 

ایمن کا دل جیسے بند ہو رہا تھا۔ اُس نے کچھ بولنا چاہا۔ ’’بابا! جھوٹی تسلیاں مت دیں…‘‘ مگرزبان ساتھ نہ دے سکی۔ آنسو بہتے رہے اور پھر جیسے تھک کر خاموش ہوگئے۔ وہ بینچ سے اُٹھی اور بابا جانی کے سینے سے لگ گئی۔ وہی فراخ سینہ، جو ہمیشہ سے اُس کی ڈھال، اُس کا محافظ رہا تھا۔ عمیرکی آنکھیں نم اور چہرہ آسمان کی طرف تھا۔ ’’یااللہ! میرے رمیز کو لوٹا دے۔‘‘

دروازے کی ہلکی سی آواز سے خاموشی ٹوٹی۔ چند ڈاکٹر باہر آئے۔ ’’ڈاکٹر عمیر! ہم نے پوری کوشش کی ہے، مگر اڑتالیس گھنٹے بہت اہم ہیں۔‘‘ نگاہیں چُرائی آواز میں حوصلہ نہ تھا۔ ’’ایمن! بیٹھ جائو، اللہ سب بہتر کرے گا۔‘‘ عمیر نے اُس کا ہاتھ تھاما۔ عمیر کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ الفاظ سے زیادہ بول رہی تھی۔ بابا جانی سجدے میں گڑگڑا رہے تھے۔ عمیر نے بھی نماز پڑھی، مگر اس کا دھیان کہیں اورہی تھا۔ ایمن کے ہاتھ میں تسبیح تھی اورقدم بے مقصد گردش کررہے تھے۔

اگلی صبح ایمن، اپنے بیٹے کو چھوڑ کر اپنے فرضِ منصبی، اپنی ڈیوٹی پر آ گئی۔ او پی ڈی میں ڈاکٹر یامین علی تھے۔ ایمن راؤنڈ کے بعد کمرے میں خاموش بیٹھی، اپنے ہی ہاتھوں کو گھورتی، دل میں خالی پن کا بوجھ لیے بیٹھی تھی۔آج پھر ایک روتی ہوئی ماں ڈاکٹر علی سے پوچھ رہی تھی۔ ’’میرے بیٹے کے ڈائیلیسز کب تک ہوں گے۔ کیا اس کے علاوہ کوئی حل نہیں؟‘‘ ’’اب آسانی کے لیے فیسچولا بنا دیا ہے۔ اس سے ڈائیلیسز میں آسانی ہوگی۔‘‘

ڈاکٹر علی نے تسلی دی۔ ’’آپ میرا گردہ لے لیں، میری جان بھی لے لیں۔‘‘ وہ ماں فریاد کر رہی تھی۔ ڈاکٹر علی نے پیشہ ورانہ لہجے میں کہا۔ ’’آپ ہارٹ پیشنٹ ہیں۔ آپ کا گردہ نہیں لیا جا سکتا۔‘‘ اُسی لمحے ایمن کے موبائل کی گھنٹی بجی۔عمیر کی آواز آئی۔ ’’تم کہاں ہو۔ ہم پریشان ہو رہے ہیں۔‘‘ پیچھے سے بابا جانی کی بھی آواز آئی۔ ’’ہم لینے آ رہے ہیں، تم وہیں رُکو۔‘‘

کلفٹن اسپتال پہنچنے پر سرجن زہیب نے خبر دی۔ ’’رمیز کی برین ڈیتھ ہوچُکی ہے۔ پندرہ منٹ بعد وینٹی لیٹر ہٹا دیں گے۔‘‘ ایمن نے آہستہ سے کہا۔ ’’برین ڈیتھ کے بعد دیگر اعضاء ایک گھنٹے تک کام کرتے ہیں۔‘‘ سرجن زہیب نے اُس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ ایمن کی آواز اب سرد مگر پُرعزم تھی۔’’آپریشن کی تیاری کریں۔‘‘ فرض نے ممتا کو شکست دے دی تھی۔

سنڈے میگزین سے مزید