سجاد جہانیہ
آج ایک سودا ہوا… کاغذ کا ایک ٹکڑا لیا اور بدلے میں ایک چابی تھما دی۔ دیکھنے کو ایک چابی تھی، مگر اس کے چھلّے میں چونتیس برس پروئے ہوئے تھے۔ اُس محرّر کی عُمر کے چونتیس برس۔ کیسے کیسے چہرے تھے، جن کے دَم قدم سے اِس چابی سے کُھلنے والا یہ مکان، گھر بنا تھا۔ وقت کی دھول میں گُم ہوئے مُدّت ہوگئی اُن چہروں کو۔ ایک گھر تھا، جس سے اب چار گھر بن گئے۔ مکانی اعتبار سے دُور دُور چار گھر…
یادش بخیر، اِن سطور کے لکھنے والے کی پیدائش سے بھی بہت پہلے جب ابّاجی اس شہرِ قدیم میں اُترے، تو قدیر آباد نام کے محلے میں ایک کمرے کا چوبارہ کرائے پر لیا۔ میاں بیوی تھے اور ایک بیٹی۔ یوں اُس گھر کی بنیاد پڑی، جو اَب وقت کی بھٹّی میں پگھل چُکا ہے۔ دھیرے دھیرے اس سہ رکنی گھرانے کی تعداد سات کو پہنچ گئی، ماں باپ اور پانچ بچّے۔ کچھ سات آٹھ برس کی محنت کے بعد ابّاجی نے اپنا گھر محلہ اشرف آباد میں بنا لیا۔
مسجد سے متصل دس مرلے کا گھر۔ یہ محرّر اُسی گھر میں پیدا ہوا تھا۔ قریب دس برس یہاں گزرے تو یہ مکان چھوٹا لگنے لگا اور محلہ بھی قدرے پس ماندہ۔ یہ گزری صدی کی ستّر کی دہائی کے ابتدائی برس تھے۔ ابّاجی نےنسبتاً بہتر بستی میں ایک دوکنال سے متجاوز قطعۂ زمین لے لیا اور دھیرے دھیرے اس پر تعمیرات کرتے رہے۔ ہوتے ہوتے یہ تین صحنوں اور بارہ تیرہ کمروں کا گھر بن گیا، جو اس سات رْکنی گھرانے کی ضرورت سے زائد تھا۔ سو، پانچ کمرے اور ایک صحن کسی ترکیب سے الگ کر کے کرائے پر اُٹھا دئے گئے۔
محرّر تحریر ہذا کا بچپن اور لڑکپن اِسی گھر میں گزرا اور جوانی میں قدم بھی اِسی گھر میں رکھا۔ اِسی گھر سے ابّاجی نے اپنی بڑی بیٹی رخصت کی۔ وہی بیٹی، جو قدیر آباد والے مکان میں اُترتے ہوئے فقط ایک برس کی تھی۔ یہیں امّی اپنی دو بہوئیں بیاہ کر لائیں۔ پھر ایک وقت آیا، جب یہ بستی بھی ہمیں بہت پس ماندہ لگنے لگی۔ تب بوسن روڈ پر کالونیاں بنانے کا رواج زوروں پر تھا۔
زمیں دار اپنے آم کے باغ کاٹ کاٹ کے کالونیاں بنارہے تھے۔ تھیں تو یہ کالونیاں، مگر محَلوں کی اِک ذرا سی جدید شکل۔ نہ پارک، نہ کوئی دیگر شہری سہولت اور زمیں داروں کے دِلوں ایسی تنگ گلیاں۔ گھر میں باتیں ہوا کرتیں کہ فلاں نے بوسن روڈ پر گھر بنا لیا ہے، فلاں نے بھی۔ ابّاجی کے بچّوں کو لگنے لگا کہ اس محلے میں دوستوں کو بلواتے بھی شرمندگی ہوتی ہے، بس جیسے بھی ہو بوسن روڈ پر شفٹ ہوا جائے۔
ابّاجی نے 1983ء سے ایک پلاٹ نشیمن کالونی میں لے رکھا تھا۔ اُس پر انیس سو اکانوے میں تعمیرات شروع ہوگئیں اور سن بانوے کے آغاز میں ہم وہاں منتقل ہوگئے۔ یہ اس محرر کی عین جوانی کا زمانہ تھا۔ نشیمن کالونی والے اس گھر میں ہم نے دُکھ اور سُکھ کے کتنے ہی تجربے جھیلے۔ یہیں پر میری ماں نے آخری سانس لیے، یہیں میری دلہن بیاہ کر آئی اور یہیں سے ابّاجی نے اپنی چھوٹی بیٹی رخصت کی۔ وہ بڑا سا کمرا بھی اِسی مکان کی زیریں منزل پر ہے، جسے ابّاجی، امّی، مَیں اور چھوٹی بہن شازیہ شیئر کرتے تھے۔
چوں کہ ہم دونوں ہی غیر شادی شدہ تھے سو، امّاں، ابّا کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ اس گھر کی گیلری کے دیواروں پر شاید میری ماں کے ہاتھوں کا لمس اب بھی سانس لیتا ہو۔ مَیں کہ شب زندہ دار آوارہ گرد تھا، راتوں کو تاخیر سے واپس آتا، تو گھنٹی دینے پر ذرا دیر سےدروازہ کُھلتا۔ امّی بیمار تھیں، وہ بمشکل تمام چارپائی سے اُٹھتیں، اور پھر کمروں کے بیچ کی راہ داری کی دیوار تھام تھام کے گیٹ تک پہنچتی تھیں۔ ؎ ماواں باہجھ محمّد بخشا کون کرے رکھوالی۔
اسی گھر میں میری دلہن اتری اور اُس گھر کی بنیاد پڑی، جس کا اب مجھے سربراہ کہا جاتا ہے۔ یہیں زینب پیدا ہوئی اورسب سے چھوٹی امامہ بھی۔ زہرا کی پیدائش کے وقت ہم لاہور رہتے تھے۔ امّی کے بعد اس گھر کی آبادی میں رفتہ رفتہ کمی ہونے لگی۔ اب ملتان جدید ہونے لگا تھا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز بننے لگی تھیں۔
دونوں بڑے بھائیوں نے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں گھر بنا لیے اور یہ نشیمن کالونی والا مکان (اب یہ گھر سے مکان ہی بن چُکا تھا) میرے حصّے میں آیا۔ تاریخ نے ایک بار پھر خُود کو دہرایا، اب میرے بچّوں کو یہ علاقہ اس قابل نہ لگتا تھا کہ دوستوں کو بلایا جاسکے۔ سو، اس گھرکےماتھے پر برائے فروخت کے اشتہار کے مضمون والا ایک چھوٹا سا بینر لٹکا دیا گیا اور ہم نے ڈی ایچ اے میں پلاٹ ڈھونڈنا شروع کردیا۔
در و دیوار، آنگن، صحن، دالان، چھتیں پیچھے رہ جاتی ہیں اور انسان آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جدید سے جدید تر کی تلاش میں۔ پھر ایک دن آتا ہے کہ اپنے قدیم کو لوٹا دئیے جاتے ہیں۔ اُسی مٹّی کی طرف، جہاں سے اُن کا خمیر اُٹھا تھا۔ لیجیے…! ہم جدّت کی طرف سفر کرتے ہیں۔ کیوں کہ ایک سودا ہوا ہے … ایک کاغذ ہم نے لیا ہے … اور چابی نئے مالک کے حوالے کردی ہے۔
ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ کشادہ، صاف سڑکوں، واکنگ ٹریک والے پارکوں، خاموش مسجدوں، نظروں کو خیرہ کرنے والی مارکیٹوں اور ریستورانوں کی طرف۔ جہاں ہمارے ملنے والے آئیں تو ہمیں شرمندگی نہ ہو بلکہ آنکھوں میں فخر و بڑائی کی چمک لے کر ان سے مل سکیں۔ لیکن… چابی کے اس چھلّے کا کیا کروں، جس میں چونتیس برس کی یاد پروئی ہوئی ہے۔
اُس خیال کا کیا کروں، جو ستاتا ہے کہ جس مکان کی بنیاد رکھنے جا رہے ہو، اُس پر بھی ایک دن یہی وقت آئے گا۔ ہم تو خیر، لمبی نیند میں ہوں گے، کسی دن زینب کسی شہر سے، کسی دوسرے شہر میں زہرا کو فون کرے گی۔ ’’بھئی وہ ملتان والے گھر کا کیا کرنا ہے؟ امامہ سے مشورہ کرلو تو کسی پراپرٹی ڈیلر سے اسے بیچنے کا کہیں۔‘‘ وَّیَبقیٰ وَجہُ رَبِّکَ ذُوالجَلَالِ وَالاِکرَام۔ (اور تمہارے رب کی عظمت اور بزرگی والی ذات باقی رہے گی)۔