جیسے خبر یہ آئی کہ رہبر چلے گئے
آنکھوں سے شادمانی کے منظر چلے گئے
اِک ذکرِ آن بان دیا کُل جہان کو
اِک شانِ عزم و صبر دِکھا کر چلے گئے
چنگیزی باقی رہ گئی اطرافِ دہر میں
دنیا سے امن و صلح کے خُوگر چلے گئے
پیری میں اپنی خیبرِ دوراں اکھاڑ کر
طیبہ پرست، پیروئے حیدر چلے گئے
ظلمت نے نصب کردیئے اپنے خیام سب
افلاک سے مِرے مہ و اختر چلے گئے
خالی کچھار رہ گئی رنج و الم لیے
جب پاسبانِ حق کے غضنفر چلے گئے
عفّت، نفاق و جبر مٹا کر سُکون سے
عزم و ثبات و صبر کے پیکر چلے گئے