’’آ تجھے رکشا چلانا سِکھاؤں۔‘‘ نورے نے اپنی بیوی شمشاد سے کہا، تو وہ جیسے اُچھل پڑی۔ ’’ہاہ! بھلا عورتیں بھی کبھی رکشا چلاتی ہیں ۔‘‘ شمشاد کے منہ سے ہنسی کا فوارہ چھوٹا اور وہ ہنس ہنس کر لال ہوگئی۔ یہ آج سے کوئی پانچ سال پہلے کی بات تھی۔ نورے نے ہنسی سے بےحال ہوتی اپنی بیوی کو دیکھا تو خُود بھی ہنس دیا۔ ’’لے پاگل! اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے۔
رکشا چلانا ایک ہنر ہے اورانسان کو کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ لینا چاہیے۔ یہ ہنر مشکل وقت میں بڑا سہارا بن جاتے ہیں۔‘‘ نورے نے رسان سے کہا۔ ’’نہ بابا! یہ ہنر تجھ جیسے مردوں کو ہی جچتا ہے۔ مَیں نہیں سیکھتی یہ ہنر۔ میرے تو ایسے ہی ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں، گاڑیاں دیکھ کر، ایویں سڑک پر ایکسیڈنٹ میں جان گنوا بیٹھوں گی۔‘‘ شمشاد نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
شمشاد اور نورے کی شادی کودس سال ہو چلے تھے۔ دو بیٹیاں ایک بیٹا۔ کوارٹر نما چھوٹا مگر صاف سُتھرا گھر، نورے کی ذاتی ملکیت تھا۔ وہ رکشا چلاتا تھا۔ نیّت حق حلال کی روزی کمانا تھی، تو اللہ نے بھی خوب بازو پکڑ رکھا تھا۔ اُس کی زیادہ تر سواریاں پکی تھیں، جو اُسے ماہانہ ادائی کرتی تھیں۔
صبح چھے بجے ایک سواری کوائیرپورٹ چھوڑتا۔ پھر واپس آکر اسکول کے بچّوں کو چھوڑتا، اُس کے بعد ایک نرس کواسپتال پہنچاتا۔ اُس کے بعد گھر آجاتا۔ تھوڑا آرام کرتا اور پھر بچّوں کو اسکول سے واپس لاتا۔ شام کو نرس کو واپس لاتا۔ ائیرپورٹ والی سواری کو بس صُبح چھوڑنا ہی ہوتا تھا، واپس نہیں لانا ہوتا تھا۔
شام کو پانچ بجے محلے کی دو چار بچیوں کو اکیڈمی چھوڑتا اور آٹھ بجے اُنھیں واپس لاتا۔ اس آنےجانے کے درمیان کوئی سواری مل جاتی تو مناسب کرائے میں اُٹھا لیتا کہ خالی جانے سے بہتر رہتا تھا۔ لگی سواری سے ملنے والے پیسے ایک طرح کی تن خواہ ہوتی تھی۔ محلے میں سے کسی کو کہیں آنا جانا ہوتا تو نورے کو فون کردیتا۔ یوں اس کا سلسلۂ روزگار جاری و ساری تھا۔ باقی روز کی ملنے والی سواریوں سے حاصل ہونے والے پیسوں سے اس کے پیٹرول اور گھر کے کافی اخراجات نکل جاتے تھے۔
کچھ شمشاد بھی کفایت شعار تھی۔ سو، سب اخراجات کے بعد کچھ بچت بھی ہوجاتی تھی۔ تینوں بچّے سرکاری اسکول جاتے تھے، جو اُن کی گلی کی نکڑ پر مین روڈ کے کنارے پر تھا۔ وہ خُود بھی صاف ستھرا تھا اور اُس کا رکشا بھی صاف ستھرا ہوتا۔ بقول اُس کے، رکشا اس کی روزی کا ذریعہ ہے اور روزی کے ذریعے کو پاک صاف ہونا چاہیے۔
’’آج اکیڈمی والی بچیوں نے نہیں جانا، تُو آ میرے ساتھ تجھے رکشا چلانا سکھاتا ہوں۔‘‘ شمشاد کی ہر بات آرام سے مان لینے والا نہ جانے اس بات پر ضد کیوں کر گیا تھا۔ ہر دو چار روز بعد اپنی بات دہراتا رہتا۔ اور آج تو ایسا سر ہوا کہ اُسے ساتھ لےکر ہی گیا۔ بچّے ٹیوشن گئے ہوئے تھے، سو دونوں گھر کو تالا لگا کر نکل گئے۔ پہلے پہل تو یہ کام شمشاد کو بہت مشکل لگا مگر پھر اُسے اس میں مزہ آنے لگا اور وہ پوری یک سوئی اور دل چسپی سے رکشا چلانا سیکھنے لگی۔ حتیٰ کہ ایک روز بڑی مہارت سے رکشا چلانے بھی گی۔ مگر یہ بات فی الحال اُن دونوں ہی کے درمیان تھی۔
منہگائی بڑھی تو جیسے ہر چیز کی قیمتوں کو پَر لگ گئے۔ پہلےسب خرچ نکال کر جو تھوڑی بہت بچت ہوجاتی تھی، اب وہ سب کھپ جانے کے باوجود گھر کے اخراجات بمشکل پورے ہوتے تھے۔ ’’نورے! مَیں ایک بات سوچ رہی تھی۔ اگر تو بُرا نہ مانے تو کہوں۔‘‘ ’’ہاں کہو؟‘‘ نورے نے چائے کا کپ پکڑ لیا تو شمشاد اُس کے پاس ہی بیٹھ گئی۔’’ تونے مجھے رکشا چلانا کیوں سکھایا تھا؟‘‘ ’’ایسے ہی شغل میں۔‘‘ وہ مُسکرایا۔’’ پر مَیں سوچ رہی ہوں، اپنے اس ہنر کو استعمال کروں۔ مَیں بھی رکشا چلانا شروع کر دوں۔‘‘
شمشاد نے بات مکمل کی تو نورے نے اُسے یوں دیکھا، جیسے اُس کا دماغ چل گیا ہو۔’’ تُو رکشا چلائے گی؟‘‘ ’’ہاں اِس میں کیا برائی ہے، اتنی منہگائی ہوگئی ہے، ہم دونوں مل کر کمائیں گے تو اچھا گزارہ ہو جائے گا۔‘‘ ’’تو گھر کون سنبھالے گا؟‘‘ ’’پہلے کون سنبھالتا ہے، مَیں، تو مَیں ہی سنبھالوں گی۔ میرے پاس کچھ رقم رکھی ہے، اگلے مہینے ایک کمیٹی بھی نکلنی ہے تو تم سارے پیسے مِلا کرایک نیا رکشا نکلوا لو۔ وہ تم چلانا شروع کردینا اور یہ والا مجھے دے دینا۔‘‘
شمشاد نے جیسے پورا منصوبہ بنا لیا تھا۔ ’’لوگ بڑی باتیں کریں گے۔‘‘ نورے کا لہجہ پست تھا۔ ’’تو کرنے دو، ہمارے بڑھتےخرچے وہ پورے کررہے ہیں، نہیں ناں، تو بس پھر ہمیں اُن کی باتوں کی پروا نہیں ہونی چاہیے۔ اتنی عورتیں کام کرتی ہیں، اسکول میں پڑھاتی ہیں، اسپتالوں، دفتروں، بسوں، اسٹوروں ہر جگہ پر عورتیں کام کرتی ہیں، تو رکشاچلانے میں کیا برائی ہے۔ روزی کمانے کا حلال ذریعہ ہے۔‘‘ شمشاد کی بات نورے کی سمجھ میں آگئی۔
اگلے ہی مہینے اُس نےنیا رکشا نکلوا لیا۔ لوگوں نے جب سُنا کہ نورے کی بیوی بھی رکشا چلایا کرے گی تو سب اُس کا مذاق اُڑانے لگے۔ اُس پرآوازے کسنے، طعنے دینے لگے۔ نورے نے سب باتیں ان سُنی کردیں اور شمشاد نے رکشا چلانا شروع کردیا۔ شروع میں وہ خُود بھی تھوڑی جھجکی ہوئی تھی۔
پھر آہستہ آہستہ اعتماد آنے لگا۔ اب وہ بچّوں کو اسکول بھیج کر گھر کا کام نمٹاتی اور پھر محلے کی ایک بچّی کو اُس کی یونی ورسٹی چھوڑ کر واپس آجاتی۔ واپسی پر اسی طرح مناسب کرائے پر سواری لے لیتی۔ پھر دوپہر اور شام کی ہانڈی اکٹھی بنا لیتی۔ بچوں اور میاں کے ساتھ مل کر دوپہر کا کھانا کھاتی۔
بچّوں کوٹیوشن بھیج کریونی ورسٹی والی بچّی کو واپس لاتی۔ اُن کی گلی مین روڈ پر ختم ہوتی تھی۔ جہاں بہت سے دفاتر تھے۔ وہ شام کو ایک چکر اس سڑک کا لگاتی تو ایک دو فی میل سواریاں آرام سے مل جاتیں۔ فی میل سواریوں کووہ اپنا فون نمبر بھی دےآتی، اُنھیں بھی سہولت ہوجاتی۔ اُنھیں جب کہیں جانا ہوتا، وہ اُسے بلا لیتیں اور وہ چلی جاتی۔ اب شمشاد صرف فی میل سواریاں ہی اُٹھاتی تھی۔ اُس کا اعتماد قائم ہوگیا تھا۔
محلے کے علاوہ ارد گرد کی عورتیں بھی ابسے فون کر کے بلا لیتیں۔ اور… دونوں ’’رکشے والے میاں بیوی‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ شمشاد کو فخر تھا کہ وہ اپنے ہنر کو استعمال کرکے محنت سے کام کر کے اپنے میاں کا ہاتھ بٹارہی ہے۔ بس، اُس کے دل میں ایک خواہش تھی کہ لوگ ورکنگ لیڈی کی حیثیت سے اُسے بھی اتنی ہی عزت دیں، جتنی باقی کام کرنے والی عورتوں کو دیتے ہیں۔