شہر کے پرانے محلے میں ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان تھی۔ لکڑی کے پرانے تختوں سے بنی اُس دکان کی خُوشبو ہر آنے والے کو کسی اورہی زمانے میں لے جاتی۔ دکان کے اندر داخل ہوتے ہی کاغذ اور روشنائی کی وہ مہک رُوح تک اُترتی، جو کہیں اورنہیں ملتی تھی۔ دکان کے دروازے پر ایک زنگ آلود گھنٹی لٹک رہی تھی، جوہرآنےوالےکی آمد کا باقاعدہ اعلان کرتی۔
دکان کے مالک، چاچا فضل دین ستّر برس سے اوپر ہی کے تھے۔ پورا سر سفید تھا، مگر ہلکی ہلکی کانپتی ہوئی انگلیاں کاغذوں پر کچھ اِس طرح چلتیں، جیسےکوئی بہت پیار سے اپنی محبوبہ کی زلفیں سنوار رہا ہو۔ چاچا فضل دین اکثر کہا کرتے۔ ’’بیٹا! کاغذ کا یہ نشہ توصدیوں بعد بھی جُوں کاتُوں رہتا ہے، مگر افسوس، اب یہ نشہ رُوٹھنے کو ہے۔‘‘
چاچا فضل دین کی دکان میں روزہی کوئی نہ کوئی آتا۔ کچھ صرف گرد جھاڑنے کے لیے کتابیں الٹ پلٹ کرتے، کچھ تصویریں دیکھ کر واپس رکھ دیتے، اور کچھ بہت نایاب گاہک بھی ہوتے، جو واقعی پڑھنے کے لیے کتاب خریدتے۔ لیکن ایسے گاہک دن بہ دن کم ہی ہوتے جا رہے تھے۔ نوجوان نسل موبائل کی اسکرین ہی پر انگلیاں پھیر کر مطمئن تھی۔
اُن کے نزدیک علم کا مطلب ’’گوگل‘‘ تھا اور مطالعہ صرف سوشل میڈیا پوسٹس پڑھنے کا نام۔ چاچا فضل دین جب کبھی کسی طالبِ علم کو کتاب خریدتے دیکھتے، تو اُن کی آنکھوں میں ایک روشنی سی بَھرجاتی۔ مگر پھر دل ہی دل میں سوچتے۔ ’’کیا اس کے بعد آنے والی نسل کوبھی کتابوں سے کچھ لگائو رہے گا یا یہ کتاب دوستی کا بس آخری ہی عہد ہے؟‘‘
ایک روز شام ڈھلےچاچا فضل دین کی دکان میں ایک بچّہ آیا۔ بارہ تیرہ سال کی عُمرکا، دُھول سے اٹے کپڑے(غالباً کہیں دُور سے بھاگتا چلا آیا تھا)، ہاتھ میں سکّوں کی چھنک۔ وہ سیدھا ایک شیلف کے پاس گیا اور وہاں سے کتاب ’’الف لیلہ کی کہانیاں‘‘ اُٹھا لی۔ چاچا فضل دین نے مُسکرا کرپوچھا۔ ’’بیٹا!یہ کیوں لینی ہے؟‘‘ بچّے نے جھجکتے ہوئےکہا۔ ’’سر نے کہا ہے، موبائل پہ کہانیاں پڑھنا اچھا نہیں لگتا، کتاب لے آؤ، تو کہانی پڑھنے کا اصل لُطف آئے گا۔‘‘یہ سُن کرفضل دین کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
اُنہوں نے فوراً کہا۔ ’’لے جا بیٹا، یہ تیرے لیے ہی ہے۔‘‘ بچّے نے حیرت سے فضل دین کودیکھا۔’’ مگر…میرے پاس پیسے ہیں۔‘‘ فضل دین نے سکّے واپس اُس کی ہتھیلی پہ رکھ دیئے۔ ’’اِن سے اپنے لیے دودھ خرید لینا بیٹا۔ ہم کتاب کےچاہنے والے توکسی کو بس کتاب کا تحفہ ہی دے سکتے ہیں۔‘‘ بچّہ مُسکراتا، سر ہلاتا ،ہاتھ میں کتاب تھامے باہر نکل گیا، مگر اُس کے بعد جیسے دکان کی فضامیں اُمید کا چراغ جلنے لگا۔ چاچا فصل دین، کئی دن اِسی سرشاری کی کیفیت میں رہےکہ کوئی تو ہے، جسے موبائل پر پڑھنا اچھا نہیں لگتا۔
مگر پھر ایک روز …چاچافضل دین کے بیٹے نعیم نے اچانک کتابوں کی دکان ختم کرنے فیصلہ کرلیا کہ اُس کے نزدیک یہ کاروبار اب صرف گھاٹے، خسارے کاسودا بن کے رہ گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ پرانی دکان گرا کروہاں ایک کیفے اورای بُک لائبریری کھول لی جائے، جہاں لوگ لیپ ٹاپ، وائی فائی کے ذریعے مطالعہ کریں۔ فضل دین نے بہت سمجھایا بجھایا، بہتیرا روکنا چاہا، مگر بالآخر بیٹے کے سامنے سب دلائل ختم ہوگئے۔
نعیم کہہ رہا تھا۔ ’’ابّو، دنیا بدل چُکی ہے۔ اب لوگ یہ بوسیدہ کتابیں نہیں پڑھنا چاہتے۔ اب سب کچھ ایک موبائل فون پر مل جاتا ہے۔ سمجھیں، یہ دکان تو اب قصۂ پارینہ ہوئی۔‘‘ فضل دین نے بھی ہارمانتے ہوئے بہت تھکے تھکے سے لہجےمیں کہا۔ ’’ہاں بیٹا! شاید تم سچ ہی کہتے ہو۔ مگر یاد رکھنا، یہ جو کاغذ، روشنائی کی خوشبو ہے ناں، یہ کبھی کسی موبائل اسکرین سے نہیں آئے گی۔‘‘
دکان گرا کر نئے سرے سے تعمیر کا فیصلہ ہوگیا۔ ٹھیکے دار سے بھی بات ہوگئی۔ آخری رات چاچا فضل دین پہلے تو کافی دیر دکان کے ایک کونے میں بیٹھےرہے، پھر باری باری ایک ایک کتاب کو چُھو چُھو کر دیکھتے رہے۔ یوں لگ رہا تھا، جیسے پرانے دوستوں سے آخری ملاقات کر رہے ہوں۔ وہ کچھ پرانی کتابوں کو سینے سے لگائے، آنکھیں بند کیے ،کہتے سنائی دئیے کہ ’’تم میری زندگی بھر کی ہم سفر ہو۔ تم نے جوانی سے بڑھاپے تک میرا ساتھ دیا۔ اے کاش! مَیں تمہیں کبھی چھوڑ کر نہ جاتا۔‘‘
اُن کے ہونٹوں پربار بار ایک ہی شعر آرہا تھا۔ ؎ ’’کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنےکو ہے… یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔‘‘ اگلی صُبح جب دکان پر کچھ لوگ آئے، توچوکھٹ پر لگی زنگ آلود گھنٹی نے شاید آخری ہچکی لی۔ فضل دین کے قدم لڑکھڑائے، وہ کوشش کے باوجود اپنے جذبات چُھپا نہ سکے۔ کرسی پر ڈھے سے گئے اور پھروہیں بیٹھے بیٹھے اُن کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ چند لمحوں بعد وہ بالکل خاموش ہو گئے۔ نعیم نے اُنہیں ہلایا جُلایا تو اُن کے ہونٹوں پر ایک خفیف سی مسکراہٹ تھی اور ہاتھ کے نیچے ایک پرانی، بوسیدہ سی ڈائری دبی ہوئی تھی۔
فضل دین کی موت کے بعد نعیم نے دکان گرا کر، خود نئے سرے سے تعمیر کرنے کا فیصلہ موخر کردیا اور دکان، کتابوں سمیت ہی ایک اچھےخریدار کو بیچ دی گئی۔ کتابوں ہی کے ساتھ، خریدار کے ہاتھ چاچا فضل دین کی ڈائری بھی لگی اور اُس نے جب پہلے ہی صفحے پر نہایت خوش خط لکھا وہ شعر پڑھا۔
؎ ’’کاغذ کی یہ مہک، یہ نشہ روٹھنے کو ہے… یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔‘‘ تو بے اختیار اُس کا دل بھر آیا۔ اُس نے نعیم کو فون کیا۔ ’’نعیم صاحب! یہ دکان کتابوں کے بغیر نہیںجچتی ۔ مَیں اِسے ہرگز کمرشل کیفے یا کوئی ریسٹورنٹ نہیں بناؤں گا، بلکہ کتب خانہ ہی رہنے دوں گا۔‘‘ اور یوں تھوڑی جدّت کاری کے ساتھ،پرانی ہی دکان دوبارہ کُھل گئی۔
گرچہ نئی نسل کے لیے اب یہ جگہ کسی عجائب گھر سے کم نہ تھی، جہاں آ کر وہ صرف کتابوں کی خوشبو سونگھتے، پرانے کاغذوں کی سرسراہٹ سُنتے۔ مگر لوگ کہتے ہیں کہ اب بھی جب شام ڈھلنے لگتی ہے، دکان کےکسی کونے سے ایک مدھم سی آواز اُبھرتی ہے۔ ’’یہ آخری صدی نہیں، کتابوں سےعشق کی…‘‘