دانیال حسن چغتائی
ہر روز ڈوبتا سورج دُنیا کی بےثباتی، زوال کی دلیل ہے۔ روزانہ 24گھنٹے کا دورانیہ سب کو ملتا ہے، مگر اعمال اور کوششیں سب انسانوں کی مختلف ہیں۔ کچھ لوگ دُنیا کے چاہنے والے اور کچھ آخرت کے طلب گار ہیں، جب کہ درحقیقت ہمیں اپنی زندگی کا ہر لحظہ اپنے خالق و مالک کی رضا اور خوش نودی کے حصول کے لیے گزارنا چاہیے۔ ہم نہیں جانتے کہ کون سی گھڑی آخری ثابت ہو اور ہمارا تعلق دُنیا سے ہمیشہ کے لیے منقطع ہوجائے۔ لہٰذا، اپنی زندگی ایمان، اعمالِ صالحہ، باہمی محبّت اور خدمتِ خلق ہی میں گزارنی چاہیے، تاکہ یہ آخرت کی اچّھی کھیتی بن سکے۔
یاد رہے، دُنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ ہم آج یہاں جو کچھ بوئیں گے، وہی آخرت میں کاٹیں گے۔ تُخم جس قدر بہتر ہوگا، پیداوار اور کھیت بھی اُسی مناسبت سے اچّھے ہوں گے۔ بلاشبہ قلب و رُوح کا تُخم ایمان، اور اس کھیت کا پانی اعمالِ صالحہ ہیں۔ اگر رُوح کا بِیج ایمان کی بجائےکفروفسق ہو، تو لازماً کھیت خراب ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الزلزال میں فرماتا ہے۔’’تو جو شخص ذرّہ برابر نیکی کرے گا، وہ اُسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ذرّہ برابر برائی کرے گا، اُسے دیکھ لے گا۔‘‘
اِسی طرح سورۃ النّجم میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے۔’’قیامت کے روز انسان کے لیے وہی بدلہ ہوگا، جو اُس نے محنت کی ہوگی۔‘‘ یاد رہے، اسلام غرقِ دُنیا اور ترکِ دُنیا دونوں ہی کی نفی کرتا ہے۔ دُنیا کی شدید محبّت آخرت سے غفلت کا سبب بنتی ہے، نتیجتاً انسان اپنا مقصدِ حیات کھو دیتا ہے، سو، اِس کی نفی لازم ہے۔ دُنیا، آخرت کے لیے سب کچھ ہے، لیکن آخرت کے مقابلے میں دُنیا ذرّہ برابر بھی حیثیت نہیں رکھتی۔ دُنیا دارالعمل اور فانی ہے، جب کہ آخرت دارالجزاء اور باقی رہنے والی ہے۔
دُنیا کی زندگی ہی میں عمل کرنے کی مُہلت ہے،اِس کےبعدعمل کاموقع نہیں ہوگا، صرف جزا اور بدلہ دیا جائے گا۔ صحیح بخاری میں سیّدنا علی المرتضیٰ کا قول ہے۔’’دُنیا پِیٹھ پھیرنے والی ہے اور آخرت سامنے آرہی ہے۔ انسانوں میں دُنیاوآخرت دونوں کے چاہنے والے ہیں۔ پس تم آخرت کے چاہنے والے بنو، دنیا کے چاہنے والے نہ بنو، کیوں کہ آج تو کام ہی کام ہے، حساب نہیں ہے اور کل حساب ہی حساب ہوگا اور عمل کا وقت باقی نہیں رہے گا۔‘‘
سیّدنا عبداللہ ابنِ عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں کے آنے سے پہلےغنیمت خیال کرو۔ اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، تن دُرستی کوبیماری سےپہلے، خوش حالی کو بدحالی سے پہلے، فراغت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔‘‘ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کے حالات سدا ایک جیسےنہیں رہتے۔
لہٰذا اُسے چاہیے،جب اللہ تعالی اُسے کوئی نیک کام کرنے کا موقع عطا فرمائے،اسے غنیمت خیال کرتے ہوئے اُخروی کام یابی کے حصول کے لیے جو کچھ کر سکتا ہو، اُسی وقت کرے، کیا خبر، آئندہ اُسے موقع ہی نہ مل سکے۔آخرت کی کھیتی کاارادہ رکھنے والے سے متعلق یہ نہیں فرمایا گیا کہ اُسے دُنیا میں کچھ نہیں ملے گا۔
دُنیا تو نیک ہو یا بد، ہر ایک کو تھوڑی یازیادہ ملنی ہی ملنی ہے، آخرت کے متعلق بشارت دی گئی کہ ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے، کیوں کہ اس کی نیّت اور کوشش اس کی ہے۔ جب کہ اضافہ یہ ہے کہ دُنیا میں اسے مزید نیکیوں کی توفیق دیں گے اورآخرت میں ایک نیکی کو دس گُنا سے ہزاروں، لاکھوں بلکہ شمار سے بھی زیادہ بڑھائیں گے اور دائمی نعمتیں عطا کریں گے۔
اس ضمن میں سورۂ شوریٰ میں فرمانِ الٰہی ہے۔’’جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے، ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے اور جو کوئی دُنیا کی کھیتی چاہتا ہے، اسے ہم اس میں سے کچھ دے دیں گے اورآخرت میں اس کے لیے کوئی حصّہ نہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے اس دُنیا کو تجارت کی جگہ بنایا ہے۔ اگر وہ خیر کا سودا کرے گا، تو بدلےمیں خیر ملے گی اور اگر شرکا سودا کرے گا، تو نتیجے میں شر ہی پائے گا۔ اسی طرح دُنیا کوآخرت کا راستہ بنایاگیاہے۔ اگر خیر کے رستے پر چلے گا، تو منزلِ مُراد پا لے گا اور ہمیشہ کی جنت میں پہنچ جائے گا اور اگر شر کے راستے پر چلے گا، تو دائمی عذاب میں مبتلا ہوجائے گا۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں قدردانی کے لیے تین چیزیں بیان کی گئی ہیں۔1 ۔ ارادۂ آخرت، یعنی اخلاص اور اللہ کی رضا جوئی۔ 2۔ ایسی کوشش کہ جو سُنّتِ نبویؐ کے مطابق ہو۔ 3۔ ایمان، کیوں کہ اس کے بغیر تو کوئی عمل بھی قابلِ التفات نہیں۔ یعنی قبولیتِ عمل کےلیےایمان کےساتھ اخلاص اور سُنّتِ نبویؐ سے مطابقت ضروری ہے۔ قیامت کی نشانیوں میں بُخل اور دُنیا کی طویل اُمّیدیں بھی شامل ہیں اور یہی ہلاکت کے اسباب ہیں۔
زیادہ سے زیادہ مال کی حرص و تمنّا اور اسے جمع کرنےکی شدیدخواہش نے انسانوں کوقتل وغارت، جنگ و جدل اور مزید فتنوں میں دھکیل دیا ہے۔ اس بُخل کا علاج یہ ہےکہ جب یہ یقین ہوجائے، رزق دینے والا صرف اللہ تعالی ہے، تو انسان کے اندر بُخل کم ہوجاتا ہے اور اس کی بناپر نفسانی خواہشات بھی دَم توڑ دیتی ہیں۔ دُنیا کی اُمّیدوں کا ٹوٹ جانا، گویا آخرت کی اُمّید کا بندھ جانا ہے اوراس سے مُراد ’’زہد‘‘ یعنی دُنیا سے بے رغبتی ہے۔ اور یہی بےرغبتی انسان کےدل سے دُنیا پرستی ختم کرکے، موت کے بعد کے تیاری کا جذبہ جگاتی، فکرِآخرت اُجاگر کرتی ہے۔
یادرہے،دُنیاوی زندگی کوئی قابلِ نفرت چیز نہیں اورنہ ہی یہ گوشہ نشینی اختیارکرنے کا نام ہے، لیکن یہ دل لگانےکی بھی جا نہیں۔ انسان کو اس دُنیا میں ایک مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر چلتے ہوئے ہر تکلیف اس لیے برداشت کرتا ہے کہ بالآخر اُسےامتحان میں کام یابی، آخرت کی زندگی میں راحتیں اور ہمیشہ کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔
اسلامی تعلیمات میں دُنیا کو آخرت کی کھیتی قرار دے کر یہ واضح کیا گیا کہ انسان کو ہمہ وقت اس کوشش میں مصروف رہنا چاہیے کہ وہ دُنیا میں جتنی مدّت بھی رہے، اُس کا ہر لمحہ اس کھیتی کو جوتنے میں صَرف ہو۔ وہ زیادہ سے زیادہ تُخم ریزی کرے تاکہ بعد کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ فصل کاٹنےکا موقع ملے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات اورانسان کومحض کھیل تماشے کے لیے تخلیق نہیں کیا، ایک یومِ جزا و سزا مقرر کر رکھا ہے، تاکہ اُس میں عدل وانصاف کےتقاضے پورے کیے جاسکیں۔
موت کے بعد ایک ہمیشگی کی بھی زندگی ہے، تو پھر بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان کے اچّھے، بُرے اعمال کا کوئی نتیجہ نہ نکلے۔ غالباً اِسی ضمن میں علاّمہ محمّد اقبال نے فرمایا کہ ؎ عمل سے زندگی بنتی ہے، جنّت بھی جہنم بھی…یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے، نہ ناری ہے۔