(رُوداد حلقۂ خواتین، جماعتِ اسلامی، پاکستان)
مرتّبہ: روبینہ فرید
صفحات: 334، قیمت: 1200روپے
ناشر: تدوینِ تاریخِ جماعت کمیٹی، حلقۂ خواتین، جماعتِ اسلامی پاکستان، الفلاح مسجد۔ ST-4، بلاک A، نارتھ ناظم آباد، کراچی۔
جماعتِ اسلامی حلقۂ خواتین کی تاریخ ایک ایسی روشن داستان ہے، جس میں قربانی، ایثار، استقامت اور خالص دینی جذبہ پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں ہے۔ یہ محض ایک تنظیمی سفر نہیں، بلکہ اقامتِ دین کی وہ جدوجہد ہے، جس میں خواتین نے اپنی صلاحیتیں اور زندگیاں اللہ کی رضا کے لیے وقف کیں۔
زیرِ نظر کتاب حلقۂ خواتین، جماعتِ اسلامی کے سفر کی رُوداد کا پہلا حصّہ ہے، جو 1948ء سے 1973ء تک کا احاطہ کرتا ہے۔ اِس کتاب کا ہر باب ایک منزل ہے۔ یہ کتاب14 ابواب پر مشتمل ہے، جن کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں: آغازِ سفر، قیامِ پاکستان، نیا مُلک، نئے مرحلے، حلقۂ خواتین جماعتِ اسلامی کا قیام، حلقۂ خواتین کی نمود میں مَردوں کا تعاون، دعوت بذریعۂ قلم، حلقۂ خواتین جماعتِ اسلامی مشرقی پاکستان کا قیام، جماعتِ اسلامی کی دستوری جدوجہد، پاکستان میں فوجی حُکم رانی کا آغاز، اِک سانحے کی ابتدا، قومی انتخابات سے سقوطِ ڈھاکا کے المیے تک، چھوڑیں گے نہ ہم کوششِ تعمیرِ نشیمن، بھٹو صاحب کے دَور کا آغاز اور آئینِ پاکستان کی تشکیل، مہرِ اوصافِ حمیدہ چُھپ گیا۔ یہ کتاب، جماعتِ اسلامی ہی کی نہیں، پاکستان کی تاریخ بھی ہے۔
حلقۂ خواتین کی تاریخ، جماعتِ اسلامی کی تاریخ کے ذکر کے بغیر ممکن نہیں اور جماعتِ اسلامی کی پالیسی کو پاکستان کی تاریخ کے پس منظر سے آشنا ہوئے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا، اِس لیے دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ ملتا ہے۔ کتاب کا پیش لفظ، روبینہ فرید نے خود تحریر کیا ہے، جب کہ اِس میں امیرِ جماعتِ اسلامی، پاکستان، حافظ نعیم الرحمان اور قیّمہ حلقۂ خواتین جماعتِ اسلامی پاکستان، ڈاکٹر حمیرا طارق کے پیغامات بھی شامل ہیں۔