سرطان، آج بھی انسانی صحت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اِس بیماری کو ’’خاموش قاتل‘‘ کہا جاتا ہے کہ یہ طویل عرصے تک انسانی جسم میں بغیر کسی واضح علامت کے نشوونما پاتی رہتی ہے اور اکثر اُس وقت سامنے آتی ہے، جب مرض خطرے کی حدود تک پہنچ چُکا ہوتا ہے۔ تاہم، جدید طبّی تحقیق اور سائنسی ترقّی نے اس تصویر کا ایک روشن پہلو بھی نمایاں کیا ہے۔
دنیا بَھر میں سرطان کے خلاف جاری سائنسی جدوجہد ہمیں یقین دِلاتی ہے کہ اگر اس مرض کی بروقت تشخیص ہو جائے، تو اس کا علاج بڑی حد تک ممکن ہے۔ عالمی سطح پر ہر سال کینسر کے تقریباً دو کروڑ نئے مریض سامنے آتے ہیں، جب کہ ایک کروڑ کے لگ بھگ اِس بیماری کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ آبادی کا پھیلاؤ، عُمر میں اضافہ، ماحولیاتی آلودگی اور بدلتا طرزِ زندگی اِس مرض کی بڑھتی شرح کی اہم وجوہ سمجھی جاتی ہیں۔
طبّی ماہرین کے مطابق، سرطان کے بہت سے اسباب ایسے ہیں، جنہیں مناسب احتیاط اور صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔ تمباکو نوشی، شراب نوشی، غیر متوازن غذا، موٹاپا اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی اِس بیماری کے اہم خطرات میں شامل ہیں۔ خاص طور پر تمباکو نوشی کو دنیا بَھر میں کینسر کی سب سے بڑی قابلِ تدارک وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر معاشرے میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیا جائے اور عوام میں بروقت طبّی معائنے کی اہمیت اجاگر کی جائے، تو لاکھوں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
پاکستان بھی اِس عالمی مسئلے سے محفوظ نہیں۔ طبّی اندازوں کے مطابق، مُلک میں ہر سال تقریباً دو لاکھ افراد میں سرطان کی تشخیص ہوتی ہے، جب کہ ان میں سے تقریباً ایک لاکھ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں خواتین میں سب سے زیادہ پایا جانے والا سرطان، بریسٹ کینسر ہے، جب کہ مَردوں میں پھیپھڑوں، منہ، جگر اور پروسٹیٹ کے کینسرز کی شرح بلند ہے۔
نیز، بڑی آنت کا کینسر بھی بتدریج بڑھ رہا ہے۔ تاہم، اِس تشویش ناک صُورتِ حال کے باوجود پاکستان میں سرطان کی تشخیص اور علاج کے نظام میں قابلِ ذکر بہتری بھی آ رہی ہے۔ مُلک میں جدید طبّی مراکز کا قیام، ماہر ڈاکٹرز کی دست یابی اور عوامی شعور میں اضافہ اِس جدوجہد کو نتیجہ خیز بنا رہے ہیں۔ جدید طب میں سرطان کے علاج کی کام یابی کا سب سے اہم اصول ابتدائی تشخیص ہے۔
اگر بیماری کو ابتدائی مرحلے میں دریافت کر لیا جائے، تو علاج کے امکانات کئی گُنا بڑھ جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں طبّی سائنس نے ایسے جدید طریقے متعارف کروائے ہیں، جن کے ذریعے خون کے ایک سادہ ٹیسٹ سے بھی سرطان کی ابتدائی علامات کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔
اِس پیش رفت نے کینسر کی بروقت تشخیص کے امکانات مزید روشن کر دیئے ہیں۔ اِسی طرح جدید علاج کے طریقوں میں ہدفی علاج اور مدافعتی علاج جیسے طریقے بھی شامل ہو چُکے ہیں، جو مریض کے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط بنا کر بیماری کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
واضح رہے، پاکستان کے کچھ ممتاز ماہرینِ سرطان تشخیص و علاج کے ضمن میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، تو کچھ اہم، قابلِ ذکر اداروں کی خدمات بھی لائقِ ستائش ہیں، جن میں شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر، انڈس چلڈرن کینسر اسپتال، آغا خان یونی ورسٹی اسپتال، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر(مائیرنائف یونٹ)، کرن کینسر اسپتال، بیت السکون کینسر اسپتال، این آئی بی ڈی، میو اسپتال لاہور، شفا انٹرنیشنل اسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اور مینار کینسر اسپتال، ملتان وغیرہ شامل ہیں۔
اِسی طرح پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت قائم کینسر اسپتالوں کا ایک بڑا نیٹ ورک بھی مُلک بھر میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ اِن اداروں میں نوری اسپتال اسلام آباد، کرن اسپتال کراچی، ارنم اسپتال پشاور، لینار اسپتال لاڑکانہ، نورین اسپتال نواب شاہ اور پنم اسپتال فیصل آباد وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ادارے ہزاروں مریضوں کو کم خرچ یا بلا معاوضہ علاج معالجہ فراہم کر رہے ہیں۔
اِس ضمن میں لاہور میں قائم نواز شریف کینسر اسپتال بھی ایک اہم اضافہ ہے۔ یہ ایک جدید اور اعلیٰ معیار کا طبّی ادارہ ہے، جہاں مستحق مریضوں کو کینسر کی تشخیص، علاج اور ادویہ کی سہولت بڑی حد تک بلامعاوضہ فراہم کی جا رہی ہے۔ نیز، وسطی پنجاب کا صنعتی شہر فیصل آباد بھی کینسر کے علاج کے ایک اہم مرکز کے طور پر اُبھر رہا ہے، جہاں الائیڈ اسپتال کا شعبہ آنکالوجی ہزاروں مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔
سرطان، بلاشبہ ایک خطرناک بیماری ہے، لیکن جدید طبّی ترقّی نے اس کے خلاف جدوجہد کو نئی قوّت عطا کی ہے۔ اب بروقت تشخیص، جدید علاج اور مضبوط طبّی نظام کے ذریعے لاکھوں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ پاکستان میں قائم کینسر اسپتالوں کا وسیع نیٹ ورک، ماہر ڈاکٹرز کی خدمات اور صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات اِس امر کی علامت ہیں کہ اُمید کی کرن بہرحال موجود ہے اور یہی اِس جدوجہد کا اصل پیغام ہے کہ بروقت تشخیص، سائنسی پیش رفت اور اجتماعی قومی عزم کے ذریعے کینسر کے خلاف جاری جنگ جیت کے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں اُمید کی ایک نئی صبح کا آغاز ممکن ہے۔
( مضمون نگار، زرعی یونی ورسٹی، فیصل آباد کے شعبہ حشریات کے سابق چیئرمین ہیں)